کچھ روحوں کے بارے میں ۔۔۔۔ راشد جاوید احمد

کچھ روحوں کے بارے میں 

تالیف و تحریر

(راشد جاوید احمد)

انسان کے قدیم آباء، جو لنگور، چمپینزی اور گوریلا کے چچیرے بھائی تھے ابتداء میں انہیں کی طرح درختوں میں بسیرا کرتے تھے۔ برف کے طویل دور میں جب جنگل برفانی تودوں کی لپیٹ میں آ گئے تو وہ پہاڑوں کی کھوہوں میں رہنے لگے۔ زمانے کے گزرنے کے ساتھ انہوں نے دو ٹانگوں کے بل چلنا سیکھ لیا جس سے ان کے ہاتھ کام کاج کے لئے آزاد ہو گئے اور وہ لٹھ تھام کر گھومنے پھرنے لگے۔ لٹھ ان کے بچاو کا ہتھیار بن گیا اور وہ اس سے جانوروں کا شکار بھی کھیلنے لگے۔ قدیم ہجری دور میں انہوں نے لکڑیاں رگڑ کر آگ جلانے اور اسے محفوظ کرنے کا طریقہ معلوم کر لیا تھا۔ آگ سے ان کو روشنی بھی ملتی اور درندے بھی دور رہتے ۔ نیم انسان نے لٹھ اور آگ کے استعمال سے  قدرت کے جبر کو توڑ کر رکھ دیا جس سے دوسرے حیوانات آج تک آزاد نہیں ہو سکے۔ رفتہ رفتہ اس نے لٹھ کے سرے پر نوکیلا پتھر باندھ کر برچھا بنایا جبکہ دوسرے جانور بدستور دانتوں اور پنجوں سے کام لیتے رہے۔ اس ہنر مندی کی تہہ میں وہ تبدیلیاں کارفرما تھیں جو یخ کے زمانے میں قدرت کے شدائد کے خلاف طویل کشمکش کرتے ہوئے اسکے مغز َ سِر میں واقع ہوئی تھیں۔ ایک تو یہ کہ اسکے مغز سر کے حجم میں اضافہ ہو گیا اور دوسرے یہ کہ مغز سر کے اس حصے میں جسے ” نیو کرٹکس” کہتے ہیں سوچ اور خود شعوری ” سیلف کانشیئسنس” کی صلاحیتیں بیدار ہو گیئں۔ اس جوہر ذہن کی نشو و نما نے جہاں اسکے ذہن میں عقدوں کا شعور پیدا کیا وہاں انہیں سلجھانے کے لئے وسائل بھی فراہم کئے۔

داخلی پہلو سے حیوانات، درندے اور پرندے بدستور جبلتوں کے اسیر رہے اور آج بھی ہیں جبکہ نیم انسان کے ذہنی ارتقاء نے ان جبلتوں کے تصرف کو توڑ دیا اور اپنی نئی فکری صلاحیتوں کے طفیل اس نے فطرت کے قوانین سمجھنے اور انہیں اپنے حق میں ڈھالنے کا آغاز کیا۔ آگ کی دریافت، پہیے اور کشتی کی ایجاد، ہڈی کی سوئی، چمڑے کے تسمے سے سی ہوئی کھال کا لباس، گوشت کے پارچوں کو آگ پر بھوننا اور آپس کی گفتگو ۔۔۔۔ اس ذہنی ترقی کے باعث جہاں اسنے اپنے خارجی ماحول کے ساتھ مفاہمت پیدا کرنے کی کوشش کی وہاں اسکی داخلی دنیا میں بھی عجیب و غریب تبدیلیاں رونما ہونے لگیں۔ نفسیات کا ایک قانون ہے کہ انسانی دماغ ہر وقت کچھ نہ کچھ سوچتا رہتا ہے۔ ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ ایک صحیح الدماغ شخص کا ذہن جامد ہو جائے یا سوچنا چھوڑ دے۔ سوچ کا یہ عمل بیداری ہی سے خاص نہیں بلکہ سوتے میں بھی جاری رہتا ہے۔ اسی کے کارن ہم خواب دیکھتے ہیں جو انسان سے خاص ہے۔ بے شک حیوانات اور پرندے بھی دماغ رکھتے ہیں لیکن خود شعوری نہ ہونے کے باعث وہ خواب نہیں دیکھ سکتے نہ یہ بے زبان اپنے خیالات اور جذبات کا اظہار کر سکتے ہیں۔

