ورکشاپ ۔۔۔ راشد جاوید احمد

 

ورکشاپ

راشد جاوید احمد

حافظ مبارک علی الیکڑیشن، مکینک، انجنیئر۔۔۔ 3گز ضرب5گز کی  اس ورکشاپ کے ماتھے پر نیلے رنگ کی بیک گراونڈ میں پیلے رنگ سے لکھا تھا۔ ایک تنگ سا کمرہ جس میں ہر ٹوٹی ہوئی چیز مرمت کی جاتی تھی۔ اس ورکشاپ کے آدھے حصے کو ایک کھردرے کپڑے نے ڈھانک رکھا تھا جسکی وجہ سے ورکشاپ کا صرف آدھا حصہ دکھائی دیتا تھا۔ بھولے سبزی والے نے ایک بار ورکشاپ کا پردے میں چھپا حصہ دیکھا تھا لیکن وہ اس کی بابت کچھ بھی بتانے کو تیار نہیں تھا۔ لوگوں کے کریدنے پر اس نے صرف اتنا بیان کیا تھا کہ اس نے وہاں بہت کچھ دیکھا تھا۔۔۔بہت کچھ۔۔۔لیکن اسے یاد نہیں کہ اس نے کیا دیکھا تھا۔ کچھ لوگ اس پر حیران ہوئے اور کچھ نے اسے ہنسی میں اڑا دیا۔ حافظ مبارک علی ایسے موقع پر انگلی سر کے گرد دایئرے میں گھماتا جس کا مطلب تھا کہ بھولے سبزی والے کا دماغ چل چکا ہے۔ بستی کے بعض لوگوں کو یقین تھا کہ ورکشاپ کے پوشیدہ حصے میں بھی ویسے ہی اوزار ہتھیار موجود ہیں جیسے سامنے والے حصے میں ہیں۔ نظر آنے والے حصے میں دو تین مختلف سائز کے ہتھوڑے، لوہا اور لکڑی کاٹنے کی آریاں، پرانے کپڑوں کا ایک بنڈل، موم، مختلف اشاء جوڑنے کے سلوشن ، کچھ cutter، تیل سے جلنے والا ایک چولہا اور ان گنت چھوٹے بڑے اوزار تھے۔ ورکشاپ کی اندرونی دیوار پر ایک بہت ہی کمزور طاقت کا بلب بھی تھا جو بہت دھندلا چکا تھا لیکن حافظ ، اذان مغرب کے وقت اسے بڑے اہتمام سے جلا لیا کرتا تھا۔ اس ورکشاپ میں مرمت کا کام واقعی تسلی بخش طریقے سے ہوتا تھا۔ اصلی نقلی زیورات سے لیکر جوتوں کے سول اور پنکچر شدہ ٹیوبوں سے لیکر سایئکل کی مڑی تاروں تک مرمت ہو جاتی تھی۔ جب حافظ مرمت شدہ اشیاء گاہکوں کے حوالے کرتا تو ان کی آنکھیں حیرت زدہ رہ جاتیں اور وہ یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتے کہ کیا واقعی چیز مرمت طلب تھی بھی کہ نہیں یا حافظ نے اصل کی نقل تیار کر دی ہے۔ حافظ اگرچہ اس بستی میں رہتا ضرور تھا لیکن کوئی بھی وثوق سے نہیں کہہ سکتا تھا کہ وہ کہاں سے آیا تھا۔ لوگ اگر اس سے پوچھتے تو وہ ٹال جاتا اور کہتا
’’ میں جہاں ہوں، وہیں کا ہوں۔۔میں یہاں ہوں، بس یہیں کا ہوں۔۔‘‘ لب و لہجے کے اعتبار سے وہ پوٹھوہار کے کسی علاقے کا لگتا تھا۔ وہ ایک خاموش طبع انسان تھا اور چونکہ کم بولتا تھا اس لئے ایک نا معلوم طلسم اسکی ذات کے ساتھ وابستہ ہو چکا تھا۔ ذاتی نوعیت کے سوال تو اسے بہت نا پسند تھے۔ ایسے کسی سوال کے جواب میں وہ قہقہہ لگاتا اور گاہک سے پوچھتا کہ وہ مرمت کے لئے کیا لایا ہے۔ 
