ہم اور میں ۔۔۔۔۔ ارون دتی رائے

hum-aur-mein-arundhati-roy

Suzanna Arundhati Roy is an Indian author. She is best known for her novel The God of Small Things, which won the Man Booker Prize for Fiction in 1997. This novel became the biggest-selling book by a non-expatriate Indian author.

ہم  اور  میں

 ( ارون دتی رائے )

مئی کے شروع میں (بم سے پہلے) میں تین ہفتے کے لیے باہر گئی۔ میں نے سوچا تھا واپس آؤں گی۔ میرا واپس آنے کا پورا ارادہ تھا۔ ظاہر ہے، واقعات میرے بنائے ہوے منصوبے کے مطابق پیش نہیں آئے۔

   جب میں باہر تھی، میری ملاقات اپنی ایک دوست سے ہوئی جسے میں نے، دوسری وجہوں کے علاوہ، اس بنا پر ہمیشہ عزیز رکھا ہے کہ اس کی ذات میں میرے لیے بے پناہ محبت کے ساتھ ساتھ ایسی صاف گوئی بھی ہے جس کی حدیں سفاکی سے جا ملتی ہیں۔

            “میں تمھارے بارے میں سوچتی رہی ہوں،” اس نے کہا۔ “تمھارے ناول کے بارے میں۔ اور جو کچھ اس کے اندر باہر، آگے پیچھے، اوپر نیچے ہے اُس کے بارے میں۔”

 پھر وہ کچھ دیر خاموش رہی۔ میں بہت بےچین تھی اور یقین سے نہیں کہہ سکتی تھی کہ میں اس کی بات آخر تک سننے کی خواہش مند ہوں۔ لیکن اُسے بہرحال یقین تھا کہ وہ اپنی بات آخر تک کہنا چاہتی ہے۔ “پچھلے ایک برس میں، دراصل ایک برس سے بھی کم عرصے میں، تمھیں ہر چیز بہت بڑی مقدار میں ملی ہے: شہرت، دولت، انعامات، ستائش، تنقید، مذمّت، استہزا، محبت، نفرت، غصّہ، حسد، فیاضی۔ ایک طرح سے یہ ایک مثالی کہانی ہے۔ اور اپنے مبالغے کے اعتبار سے بیروک آرٹ کا مثالی نمونہ۔ مشکل یہ ہے کہ اس کا مثالی انجام، یا ممکنہ مثالی انجام، صرف ایک ہو سکتا ہے۔” اُس کی آنکھیں مجھ پر جمی ہوئی تھیں اور ایک خم دار، پُر تجسس چمک سے جھلملا رہی تھیں۔ وہ جانتی تھی کہ میں جانتی ہوں وہ کیا کہنے والی ہے۔ وہ پاگل تھی۔

 وہ یہ کہنے والی تھی کہ آئندہ میری زندگی میں جو بھی کچھ ہو گا وہ اس پچھلے ایک برس کی چمک دمک کے جوڑ کا نہیں ہو گا۔ کہ میری پوری بقیہ زندگی مبہم طور پر غیر اطمینان بخش گزرے گی۔ چناں چہ اس کہانی کا واحد مثالی انجام موت ہے۔ میری موت۔

 یہ خیال میرے ذہن میں بھی آ چکا تھا۔ سچ مچ آ چکا تھا۔ یہ حقیقت کہ یہ سب کچھ، یہ تمام بین الاقوامی چہل پہل __ میری آنکھوں میں چمکتی روشنیاں، حاضرین کی داد، پھول، فوٹوگرافر، اخبارنویس (یہ ظاہر کرتے ہوے کہ انھیں میری زندگی سے گہری دل چسپی ہے، اس کے باوجود کسی ایک بات کو بھی درست بیان کرنے کے سلسلے میں سخت مشکل سے دوچار)، میرے اردگرد منڈلاتے ہوے سُوٹ پہنے مرد، ہوٹلوں کے چمکدار باتھ روموں میں تولیوں کی ختم نہ ہونے والی قطاریں __ یہ سب کچھ دوبارہ ہونے والا نہیں تھا۔ کیا مجھے اس چہل پہل کی کمی محسوس ہو گی؟ کیا میں اس کی عادی ہو چکی ہوں؟ کیا مجھے شہرت کا نشہ چڑھ چکا ہے؟ کیا یہ نشہ ٹوٹنے پر مجھے تکلیف ہو گی؟

