پہلی لغزش ۔۔۔ کشور ناہید

پہلی لغزش

( کشور ناہید )

بری عورت کی کتھا سے انتخاب

پاکستان آنے کے زمانے سے ہر آٹھویں دن دیکھتی تھی کہ فرش دھل رہے ہیں۔ کڑھی ہوئی چادریں اور تکیہ غلاف بچھائے جا رہے ہیں۔ کباب اور حلوے بن رہے ہیں اور طرح طرح کی عورتیں آ رہی ہیں۔ پتہ چلتا تھا، آج اس بہن کا رشتہ آیا تھا، کل اُس بہن کا۔ یا اللہ یہ روز روز کیوں لوگ آتے جاتے رہتے ہیں۔ یہ رشتہ ہو کیوں نہیں جاتا۔ آخر پتہ چلا کہ شریف زادے اور سیـد چاہیئں۔ سیـدوں کے خاندان کی لڑکی کو کسی اور ذات میں نہیں دیا جا سکتا تھا۔ پھر مجھے وہ سب بڑی عمر کی خالایئں اور پھوپھیاں یاد آیئں جو گھر بیٹھے بیٹھے بوڑھی ہو گئی تھیں اور اپنے بدن اور چادروں پر دن رات اپنے ہی ہاتھوں سے کچھ نہ کچھ کاڑھتی رہتی تھیں۔

بڑی بہنوں کے ساتھ یہ سلوک دیکھ کر میں نے خود سے یہ عہد کیاکہ، ” جیسے شریف زادے اور سیـد۔ با لکل بیوقوف جیسے، میرے گھر والے تلاش کر کے لاتے ہیں ، میں تو ایسے شریف زادے سے شادی نہیں کروں گی۔ ” پھر کیا کروں گی۔ یہ خیال ڈرانے لگا۔

” ٹھک ٹھک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کون ہے ۔ جا کے دیکھو تو۔ ” اماں نے کہا۔ کچھ دیر بعد بھائی آیا۔ غصے سے بولا، ” ایک پرچے کے مدیر ہیں۔ تم سے ملنے آئے ہیں۔” پر میں نے تو کسی کو نہیں بلایا۔ گھر کا پتہ بھی نہیں دیا۔ میں تو کسی سے ملی نہیں۔ میں نے سارے گھر کے سامنے اپنی صفائی پیش کی۔

ر نگاہ میری طرف تھی۔ ہر طرف نفرت تھی میرے لیے۔ بھائی پھر چیخا،

” کل تم نے کسی مشاعرے میں نظم سنائی تھی۔ وہ نظم مانگنے آئے ہیں۔ تم نے انہیں کہا تھا کہ ہم سنت نگر میں رہتے ہیں۔ تم نے ان کے ہاتھ سے فرسٹ پرائز نہیں لیا تھا ؟ ” اگلے دن وہ مدیر کالج پہنچ گئے۔ پرنسپل نے بلایا۔ بڑا فخریہ ملوایا اور کہا کہ اپنی انعان یافتہ نظم انہیں دے دو۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔  پھر یہ ہوا کہ میں چھپتی چھپاتی، برقعے میں اس ماہنامے کے دفتر کی سیڑھیاں چڑھ گئی۔

منظروں میں اور منظر شامل ہو گئے۔ وہاں ایک اور برقعہ پوش عورت کو بیٹھا دیکھ کر الٹے پاوں واپس۔ جانے اس زمانے میں زیادہ تر ادیبوں  اور فنکاروں کے دفتر سیڑھیاں چڑھ کر ہی کیوں آتے تھے۔ احسان دانش، بخاری صاحب، فیض صاھب، صوفی صاحب، حفیظ صاحب، جوش صاحب، چغتائی صاحب اور بعد عمر میں بھی بہت سے فنکار سیڑھیوں سے گزر کر ہی مل سکتے تھے۔

لُک چھپ جانا، مکئی کا دانہ ۔۔۔ میں ایم اے میں داخل ہو گئی۔ پوری یونیورسٹی میں ہم صرف دو شاعرات تھیں۔ ہم دونوں بڑی شیخی میں آئے رہتے۔ ہر روز یونیورسٹی کے پتے پر ڈاک آنے لگی۔ میرے نام خط آنے کا یہ پہلا موقع تھا۔ میں ڈری، ساتھی لڑکیوں کو خط دکھائے، پھر لڑکوں نے بھی دیکھے اور یوں گیارہ بجے دوپہر ڈیپاڑمنت کے سامنے لان میں ہم سب مل کر وہ خط پڑھتے جو یونیورسٹی کے مختلف ڈیپارٹمنٹ کے لڑکے لکھا کرتے اور پھر ہمارے ڈیپرٹمنٹ کے لڑکے ان کو جا کے چھیڑا کرتے۔ ان سارے لڑکوں میں ایک لڑکا بہت خوبصورت تھا۔ تھا بھی انوکھا۔ ۔۔۔۔ میں کالج کے لیے گھر سے نکلتی وہ دس قدم آگے کھڑا ۔۔۔۔۔ سایئکل لیے۔۔۔انتظار کر رہا ہوتا۔ میں لائبریری میں جاتی ۔ پھر باہر نکلتی۔ وہ کھڑا ہوتا۔ میں مشاعرے میں جاتی، با لکل سامنے آ کھڑا ہوتا، مسکراتا۔ سینکڑوں نا شناسا چہروں میں ایک شناسا چہرہ۔ گھبراہٹ مجھ سے لپٹ جاتی۔ مجھے لگتا میں پناہ میں ہوں۔ برٹش کونسل لائبریری ذرا دور ہی تھی۔ پیدل جاتی۔ ساتھ ساتھ چلتا۔ واپسی پہ کہتا ۔۔۔۔ چائے پی لو۔۔۔کافی ہاوس کے اوپر سیڑھیاں جاتی تھیں۔ وہاں بہت سے جوڑے بیٹھے ہوتے۔ میں اور وہ بھی چلے جاتے۔ کبھی نیچے بیٹھے انقلابیوں میں سے کچھ لوگ اسے دیکھ کر اوپر آ جاتے اور ہمارے ساتھ باتیں کرتے۔ احراریوں، کمینسٹوں، مزدور لیڈروں، سٹوڈنٹ لیڈروں اور ادیبوں سے ملاقات کی ایک اور جگہ مل گئی تھی۔ چھپتے چھپاتے، لائبریری کے بہانے ایک اور پڑھائی۔ ۔۔۔۔۔۔لک چھپ جانا مکئی کا دانہ ۔۔۔۔ پروگرام بنانا ۔۔۔ میری دوست، میں اور وہ ، مری چلتے ہیں۔ مری میں بھی کار جہاں وہی، مذاکرے، مشاعرے کا اہتمام، ہنگامے، ادیبوں سے ملاقاتیں ۔۔۔ عشق ابھی انہی منزلوں میں تھا کہ بھائی نے چغلی کی، کافی ہاوس، برٹش کونسل اور مری کا سارا راز ظاہر، چٹ منگنی پٹ بیاہ۔

