ادھورے وصال کا کرافٹ۔۔۔ راشد جاوید احمد

ادھورے وصال کا کرافٹ

راشد جاوید احمد

ہارون رئیس، ہائر سیکنڈری اسکول کا ایک معمولی  ڈرائنگ ماسٹر، کبھی فن کی دنیا کا دل پسند ہوا کرتا تھا۔ وہ مصور جس کے رنگوں میں شہر کی دھڑکن سنی جا سکتی تھی، اور جس کے برش سے نکلنے والا ہر اسٹروک زندگی کے کسی راز کو عیاں کر دیتا تھا۔ اس کے بنائے ہوئے پورٹریٹ صرف چہرے نہیں، روح کی پرتیں تھے، اس کے شہری مناظر خواب اور حقیقت کی سرحد پر ٹھہرے ہوتے۔ کلیکٹر اس کے کام کے لیے بے تاب رہتے، اور تنقید نگار اس کی تجریدی جرات کو فن کی نئی سمت قرار دیتے۔

پھر یکایک، وہ رُک گیا۔

یہ توقف ایک خاموش ساحل سے شروع ہوا۔ ایک ایسا منظر جس میں بنفشی اور سنہری لکیریں شام کے آسمان پر پھیلتی تھیں، اور لہریں کسی انجانی کشش کے تحت واپس سمٹتی تھیں۔ ایک ایسا کینوس جس میں سکوت تھا، مگر چیخ بھی۔ فرقان، اس کا دیرینہ دوست اور پینٹنگز کا پروموٹر، اس تبدیلی کو محض ایک عارضی جھکاؤ سمجھ کر نظر انداز کر گیا۔

“ہارون یار، گیلری تمہارے نئے سلسلے کی منتظر ہے،” اس نے اسٹوڈیو کی بوسیدہ میز پر کافی رکھتے ہوئے کہا، “لوگ تمہارا اربن ابسٹریکٹ مانگتے ہیں—یہی بکتا ہے۔””

ہارون نے ایزل سے بمشکل نظریں ہٹائیں، “میں اب وہ نہیں بنا رہا۔”

فرقان کے ماتھے پر بل گہرے ہوئے، “تو پھر کیا بنا رہے ہو؟ باہر تمہارے مداح پریشان ہیں، اور اندر تم بار بار ایک ہی تصویر کی مختلف شکلیں بنا رہے ہو۔”

ہارون نے نیلگوں رنگ میں ڈوبا برش اٹھایا، ایزل کا رُخ اس کی طرف موڑا اور دھیرے سے کہا، “یہ۔۔۔””

فرقان نے بے بسی سے سر جھٹکا۔

تین ماہ گزر گئے۔ اسٹوڈیو، ویران ساحلوں، بدلتی روشنیوں اور سمٹتی لہروں کے مناظر سے بھر گیا۔ ہر پینٹنگ بظاہر ایک جیسی تھی، مگر قریب سے دیکھنے پر ان میں وقت کا کوئی لمحہ، کوئی کیفیت الگ دکھائی دیتی۔ مداح اب اضطراب میں مبتلا تھے۔ فرقان بھی الجھتا جا رہا تھا۔

ایک دن وہ ایک مالدار گاہک کو اسٹوڈیو لے آیا۔ وہ شخص اپنی کلف لگی قمیص پر خیالی شکنیں درست کرتے ہوئے پینٹنگز کو سرسری نگاہ سے دیکھتا گیا۔

” اچھی ہیں، مگر کچھ نیا دکھائیے۔ یہ سب تو ایک جیسی لگ رہی ہیں۔ میں تو سردار صاحب کے ڈرائنگ روم والی تصویر دیکھ کر آیا تھا۔ وہ الگ ہی دنیا تھی۔”

ہارون کو فوراً اندازہ ہو گیا—یہ فن کا پرستار نہیں، فقط سجاوٹ کا خریدار ہے۔ اس نے نرمی سے مگر سرد لہجے میں کہا، “یہ پینٹنگز آپ کے لیے نہیں ہیں۔”

رفتہ رفتہ گیلریوں اور کیفوں میں سرگوشیاں ہونے لگیں۔

 “وہ ختم ہو چکا ہے۔” سارہ، ایک نامور مجسمہ ساز، نے تو یہاں تک کہہ دیا،

“کوئی بھی فنکار ایک ہی منظر کو بار بار نہیں دہرایا کرتا۔” کسی اور نے ججمنٹ پاس کی۔

