مجھ میں کون ہے ۔۔۔ انجلا ء ہمیش
مجھ میں کون ہے
انجلاء ہمیش
جسے طویل وقت کے لیے تنہا چھوڑ دیا گیا تھا
سنا تھا کہ موت نے اس کی تکلیف آسان کردی تھی
وہ کبھی اپنے تخلیق کار سے نہ پوچھ سکی
کہ اسے کیوں خلق کیا گیا
اسے تو دیکھتے ہی منہ پھیر لیا گیا تھا
اور پھر وہ جو اسے چھوڑ کےگیا تو پھر کبھی نہ آیا
لمحہ ، دن ، ماہ و سال
وہ جو گیا تو زندگی میں مگن ہوگیا
ایک جانب زندگی مگن تھی
حسن تھا، جوانی تھی ، کھنکتی ہنسی تھی
وہ جو گیا تو ان رنگینیوں میں ٓکھو گیا
ایسا کھویا کہ پھر اسے یاد نہ رہا
کبھی اس کے ساتھ ایک تاریکی منسوب کردی گئ تھی
دوسری جانب وہ تاریکی, بہت خاموش
اتنی خاموش کہ مدتوں اس کا ذکر نہ ہوا
وہ موجود تھی مگر اسے عدم موجود کردیا گیا تھا
خلق کرنے والے نے اسے شکوہ کرنے کا حق نہیں دیا
اس نے خود کو اس قدر عیب دار جانا
وہ چاہ بھی نہیں سکتی تھی
کہ اس کے وجود کو کوئی لمس ملے
اس کی گہری۔خاموشی کے ساتھ ساتھ
وقت بھی خاموشی سے گزرتا رہا
یہاں تک کہ ایک جانب کی کھنکتی ہنسی ایسی روٹھی
کہ سب کچھ ختم ہوتا گیا
وہ جو چلا گیا تھا
ایک دن سننے میں آیا کہ خود کو ہار گیا
پر اس سارے قصے میں
مجھ میں کون ہے
عرصے سے تاریکی کو اوڑھے ہوئے
جسے در و دیوار نہیں سنتے
جسے بارہا کہا گیا کہ تم موجود سے عدم موجود ہوجاو
اور وہ جو چلا گیا
وہ کبھی آبھی جاے
تو اسے پیچاننے سے انکار کرنا ہوگا
کہ زمانے کا بدلنا اٹل ہے