ہمارے نیم انسان کو اوزار بنانے یا خوراک ذخیرہ کرنے ، جانور سدھانے اور تن ڈھانپنے میں تو کوئی زیادہ دقت پیش نہ آئی لیکن خواب اسکے لئے کافی پریشانی کا باعث بنے رہے۔ یہ تو ممکن نہیں کہ وہ خوابوں کے بارے میں سوچتا نہ ہوگا یا خوابوں کی دنیا سے کنارا کشی کر لیتا۔ چناچہ خارجی مظاہر کے اسباب کی تلاش کے ساتھ ساتھ اس نے داخلی عالم پر بھی غور کرنا شروع کیا اور اپنی توفیق کے مطابق اسے سمجھنے کی کوشش کی۔ وہ دیکھتا کہ سوتے میں تو اسکا جسم غار میں  دراز ہے لیکن وہ جنگلوں میں شکار کھیلتا پھر رہا ہے یا اپنے مرے ہوئے عزیزوں سے ملاقاتیں کر رہا ہے۔ اس عجیب و غریب صورت حال کی توجیہہ اسنے ایسے کی کہ اسکے اندر کوئی ایسی شئے موجود ہے جو سوتے میں اسکے جسم سے جدا ہو جاتی ہے اور جاگنے پر لوٹ آتی ہے۔ اسکے ساتھ اس کا روز کا مشاہدہ تھا کی اسکی زندگی سانس کی ڈوری سے بندھی ہے۔ جب تک یہ ڈوری بندھی ہے انسان زندہ ہے اور جب یہ ٹوٹ جاتی ہے تو مر جاتا ہے۔ سانس کی اس ڈوری ، یا ہوا کے اس جھونکے کو ابتداء میں وہ روح سمجھتا رہا۔ چناچہ قدیم زبانوں میں، روح ۔۔۔۔۔ عربی زبان میں ہوا کا جھونکا۔۔۔۔عبرانی  رواح، یونانی میں سائکی، سنسکرت میں آتما اور لاطینی میں اینے ما، ہوتے ہوتے ان الفاظ کے لغوی معنی تو ہوا کا جھونکا یا سانس ہی رہے لیکن اصطلاحی معنی بدل گئے اور روح کا اطلاق بھوت پریت، چلتی پھرتی کایا، یا ہمزاد پر کرنے لگے جو انسان کی ہم شکل ہے۔ اسکی پیدائش کے ساتھ معرض وجود میں آتی ہے اور موت کے بعد کسی دوسرے پر اسرار عالم کو چلی جاتی ہے۔ روح کے مفہوم کی یہ تبدیلی بنی نوع انسان کی تاریخ میں بڑی انقلاب آفریں اور دور رس ثابت ہوئی کیونکہ مذاہب عالم کی بنیاد اسی تصور پر اٹھائی گئی۔

