عدم دستور۔۔۔ گلفام غوری

Gulfam Ghauri is a promising young fiction writer and is widely read. The fiction lovers expect more such stories from him.

عدم دستور

( گلفام غوری )

مُجھے بس اس بات کا افسوس رہے گا کہ میں نے نیرنگ گیلری سے نکلتے ہوئے آگے بڑھ کر اُس کے لیے دروازہ کیوں کھولا؟ اور جب اُسے رُخصت کرنے لگا تو کیوں ایک بار پھر آگے بڑھ کر میں نے گاڑی کا دروازہ کھولا؟ اور اُس کی گاڑی کو جاتے ہوئے دیکھ کر میں سوچنے لگا کہ اس دستوری عمل کی آخر ضرورت ہی کیا تھی؟
ایک سگریٹ والی دکان پر میں نے اپنے مطلوبہ اسمگل شُدہ سگریٹ کا پوچھا اور نفی میں جواب پا کر میں خاموشی سے نہر والی سڑک کی جانب چل دیا۔ میری آنکھوں کے سامنے اس ملاقات کی جھلکیاں جھلملانے لگیں۔۔
ہم دونوں ایک دوسرے کو گذشتہ ڈیڑھ برس سے جانتے تھے اور اس جان پہچان کی نوعیت سینیئر اور جونیئر جیسی تھی۔ اس سارے عرصے میں ہماری گفتگو سراسر علمی رہی۔مگر پچھلے دو دنوں میں وہ جس سرعت سے “سر” سے “یار” تک آئی، اس کے بدلے میں میری سینیارٹی کو “آپ” سے “تم” تک آنے میں کوئی دقت نہ ہوئی تھی۔
نیرنگ گیلری میں بیٹھے ہوئے میں نے جس کونے والی میز کا انتخاب کیا تھا اس کے پیچھے ایک کتابوں والی الماری تھی جس میں کئی کتابیں بوسیدہ اور خستہ حالت میں تھیں اور کئیوں پر سیلاب اور جلے کے اثرات واضح تھے۔

