کنواں اور کتا۔۔تنویر قاضی
کُنواں اور کُتۤا (تنویر قاضی) فساد کی جَڑ اور گہری چلی گئی کہ اُسی کُنویں
A collection of Urdu poetry, short stories, and essays — classic and contemporary voices from Pakistan and beyond.
کُنواں اور کُتۤا (تنویر قاضی) فساد کی جَڑ اور گہری چلی گئی کہ اُسی کُنویں
ساتواں منطقہ ڈاکٹر کوثر جمال ابھی کچھ دیر پہلے وہ یہیں میرے پاس تھی۔ شام
پشتو نظم رحمان بابا رات کو مظلوموں کا لہو پیتا ہے پہ شپہ وینے د مظلوم
پردہ یش پال ہندی ادب چودھری پیر بخش کے دادا چونگی کے محکمے میں داروغہ
شوق برہنہ پا چلتا تھا اور رستے پتھریلے تھے گھستے گھستے گھس گئے آخر کنکر
سیڑھیوں میں بیٹھی ھوئی نظم تنویر قاضی وہ کروشیا کام میں مصروف تھی اُس نے
غزل شہناز پروین سحر جو تیری قید سے نکلوں تو کس قفس میں رہوں میرا
دوزخی عصمت چغتائی جب تک کالج سر پر سوار رہا پڑھنے لکھنے سے فرصت ہی
سنسان گلی راشد جاوید احمد سنسان گلی بے خواب دریچے خاموش پیڑ اندر شور آسمان
کچا رشتہ احسن سلیم ماں جی بارش کے آنے سے پہلے ہی ہم، چاروں پانچوں