مگر شاذیہ—اس کی شاگرد، تیز نظر، خاموش فہم رکھنے والی—ان پینٹنگز میں ایک اور جہت دیکھ رہی تھی۔ ایک رات، جب ہارون نے برش پھینک کر کینوس کھرچنا شروع کیا، وہ خاموشی توڑ بیٹھی۔

“وہ کون ہے؟”

ہارون کے ہاتھ رک گئے۔ وہ چونکا جیسے اندر کسی دروازے پر دستک ہوئی ہو۔

“ان پینٹنگز میں کوئی ہے، سر۔ میں دیکھتی ہوں—افق کے قریب روشنی کی تہوں میں۔ آپ جیسے کسی کو تلاش کر رہے ہیں”

طویل خاموشی کے بعد، ہارون کی نحیف آواز ابھری، “مجھے بھی نہیں معلوم وہ کون ہے۔ لیکن ہے، ضرور ہے۔”

شاذیہ کی نگاہوں میں تجسس جاگا، “وہ تو نہیں… جو پچھلی نمائش میں آئی تھی؟ وہ جس نے ہر تصویر کی روح چھو لی تھی؟”

ہارون کی آنکھوں کے سامنے وہ شام روشن ہو گئی—وہ عورت، گھسی ہوئی سادہ کھلی جینز اور سفید ٹی شرٹ  میں ملبوس، مگر نگاہ ایسی کہ ہر پرت کھول دے۔ اس نے نہ صرف ہر تصویر کی داخلی کہانی بیان کی بلکہ بعض جگہوں پر یہ بھی کہا کہ کون سا اسٹروک کس جذبے کا نتیجہ ہے۔ گفتگو تھوڑی طویل ہوئی ۔ اس نے اچانک  ایک منٹ بعد آنے کا کہا، جیسے کوئی ضروری بات یاد آگئی ہو پھر لوٹ کر نہ آئی۔ ہارون رات گئے تک دروازے پر آنکھیں جمائے کھڑا رہا تھا۔ گیلیری بند ہونے کا اعلان ہوا، مگر وہ منظر بند نہ ہوا۔

“آپ اسے خواب میں دیکھتے ہیں؟” شاذیہ نے نرمی سے پوچھا۔

ہارون کے ہاتھ کانپنے لگے، “ہر رات۔ وہ لہروں کے پار کھڑی ہوتی ہے، منہ موڑے۔ اگر میں یہ منظر بالکل درست بنا سکا… شاید وہ پلٹے۔ شاید۔۔۔”..

شاذیہ نے درد کو نگلا، “سر، وہ تو ایک اجنبی تھی۔ نہ نام، نہ پتہ۔”

“نہیں،” ہارون نے زور دے کر کہا، “مجھے اسے واپس لانا ہے۔”

سال بیت گئے۔ ہارون کی شہرت مدھم ہوتی گئی۔ آرٹ ڈیلرز نے رخ موڑ لیا، ناقد خاموش ہو گئے۔ مگر ہارون پینٹ کرتا رہا۔ ہر کینوس ایک صدا، ایک پکار، ایک امید تھی۔ اس کے ہاتھ لرزنے لگے، آنکھیں دھندلانے لگیں، سانسیں چھوٹنے لگیں۔ مگر وہ رکا نہیں۔

پھر، ایک خنک صبح، شاذیہ نے اسے کینوس کے سامنے بے ہوش پایا۔ سمندرکی لامتناہی وسعت ۔ شام کی روشنی اُس سے بھی زیادہ تابناک تھی۔ اور وہاں، کینوس پر، افق کے قریب، ایک دھندلی سی شبیہ ایستادہ تھی۔ ایک عورت—چہرہ نمایاں، نگاہیں نرم، اور ہاتھ ہارون کی جانب بڑھا ہوا۔

ہارون کا برش فرش پر گرا ہوا تھا۔ کینوس پر آخری لکیر ابھی تک تر تھی۔

دنیا نے ان پینٹنگز کو دیکھا، تو ان کی خامشی نے شور برپا کیا۔ نقادوں نے اسے “ادھورے وصال کا کرافٹ” قرار دیا۔ گیلریوں نے اسے جدید کلاسیکی فن کی معراج کہا۔ مگر شاذیہ جانتی تھی، یہ فقط آرٹ نہیں تھا—یہ ایک روح کی تلاش تھی۔

اور شاید، وہ روح ہارون کو مل گئی تھی۔

Facebook Comments Box

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.