ایک دن بھٹہ مزدور شاہنو پلاسٹک کی ایک بوتل لے کر حافظ کے پاس آیا اور فریادی لہجے میں بولا۔ ’’ حافظ جی۔۔میں اس بوتل میں ٹھنڈا پانی لے کر جاتا تھا بھٹھے پر، پر اس پر اینٹیں گر گئی ہیں اور یہ استعمال کے قابل نہیں رہی۔ یار اسے دیکھو اور مرمت کر دو، میں اب پھر سے نئی بوتل نہیں خرید سکتا ‘‘ حافظ نے بوتل کا بغور جائزہ لیا اور پھر شاہنو کو ورکشاپ کے باہر چھوڑ کر پردے کے پیچھے گھس گیا۔ شاید اس بوتل میں کبھی منرل واٹر ہوتا ہو گا اور شاہنو نے اسے کباڑیے سے دس روپے میں خریدا تھا اور یہ شاہنو ایسے دیہاڑی دار کی پیاس بجھانے کے لئے سمندر سے کم نہیں تھی مگر اب یہ ٹوٹ چکی تھی۔ حافظ نے کچھ دیر پردے کے پیچھے بوتل پر کچھ کام کیا اور پھر مرمت شدہ بوتل لے کر باہر نکل آیا جہاں شاہنو ورکشاپ کے دروازے پر نیم خوابیدہ بیٹھا تھا۔ ھافظ نے بوتل ہوا میں لہراتے ہوئے شاہنو سے کہا ’’ میں کب سے یہ بوتل لئے تہمارے سر پہ کھڑا ہوں اور تم مزے سے سو رہے ہو۔۔۔لے پکڑ اپنی بوتل۔۔۔‘‘شاہنو نے ادھ کھلی آنکھوں سے بوتل کی طرف دیکھا اور اسکی آنکھیں پوری کی پوری کھل گئیں۔ درمیاں سے سوراخ شدہ بوتل مرمت ہو چکی تھی اور اس پر مرمت کا کوئی نشان بھی نہیں تھا۔اس نے فورا ساتھ والی دوکان کے باہر لگے پانی کے نل سے بوتل میں پانی بھرا، اسے الٹا پلٹا کر دیکھا، پانی کا ایک قطرہ باہر نہیں آیا۔ ۔شاہنو نے خوشی سے بھرپور انداز میں کہا ’’ مبارک بھائی ۔۔تم نے ایسا مشکل کام کتنی آسانی سے کر دیا ہے، بھولے نے مجھے ایک بار بتایا تھا کہ تم جب پردے کے پیچھے جا کر کوئی کام کرتے ہو تو تمہارے جسم سے ایک نیلی سی روشنائی نکلتی ہے۔۔بھولا اور بھی بہت کچھ کہتا تھا لیکن ہم اسکی باتوں پر ہنس دیتے تھے لیکن آج ثابت ہو گیا ہے کہ تمہارے اندر کچھ ہے۔ ‘‘
حافظ مبارک علی نے قہقہہ لگایا، پھر دونوں ہاتھ ہوا میں بلند کئے اور کہا ’’ یہ سب ان ہاتھوں اور میرے مولا کی مہربانی ہے۔یہ ہاتھ بہت مضبوط ہیں اور یہ ہر چیز مرمت کر سکتے ہیں۔۔۔‘‘
’’ سچ کہتے ہو ‘‘ شاہنو بولا ’’ لیکن کیا یہ صرف ہاتھوں کی طاقت ہے ؟ سچ سچ بتاو تم کوئی جن، کوئی روحانی طاقت والے جادوگر تو نہیں۔۔۔‘‘