   جتنا زیادہ میں اس بارے میں سوچتی رہی، اُتنا ہی مجھ پر واضح ہوتا گیا کہ اگر شہرت میری مستقل صورتِ حال بن گئی تو یہ مجھ کو مار ڈالے گی۔ اپنی شائستگی اور صاف ستھرے پن سے مجھے ہلاک کر دے گی۔ مجھے اعتراف ہے کہ میں نے پانچ منٹ کے لیے اپنی اس شہرت کا بہت لطف اٹھایا، لیکن اس کی بنیادی وجہ یہی تھی کہ اس کا دورانیہ محض پانچ منٹ کا تھا۔ کیوں کہ میں جانتی تھی (یا میرا خیال تھا کہ میں جانتی ہوں) کہ جب میں اس سے اُکتا جاؤں گی تو اٹھ کر گھر چلی جاؤں گی اور اس کے بارے میں سوچ کر شرارت سے ہنسوں گی۔ بوڑھی اور غیر ذمے دار ہو جاؤں گی۔ چاندنی رات میں بیٹھ کر آم کھاؤں گی۔ چند ایک نہایت ناکام کتابیں لکھوں گی __ وَرسٹ سیلرز __ اور دیکھوں گی کہ یہ کیسا لگتا ہے۔ پورے ایک برس مَیں دنیا بھر میں پھرتی رہی ہوں لیکن میرے ذہن کا لنگر اپنے گھر کے خیال سے بندھا رہا ہے، اُسی زندگی میں واپس آنے کے خیال سے۔ بیرون ملک جا بسنے کے بارے میں تمام استفسارات اور پیش گوئیوں کے برعکس، یہی میرا کنواں ہے جس کے پانی پر میں جیتی ہوں، جو میری طاقت ہے۔

   میں نے اپنی دوست کو بتایا کہ مثالی کہانی نام کی کوئی شے نہیں ہوتی۔ میں نے کہا کہ وہ چیزوں کو باہر سے دیکھ رہی ہے، اور یہ اس کا مفروضہ ہے کہ میری مسرّت، یا تسکین کا گراف صرف اس بنا پر اچانک بلند ہو گیا ہے (اور اب اسے لازماً نیچے آنا ہو گا) کہ مجھے اچانک “کامیابی” حاصل ہو گئی ہے۔ اس مفروضے کی بنیاد اس غیرتخیلی اعتقاد پر ہے کہ دولت اور شہرت ہر شخص کے خوابوں کا لازمی جز ہوتے ہیں۔

  تم ضرورت سے زیادہ طویل عرصے سے نیویارک میں رہ رہی ہو، میں نے اس سے کہا۔ اس کے علاوہ دوسری دنیائیں بھی موجود ہیں۔ دوسری قسم کے خواب بھی ہوتے ہیں۔ ایسے خواب جن میں میں ناکامی بھی قابلِ قبول اور با عزت شے ہے __ کبھی کبھی تو ایسی شے جس کے لیے جدوجہد کی جا سکتی ہے۔ ایسی دنیائیں جن میں تسلیم کر لیا جانا ذہانت یا انسانی قدر و قیمت کا واحد پیمانہ نہیں ہوتا۔ بہت سے سورما ہیں جن سے میں واقف ہوں اور محبت کرتی ہوں، ایسے لوگ ہیں جو مجھ سے کہیں زیادہ قابلِ قدر ہیں، جو ہر صبح اپنی جنگ پر نکلتے ہیں، یہ جانتے ہوے کہ اس جنگ میں انھیں شکست ہو گی۔ درست، کہ “کامیابی” کے فحش ترین مفہوم کے اعتبار سے وہ کم کامیاب ہیں، لیکن ذاتی طور پر کسی بھی طرح کم مطمئن نہیں۔

میں نے اسے بتایا کہ وہ واحد خواب جس کے لیے زندگی گزاری جا سکتی ہے یہ ہے کہ جب آپ زندہ ہوں تو پوری طرح زندہ ہوں اور جب مریں تو صرف اُس وقت جب موت آ جائے۔ (یہ شاید ایک طرح کی پیش آگہی تھی۔)

 “اس بات کا کیا مطلب ہوا؟”

(بھنویں چڑھی ہوئی، انداز میں ایک طرح کی جھنجھلاہٹ۔)