روحوں کے تصور کی شکل پذیری دو مراحل میں ہوئی، 1) بے جان اشیاء سے روحیں منسوب کرنا اور 2) ہر ذی حیات کو روح سمجھنا۔ کائنات کے مظاہر اور اشیاء کو اپنی ہی طرح کی روحیں منسوب کر کے قدیم انسان نے پہلے پہل کائنات سے اپنا ذہنی اور جذباتی رشتہ جوڑنے کی کوشش کی۔ روحوں کے اس مت کے اثرات و نتائج بنی نوع انسان پر بہت گہرے ہوئے۔ علم ِ انسان کے طلبہ نے جادو، شمن مت، دیو مالا، مذہب، سِریت سے لے کر لوک بات، لوک شاعری،لوک گیتوں، لوک کہانیوں اور توہمات میں ان آثار کا کھوج لگایا ہے۔ شمن اور جادو گر اپنے ٹونے ٹوٹکوں میں ہمیشہ نیک اور بد  روحوں سے مدد مانگتے رہے ہیں۔ آسمان، سورج، چاند ، تاروں، وغیرہ پر قابو پانے کے طریقے بتاتے رہے ہیں۔ ان سب عناصر میں روحوں کا بسیرا تسلیم کرنے سے دیو مالا کی تدوین عمل میں آئی۔ مذاہب عالم کا تقابلی جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ تمام مذاہب کی بنیاد بھی روح کی بقا کے تصور پر رکھی گئی ہے۔ صوفی اور ویدانتی انفرادی روح کو روح ِ کل کا عضویاتی حصہ مانتےرہے ہیں اور اسمیں کھو جانے کے لئے تپ جپ اور ریاضت کرتے رہے ہیں۔ شاعری کے اسالیب اور تمثیلیں  اس قیاس کی تخلیق تھیں کہ آسمان، بادل، پھول درخت وغیرہ ذی روح و ذی حیات ہیں اس لئے شاعر ان سے قلبی رابطہ پیدا کر لیتا ہے۔

عام عقیدہ یہ ہے کہ روحیں جو آدمی کی زندگی پر اثر انداز ہوتی ہیں دو قسم کی ہیں، خبیث اور سعید یا نیک اور بد۔ نیک روحیں آبا و اجداد کی ہیں جو وقتا فوقتا اپنے عزیزوں کے کام آتی ہیں اور لوگ مشکل وقت میں ان سے رجوع کرتے ہیں۔ آباء پرستی اسی عقیدے کی پیداوار ہے۔ اکثر اقوام مین یہ عقیدہ موجود رہا ہے کہ خاص تقریبات پر بزرگوں یا پرکھوں کی روحیں اپنے سابقہ مسکن کو لوٹ آتی ہیں ۔ عام مسلمانوں کا عقیدہ یہ ہے کہ نیک لوگوں کی روحیں اپنے مزاروں میں زندہ موجود ہیں اور اپنے عقیدتمندوں کی مشکلات دور کرنے پر قدرت رکھتی ہیں ۔ اسی لئے لوگ مزاروں پر منت مانتے، قیمتی چڑھاوے چڑھاتے ہیں۔ عورتیں مزار کے قریب اگے درختوں پر رنگ برنگی دھجیاں باندھ کر حصول اولاد اور دیگر منتیں مانتی ہیں۔

بد روحوں میں  شیاطین، بھوت پریت، غول، آل، راکھشش، دیوی پری، چڑیل ڈائن  اور عفریت وغیرہ کا ذکر لوک کہانیوں میں تواتر سے آتا ہے اور سادہ لوح عوام کے ساتھ بعض اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگ بھی ان پر عقیدہ رکھتے ہیں۔ اسی طرح شیطان کا ذکر ہے جو قدیم اساطیر میں قلیانوس کا بیٹا بتایا گیا ہے جو سوماس بن جان کا بیٹا تھا۔ قدیم انسان جس شے کو پر اثرار سمجھتا تھا اسے مانا یا طلسماتی اثر سے منسوب کر دیتا تھا۔ روح کے مت نے اسی طرح جنم لیا اور آج کے سائنسی اور ترقی یافتہ دور میں کم و بیش اور غیر ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک میں باالخصوص  یہ تعصب جاری و ساری ہے ۔

( استفادہ: کائنات اور انسان از علی عباس جلالپوری، اے ڈکشنری اف سائکولوجی، شاخ زریں از جیمس جارج فریزر، دا کی آف پاور از جے۔ایبٹ، ان دا بگننگ از کیرن آرمسٹرانگ)

Advertisment

Be the first to comment

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.