نوحہ گر ۔۔۔ فیصل سعید ضرغام

Faisal Saeed zarGhaam is a poet and short story writer. The main theme of his short stories is the problems and life of a  common man.

نوحہ گر

(فیصل سعید ضرغامؔ)

    ایک بوسیدہ مکان میں ہم چار جاندار  اکھٹےرہا کرتے تھے ۔  میں، ابـا ،  اماں  اور ایک سفید بکری ۔
     میں چارپائی کے ایک کونے سے بندھاہر روز، بکری کو ممیاتے ، ماں کو بڑبڑاتے اور ابا کے ماتھے پر پڑی شکنوں کو سکڑتے پھیلتے دیکھتا۔ 
ابا، بیڑی منہ میں دبائے خداجانے کن سوچوں میں گم رہتا۔ لیکن بیڑی کے ہر کش لینے کے بعد اس کے چہرے کے تاثرات بدلتے رہتے۔ اُس کے ماتھے پر پڑی شکنیں سکڑتی پھیلتی رہتیں۔ 
    
    میری ماں زیرلب کیا بڑبڑایا کرتی تھی؟۔۔۔ کبھی سن نہ پایا
    بکری درد بھری آواز میں چلا چلا کر کیا بتانا چاہتی تھی؟۔۔ کبھی سمجھ نہ پایا
    ابا کے ماتھے پر نوحہ خوانی کرتی تہہ دار لکیریں کیوں سکڑتی پھیلتی تھیں؟ ۔۔ہمیشہ سمجھنے سے قاصر رہا
    
    شام کو جب ابا کام سے واپس آتا تو اماں، ابا  گھنٹوں ایک دوسرے کے آگے  خاموش بیٹھے رہا کرتے۔ مجھے اپنے اور سفید بکری کے گلے میں بندھی رسی تو صاف دکھائی دیا کرتی لیکن اماں اور ابا کی گردنوں سے بندھی رسی مجھے کبھی نظر نہ آئی۔ شاید وہ بھی اپنی گردنوں سے لپٹی رسی نہیں دیکھ پاتے، بالکل ویسے ہی ، جیسے ہر دو آنکھ والی مچھلی کو اپنا پیٹ بھرنے کے لئے شکار تو نظر آجاتا ہے لیکن نائلون کی سفید تار والی ڈو ر اور اس سے بندھا کانٹا دکھائی نہیں دیتا۔ کانٹا نگل جانے کے بعد مچھلی  کے پاس سوائے تڑپتے رہنے اور تڑپ تڑپ کر مرجانے کے سوا کوئی  دوسراچارہ بھی نہیں ہوتا۔
     ساتھ والے مکان میں خالہ صغریٰ رہا کرتی تھیں۔ اُن کا ایک بیٹا تھا،  عمر لگ بھگ سات آٹھ برس ہوگی۔اُس کا اصل نام معلوم نہیں کہ کیا تھا لیکن سب اُسے کاچیؔ کہہ کر بلایا کرتے تھے۔کاچیؔ کی رنگت کبھی بادامی ہوا کرتی ہوگی لیکن مسلسل دھوپ میں کھیلتے رہنے اور دھول مٹی  میں اٹے رہنے سےاُس کی رنگت اب سیاہ ہوگئی تھی۔ کاچیؔ کا باپ ہر دوسرے مہینے اس کے سر پر استرا پھروا دیا کرتا۔ چاول کے دانے جتنے بال کاچیؔ کی شخصیت کا مستقل حصہ بن چکے تھے۔ میں نے کاچیؔ کو ہمیشہ سے ادھ ننگا ہی دیکھا۔ کبھی لمبی سی قمیض میں کہ جس کا دامن گھٹنوں تک آتا ہو یا پھر کبھی سرخ اورخاکستری رنگ کے جانگیا میں۔ 
    