حافظ نے پھر ہنستے ہوئے کہا ’’ یار میں کیا تمہیں جن دکھائی دیتا ہوں ؟ نہ میں جن ہوں نہ جادوگر۔۔بھائی میں تو اپنا پیٹ پالنے کے لئے محنت کرتا ہوں۔۔کسی سے خیرات نہیں لیتا اور بس۔۔۔دیکھو نا، اس ملک میں کڑوڑوں غریب لوگ رہتے ہیں۔ اچھی قسمت والے تو بس تھوڑے ہی ہیں جو ہر روز ایک نئی چیز خرید سکتے ہیں باقی لوگ تو اپنی ٹوٹی پھوٹی چیزوں کو مرمت ہی کرا سکتے ہیں اور ان کے گھروں میں  انہی مرمت شدہ اشیاء سے  رونق ہے۔۔۔۔‘‘
بات درست تھی۔ حافظ نے آج تک اپنی محنت کے معاوضے کے علاوہ کسی سے کچھ طلب نہیں کیا تھا۔ مسخ شدہ ٹوتی ہوئی چیزیں، ہر قسم کے دھات کے برتن، بچوں کے کھلونے، بجلی کے خراب شدہ آلات، سب حافظ کی ورکشاپ میں پہنچ جاتے اور پھر وہ اس کی محنت اور دیانت کے سبب اپنی اصلی حالت کے قریب تر ہو جاتے۔ لوگ اسے بعض اوقات مرمت علی بھی کہتے۔ گو اسے یہ برا لگتا لیکن وہ جانتا تھا کہ یہی لوگ اسکے لئے مرمت طلب اشیاء لاتے اور انہی کی بدولت اسکی روٹی روزی چل رہی تھی۔ ایسی باتوں کا برا ماننا اس کے وارے میں نہیں تھا۔ 
ایک دن حافظ اپنی ورکشاپ میں مصروفِ کار تھا کہ میاں صاحب نے اسے آواز دے کر باہر بلایا۔ میاں صاحب کے ہاتھ میں شیشے کے چار ٹکڑے تھے۔ یہ ایک ایسے خوبصورت مرصع شیشے کے حصے تھے جو میاں صاحب کی چھوٹی دلہن کو کسی نے شادی پر بیش قیمت تحفے کے طور پر دیا تھا اور صفائی والی ماسی کی لا پرواہی سے اب اس کی یہ حالت ہو گئی تھی۔ دلہن نے میاں صاحب کی جان عذاب کردی کہ وہ ایسا ہی مرصع اور بیش قیمت شیشہ لا کر دیں۔ چنانچہ آج وہ حافظ کی ورکشاپ پر تھے۔ میاں صاحب بھی کیا کرتے، انہوں نے یہ شادی اپنی پہلی بیگم کی اجازت کے بغیر چھپ چھپا کر کر رکھی تھی۔ ویسے بھی وہ نئی دلہن کی آنکھوں میں آنسو تو درکنار تکلیف بھی نہیں دیکھ سکتے تھے۔ 
حافظ نے شیشے کا بغور جائزہ لیا۔ چاروں ٹکڑے اس بری طرح سے الگ ہوئے تھے کہ ان کو مرمت کر کے اصل حالت میں لانا کارے دارد تھا۔ بستی کے سب سے بڑے آڑھتی، میاں صاحب کی جان عذاب میں تھی۔ حافظ کو شیشے کا مطالعہ کرنے میں ذرا دیر ہوئی تو میاں صاحب بے صبری سے بول اٹھے ’’ دیکھو حافظ جی۔ یہ جو ہماری دلہن ہے نا چھوٹی والی، بس ذرا بچوں کی طرح ضد پر آ جاتی ہے۔ اسے کیا پتہ کہ دنیا کدھر بستی ہے۔ اس شیشے کی بس بہت اعلی مرمت کر دو ورنہ نیا پیس خریندنے میں میرے بہت پیسے کھل جائیں گے اور تم جانو میں پہلے ہی شادی پر کتنا خرچ کر چکا ہوں ‘‘۔ حافظ نے حامی بھر لی اور میاں صاحب کو اگلے دن آنے کو کہا۔ 