اس میز کا انتخاب میں نے اس سبب کیا تھا کہ سگریٹ نوشی میں خلل نہ ہو۔ بیرے نے آ کر ہمیں مکیّف ہال میں جانے کا کہا جس پر میں نے سیاہ پوش لڑکی کی جانب سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
“وہاں سگریٹ نہیں پی سکتے ناں” شیمپو کئے بالوں والی نے جواب دیا۔۔۔
امیر خسرو کا کلام ایک معروف قوال کی آواز میں مدھم مدھم چل رہا تھا جس پر میری اُنگلیاں صوفے کے بازو سے بج رہی تھیں۔میں اُس سے کسی قسم کی بھاری بھرکم گفتگو نہیں کرنا چاہتا تھا جیسی ہم پچھلے دو دنوں سے کر رہے تھے۔وہ ایک دیہاتی ماحول میں پلی پڑھی لکھی لڑکی تھی جو اپنے شوہر سے الگ ہاسٹل لائف گزار رہی تھی مگر اُس کے چہرے پر کسی غم یا تاسف کا شائبہ نہیں تھا۔
“تم اتنی بُری ہو نہیں جتنی بننے کی کوشش کرتی ہو.” میں نے اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔”ہے نا؟” براؤن آنکھوں والی نے پوچھا۔”بالکل بھی نہیں” میں نے اُس کی دائیں آنکھ میں جھانکا جو ناک کی اوٹ سے دیکھ رہی تھی۔
“بس یار مُجھ سے یہ دوغلا پن برداشت نہیں ہوتا۔ہمارے گھر میں لڑکی جب آٹھ سال کی ہوتی ہے تو اُسے پردہ کروانا شروع کر دیتے ہیں۔مُجھے سب کہتے ہیں مگر میں نہیں کرتی۔ بھئی کیوں کروں؟ جب میں لاہور ہوتی ہوں تب پردہ نہیں کرتی تو گھر جا کر کیوں ریاکاری کروں؟ کیوں سب کو دکھانے کے لیے پردہ کروں؟” پردے سے باغی لڑکی بے تکان بول رہی تھی اور اُس کے گریبان کی درز میں سے کوئی مارے شرم کے سامنے آنے کی ہمت نہیں کر رہا تھا جبکہ اُس کا دُبلا سا دوپٹہ تمام باتوں سے بے نیاز اُس کے کندھے پر سر رکھے سو رہا تھا۔
“دہریت سے کتنی دُور ہو؟” میری آنکھوں کے سامنے وہ اپنے تمام تر خیالات سمیت کُھلی پڑی تھی۔”دہریت سے ابھی بہت دُور ہوں” اُس نے خوش دلی سے سگریٹ کا کش لیتے ہوئے جواب دیا “بس پھر خیر ہے” میں مطمئن ہو کر سگریٹ سُلگانے لگا۔”کیا مطلب؟” اُس کی سانولی رنگت پر سوالیہ تاثرات اُبھر کر مدھم ہو گئے تھے، جیسے وہ میرا جواب جاننا ہی نہیں چاہتی تھی۔”اگر تمہیں اپنے شوہر سے سمجھوتہ کرنا پڑ جائے تو کس بنیاد پر کرو گی؟” میرے سامنے ایک ایسی بیاہتا تھی جس کا جسم شادی شُدہ ہونے سے انکاری تھا۔”اگر سمجھوتہ ہی کرنا ہوتا تو میں پہلے نہ کر لیتی؟” اُس دُبلی پتلی لڑکی کا مؤقف بھی اُس کے سراپا جیسا سیدھا شہتیر تھا۔
اُس کے بعد وہ اپنے شوہر کی باتیں کرنے لگی۔ بات ایک تھپڑ سے شروع ہوئی اور اس حد تک بڑھ گئی کہ کوئی بھی سُننے والا اُسے واپسی کی راہ پر چلنے کا مشورہ نہ دے سکا۔ جانے کیوں میں نے محسوس کیا کہ شاید اُسے اپنے شوہر کی بُرائیاں کرنے میں لُطف آتا ہے۔
“میں تو کبھی بھی نہ جاؤں واپس اُس موٹے گینڈے کے پاس” اُس نے یوں کہا جیسے وہ سامنے آئے گا تو اُس کا منہ نوچ لے گی۔۔۔۔ میری نگاہوں میں اُس کے سنہری پالش لگے لمبے ناخن مزید لمبے ہو گئے۔
اس سے قبل کہ وہ اپنے شوہر کے خلاف ایک بار پھر محاذ کھولتی میں نے اُسے اپنی بیوی کے متعلق بتانا شروع کیا۔ میری باتیں سُن کر اُس کا دل میری بیوی سے ملنے کو چاہا اور اس کا اُس نے برملا اظہار کیا مگر اُس نے اپنے شوہر سے متعلق ایک بھی بات ایسی نہ کہی تھی جسے سُن کر میرا اُس سے ملنے کو دل چاہتا۔   پھر بھی میں اُس موٹے سے ملنا چاہتا تھا، مگر اس بات کے اظہار کا یہ وقت نہیں تھا۔اُس کا شوہر وہ لاعلم شخص تھا جسے یہ معلوم نہیں تھا کہ اُس کی بیوی کہاں ہے؟ ۔ اور میری بیوی وہ باخبر عورت تھی جسے معلوم تھا کہ اُس کا شوہر کس کے ساتھ ہے۔ یہ ہماری پہلی ملاقات تھی مگر ہمارے درمیان کسی قسم کا حجاب نہیں تھا۔