    چاول کے دانے برابر بالوں والا اور ادھ ننگا کاچیؔ،  جب کبھی خالہ کے ہمراہ گھر میں داخل ہو تا تو بکری اور میری جان پر بن آتی۔ کاچیؔ کو دیکھتے ہی مجھ پر ایک عجیب سی کیفیت طاری ہوجاتی۔ خوف اور نفرت سے ملی جلی کیفیت۔ گھر کا دروازہ پار کرتے ہی وہ مجھے للچائی ہوئی نظروں سے دیکھنے لگتا۔ موقع ملتے ہی وہ مجھے دبوچ لیتا اورمیں اس سے بچنے کے لئے چارپائی کی دوسری جانب چھلانگ لگا لیتا۔ لیکن وہ گھوم کردوبارہ میرے سامنے آکھڑا ہوتا۔ اسے سامنے  پاکر میں الٹے پاؤں دوڑ لگاتا لیکن میری دوڑ کبھی ڈھائی میٹر سے آگے نہ جاسکی۔ میری گردن میں بندھی رسی تن جاتی اور میں بے بس کھڑا کاچیؔ کو اپنی طرف بڑھتے ہوئے دیکھتا۔ ایکاایکی میرے نزدیک پہنچ کر وہ پہلوانوں کی طرح  میری گردن کو اپنی بدبودار بغل میں دبا لیتا۔ اُس کی بدبو دار بغل میں میرا سانس رکنے لگتا۔ میں اس کی گرفت سے نکلنے کے لئے ہرممکن کوشش کرتا لیکن وہ میری گردن پر گرفت  بتدریج سخت کرتا چلا جاتا۔تکلیف کی شدت سے میرے حلق سے گھٹی ہوئی چیخیں برآمد ہونے لگتیں۔اس ہڑبونگ میں کانچیؔ کو مجھ سے دست وگریباں ہوتے دیکھ کر پاس بیٹھی صغریٰ خالہ زور سے چلاتی۔۔۔
    ’’ارے او کم عقل، کیوں چھنال کے لونڈوں کی طرح  اس بے زبان سے دھینگا مشتی میں لگا ہے؟۔اگراس بے زبان کی ہائے لگی تو کہیں کا نہیں رہے گا۔بدبخت!  تو اِسے چھوڑتا ہے کہ میں چپل دھروں تیرے سر پر۔‘‘
    خالہ کو یوں غصہ میں سانڈنی کی طرح بھپرتا دیکھ کر کاچیؔ کی گرفت میری گردن پر ڈھیلی ہوگئی ، کمزور ہوتی پکڑ کو محسوس کرتے ہوئے میں نے اپنے جسم کو ایک زور دار جھٹکا دیا۔ اب میں اس کی قید سے آزاد تھا۔ بدبو دار بغل سے رہائی پاتےہی میں نے چارپائی کے دوسری جانب چھلانگ لگائی اور خالہ کیساتھ دبک کر بیٹھ گیا۔  کانچی مجھے اب بھی للچائی ہوئی نظروں سے دیکھ رہا تھا، مانو جیسے اُس کا من پسند کھلونا اُس سے چھین لیا گیا ہو۔ مار کے خوف سے اُس نے مجھے دوبارہ پکڑنے کا ارداہ ترک کردیا۔ اور پیڑ سے بندھی بکری کی طرف بڑھ گیا۔ جہاں بکری سر جھکائے سکون سے چارہ کھا رہی تھی۔ کاچیؔ نے بکری کو سینگ سے پکڑ کے اس کے سر کو زور زور سے دائیں بائیں گھمانا شروع کردیا۔ بکری سر پر پڑی اس ناگہانی اُفتاد سے گھبرا گئی۔ کاچیؔ نے بکری کا  کان اس زور سے مڑوڑاکے وہ درد سے چیخنا شروع ہوگئی۔ خالہ نے کاچیؔ کو بکری سے چھیڑ چھاڑ کرتے دیکھ زمین پر پڑی اپنی چپل اُٹھائی اور بیٹھے بیٹھے تاک کر ایسا نشانہ لگایا کہ چپل ٹھیک کانچیؔ کی کمر سے جا کر لگی۔ ور وہ کمر سہلاتا ہوا بکری کو چھوڑ کر گھر سے باہر اس خوف سے بھاگ کھڑا ہوا ۔ بکری  مصیبت سے جان کی خلاصی پاتے ہی دوبارہ چارہ کھانے میں جت گئی۔ سفید بکری لمحے بھر میں سب کچھ کیسے بھول گئی مجھے نہیں معلوم  لیکن کاچیؔ کے گھر سے باہر نکل جانے کے بعد اُس کا خوف تو زائل ہوگیا لیکن میرے دل میں اس کے لئے نفرت پھر بھی باقی رہی۔