یہ ایک مشکل کام تھا۔ حافظ اس وقت پردے کے پیچھے، چاروں حصے میز پر رکھ کر نہ صرف انہیں ترتیب دے رہا تھابلکہ مرصع پھولوں کو بھی ساتھ جوڑنے کی کوشش کر رہا تھا۔ وہ کام میں مگن تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی۔ ’’ کون ہے۔۔۔کام کر رہا ہوں۔۔۔‘‘ حافظ نے دیکھے بغیر جواب دیا۔ اب کے دروازہ اور زور سے بجایا گیا۔ اور پھر اور زور سے۔۔
’’حد ہو گئی ہے بھائی۔کہا بھی ہے کہ کام میں جٹا ہوں۔۔‘‘ یہ کہتے ہوئے حافظ پردے سے باہر آیا تو اس نے دیکھا کہ چودہ پندرہ برس کی ایک لڑکی سر سے پاوں تک بدن چادر میں چھپائے کھڑی تھی۔ اسکے چہرے کا جتنا حصہ نظر آ رہا تھا خفت اور فکر مندی میں پوشیدہ تھا۔ یہاں تک کہ اسکے ابرو بھی فکرمندی اوڑھے ہوئے تھے۔ 
’’ کیا چاہئے تمہیں ؟ ‘‘ حافظ نے بیزاری سے پوچھا
’’ انکل ۔ آپ میری گڑیا مرمت کر دیں گے۔۔؟ ‘‘ لڑکی نے چادر میں چھپائی گڑیا نکال کر پوچھا
’ گڑیا۔۔۔تمہاری۔۔۔‘‘
’’ جی انکل۔ میں کھیل رہی تھی اس سے۔ یہ میرے ہاتھ سے گری۔۔گھر کی دوسری منزل سے نیچے۔۔اور ٹوٹ گئی۔۔۔‘‘
’’ دیکھو بچے۔ اس وقت تو میں بہت مصروف ہوں اور گڑیا شڑیا مرمت نہیں کر سکتا۔ اپنے باپ سے کہنا کل مجھے دکھا دے کسی وقت بھی۔۔۔‘‘ حافظ یہ الفاظ کہہ کر واپس جانے ہی والا تھا کہ لڑکی بولی
’’ میں یہاں چوری چوری آئی ہوں۔ اور میرا ابا مجھے گھر سے باہر جانے نہیں دیتا۔ وہ کہتا ہے زمانہ خراب ہے۔۔۔‘‘
’’ زمانہ خراب ہے تو میں کیا کروں۔ میرے پاس با لکل وقت نہیں ہے۔ ۔ میرا اپنا زمانہ خراب چل رہا ہے۔۔کل آنا۔۔۔‘‘یہ کہہ کر حافظ پھر اندر چلا گیا۔ لیکن اندر جا کر اس نے یونہی عادتا دروازے کے سوراخ سے دیکھا تو بچی اب بھی وہیں کھڑی تھی۔ اسکی آنکھوں میں فکر کے ساتھ ساتھ موٹے موٹے آنسو بھی تھے۔ حافظ کو اس پر ترس آ گیا۔ اس نے دروازہ کھول کر گڑیا لے لی اور اسے کل آنے کو کہا۔ خوشی کے مارے لڑکی شکریہ کہنا بھی بھول گئی اور گھر کی طرف بھاگ لی۔ اسی وقت حافظ کی نظر ان دو موٹر سائیکل سواروں پر پڑی جو حافظ کی دوکان کی طرف دیکھ رہے تھے۔ ایسا لگتا تھا کہ یا تو بائیک خراب ہو گئی ہے یا پٹرول ختم ہو گیا ہے۔ کوئی کام ہو گا تو خود ہی آ جائیں گے، حافظ نے سوچا اور چائینہ ڈول کو دیکھنے لگا جو تین حصوں میں تقسیم ہو چکی تھی۔ 
