ڈوبتی پہچان ۔۔۔ رشید امجد

ڈوبتی پہچان 
   ڈاکٹر رشید امجد

سورج جب قبرستان کے گھنے درختوں سے الجھتا رینگ رینگ کر اپنے بل میں گھسنے کی کوشش کر رہا تھا۔ مستری نے قبر کا کام مکمل کر لیا۔
 پچھلے کئی مہینوں سے اس کی یہ خواہش تھی کہ ماں کی قبر پکی کرائے لیکن خالی جیبیں اس خیال کو تھیتھپا کر آنے والے دن کی جھولی میں ڈال دیتیں، وہ اندر اندر ہی سلگ سلگ کر خیالوں ہی خیالوں میں کبھی اینٹیں کبھی سیمنٹ، کبھی ریت خریدتا، نام کی خوبصورت سی سل بنواتا اور سونے سے پہلے اس خیال کو پوری توجہ سے آنے والے دن کی جیب میں ڈال دیتا۔ بہت دن ہوئے اس کے ڈرائینگ روم میں ایک تصویر تھی۔ اس کا خیال تھا کہ یہ اس کی ماں کی تصویر ہے، لیکن کچھ کا کہنا تھا کہ یہ کوئی خیالی تصویر ہے، تصویر میں ایک عورت غم میں گندھی مسکراہٹ ہونٹوں پر سجائے خالی منظر کو گھور رہی تھی۔ خالی یوں کہ منظر میں جو وادی تھی۔ وہ اپنے دریاﺅں کے باوجود دست بدعا تھی۔ وہ اس تصویر کے بارے میں جاننے کا شوق تو رکھتا تھا اور یہ جاننا چاہتا تھا کہ اس تصویر کی وادی اتنے سارے دریاﺅ کے باوجود کسی بنجر دھند میں لپٹی ہوئی ہے۔ دریاﺅں کا پانی سوکھ کیوں گیا ہے اور زمین کے ہاتھ خالی کیوں ہوئے جارہے ہیں؟ لیکن اس کیلئے اس نے کبھی لمبی چوڑی چھان بین نہیں کی۔ ایک دو بار ماں سے پوچھا مگر وہ کوئی تسلی بخش جواب نہ دے سکی۔ بلکہ الٹا اس سے پوچھ بیٹھی کہ وہ تصویر کے بارے میں اتنا متجسس کیوں ہے۔
 جب کبھی وہ ڈائینگ روم میں اکیلا ہوتا تصویر اس کے سامنے آکھڑی ہوتی وہ اس کے خطوط میں شناسائی کی روشنی تلاش کرتا۔ بہت پہلے جب وہ چھوٹا تھا اس نے اپنے باپ سے بھی یہی سوال کیا تھا۔ باپ نے جواب دینے کی بجائے الٹا اسے تیز نظروں سے گھورا اور کہا ”تم اپنی پڑھائی میں دلچسپی نہیں لے رہے۔“
 جس دن اس کا باپ فوت ہوا تصویر بلک بلک کر روئی۔ لیکن اس وقت اسے اپنا ہوش نہیں تھا وہ خود چھلک چھلک کر رو رہا تھا۔ بعد میں دوسرے تیسرے دن جب لوگ ایک ایک کرکے رخصت ہو گئے تو اس نے ماں کو بتایا کہ تصویر بھی روئی تھی، ماں ہنس پڑی ”پگلے کہیں تصویریں بھی روتی ہیں“ ماں کی ہنسی گہرے غم میں گندھی ہوئی تھی۔ اسے یقین نہیں آیا۔ وہ کچھ کہے بغیر ڈرائینگ روم میں چلا آیا اور تصویر کے سامنے کھڑا ہو کر اس کی آنکھوں میں جھانکنے لگا۔ آنکھیں صاف دھلی ہوئی تھیں۔ اسے شبہ سا ہوا کہ ان میں نمی تیر رہی ہے اور منظر اپنی وادی سمیت بھوک کی دھند میں لپٹا اپنی پہچان کھو رہا ہے۔ وہ خاموشی سے کرسی پر بیٹھ گیا اور غور سے تصویر کو دیکھنے لگا۔ ایک عورت ہونٹوں پر غم میں گندھی مسکراہٹ سجائے سامنے کے منظر کو دیکھ رہی تھی۔ وادی جس کی راہیں خشک ہوئی جارہی تھیں اور ہونٹوں پر نفرتوں کی پیڑیاں جم رہی تھیں۔ وہ اونگھ گیا۔