     یہ سب ایک بار کا قصہ نہیں، ہر دفعہ ایسا ہی ہوتا۔ میں نے ہمیشہ یونہی ہوتے دیکھا۔ کاچیؔ خالہ کے ساتھ آتا ہے مجھے اور بکری کو تنگ کرتا ہے، خالہ اسے کوستی ہیں اور وہ چپل کی چوٹ پڑنے کے بعد گھر سے بھاگ کھڑا ہوتا ہے۔  خالہ دوبارہ میری ماں سے باتیں کرنے میں مصروف ہوجاتی وہ بہت دیر تک جانے کہاں کہاں کے قصے کہتی رہتی ہے اور میری ماں بغیر کچھ کہے چپ چاپ سنتی رہتی ہے۔ جب خالہ جہان بھر کے قصے کہانیاں کہتے تھک جاتی ہے تو چارپائی سے اٹھ کر اپنے سر پر چادر جماتے ہوئے کہتی ہے
    ’’کچھ اپنے منہ سے بھی کہہ سن لیا کر، دل کا بوجھ ہلکا ہوجاتا ہے۔ ایسے خاموش بیٹھی رہے گی تو دل پھٹ جائے گا تیرا۔لیکن ایسا لگتا ہے کہ جیسے  تجھ کرم جلی کے  منہ میں زبان ہے ہی نہیں۔‘‘
    یہ بول کر خالہ اپنے سر پر اوڑھنی جما کر باہر نکل جاتی۔ 
    سچ کہہ رہا ہوں!  یہ سب ایک بار کا قصہ نہیں، ہر دفعہ ایسا ہی ہوتا۔ اور میں نے ہمیشہ یونہی ہوتے دیکھا۔

    مجھے شک ہے کہ ابا کہ منہ میں بھی زبان نہیں ہے۔ اُسے بھی کبھی  ہونہہ، ہاں سے زیادہ کہتے کچھ نہیں سنا۔ لیکن خالہ نے کبھی اُسے بے زبان نہیں کہا۔
    خالہ نے ابا کو ایسا کیوں نہیں کہا ؟ ۔۔۔ میں نہیں جانتا 
    بس یوں سمجھولو کہ ! ۔۔۔۔ اس بوسیدہ مکان میں ہم چاربے زبان اکھٹے رہا کرتے تھے ۔  میں، ابـا ، میری ماں  اور ایک سفید بکری ۔

    ابا  اور اماں دونوں  ہی مجھے پیارے تھےاور وہ دونوں بھی مجھے بے انتہا پیار کرتے تھے۔۔ 
    ابا جب کبھی مجھے نطر بھر کے دیکھتا، تو ا س کی آنکھ کی پتلیاں آسودگی کے چراغ بن کر جل اٹھتیں۔ وہ ہر روز شام واپسی پر میری رگوں میں اپنا  ہنر انڈیلتا۔ دن بھر میں کئی کئی گھنٹے مشق کراتے ہوئے نہ تھکتا۔زندگی کی آخری جنگ لڑتے لڑتے بوڑھا جسم ہانپ جاتا ۔ لیکن اُس نے کبھی ہمت نہیں ہاری۔ زندگی کی بساط پر میں اس کا واحد پیادہ تھا، جسے آگے چل کراپنے بوڑھے اور کمزور بادشاہ کا دفاع کرنا تھا۔ 
    جب کبھی مجھ سے کوئی غلطی سرزد ہوجاتی۔ تو وہ  میرے سر پر ایک ہلکی سی چپت رسید کر دیا کرتا۔ لیکن میری غلطی کی سزا بیچاری بکری کو بھگتنا پڑتی۔ ابا کا بے رحمی سے برستا ڈنڈا اور کھونٹے سے بندھی درد سے ممیاتی ہوئی سفید بکری کو دیکھ کر میں سہم جاتا۔ 
    ابا کی یہ نا انصافی مجھے کبھی سمجھ نہ آئی۔نہ جانے وہ ایسا کیوں کرتا تھا؟ ۔۔۔ مجھے نہیں معلوم 
     بس اُس کے بعد میری یہی کوشش ہوتی کہ میں وہ غلطی دوبارہ نہ دہراوں کہ جس کی سزامیری پیاری بکری کو ملے۔
     ابا جب بکری کو مارتے مارتے تھک جاتا تو ڈنڈا زمین پر پھینک دیتا اوراپنی دونوں بانہیں پھیلا کر مجھے اپنے قریب آنے کا اشارہ کرتا۔ میں دوڑتا ہوا اپنے ابا کی گود میں چڑھ جاتا اوروہ مجھے پیار سے چمکارنے لگتا۔۔۔ میں ابا سے نظریں بچا کر خوف اور درد سے ہانپتی بکری کو کن انکھیوں سے دیکھتا اور دل ہی دل میں دوبارہ غلطی نہ کرنے کا عہد کرلیتا۔ ہرگزرتا دن میری غلطیوں کوسدھارتا چلا گیا، باپ کا ہنر بیٹے کے سینے پر مہارت کا تمغہ بن کر چمکنے لگا اورمیری دکھ کی ساتھی سکھ کی جگالی کرنے لگی۔ 
       
    ایک شام ابا نے بکری کے گلے سے بندھی رسی کھولی اور اسے میرے سامنے پچھاڑ دیا۔ بکری گھٹی ہوئی آواز میں چلائی لیکن ابا نے بڑی ہی بے دردی سے اس کے گلے پر چھری پھیر دی۔ نرخرے سے خون کا فوارہ ہوا میں اچھلا اور میرا پورا چہرہ خون سے رنگ گیا۔ میں بدحواسی کے عالم میں اِدھراُدھر بھاگنے لگا۔ ابا نے میرے سامنے بیٹھ کر بکری کا گوشت بنایا اوراسے آگ پر چڑھی دیگ میں پکانے لگا۔۔۔۔ شام ڈھلتے ہی آس پڑوس کے بزرگ اور خاندان کے کچھ افراد  گھر میں اکھٹے ہوئے۔ دسترخوان بچھا کر لوگوں کے آگے کھانا رکھا گیا،  وہ سب بہت دیر تک میری محسن کو اپنے حریص جبڑوں سے چباتے جاتےاور نہ نگلی جانے والی ہڈیوں کو ہوا میں اچھالنے لگے۔ میں ہوا میں قلابازی لگاتا اوران ہڈیوں کو زمین پر گرنے سے پہلے ہی دبوچ لیتا،  پھر تو جیسے لوگوں نے اسے کھیل ہی بنا لیا اور دیگ میں بچی آخری بوٹی تک یہ سلسلہ چلتا رہا۔ رات ہوجانے پر لوگ بھرے پیٹ اپنے گھروں کو لوٹ گئے۔ گھر خالی ہوتے ہی ابا نے ایک نظر مجھ پر ڈالی اور پھر وہ سونے چلا گیا۔۔۔ میں نے جمع کی ہوئی تمام ہڈیوں کو اکھٹا کیا اور اسے ایک ترتیب کیساتھ خون آلود رسی اور کھونٹے کے گرد رکھا اور سپیدۂ سحری تک میری سماعت قم باذن اللہ سننے کو بے قرار رہی۔
    