 میں نے وضاحت کرنے کی کوشش کی لیکن ٹھیک طرح نہ کر سکی۔ کبھی کبھی مجھے سوچنے کے لیے لکھنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ چناں چہ میں نے اپنی بات پیپر نیپکن پر لکھ کر اسے سمجھائی۔ میں نے لکھا: “محبت کرنا۔ محبت پانا۔ اپنے غیر اہم ہونے کو کبھی نہ بھلانا۔ اپنے اردگرد کی زندگی کی ناقابلِ بیان بربریت اور فحش نا برابری سے کبھی سمجھوتا نہ کرنا۔ غمناک ترین جگہوں میں خوشی کو تلاش کرنا۔ حسن کا اُس کی کھوہ تک پیچھا کرنا۔ سادہ شے کو پیچیدہ بنانے اور پیچیدہ شے کو سادہ بنانے سے ہمیشہ پرہیز کرنا۔ قوّت کا احترام کرنا اور طاقت کا احترام نہ کرنا۔ سب سے بڑھ کر، اپنی آنکھیں کھلی رکھنا۔ سمجھنے کی کوشش کرنا۔ حقیقت سے نظریں نہ پھیرنا۔ اور ہرگز، ہرگز کبھی نہ بھولنا۔”

میں اپنی اس دوست سے برسوں سے واقف ہوں۔ وہ بھی میری طرح آرکیٹیکٹ ہے۔

وہ شک میں لگتی تھی، اسے میری اس پیپر نیپکن کی تقریر سے اطمینان نہیں ہوا تھا۔ میں اُس کی کہی ہوئی بات کو اس کی ساخت سے، چیزوں کے نفیس، بیانیہ تناسب کے ذریعے پہچان سکتی تھی۔ چوں کہ اسے مجھ سے محبت تھی، میری “کامیابی” پر اس کا جوش و خروش اس قدر سچا، اتنا پیار بھرا تھا کہ اس کا مخالف نقطہ صرف میری (متوقع) موت کے خیال سے پیدا ہونے والی دہشت ہی ہو سکتا تھا۔ میں نے سمجھ لیا کہ اس میں اس کا کوئی قصور نہیں۔ یہ صرف ڈزائن کے تناسب کی بات ہے۔

خیر، اس گفتگو کے دو ہفتے بعد میں ہندوستان لوٹ آئی۔ یعنی اُس جگہ جسے میں گھر سمجھتی ہوں/ سمجھتی تھی۔ موت ضرور واقع ہوئی مگر میری نہیں؛ مجھ سے کہیں زیادہ قیمتی شے کی۔ ایک ایسی دنیا کی جو کچھ عرصے سے بیمار چلی آ رہی تھی اور جس نے آخرکار دم توڑ دیا۔ اب اسے نذرِ آتش کیا جا چکا ہے۔ فضا بدصورتی سے بوجھل ہو رہی ہے اور ہوا سے فاشزم کی یقینی بُو آ رہی ہے۔

 ہر روز اخباروں کے اداریوں میں، ریڈیو کے پروگراموں میں، ٹی وی کے ٹاک شوز میں، یہاں تک کہ ایم ٹی وی پر بھی، وہ لوگ جن کی جبلّت پر کوئی شخص کبھی بھروسا کر سکتا تھا __ ادیب، مصوّر، صحافی __ سڑک پار کر کر کے دوسری طرف جاتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ٹھنڈ میری ہڈیوں تک اترتی جاتی ہے جوں جوں روزمرہ کی زندگی سے حاصل ہونے والے سبق اس دردناک حقیقت کو واضح کرتے جاتے ہیں کہ تاریخ کی کتابوں میں جو کچھ پڑھا تھا وہ سچ نکلا۔ کہ فاشزم کا تعلق جتنا حکومتوں سے ہے اتنا ہی عام لوگوں سے بھی ہے۔ کہ فاشزم کا آغاز اپنی ذات سے، اپنے گھر سے ہوتا ہے۔ گھر کے ڈرائنگ روم سے، بیڈروم سے، بستر سے۔ “خود شناسی کا دھماکا”، “قومی احیا کا راستا”، “فخر کا لمحہ” __ یہ وہ سرخیاں تھیں جو ایٹمی آزمائشوں کے بعد کے دنوں میں اخباروں کی پیشانیوں پر نمودار ہوئیں۔ “ہم نے ثابت کر دیا ہے کہ ہم اب ہیجڑے نہیں ہیں،” شِوس ینا کے شری بال ٹھاکرے نے کہا۔ (مگر یہ کس نے کہا تھا کہ ہم ہیجڑے ہیں؟ یہ درست ہے کہ ہم میں ایک بہت بڑی تعداد عورتوں کی ہے مگر، جہاں تک مجھے علم ہے، یہ بالکل دوسری بات ہے۔) اخبار پڑھتے ہوے کبھی کبھی تو یہ تمیز کرنا مشکل ہو جاتا کہ کب کوئی شخص مردانگی کی دوا وِیاگرہ کی بات کر رہا ہے (جو اخبار کے پہلے صفحوں پر دوسرا ممتاز ترین مقام پانے کی کوشش کر رہی تھی) اور کب بم کے بارے میں۔ “ہمارے پاس زیادہ طاقت ہے۔” (یہ ہمارے وزیرِ دفاع کا بیان تھا جو پاکستانی ایٹمی آزمائشوں کے بعد دیا گیا۔)