 اس کی ماں مر رہی تھی اور تصویر بلک بلک کر رو رہی تھی۔ وہ بڑبڑا کر جاگ اٹھا۔ جس دن برسات کی پہلی جھڑی لگی۔ وہ ساری رات کروٹیں لیتا رہا۔ بار بار خیال آتا کہ پانی قبر میں گھس گیا ہے اور ماں سردی سے ٹھٹھرتی دیوار سے لگی اسے آوازیں دے رہی ہے۔ صبح ہوتے ہی وہ بارش میں بھیگتا قبرستان آیا۔ قبر ٹھیک ٹھاک تھی۔ لیکن اسے شبہ رہا کہ پانی کہیں نہ کہیں سے رس رس کر اندر جارہا ہے وہ گورکن کی کوٹھڑی میں پہنچا وہ چائے پی رہا تھا۔ اس کی بات سن کر اس نے مشکوک نظروں سے اس کی طرف دیکھا اور بولا ”فکر نہ کرو پانی اندر نہیں جاسکتا“۔
 ”پھر بھی کسی اور طرف سے، میرا مطلب ہے نیچے ہی نیچے کہیں سے“۔ گورکن دو تین لمحے اس کی طرف دیکھتا رہا، پھر کہنے لگا ”’اچھا بارش بند ہو جائے تو میں تھوڑی سی مٹی اور ڈال دوں گا۔“ وہ اطمینان سے سرہلاتا واپس آگیا۔ اگلے دن بارش پھر ہوئی اور زور شور سے ہوئی۔ وہ بھیگتا بھیگتا صبح سویرے قبرستان آیا۔ بہت سی قبریں بیٹھ گئی تھیں۔ مگر اس کی ماں کی قبر اس طرح تھی۔ پھر بھی اسے شبہ رہا کہ وہ بیٹھ رہی ہے۔ گورکن اس کی بات سن کر بولا ”تو پھر پکی کرالو“۔ ”ہاں یہ ٹھیک ہے۔“ واپس آتے ہوئے اس نے اپنے آپ سے کہا لیکن قبر پکی کرانے کیلئے اس کے پاس پیسے جمع نہ ہو سکے۔ بارشیں روز ہوتیں وہ قبرستان جاتا ہر روز کچھ اور قبریں بیٹھ جاتیں۔ اس کی ماں کی قبر میں خاصی نیچی ہو گئی۔ تاہم ابھی اس کی شکل و صورت قائم تھی۔ ساری رات اسے یہی احساس رہتا کہ پانی بوند بوند اندر جارہا ہے اور اس کی ماں سردی سے ٹھٹھری دیوار سے لگی اسے آوازیں دے رہی ہے۔ تصویر نے بھی چپ سادھ رکھی تھی۔ غم میں گندھی مسکراہٹ پتھر ہو گئی تھی۔ شائد اس نے پیچھے مڑ کر دیکھ لیا ہے، لیکن پیچھے تو گہرا اندھیرا ہے اور آگے دھند ہی دھند، دھند۔ اس دھند میں سنبھل سنبھل کر، قدم قدم چلتا، وہ گھوم پھر کر اس غم آلود مسکراہٹ کی چاردیواری میں لوٹ آتا۔ کبھی تو یہ مسکراہٹ غم کی قید سے ازاد ہو گی۔ وہ سوچتا اور ہر صبح تصویر کی دہلیز آکھڑا ہوتا۔ لیکن مسکراہٹ اس طرح غم آلود، سامنے کا منظر اداس، وادی کے بلکتے بھوکے چہرے ویران مسکراہٹ، غم آلود، منظر کا چہرہ اداس، ضرورتیں نوکیلے ناخنوں سے اس کے جسم کو مسلسل ادھیڑ رہی تھیں۔ تھکی انگلیوں سے جینے کی موہوم امیدوں کو ٹٹولتا وہ بے دم ہو گیا اور سوچنے لگا اگر تصویر بیچ ڈالے تو ڈھیر سارے روپے مل سکتے ہیں۔ ایک دوست نے ایک بار کہا تھا ”اس تصویر کو کوئی بھی غیر ملکی مہنگے داموں خرید لے گا۔“ تصویر بیچنے کا خیال شاید اسی دن پیدا ہو گیا تھا۔ یہ اور بات کہ اس وقت اسے یہ بات اتنی بری لگی کہ وہ اس دوست سے سچ مچ لڑپرا مسکراہٹ غم آلود، سامنے کا منظر دھندلا۔ ضرورتوں کے ہاتھ لمبے اور لمبے ہوتے چلے گئے۔ اس نے ایک دن چپکے سے تصویر بیچ ڈالی۔