   ! میرا  ابا ایک مداری تھا
!    گلی گلی کرتب دکھانے والا ایک مداری 
     لیکن خدا کے نزدیک وہ پورے خاندان کا درد اپنے جسم پر سہنے والی میری سفید بکری سے کم نہ تھا ۔ 
    ہم سب کے دکھ وہ اپنے بدن پر جھیلتا۔ ہماری ضرورتوں کے عوض اُس کے جسم پر روزانہ ڈنڈے برسائے جاتے۔
    ڈنڈے برسانے والا ہاتھ، اور ابا کے جسم پر پڑے نیل مجھے کبھی دکھائی نہ دئیے۔۔ لیکن ابا کے سپاٹ ماتھے پر پھیلتی سکڑتی لکیروں اور بیڑی کے ہر کش کے بعد اترتے چڑھتے تاثرات کا بھید اب میں جان گیاتھا۔ 
    دعوت کے اگلے روز سے میں ابا کیساتھ کام پر جانے لگا۔گھر سے باہر کی دنیا بڑی تیزگام تھی۔
     بھری دوپہر وہ گلی گلی صدا لگاتا، کرتب دکھاتا ۔۔۔۔جب تھک کر کسی درخت کے سائے میں بیٹھتا تو ایک آدھ بیڑی جلالیا کرتا۔ بیڑی ابا کی واحد عیاشی کا سامان تھا۔ وہ تمباکو کے دھوئیں سے ساری ادھوری خواہشیں کشید کرلیا کرتا  اور پھر سے تازہ دم ہوکر روٹی کی تلاش میں اٹھ کھڑا ہوتا تاکہ ہمارا پیٹ بھراجاسکے۔ ہماری آسائشوں کا سامان اکھٹا کرنا ابا کی ذمہ داری تھی اور ذمہ 
داری کبھی محبت کے ذیل میں نہیں آتی۔
    ’’ابا ہمارے پیٹ کی دوزخ کو بھرا کرتا ہے،  شاید اسی لئے اُس کے پیروں تلے جنت نہیں۔‘‘
     
    ۔۔۔۔خدا جانے !  ابا کرتب دکھایا کرتا تھا  یا پھر ! وہ خود ایک تماشہ تھا۔
    جب  تماش بین ابا کی آواز اور ڈکڈگی کی ڈگ ڈگ سن کر اکھٹے ہوجاتے،تو رش ابا کے اندر ایک نیا جوش بھر دیتا۔ ابا کےنحیف بدن سے گرجدار آواز ایک معجزہ بن کر نکلتی۔ڈگڈگی کی تال پر صدا لگا کر ابا تماشے کا آغاز کرتا۔ تماش بینوں کی نظرشروع ہونے والے تماشے پر ٹکی ہوتیں اور ابا کی آنکھیں تماش بینوں کی ٹھنسی ہوئی جیبوں پر۔ ابا کی ترسی ہوئی نگاہیں جیبوں کی جانب رینگتے ہوئے ہاتھوں کو بڑی آس لگائے دیکھا کرتیں، اس خیال سے کہ نہ جانے کب کوئی ہاتھ اسکی جانب پیسہ اچھال دے۔
    
    ابا اور تماش بینوں کی نظریں کیا دیکھا کرتی ہیں، مجھے اس کی پرواہ نہ تھی۔  لیکن میری نظر ابا کے ڈگڈگی بجاتے ہاتھ اور ڈنڈے کی مانوس سفاکیت پر ہوتی ۔اور مجھے اپنی پیاری بکری یاد آجایا کرتی۔ ناانصافی اور درد جھیلنے کے لئے میری بکری تو موجود نہ تھی لیکن پھر بھی میں ڈنڈے کو دیکھ دل ہی دل میں کوئی غلطی نہ کرنے کا عہد دہرا لیا کرتا۔ میں سارے دن زمین پر پڑے سکے جمع کرتا اور اسے ابا کے آگے رکھے برتن میں ڈال دیتا۔ روپیہ دیکھ کر ڈگڈگی کی ڈگ ۔۔ڈگ۔۔ اور ابا کی آواز اس قدر بلند ہوجاتی کہ آسماں پر سوئے فرشتے تک جاگ جاتے۔۔
     لیکن پھر بھی خدا کی آنکھ نم نہ ہوتی۔
        ’’ خدا کو یوں خاموش اور مصروف پا کر فرشتے فرات کے اجلے پانیوں اورسرخ ریت کو یاد کرتے ہوئے دوبارہ سوجاتے۔ ‘‘
        
    گھر میں ایک ننھےفرشتے کی آمد متوقع ہے۔ سچ کہوں تو ! گھر میں ایک اور نوحہ گر ماں کی کوکھ میں اپنی باری کے انتظار میں تھا۔
    ’’ واہ رے مولا ! تو بھی فرشتے کے جسم پر پیٹ ٹانک کر اُسے انسان بنا دیتا ہے اور بھوک اسے حیوان۔‘‘
     ابا اکثر معدے میں تیزابیت کا بہانہ کرکے راتوں کو خالی پیٹ ہی سوجایا کرتاتھا۔ شائید اس لئے کہ میری ماں اور اسکی کوکھ میں پلنے والا نیا مداری کہیں بھوکے نہ رہ جائیں۔
    ذمہ داریاں آکاس بیل بن کر اباکے جسم سے لپٹی ہوئی  تھیں۔ابا سورج سے جنگ ہار گیا ، وہ اپنی شکست خوردہ سوکھی ہوئی جڑوں کے سہارے زیادہ دیر کھڑا نہ رہ سکا۔ اور ایک جانب ڈھے گیا۔ نئے مداری کی آنکھ کھلنے سے پہلے ہی پرانے مداری کی آنکھ بند ہوگئی۔
     تماشہ وقت سے پہلے اپنے انجام کو پہنچا ! ۔۔لیکن رکا نہیں۔ اب ڈگڈگی ماں کے ہاتھ میں تھی اور نیا مداری ماں کے پیٹ میں۔ میری پیاری ماں اور میں گلی گلی ڈگڈگی بجاتے ہوئے ابا کا نوحہ دہرانے لگے۔ تماشہ وہی پرانا تھا اور تماش بین بھی،  لیکن پیسہ اب پہلے سے کہیں زیادہ برستا تھا، میری عقل چھوٹی تھی اس لئے  دیر سے سمجھ آیا اب تماش بین کی آنکھوں میں حیرت اور دلچسپی کے ساتھ ساتھ ’ہوس‘ بھی شامل تھی۔ 
    