    “یہ ایٹمی آزمائشیں نہیں ہیں، یہ قومی آزمائشیں ہیں،” ہمیں بار بار بتایا گیا۔

یہ بات متواتر دہرائی جاتی رہی ہے: بم ہندوستان ہے، ہندوستان بم ہے۔ اور محض ہندوستان نہیں، ہندو ہندوستان۔ اس لیے خبردار! بم پر تنقید نہ صرف قوم مخالف بلکہ ہندو مخالف بھی ہو گی۔ (پاکستان میں، بلاشبہ، بم اسلامی بم ہے۔ اس ایک فرق کے سوا، سب کچھ، طبیعیات کے اصولوں کے مطابق، وہی ہے۔) یہ ایٹم بم کا مالک ہونے کا ایک اضافی، غیر متوقع فائدہ ہے۔ اس سے حکومت نہ صرف “دشمن” کو دھمکا سکے گی بلکہ خود اپنے عوام کے خلاف بھی اعلانِ جنگ کر سکے گی۔ یعنی ہمارے خلاف۔

۱۹۷۵میں، جب ہندوستان کو ایٹمی سمندر کے پانی میں اپنے پیر کا انگوٹھا پہلی بار ڈبوئے صرف ایک برس گزرا تھا، مسز گاندھی نے ایمرجنسی نافذ کر دی تھی۔ ۱۹۹۹میں کیا ہونے والا ہے؟ ایسے سیل قائم کرنے کی بات تو ابھی سے ہونے لگی ہے جو قوم دشمن سرگرمیوں پر نگاہ رکھیں گے۔ کیبل ٹی وی سے متعلق قوانین میں ترمیم کی بات ہو رہی ہے تاکہ ان نیٹ ورکس پر پابندی لگائی جا سکے جو “قومی مفاد کو نقصان پہنچا رہے ہیں”، (“انڈین ایکسپریس”، ۳جولائی۔) گرجا گھروں کو عبادت گاہوں کی فہرست سے خارج کیے جانے کی باتیں ہو رہی ہیں کیوں کہ وہاں “شراب پیش کی جاتی ہے”، (اعلان اور تردید، “انڈین ایکسپریس”، ۳جولائی، اور “ٹائمز آف انڈیا”، ۴جولائی۔) مصوروں، ادیبوں، اداکاروں اور گلوکاروں کو پریشان کیا جا رہا ہے، دھمکیاں دی جا رہی ہیں (اور وہ دھمکیاں قبول کر رہے ہیں۔) اور یہ سب کرنے والے صرف غنڈوں کے گروہ نہیں بلکہ حکومت کے ادارے بھی ہیں۔ یہ باتیں قانون کی عدالتوں میں پیش آ رہی ہیں۔ انٹرنیٹ پر خطوط اور مضامین منتشر کیے جا رہے ہیں جن میں نوسٹرا ڈیمس کی پیش گوئیوں کی تخلیقی تعبیر کرتے ہوے یہ بتایا جا رہا ہے کہ ایک طاقتور اور فاتح ہندو قوم اُبھرنے کو ہے۔ ایک نیا ہندوستان وجود میں آ رہا ہے جو “اپنے سابق حکمرانوں پر پھٹ پڑے گا اور انھیں مکمل طور پر نیست و نابود کر دے گا۔” کہ “اس ہولناک انتقام کا آغاز (جو تمام مسلمانوں کا انجام ثابت ہو گا) ۱۹۹۹کے ساتویں مہینے میں ہو گا۔” ممکن ہے کہ یہ باتیں محض کسی اکیلے بیمار شخص کے ذہن کی پیداوار ہوں، اور یہ بھی ممکن ہے کہ ان کے پیچھے دھرم کے لیے لڑنے والوں کا کوئی اسکواڈ ہو۔ لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ ایٹمی اسلحے کی موجودگی ان خیالات کو بظاہر امکانات کا درجہ دے دیتی ہے۔ ایٹمی اسلحے کی موجودگی ایسے خیالات کو جنم دے سکتی ہے۔ یہ لوگوں کے دماغوں میں اپنی طاقت کے یہ انتہائی غلط، انتہائی مہلک خیالات پیدا کرتی ہے۔ یہ سب کچھ ہو رہا ہے۔ کاش میں کہہ سکتی کہ یہ سب “سست رفتاری سے لیکن یقینی طور پر” ہو رہا ہے، مگر میں یہ الفاظ استعمال نہیں کر سکتی۔ اس کی رفتار تو بہت تیز ہے۔