اگلے دن سب سے پہلے میاں صاحب نے ورکشاپ کا دورہ کیا۔ جب انہوں نے مرمت شدہ شیشہ دیکھا تو تو دنگ رہ گئے۔ شیشہ اس نفاست سے مرمت کیا گیا تھا کہ اس میں ایک بال بھی نظر نہیں آرہا تھا۔ میاں صاحب نے فرطِ مسرت سے حافظ کے ہاتھ چوم لئے۔ وہ اتنے خوش تھے کہ انہوں نے حافظ کی خدمت کے اعتراف میں اسے اپنے گھر کے ساتھ والی خالی دوکان بغیر کرائے کے پیش کر دی۔ ’’ حافظ آپ جہاں بیٹھے ہو ناں، یہ جگہ ٹھیک نہیں۔ ساتھ ہی تو وہ خالی پلاٹ ہے اور تم جانتے ہو رات کو وہاں کیا کیا نہیں ہوتا۔ آپ آ جاو میرے برابر، خدا کی قسم کرایہ آپ کو معاف۔ ‘‘ میاں صاحب نے فیاضی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔ لیکن حافظ جانتا تھا کہ میاں صاحب اکثر اوقات اپنے کہے الفاظ بھول جاتے ہیں بلکہ ضرورت پڑنے پر مکر بھی جاتے ہیں اس لئے اس نے میاں صاحب سے طے شدہ معاوضہ لیا اور ان کی پیشکش کا شکریہ ادا کرتے ہوئے بتایا کہ یہ جگہ اسکے لئے بہت ہے اور یہ کہ اسکی روزی روٹی ان جیسے غریب پروروں کے دم سے ہی چل رہی ہے۔ 
ورکشاپ پر آنے والا دوسرا گاہک وہ لڑکی تھی جو کل اپنی گڑیا دے گئی تھی۔ وہ کل بھی اسی وقت آئی تھی اور آج تو اس کا سکول یونیفارم اسکی چادر کے نیچے سے جھلک رہا تھا۔ غالبا وہ کل بھی سکول سے واپسی پر آئی تھی۔ حافط ابھی سستانے کے لئے کرسی پر بیٹھا ہی تھا کہ اس نے لڑکی کو آتے دیکھ لیا۔ وہ کل کی طرح سر سے پیروں تک چادر میں لپٹی تھی البتہ اسکے سر کے بال چادر سے نکل کر اسکے ماتھے پر دلفریب کنڈل ڈال رہے تھے۔ حافظ نے گڑیا نکالی اور بچی کے حوالے کر دی۔ بچی نے کمال مہارت سے جوڑی گئی گڑیا کے لئے شکریہ ادا کیا اور چادر کے پلو سے پانچ روپے نکال کر حافظ کو ادا کئے۔
’’ ہیں۔۔یہ تو آدھے ہیں۔۔بات تو دس کی ہوئی تھی۔۔۔‘‘ حافظ نے کہا
’’ وہ میں باقی پھر دے جاوں گی۔ میرے پاس اتنے ہی ہیں اور ابا مجھے زیادہ پیسے نہیں دیتے۔۔۔کہتے ہیں زمانہ بہت خراب ہے۔۔۔‘‘ لڑکی نے ایک ہی سانس میں سب کچھ کہہ دیا۔ 
’’ اچھا۔۔ سنو، نام کیا ہے تمہارا۔۔۔؟ ‘‘ 
’’ جی بشری۔۔‘‘
’’ اچھا بیٹا بشری۔۔باقی پیسے چھوڑو۔ اپنی اماں سے کہنا کہ گھر میں بہت سی چیزیں ہوں گی مرمت کے لائق۔۔۔مجھے بجھوا دینا۔۔۔ہم لوگ نئی تو لے نہیں سکتے تو پرانی ہی مرمت کرنا ہیں ناں۔۔۔‘‘
’’ میری اماں نہیں ہیں۔۔ابا گلیوں میں پھیری لگا کر ضرورت کا سامان بیچتا ہے۔ کہیں نقد کہیں ادھار اور میں سکول جاتی ہوں پڑھنے۔۔۔‘‘
’’ اوہ۔۔تم طالب پھیری والے کی بیٹی تو نہیں۔۔۔‘‘ حافظ نے اندازہ لگاتے ہوئے کہا۔