    پھر ایک دن اچانک ڈگڈگی بجتے بجتے دوبارہ خاموش ہوگئی ، جب میں نے پلٹ کر دیکھا تو ماں زمین پر پڑی درد سے تڑپ رہی تھی۔ میں اس درد کو سمجھنے سے قاصرتھا۔ ایک دفعہ ڈگڈگی بجنا بند ہوئی تھی تو میرا باپ مجھ سے جدا ہوگیا۔ پھر ! جب آج دوبارہ ڈگڈگی کھیل ختم ہونے سے پہلے خاموش ہوئی تو دل میں خیال آیا کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ میری ماں بھی مجھ سے بچھڑنے والی ہے ۔۔۔ 
    میں دوڑتا ہوا ماں کے قریب پہنچا، وہ اپنے  دونوں ہاتھ پیٹ پر رکھے درد سے کراہ رہی تھی۔ مجھ بےعقل کو کچھ سجھائی نہیں دیا سوائے اس کے کہ میں نے ماں کےہاتھوں میں ڈگڈگی اور ڈنڈا تھمایا اوراپنی پہلی والی حالت میں کھڑا ہوگیا۔ اس انتظار میں کہ ڈگڈی دوبارہ بجے۔۔ اور اس بار میں وہ شاندار قلابازی لگاؤں کے پیسہ پہلے سے زیادہ ملے۔۔۔  لیکن ڈگڈگی پھر بھی نہ بجی پلٹ کر دیکھا تو دونوں چیزیں  ایکبار پھرزمین پر تھیں ۔۔۔
    میں دوبارہ ماں کے پاس پہنچا، زمین پر پڑی ڈگڈگی ایکبار پھر اس کے ہاتھوں میں تھمائی۔ میں بے زبان کچھ بول تو نہیں سکتا تھا لیکن میری حیرت زدہ پھٹی آنکھوں نے ماں سے آخری بار یہی کہا۔۔۔
    ’’پیاری ماں،، صرف ایکبار اور ڈگڈگی بجادو۔ اس بار بہت اونچی چھلانگ لگا کر آسمان کےاُس پرے بیڑی سلگائے اور لمبے لمبے کش لیتے ہوئے ابا کو زمین پر کھینچ لاؤں گا، وہ اتنا غیر ذمہ دار نہیں کہ ہمیں اس حال میں اکیلا چھوڑ دے۔ بس وہ تھک گیاتھا، بیڑی سلگا کر بیٹھا ہوا ہے۔‘‘    
     بے حسی چاروں جانب رقصاں تھی۔ تماش بین میری ماں کے گرد کھڑے تھے۔ لوگوں کے لئے ایک نیا تماشہ شروع ہوچکا تھا۔ ایمبولینس بھیڑ کو چیرتی ہوئی آگے بڑھی اور میری ماں کو زندہ نگل لیا۔ اس دن کے بعد سے میں اپنی ماں کا چہرہ دوبارہ کبھی نہ دیکھ سکا۔۔۔  
    میرے پاس وہ ڈگڈگی  آج بھی موجود ہے،  جب کبھی مجھے اپنے اماں ابا کی یاد آتی ہے تو میں اسے لے کر بازار کی جانب نکل پڑتا ہوں- لوگوں کے درمیان کھڑا ہوکر اسے زور زور سے بجاتا ہوں اور اپنے دونوں ہاتھ اوپر کئے دیوانہ وار ناچنے لگتا ہوں۔۔۔ چند پرانے تماش بین مجھے پہچان کر میری جانب روٹی اچھال دیتے ہیں، کچھ لوگ اب بھی خدائی صفت کا بھرم قائم رکھتے ہیں اور مجھے دیکھے بغیر ہی گزر جاتے ہیں لیکن میں ان باتوں کی پرواہ کئے بغیر ناچتا ہی چلا جاتا ہوں۔
     چند شرارتی بچے مجھے  تنہا پاکر پکڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جب میں اُن کے ہاتھ نہیں آتا تو وہ سب مل کر مجھے پتھر مارنے لگتے ہیں۔ نامعلوم سمت سے اچانک کاچیؔ نمودار ہوکر میرے اور پتھر مارنے والے بچوں کے درمیان ایک دیوار بن کر حائل ہوجاتاہے۔سیاہ مائل رنگت والا کاچیؔ کہ جس کے بال چاول کے دانے کے برابر تھے وہ دوڑ کر دو بچوں کی گردنیں اپنی بدبودار بغل میں سختی سے داب لیتا ہے اور  انہیں چلاتے ہوئے کہتا ہے۔۔
    ’’ کم عقلوں! اگراس بے زبان کی ہائے لگی تو کہیں کے نہیں رہو گے۔اگر آیندہ ایسا کیا تو اس سے بھی زیادہ برا حشر کروں گا۔‘‘
    صغریٰ خالہ جھوٹ کہتی تھی کہ بے زبان کی آہ لگ جایا کرتی ہے۔ وہ کبھی مجھے ملی تو میں اس کی یہ غلط فہمی دور کردوں گا۔۔ اور اسے بتاؤں گا کہ 
    ’’بے زبان کی ہائےآسمان سے ذرا پہلے ہی دم توڑ دیا کرتی ہے۔ ورنہ کاچیؔ کب کا مرچکا ہوتا ۔‘‘

    میں قریبی درخت پر چڑھ کراس کی شاخوں کو اس زور سے ہلاتا ہوں کہ اسکے سارے پتے جھڑ جاتے ہیں۔۔۔ میں درخت کی ننگی شاخ پر بیٹھا آسمان کی جانب سر اُٹھا کر ایک بار پھر ڈکڈگی بجا کر اپنے ابا کا نوحہ دہرانے لگتا ہوں ۔۔۔ 
    ڈگ، ڈگ، ڈگ ۔۔ڈرپ۔۔۔ڈگ، ڈگ، ڈگ،ڈگ ،ڈگ، ڈگ ۔۔۔۔۔ ڈرپ۔۔۔۔ڈگ ڈگ۔۔
    سوئے ہوئے فرشتے دوبارہ جاگ جاتے ہیں۔۔۔    
    لیکن اس بار وہ خدا کی بنائی ہوئی بے شمار ڈگڈیاں آسمان سے نیچے زمیں کی جانب اچھال دیتے ہیں۔ جو ایک ایک کرکے سیکڑوں ماؤں کی کوکھ میں پیوست ہوجاتیں ہیں۔

Advertisment

Be the first to comment

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.