ہ سب کچھ اتنا مانوس کیوں لگ رہا ہے؟ اس لیے کہ آپ کے دیکھتے ہی دیکھتے سامنے کی حقیقت گھُل کر نہایت روانی سے پرانی فلموں کے خاموش، بلیک اینڈ وائٹ مناظر میں ڈھل جاتی ہے جن میں لوگوں کو جمع کر کے انبوہ کی شکل میں ہانک کر کیمپوں کی طرف لے جایا جا رہا ہے۔ ہلاکتوں کے مناظر۔ غارت گری کے مناظر۔ ٹوٹے ہوے لوگ طویل، ختم نہ ہونے والی قطاروں میں اپنی موت کی طرف بڑھتے ہوے۔ ان فلموں میں کوئی ساؤنڈ ٹریک کیوں نہیں ہے؟ ہال میں اس قدر خاموشی کیوں ہے؟ کیا ہم پچھلے دنوں بہت فلمیں دیکھتے رہے ہیں؟ کیا میں پاگل ہو چکی ہوں؟ یا میری بات درست ہے؟ کیا جس چیز کو ہم نے حرکت دی ہے اس کا ناگزیر انجام ایسے ہی مناظر پر ہو گا؟ کیا ہمارا مستقبل پھیل کر تیزی سے ہمارے ماضی کی جانب بڑھ رہا ہے؟ میرا خیال ہے، ہاں۔ سوائے اس کے کہ ایٹمی جنگ ایک ہی آن میں سب کچھ فنا کر دے۔

ب میں نے اپنے دوستوں سے ذکر کیا کہ میں یہ مضمون لکھ رہی ہوں تو انھوں نے مجھے خبردار کیا۔ “ٹھیک ہے، لکھو،” انھوں نے کہا۔ “مگر پہلے دیکھ لو کہ تمھیں کوئی خطرہ نہ ہو۔ دیکھ لو کہ تمھارے سب کاغذات درست ہیں۔ کہ تم نے ٹیکس پورا ادا کر رکھا ہے۔”

میرے سب کاغذات درست ہیں۔ میں نے ٹیکس بھی پورا ادا کر رکھا ہے۔ لیکن جیسا ماحول ہے اس میں کوئی شخص خطرے میں نہ ہونے کا یقین کیوں کر کر سکتا ہے؟ ہر شخص خطرے میں ہے۔ کبھی بھی کوئی حادثہ ہو سکتا ہے۔ تحفظ صرف سر جھکا دینے میں ہے۔ یہ سطریں لکھتے ہوے بھی مجھے خطرے کا احساس ہو رہا ہے۔ اس ملک میں مَیں نے پوری طرح جان لیا ہے کہ کسی ادیب کے لیے شدید محبت (اور کسی حد تک نفرت) کا مرکز بننا کیا معنی رکھتا ہے۔ پچھلے سال میں اُن چیزوں میں شامل تھی جنھیں سال کے آخر میں قومی افتخار کی پریڈ میں میڈیا نے سب کے سامنے پیش کیا تھا۔ میرے علاوہ، مجھے فنا کرنے کے لیے، اس پریڈ میں ایک بم بنانے والا تھا اور ایک بین الاقوامی ملکۂ حسن تھی۔ ہر بار جب کوئی خوشی سے دمکتا ہوا شخص مجھے راستے میں روک کر کہتا کہ “آپ نے ہندوستان کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے” (اس کا اشارہ اس کتاب کی طرف نہیں ہوتا تھا جو میں نے لکھی بلکہ اُس انعام کی طرف جو مجھے حاصل ہوا)، تو مجھے کچھ بےچینی سی محسوس ہوتی تھی۔ اُس وقت مجھے اس بات سے تھوڑا سا ڈر لگتا تھا اور اب میں پوری طرح دہشت زدہ ہوں، کیوں کہ میں جانتی ہوں کہ اس فخر، جذبے کے اس اُبھار کا رخ کتنی آسانی سے میرے خلاف ہو سکتا ہے۔ شاید اس کا وقت بھی آ گیا ہے۔ اب مجھے خواب ناک روشنیوں سے باہر آنا ہے اور صاف صاف وہ بات کہنی ہے جو میرے ذہن میں ہے۔