’’ جی۔۔!! اور آپ نے ابا کو نہیں بتانا کہ میری گڑیا ٹوت گئی تھی اور آپ سے مرمت کروائی ہے۔ میں اب چلتی ہوں۔۔زمانہ بڑا خراب ہے۔۔۔‘‘
لڑکی یہ کہہ کر چل دی اور حافظ و رکشاپ کے اندر چلا گیا۔ موٹر سائیکل کی آواز سن کر باہر آیا تو اسے بس اس کا دھواں ہی دکھائی دیا۔ کرسی پر بیٹھے حافظ سوچ رہا تھا کہ زمانہ واقعی خراب ہے۔ اسکی ورکشاپ بستی کی آخری گلی میں تھی اور اسکے ساتھ کافی
جگہ خالی تھی۔ کچھ فاصلے پر چاردیواری کیا ہوا ایک پلاٹ تھا جسمیں بنیادیں بھر دی گئیں تھیں لیکن نہ جانے مالک گزر گیا یا سکی اولاد کو اس جائداد کاعلم نہیں تھا کہ یہ جگہ اب چوروں ،اچکوں اور جوا بازوں کی آماجگاہ تھی اور رات کو سرکاری روشنی کے جلتے ہی آباد ہو جاتی تھی۔ اکثر وہاں مقامی تھانے کے ملازم بھی نظر آتے تھے۔ کبھی کبھار لڑائی جھگڑے کی نوبت بھی آ جاتی تو خوب ہنگامہ ہوتا اور سوئے ہوئے حافظ کی آنکھ بھی کھل جاتی۔ وہ فکر مند تو ضرور ہوتا لیکن یہ سوچ کر مطمئن ہو جاتا کہ اسے کیا سروکار۔ جب تک چلتا ہے ٹھیک ہے۔ کچھ زیادہ خرابی ہو گی تو کہیں اور ٹھکانہ کر لیا جائے گا۔ ایسی غیر آباد اور خالی جگہیں تو ہر بستی میں ہوتی ہین۔ ایسی ہی بے تکی باتیں سوچتا وہ چارپائی پر لیٹ گیا۔ 
سوتے سوتے موٹر بائیک کی آواز اسکو بار بار جگا دیتی حالانکہ اس وقت ایسا کچھ نہیں تھا۔نامعلوم یہ موٹر بائیک اسکے دماغ سے کیوں چپک گئی تھی۔ اگلی صبح وہ نیم کی مسواک کر کے سرکاری نل سے کلیاں کر رہا تھا کہ اس نے میاں صاحب کو آتے دیکھا۔ میاں صاحب کو اس وقت منڈی میں ہونا چاہئے تھا اس نے سوچا۔ اسے یہ کچھ عجیب سا لگا۔ میاں صاحب سیدھے حافظ کے پاس آئے اور بولے
’’ کچھ جانتے ہو حافظ جی۔۔کل کیا ہوا۔۔‘‘ ؟؟ ’’یار وہ بشری۔۔طالبے کی بیٹی۔۔۔کل سکول سے واپس نہیں آئی۔۔طالب بہت پریشان ہے۔ ساری بستی چھان ماری اسکا کچھ پتہ نہیں۔۔۔رو رہا ہے۔۔۔ماتم کر رہا ہے۔۔۔‘‘
’’ اوہو میاں صاحب۔۔۔مگر وہ بچی تو بڑی تمیز دار، سلیقے والی شریف بچی لگتی تھی۔۔۔کہیں اغوا وغیرہ۔۔۔۔‘‘
’’ میں زاتی طور پر جانتا ہوں اسے۔ پڑھنے والی بچی ہے۔ میری بیٹی سے پڑھنے آتی ہے اور ہمارے گھر میں کھانا وانا۔۔۔‘‘