سہاگ رات بھی عجیب تھی۔ دونوں چور لگ رہے تھے۔ دونوں ڈرے ہوئے تھے کہ آدھے گھنٹے میں فیصلہ کرنے کے حکم پر ہونے والی شادی کے لیے وہ تیار تھا نہ میں۔ نہ اسکے گھر والوں کو خبر تھی اور نہ کسی دوست کو۔ یہ تو سیـد زادے سے شادی نہ کرنے کے میرے فیصلے کی ” سزا” اسے مل رہی تھی۔

لیکن یہ سچ نہیں ہے۔ کسی بھی مسئلے میں سزا مرد کو نہیں ملتی۔ سزا تو عورت کو ہی ملتی ہے۔ اسے خبر تھی کہ سید زادے سے یہ شادی نہیں کرنا چاہتی۔ اس دبے دبے ماحول میں رہنا نہیں چاہتی، گھر والوں سے یہ بھاگتی ہے، رسموں سے بھاگتی ہے۔ انقلاب کی باتیں کرتی ہے۔ نوکری کرنا چاہتی ہے۔  

اس نے میرے سارے ارمان پورے کئے۔ ہم دو آزاد شخص ایک گھر میں رہنے لگے۔ میں ذمہ داریوں کے لیے آزاد۔ وہ سایئکل کی جگہ موٹر سایئکل اور پھر گاڑی میں۔ ۔۔۔۔۔ لک چھپ جانا مکئی کا دانہ ۔۔۔۔ بہت خوبصورت تھا ۔۔۔موٹر لیے انتظار کر رہا ہوتا کسی اور کا ۔۔۔۔۔ سال کے کیلنڈر سے پہلے اس کے انتظار  کی جگہ اور شخص بدل جاتے۔

پیدا ہوتے ہی جس نے بگھاری دال بھایئوں اور باپ کے لیے سنبھالی ہواور باقی دیگچی میں سے سب کو دینی سیکھی ہو۔ جس نے بوٹیوں والا شوربہ مردوں کو اور خالی آلو شوربہ باقی گھر میں تقسیم ہوتا دیکھا ہو۔ اسکے اندر پرانی اور نئی دونوں عورتیں پرورش پاتی ہیں اور ایک دوسرے کو لہو لہان کرتی رہتی ہیں۔ وہ اس امر کی وکالت بھی کرتی ہے کہ عورت کو برابری کیوں نہیں دی جاتی۔ اور ساتھ ہی گھر کے کسی مرد کو برتن دھوتے، بٹن لگاتے، استری کرتے، جوتے پالش کرتے ہوئے نہیں دیکھ سکتی، بلکہ کرنے بھی نہیں دیتی۔ مرتی مر جائے مگر گھر کے سارے کام کرے گی۔ کبھی گھر بیٹھنے والی بی بی کی طرح میاں کے گھر پہنچنے کے وقت سر پر رومال باندھ کر ہائے ہائے نہیں کرے گی۔ گھر میں شادی ہو تو میاں کو دھمکی نہیں دے گی کہ اتنے پیسوں کا بندو بست کرو تب تمہاری بہن کی شادی میں شریک ہوں گی۔ ورنہ تم اکیلے چلے جاو اور میاں بے چارہ غیرت کا مارا انتظام کر رہا ہے پیسوں کا۔ ڈر رہا ہے بیوی سے۔ جب کہ کارکن بیوی کو معلوم ہے کہ گھر میں کتنے پیسے آتے ہیں۔ اگر انتظام کرنا ہو گا تو خود ہی کر لے گی۔ ان بیبیوں نے شوہروں کی انا کی تسکین کے لیے یہ ڈرامہ رچایا ہوتا ہے کہ بس انہیں تو خبر ہی نہیں کہ سڑک کہاں جاتی ہے۔ کہاں سے نکلتی ہے۔ وہ بنک نہیں جا سکتیں، بازار نہیں جا سکتیں، کسی سے بات کرنی نہیں آتی۔ خود، شوہر، عورت کی منفقانہ مظلومیت کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں۔

مرد کی عادت ہی ایسی ہے وہ عورت پر خرچ کر کے اسکی ذمہ داریوں کو محسوس کرتا ہے۔ پیار کرتا ہے کہ نہیں، یہ اصلیت کبھی کھلی نہیں۔

Advertisment

1 Comment

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.