 ڈھیر سارے پیسے ملے تو خالی ہاتھ سمٹ گئے اورآسائشیں خودبخور اس کی دسترس میں چلی آئیں۔ دن کی سختی میں نرمی آگئی، لیکن رات کو تصویر کی خالی جگہ اس کی ماں آکھڑی ہوتی اور غم آلودے مسکراہٹ کے ساتھ بڑی حسرت سے اسے دیکھتی رہتی۔ اس نے سوچا اس کی وجہ جگہ کا خالی ہونا ہے۔ سو اس نے وہاں کلینڈر لٹکا لیا۔ کلینڈر لگنے سے دن اور مہینے اس کی مٹھی میں آگئے۔ ماں اب خواب میں آنے لگی وہی غم آلود مسکراہٹ اور حسرت بھری نظریں اس نے سوچا شاید ماں قبر میں خوش نہیں۔ قبر پکی کروانے کا خیال پھیل کر اس کے پورے وجود پرچھا گیا۔ قبر پکی کرنے کا کام اگلے دن شروع ہو گیا۔ دو مستریوں نے شام تک کام کر لیا، نام کی سل بھی لگ گئی۔ اس رات وہ عجیب طرح کی نیند سویا۔ خواب میں اس نے دیکھا وہ بہت بڑے کمرے میں دوڑ رہا ہے۔ دھند گہری ہو گئی ہے اور دیواریں، فرش، چھت، سب اس دھند میں گم ہوئے جارہے ہیں۔ صبح سویرے اس نے اگر بتیوں کا پیکٹ لیا اور قبرستان کی طرف چل پڑا۔ قبر پر اگر بتیاں لگا کر جب اس نے دعا کیلئے ہاتھ اٹھائے تو اچانک ایک شبہ نے سر سرا کر اس کے ہاتھوں کو ڈس لیا۔ اسے احساس ہوا کہ یہ تو اس کی ماں کی قبر نہیں ہے۔ اس کی ماں کی قبر تو ساتھ والی ہے جو اس طرح کچھی ہے۔ یہ غلطی کس سے ہوئی ، اس سے یا مستریوں سے یقینا یہ مستریوں کی غلطی ہے وہ انہیں قبر دیکھا کر چلا گیا تھا۔ انہوں نے غلطی سے ساتھ والی قبر پکی کر دی…. اب کیا ہو…. کیا ہو؟
 سارا دن ماں بوند بوند اس کی آنکھوں کے کٹوروں میں اترتی رہی۔ دوسرے دن مستری ساتھ والی قبر پکی کر رہے تھے۔ شام کو اس نے غور سے قبر کا جائزہ لیا، ہاں یہ اس کی ماں ہی کی قبر ہے۔ اگلی صبح اگر بتیاں جلا کر جب وہ دعا مانگ کر واپس مڑنے لگا۔ تو شک رینگ رینگ کر پھر اس کے ذہن میں اتر آیا۔ یہ قبر بھی اس کی ماں کی نہیں اس نے غور سے دونوں پکی قبروں کو دیکھا۔ دونوں میں سے کوئی بھی اس کی ماں کی قبر نہیں ہے وہ تو اس سے اگلی قبر ہے۔ شک اور یقین کی اس دھند میں تیسری، چوتھی اور پھر پانچویں اور چھٹی قبر بھی پکی ہو گئی۔ لیکن اسے یہی شبہ رہا کہ ان میں سے کوئی بھی قبر اس کی ماں کی نہیں۔
 اب ہر رات وہ خواب دیکھتا کہ قبر کی چھت بیٹھ رہی ہے۔ پانی بوند بوند رس رہا ہے اور سردی سے ٹھٹھر ٹھٹر رہی ہے۔ تصویر کے منظر میں اداس میلے کبوتر اڑ رہے ہیں۔ ان کی اڑان میں شکست اور تھکاوٹ ہے۔ چہرے بلک رہے ہیں اور خوف جسموں پر دستک دے رہا ہے۔ جسم بھر رہے ہیں ریزہ ریزہ…. ریزہ ریزہ۔
 اس نے وہ ساری قطار پکی کروا دی۔ لیکن اب اسے یہ شبہ ہوا کہ اس کی ماں کی قبر اس قطار میں ہے ہی نہیں، وہ تو اگلی قطار میں ہے اب دوسری قطاروں کی قبروں کے پکے ہونے کا کام شروع ہوا۔ ہر روز ایک قبر پکی ہوتی اگلی صبح اگر بتیاں جلا کر دعا مانگتے اسے خیال آتا کہ یہ اس کی ماں کی قبر نہیں ہے۔ وہ اس سے اگلی قبر پکا کرنے کا کام شروع کراتا مطمئن ہوکر گھر جاتا۔ خواب میں تصویر کی غم آلود مسکراہٹ والی عورت، اداس سوچ میں رہین رکھا منظر اپنی پرتیں کھولتا۔ اس کے ہونٹ ہلتے مگر آواز سنائی نہ دیتی۔ بھوک سے بلکتی وادی میں ٹھٹھرتے چہرے، اداس عم آلود مسکراہٹ، بوند بوند رستا پانی…. سوالیہ نشان…. سوالیہ نشان….
ادھورے الجھے ہوئے نشان، دوسری کے بعد تیسری اور چوتھی قطار کی قبریں پکی ہوتی گئیں۔
 لیکن اس کی ماں کی قبر اسی طرح کچی رہی۔ رات کو خواب میں تصویر کی غم آلود مسکراہٹ، قبر کی بیٹھی چھت، بوند بوند رستا پانی اور سردی سے ٹھٹھرتی ماں، دھندلاتے دھندلاتے اداس خالی منظر میں گم ہو جاتے۔ جس دن قبرستان کی آخری قبر بھی پکی ہو گئی۔ اس نے اطمینان کا گہرا سانس لیا اور ساری پکی قبروں کی طرف دیکھتے ہوئے اس نے اپنے آپ سے کہا ”ان میں سے کوئی ایک قبر میری ماں کی بھی ہے مجھے معلوم نہیں مگر وہ پکی تو ہو گئی ہے نا….“۔
 اگلی صبح سورج ابھی مشرق کی چلمن سے جھانکنے کی تیاریاں ہی کر رہا تھا کہ اس نے بیوی اور بچوں کو جگایا اور کہا کہ وہ سب اس کے ساتھ ماں کی قبر پر فاتحہ پڑھنے چلیں۔ قبرستان پہنچ کر اس نے بیوی بچوں سے کہا کہ وہ سب قبروں پر اگربتیاں اور پھول لگا دیں۔ اس کی بیوی نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا تو وہ بولا ”بھئی یہ سب میری ماں کے پڑوسی ہیں“ اور دل ہی دل میں اس اپنے آپ سے کہا ”سچی بات ہے مجھے معلوم ہی نہیں کہ ان میں سے میری ماں کی قبر ہے کونسی….“۔
 قبروں پر اگر بتیاں لگیں تو سارا قبرستان خوشبو سے مہک اٹھا۔ انہوں نے دعا کیلئے ہاتھ اٹھائے دعا مانگ کر سب نے ہاتھ نیچے کر لئے لیکن اس کے ہاتھ خلا میں ہی پتھر ہو گئے۔ اسے یاد آیا۔ یہ تو وہ قبرستان ہی نہیں جس میں اس نے اپنی ماں کو دفن کیا تھا تو اس کی قبر ابھی تک کچی ہے۔ تصویر میں ایک عورت غم میں گندھی مسکراہٹ کے ساتھ خالی منظر کو دیکھ رہی ہے…. قبر کی چھت دھیرے دھیرے بیٹھ رہی ہے۔ پانی بوند بوند رس رہا ہے اور ماں دیوار سے لگی ٹھٹھر رہی ہے جھکے ڈھلکے شانوں کے ساتھ سب سے پیچھے آتے ہوئے اس نے آپ سے کہا ”میں دوسرے قبرستان کی ایک ایک قبر پکی کروا دوں گا۔“
 اسے خیال آیا اس شہر میں تو کئی قبرستان ہیں ”کوئی بات نہیں“…. وہ بڑبڑایا…. ”میں اس شہر کے سارے قبرستانوں کی ایک ایک قبر پکی کرادوں گا۔“ اطمینان کے پرندے نے ایک لمحہ کیلئے رنگ برنگ پرپھڑ پھڑائے اور دوسرے لمحے خالی منظر میں گم ہو گیا…. اسے خیال آیا…. ”کیا معلوم یہ وہ شہر ہی نہ ہو جہاں اس کی ماں دفن ہے۔“

 

Advertisment

Be the first to comment

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.