حافظ کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کہے۔ دو دن پہلے ہی تو وہ گڑیا مرمت کروا کے گئی تھی اور آج اسکے غائب ہونے کی خبر۔۔۔اتنی دیر میں ڈھول والے بشری  کے غائب ہونے کی منادی کرنے آ گئے۔ وہ ساتھ ہی ساتھ اسے تلاش کرنے کی درخواست بھی کر رہے تھے۔ دن ایسے ہی گزر گیا۔ حافظ کا آج کام میں بالکل دل نہیں لگا۔ اس نے آج پہلی بار وعدے کے مطابق کام بھی واپس نہیں کئے تھے اور لوگوں سے معذرت بھی کی تھی۔ یہ معما  اسکی سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔ اطلاعات کے مطابق پولیس والے الٹا طالب سے سوال کر رہے تھے کہ لڑکی کے کس کے ساتھ تعلقات تھے، کہا ں کہاں آتی جاتی تھی، سکول سے گھر کتنی دیر میں پہنچتی تھی۔ گھر میں خوش تھی کہ نہیں۔ باپ کا غصہ یا رعب داب کیسا تھا وغیرہ وغیرہ۔ ہو سکتا ہے کسی نے اسکے ساتھ زیادتی کی ہو اور پھر چھپا رکھا ہو۔۔کسی نے اس بات کا اندیشہ بھی ظاہر کر دیا۔ ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔ کیا یہاں کوئی قانون نہیں، کوئی پولیس نہیں۔جتنے منہ اتنی باتیں۔ ان باتوں سے حافط کا دل کافی مقدر ہو گیا اور وہ چارپائی اٹھا کر ورکشاپ کے اندر چلا گیا اور سونے کی ناکام کوشش میں لیٹ گیا۔ 
رات کا معلوم نہیں کون سا پہر تھا کہ ورکشاپ کے دروازے پر دستک ہوئی۔ آدھا سویا آدھا جاگا وہ چارپائی سے چھلانگ لگا کر اٹھا ۔ رات اتنی تاریک تھی کہ حافظ کو بالکل علم نہیں ہو سکا کہ کتنی رات بیت چکی ہے۔ باہر کوئی اسکا نام لے کر پکار تھا۔ اس آواز میں بے پناہ کرب اور بے انتہا التجا تھی۔ 
’’ بھائی مبارک۔۔دروازہ کھولو۔۔۔میں بہت مشکل میں ہوں، بہت تکلیف میں ہوں۔۔۔‘‘
رات اگرچہ تاریک تھی لیکن آواز مانوس تھی۔ حافظ نے کھڑکی کھول کر باہر دیکھنے کی کوشش کی۔ کوئی اسکی ورکشاپ کے دروازے کے باہر چادر میں لپٹا پڑا تھا۔ جونہی حافظ نے دروازہ کھولا تو ایک شخص اسکے قدموں میں  بیٹھ گیا۔ اسکی ٹانگوں سے لپٹ کر رونے لگا۔ 
’’ حافظ جی۔۔میری بچی کو بچا لو۔۔بچا لو اسے۔۔۔میں طالب ہوں۔۔۔بشری کا باپ۔۔۔میں لایا ہوں اسے تمہارے پاس۔۔‘‘
حافظ کی پھٹپھٹائی آنکھیں رات کی تاریکی میں بھی دیکھی جا سکتی تھیں۔ 
’’ میں۔۔میں اسکو کیسے بچاوں، کیا کہنا چاہ رہے ہوتم، میرے پاوں تو چھوڑو۔۔۔‘‘
’’ نہیں بھائی۔۔کچھ کر لو۔۔اسے ٹھیک کر دو۔۔دو دن پہلے آئی تھی نا گڑیا لے کر۔۔تم نے ٹھیک کر دیا اسے۔۔یہ میری گڑیا ہے۔۔اسے بھی ٹھیک کر دو۔۔۔میں اپنا دو کمروں کا گھر تمہیں دے دوں گا۔۔میری سائیکل بھی تم لے لینا۔۔میری گڑیا مرمت کردو۔۔تمہارے ہاتھ میں جادو ہے۔۔یہ میری گڑیا ہے۔۔میری بشری ہے۔۔۔‘‘
’’ ہیں۔۔۔تم بشری کو لے کر آئے ہو۔۔کہاں ہے کہاں ہے۔۔۔‘‘ حافظ نے پوچھا