“مُجھے عورتیں اچھی نہیں لگتیں مگر آپ کی بیوی سے میں ملنا چاہوں گی” یہ بات ایک ایسی عورت کہہ رہی تھی جس میں عورت پن مفقود تھا۔”عورتیں کیوں اچھی نہیں لگتیں؟” میں نے خوبصورت بالوں والی سے سوال کیا۔”اپنی مخصوص ذہنیت کے باعث، حاسد، لالچی، سازشی” وہ کہہ رہی تھی اور میری آنکھوں کے سامنے اُس کی صراحی سی گردن لہرا رہی تھی۔
ایک ایک کر کے مُجھے وہ تمام عورتیں یاد آئیں جو اُس کی زندگی میں مُختلف رشتوں کی کرسی پر براجمان تھیں اور سب میں یہ عناصر موجود تھے ۔ وہ خدا کے بنائے رشتوں سے متنفر تھی اور اُسے بس ایک ہی رشتہ عزیز تھا جسے انسان دوست کی صورت میں خود مُنتخب کرتا ہے۔۔”میں جب لاہور ہوتی ہوں تو مُجھ میں میرا اپنا آپ قائم رہتا ہے، اور جب گھر جاتی ہوں تو میں مرنے لگتی ہوں۔    میرا ایک دوست ہے جسے میں نے کہہ رکھا ہے اگر کبھی تم دیکھو میں، میں نہیں رہی تو مُجھے یاد دِلا دینا کہ تم یہ ہوتی تھیں”۔
کھوئی کھوئی سی لڑکی نے میرے ایک سوال کے جواب میں کہا تھا۔
“سچ یہ ہے کہ تم میں، تم ہو ہی نہیں” مُجھے یقین تھا اصل وہ نہیں جو میرے سامنے بول رہی تھی، اصل کہیں بہت دُور گاؤں میں تھی جس کا وجود جیل روڈ پر کنیئرڈ کالج کے سامنے نیرنگ گیلری میں میرے سامنے موجود تھا۔ “میں جب اپنے شوہر کے پاس تھی تب میں نے ایک بار سمجھوتہ کرنے کی کوشش کی تھی۔ مگر وہ کمبخت مُجھ میں سے مُجھے ہی ختم کرنا چاہتا تھا۔ وہ چاہتا تھا میں سانس بھی اُس کی مرضی سے لوں”۔
وہ سچ میں اپنی مرضی سے سانس لے رہی تھی۔  کچھ اس طرح دبی دبی سانسوں کی آوت جاوت جاری تھی کہ سینے پر کسی قسم کے زیر و بم کے نقوش ڈھونڈنے سے بھی نہ ملیں۔۔۔ ماسوائے اُن دُود آلود سانسوں کے جنہیں وہ اپنے باریک ہونٹوں سے چھوڑتی تھی۔”یار وہ مُجھ پر اپنی مرضی مسلط کرنا چاہتا تھا،  زہر لگتے ہیں مُجھے ایسے مرد”  من مرضیاں کرنے والی نے کہا۔”میں نے بھی تو تم پر اپنی مرضی مسلط کی تھی؟” پہلی بار میری آنکھوں کے سامنے اُس کا سراپا نہیں تھا۔”کب؟” اُس نے یوں پوچھا جیسے کوئی گناہ کر بیٹھی ہو۔
“تمہیں روکا جو تھا” میں نے میز پر پڑے گلاس کی جانب اُس کی توجہ دِلائی۔”اس کی خیر ہے، یہ کون سا آپ نے مُجھ پر ساری زندگی کے لیے مسلط کیا ہے” اُس نے مُسکراتے ہوئے جواب دیا۔میرا خیال ہے اگر وہ لڑکی مُسکراتی رہے تو زیادہ زندہ نظر آتی ہے۔
“چلیں؟ تمہارا ہاسٹل بند ہونے کا وقت قریب ہے” میں نے موبائل دیکھتے ہوئے کہا۔”بس ایک آخری سگریٹ پی لیں پھر چلتے ہیں” اُس نے پیکٹ کا آخری سگریٹ نکالا۔
میری آنکھوں کے سامنے تمام ملاقات بکھری پڑی تھی۔ ہم دونوں کے درمیان ایک میز کا فاصلہ تھا اور میز پر ہماری ملاقات کی باقیات تھیں۔ میرے گلاس میں کولا مشروب کے چند قطرے اور اُس کے گلاس میں اسٹرابری شیک کا آخری گھونٹ ، دو پانی کے خالی گلاس اور ایک بوتل میں کچھ بچا ہوا پانی۔اکلوتا چائے کا خالی کپ جسے اُس کے ہونٹ صرف سردیوں میں چُھوتے ہیں، ایش ٹرے میں ڈھیر سارے سگریٹ کے سفید فلٹرز اور اُن میں سے چار فلٹرز پر گلوز کے بوسے۔  میں نے اُس کے ہاتھ سے سگریٹ لیا تو پہلی بار میری اُنگلیاں اُس کی اُنگلیوں سے مَس ہوئیں۔  اس لمحے کو اُس نے بڑی مہارت سے نظر انداز کیا مگر ایک عورت تھی جس نے اپنی چھب دِکھا کر اُس کی تمام تر مہارت اکارت کر دی۔
نہر کنارے چلتے ہوئے مُجھے یاد آیا کہ ہر بار جب میں نے بڑھ کر اُس کے لیے دروازہ کھولا تو اُس کے قدم پہلے سے ہی اس انتظار میں رُکے تھے کہ اخلاقی طور پر مرد آگے بڑھ کر رستہ بناتا ہے اور عورت کو “پہلے آپ” کی دعوت دیتا ہے۔ جس وقت ہم گیلری سے نکل کر گاڑی کی طرف بڑھ رہے تھے تب بھی وہ مُجھ سے دو قدم پیچھے تھی۔
“وہ ابھی زیادہ دُور نہیں گئی ” میرے دل نے گواہی دی اور میرا اپنے آپ پر سارا افسوس رفع ہو گیا ۔ میں نے جیب سے موبائل نکالا اور اُسے میسج کیا “چائے تو میری طرف پھر اُدھار رہ گئی”۔

Advertisment

Be the first to comment

Share your Thoughts: