پڑھی نماز تے ۔۔۔۔ بلھے شاہ

پڑھی نماز تے نیاز نہ سِکھیا

۔ بلھے شاہ

 

پڑھی نماز تے نیاز نہ سِکھیا
تیریاں کِس کَم پڑھیاں نمازاں

۔ تم نماز پڑھتے ہو مگر تمھارے اندر ابھی تک عجز نہیں آیا ۔ ایسی نماز کا کیا فائدہ

علم پڑھیا تے عمل نہ کیتا

تیریاں کِس کَم کیتیاں واگاں

۔ تم نے بہت ساری کتابیں پڑھ لیں ہیں مگر تم ان کے اندر لکھے ہوئے احکامات پر عمل نہیں کرتے ہو ۔ اس سارے علم کا کیا فائدہ

نہ کَہر ڈِٹَھا نہ کَہر والا ڈِٹَھا

تیریاں کِس کَم دِتیاں نیازاں

۔ جب تمہیں خدا کے سخت عدل کا اندازہ ہی نہیں تو تمہارے دکھاوے کے صدقے اور خیرات کا کیا فائدہ

بُلھے شاہ پتہ تَد لگ سی
جدوں چِڑی پَھسی ہتھ بازاں

۔ بلھے شاہ تب پتہ چلے گا جب تم روز آخرت اپنا حساب کتاب پیش کرو گے

کھا آرام تے پڑھ شکرانہ
کر توبہ ترک ثوابوں

۔ تم رزق حلال کھاو اور اس خدا کا شکر ادا کرو ۔ اور نیک اعمال کو محض ثواب کی خاطر مت کرو

چھڈ مسیت تے پکڑ کنارہ
تیری چُھٹے جان عذابوں

۔ بے مغز عبادت تجھے کوئی فائدہ نہیں دے گی ۔ ایسی عبادت سے سے نہ کرنا اچھا ہے

نہ کہو کلمہ جہیڑا کہندا مُنکر
وے تو ہو روں اِک ثوابوں

۔ اور تکبر کے کلمات منہ سے مت نکالو ورنہ تمہاری ساری نیکیاں ضائع ہو جائیں گی

بُلھے شاہ چل اُتھے وسیے
جِتھے منع نہ کرنڑ شرابوں ۔

۔ بلھے شاہ چلو کسی ایسی جگہ چل رہیں جہاں محبت کی بات کرنے کی آزادی ہو اور اس  کو برا نہ سمجھا جائے

سِر تے ٹوپی تے نیت کھوٹی
لینا کی سِر ٹوپی تَرھ کے؟

۔ نماز پڑھنے کو ٹوپی سر پر رکھتے ہو اور اپنی نیت نیک اعمال کے لیے صاف نہیں رکھتے ۔  ایسے ٹوپی سر پر رکھنے کا کیا فائدہ

تسبیح پھِری پر دِل نہ پھِریا
لینا کی تسبیح ہتھ پَھڑ کے

۔ تم ہاتھ میں تسبیح پکڑ کے اس کے دانے پھیرتے رہتے ہو مگر تمھارا دل ہوس کا غلام ہے ایسی تسبیح پھیرنے کا کیا نتیجہ

چلِے کیتے پر رب نہ ملیا
لینا کی چِلیاں وِچ وَڑھ کے

۔ سخت ریاضت اور چلے کی مشقت کرنے سے رب نہ ملا ۔اسے چلوں سے دوری بھلی

بُلھے شاہ جاگ بِنا دُدھ نہیں جمندا
پانویں لال ہووے کڑھ کڑھ کے ۔

۔ بلھے شاہ جب تک دودھ کو لسی سے جامن نہ لگایا جائے دہی نہیں بنتا چاہے چولہے پر پڑا گرم ہو ہو کر لال ہو جائے۔ ایسے ہی کسے اہل نظر رہبر کے بغیر تم مکمل نہیں ہو سکتے

پڑھ پڑھ عالم فاضل ہویا
کدے اپنڑے آپ نوں پڑھیا نہیں

۔ تم کتابیں پڑھ کر عالم اور فاضل کہلاتے ہو مگر اپنے من کی دنیا کا مطالعہ نہیں کرتے ہو

جا جا وَڑدا مسجداں مندراں اندر
کدی اپنڑے اندر توں وَڑیا ای نہیں ۔

۔ تم کبھی مسجد اور کبھی مندر جاتے ہو مگر کبھی اپنے من کی دنیا میں داخل نہیں ہوئے

ایویں روز شیطان نال لڑدا ایں
کدی نفس اپنڑے نال توں لڑیا ای نہیں

۔ تم روز شیطان کے خلاف لڑتے ہو مگر کبھی اپنے نفس کی خوہشات  کے خلاف بھی لڑائی کی ہے؟

بُلھے شاہ اسمانی اُڈدیاں پھَڑدا ایں
جہڑا کہر بیٹھا اونوں پھڑیا ای نہیں

۔ بلھے شاہ تم گفتگو میں عالم بالا کی بات کرتے ہو مگر زمیں پر تمہارے اندر جو ایک طاقتور نفس ہے اس کو پکڑ کر قید کرو تو مانیں

Advertisment

Be the first to comment

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.