’’ وہ دیکھو، میری جان، میرا قیمتی ہیرا، میری بیٹی۔۔۔وہ دیوار کے پاس لیٹی ہے۔۔۔‘‘
حافط تاریکی میں اپنی آنکھوں کو دیکھنے کے قابل بناتے ہوئے دیوار کی طرف بڑھا تو اسکا پاوں ایک گھٹڑی سے الجھا۔ اس بوری میں بشری تھی۔ اسکے جسم کے تین حصے کر دئے گئے تھے، خون میں لتھڑے ہوئے، گرم گرم۔۔۔حافظ نے اپنے اندر سے اٹھنے والی ابکائی کو بڑی مشکل سے روکا اور صرف اتنا ہی کہہ سکا ’’ یہ کب ہوا ۔۔‘‘
’’ ابھی ابھی۔۔وہ میرے گھر کے دروازے پر آئے تھے۔ انہوں نے مجھے باہر بلایا اور کہا ہم تمہاری بشری کو ڈھوند لائے ہیں۔۔یہ لو۔۔سمبھالو اسے۔۔یہ کہہ کر انہوں نے بوری پھینکی اور موٹر سائیکلوں پر قہقہے لگاتے غائب ہو گئے۔ 
’’ تم جانتے ہو انہیں۔۔۔؟ ‘ حافظ نے سوال کیا
’’ بس اتنا کہ ایک دن پھیری لگاتے میں نے انہیں بشری کے سکول کے باہر لڑکیوں پر آوازے کسنے سے منع کیا تھا۔۔۔‘‘ طالب اتنا ہی کہہ سکا۔ ھاٖفظ نے اسے سہارا دیا۔ پانی پلایا اور بوری اٹھا کر ورکشاپ میں پردے کے پیچھے میز پر رکھ دی۔
باہر رات کے گہرے پر اسرار سناٹے کو دور کہیں سے روتے ہوئے کتے کی آواز اور زیادہ پر اسرار بنا رہی تھی۔ حافظ نے بوری خالی کی۔ اسکو کچھ نہیں سوجھ رہا تھا۔ آج جو چیز اسے مرمت کے لئے دی گئے تھی اسنے اسکے وجود کو اندر تک دہلا دیا تھا۔ اسکا سر بھاری اور آنکھیں سوجی ہوئی تھیں۔ وہ سوچ رہا تھا کہ اسنے اس دن ان لڑکوں کا نوٹس کیوں نہ لیا۔ لیکن ایسا ہو جائے گا وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ ندامت کا احساس کہیں  اسکے اندر در آیا۔ وہ خود کو اس حادثے میں برابر کا شریک سمجھنے لگا۔ بہر حال اسنے اپنے اوزار جمع کئے اور کام پر لگ گیا۔ تاریکی کم  ہوئی تو صبح کاذب میں ورکشاپ کا دروازہ کھلا۔ حافط نے طالب کو اندر بلایا اور اسے پردے کے پیچھے لے گیا۔ وہاں بشری ایک ستون کے سہارے میز پر بیٹھی تھی۔ اسکے لبوں پر ایک زخمی سی مسکراہٹ تھی۔ خون کے دھبوں سے بھری چادر اسکے جسم کے  جوڑے گئے تینوں حصوں کو ایک جسم کی شکل دے رہی تھی۔ 
’’ طالب۔۔۔‘‘ حافظ نے کہا۔۔۔’’ میں تمہاری گڑیا کو بس اتنا ہی ٹھیک کر سکا ہوں۔۔۔۔‘‘ ٓواز اسکے گلے میں رندھ گئی۔ 
سہہ پہر کو جنازے کے بعد حافط مبارک علی نے ورکشاپ سے اپنا سامان پردے میں باندھا اور کسی سے کچھ کہے بتائے بغیر کسی انجانی سمت کو چل دیا۔ 

Advertisment

Be the first to comment

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.