جو یہ ہے: اگر اس بم کے خلاف احتجاج کرنا جسے میرے دماغ کے اندر رکھ دیا گیا ہے، ہندو مخالف اور قوم دشمن بات ہے تو میں اپنے جرم کا اقبال کرتی ہوں۔ میں اپنی ذات کو ایک آزاد اور چلتی پھرتی جمہوریہ قرار دیتی ہوں۔ میں اس کرۂ ارض کی شہری ہوں۔ میں کسی خطۂ ارض کی مالک نہیں ہوں۔ میرا کوئی پرچم نہیں ہے۔ میں عورت ہوں، لیکن مجھے ہیجڑوں سے بھی کوئی کد نہیں ہے۔ میری پالیسیاں بالکل سادہ ہیں۔ میں ایٹمی اسلحے کے عدم پھیلاؤ اور ایٹمی آزمائشوں پر پابندی لگانے کے ہر اس معاہدے پر دستخط کرنے کو تیار ہوں جو دستخط کے لیے موجود ہو۔ میں نقل مکانی کر کے آنے والوں کو خوش آمدید کہتی ہوں۔ آپ لوگ میرے پرچم کا ڈزائن تیار کرنے میں میری مدد کر سکتے ہیں۔

میری دنیا ختم ہو چکی ہے۔ اور میں اس کی موت کا نوحہ لکھ رہی ہوں۔

  مجھے اعتراف ہے کہ یہ ایک ناقص دنیا تھی۔ اس میں باقی رہنے کی صلاحیت نہ تھی۔ اس کے بدن پر پرانے اور تازہ زخم تھے۔ یہ ایک ایسی دنیا تھی جس پر میں نے بھی سفاکی سے تنقید کی تھی، لیکن صرف اس لیے کہ مجھے اس سے محبت تھی۔ یہ موت کی حقدار نہیں تھی۔ ٹکڑے ٹکڑے کیے جانے کی مستحق نہیں تھی۔ مجھے معاف کر دیجیے، مجھے احساس ہے کہ جذباتیت فیشن کے خلاف ہے __ مگر میں اپنے اندوہ کا کیا کروں؟

مجھے اس دنیا سے محبت تھی، صرف اس لیے کہ وہ انسانیت کو انتخاب کا موقع دیتی تھی۔ وہ ساحل سمندر پر ایک چٹان کی طرح تھی۔ وہ روشنی کی ایک ضدّی شعاع تھی جو بار بار جتاتی تھی کہ زندہ رہنے کا ایک اَور، مختلف طریقہ بھی موجود ہے۔ وہ جوں توں چلتے ہوے امکانات کی دنیا تھی۔ وہ انتخاب کا سچ مچ کا امکان تھی۔ اب یہ سب کچھ ختم ہو چکا ہے۔ ہندوستان کی ایٹمی آزمائشیں، اور جس انداز میں یہ آزمائشیں کی گئیں، اور جس طرح (ہم نے) خوشیاں منا کر ان کا خیرمقدم کیا __ یہ سب ناقابلِ دفاع ہے۔ میرے نزدیک یہ سب دہشت کی نشانیاں ہیں۔ یہ تخیل کی موت کا اشارہ ہے۔ جو درحقیقت آزادی کی موت ہے، کیوں کہ آزادی کا یہی تو مفہوم ہے: انتخاب کی آزادی۔

 پچھلے سال ۱۵اگست کو ہم نے ہندوستان کی آزادی کی پچاسیوں سالگرہ منائی تھی۔ اگلے سال مئی میں ہم خود کو ایٹمی غلامی میں دے دینے کی سالگرہ منا سکیں گے۔

 

Advertisment

Be the first to comment

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.