پرزم ۔۔۔ سبین علی

پرزم

( سبین علی )

نفرت بھی وبائی امراض کی مانند پھیلتی ہے وجود میں داخل ہونے کے بعد اس کا انکوبیشن پیریڈ کتنے عرصے کا ہو گا یہ اندازہ لگانا ذرا مشکل ہے۔ لیکن کسی نہ کسی دن یہ بیماری ظاہر ضرور ہو جاتی ہے۔ یقیناً مجھے بھی اس ائیر بورن وبا کے جراثیم ہوا میں سے لگے تھے کیونکہ یہ نہ تو میری فطرت میں تھے اور نہ ہی مجھے گھٹی میں دیے گئے تھے۔ زبان، ذات، مذہب، قومیت رنگت ہم سب تعصبات کے کتنے خانوں میں منقسم ہیں اور پھر بھی ہم انسان ایک ریس raceکہلاتے ہیں۔

امی نے مجھے بتایا تھا کہ جب میں پیدا ہوئی تو بہت خوب صورت تھی, گلابی رنگت تیکھے نقوش اور سنہرے ملائم بال تھے۔ کان میں اذان کے بعد امی کی سہیلی ایگنس نے جو سینٹ رافیل ہسپتال میں نرس تھی مجھے گود میں اٹھا کر ماں سے بڑے مان سے فرمائش کر ڈالی کہ تمہاری بیٹی کو گڑتی میں دوں گی۔ امی کا دل بہت وسیع تھا جس میں محبت تو کوٹ کوٹ کر بھری تھی مگر نفرت اور تعصب کا کوئی خانہ نہیں تھا پھر وہ ایگنس کا دل کیسے توڑتیں۔ اس لیے مجھے گھٹی ایک پروٹیسٹنٹ کرسچئین نے دی تھی۔ اس حوالے کی وجہ سے میرا اپنے متعلق بڑا مثبت خیال تھا کہ گھر میں شروع دن سے فراخ دلی پر مبنی ایسے ماحول کے بعد مجھے انسانوں سے نفرت کرنا یا تعصب برتنا کیسے آ سکتا ہے ؟

لیکن بسا اوقات زندگی میں کچھ ایسے واقعات یا سانحات رونما ہوتے ہیں کہ آپ کا خود اپنے متعلق لگایا اندازہ بھی فیل ہو جاتا ہے۔ دوسروں کے بارے میں اندازے لگانا اور درست رائے قائم کرنا تو اکثر ایک پہیلی بوجھنے جیسا ہی ہوتا ہے۔ ایسے ہی میرے کئی اندازے اپنے اور ناجیہ کے بارے میں بھی متضاد کیفیات کا شکار ہوتے رہے۔ ناجیہ کا داخلہ ہمارے سکول میں نویں کلاس میں ہوا تھا۔ اس کے والدین کچھ عرصہ قبل ہی ٹرانسفر ہو کر اس شہر میں آئے تھے۔ ناجیہ بھی میری طرح بہت شوخ اور زندہ دل لڑکی تھی اس لیے کلاس میں سب سے پہلے میری سہیلی بنی۔ ہم اکٹھی باسکٹ بال کھیلتی اور شرارتیں کرتیں۔ وہ گانوں اور غزلوں کی پیروڈی بنا کر اپنی استانیوں کی نقل اتارتی تو سبھی لڑکیاں ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ ہو جاتیں۔ لیکن یہ سب زیادہ دیر تک جاری نہ رہا اور کچھ ہی عرصے بعد وہ نہ صرف مجھ سے بلکہ باقی لڑکیوں سے بھی کھچی کھچی رہنے لگی تھی۔

ناجیہ گہرے سانولے رنگ کی لڑکی تھی اس کے والد اندرون سندھ سے سرکاری ملازم تھے۔ شاید اس کے آباء و اجداد مچھیروں کی بستی سے رہے ہوں گے۔ اس کی جلد میں سمندر کی ملاحت گھلی تھی جب وہ مسکراتی تو اس کے ہونٹوں کے کنارے اوپر اٹھ جاتے اور سیاہی مائل گلابی مسوڑھے نمایاں ہو جاتے۔ جن میں سفید دانت اس طرح جگمگاتے جیسے بد رنگ سیپ میں موتی جڑے ہوں۔ اس کے بال گہرے سیاہ اور چمکیلے تھے جیسے دریائی مچھلی کی جلد دھوپ میں چمکتی ہے۔ اس کی آنکھوں کی سپیدی اور سیاہی دن اور رات کی مانند بہت نمایاں ہوتی۔

وہ سردیوں کا ایک کہر آلود دن تھا۔ میں جیومیٹری کے تھیورم حل کرتے اتنا پریشان نہیں ہوئی تھی جتنا ناجیہ کے سوالوں نے مجھے پریشان کیے رکھا۔ میری ہم جماعت سہیلیاں، ناجیہ اور میں پندرہ سال کی کھلنڈری لڑکیاں ہی تو تھیں۔ کیا ہمیں بھی کوئی وبا لگ سکتی تھی اس عمر میں جسم اور ارادوں میں بڑی قوت مدافعت ہوتی ہے دل سادہ اور معصوم ہوتے ہیں پھر بھی ہم سب لڑکیاں باری باری کسی وبا کی زد میں آتی گئیں۔

ایک لڑکی اپنے بیگ میں چھپا کر رکھی پروین شاکر کی خوشبو میں سے کوئی نظم پڑھ رہی تھی۔

چیپ رومانس۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

سو لولی۔ ۔ ۔ ۔ ۔

اف فف رومانٹک یار

نو نو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پروین نیور ٹرسٹ آن بوائیز۔

نظم کے ساتھ اچھلتے فقروں میں کئی ملی جلی آوازیں بلند ہو رہی تھیں کہ شہناز کہنے لگی تم لڑکیاں پروین شاکر کا مذاق بنا رہی ہو کہیں خود مذاق نہ بن جانا۔ یہ سننا تھا کہ شہناز کے چھوٹے قد اور چوکور شیشوں والی نظر کی عینک کا مذاق بن گیا۔ خوب ہنسی کے فوارے چھوٹے۔ شہناز کے مستقبل کے حوالے سے انیمیٹیڈ فلموں کے کرداروں جیسی قیاس آرائیاں کی گئیں۔ بریک کے بعد کا فری پیریڈ بیت بازی کی بجائے طنز و مزاح کا روپ دھار چکا تھا۔

طنز اور مزاح کے بیچ ایک خفیف لکیر ہوتی ہے۔ ایک لائین آف کنٹرول جو کبھی کبھی انسان کو پل صراط پر بھی لا کھڑا کرتی ہے۔ مذاق سے نکلتی بات طنز بن شہناز کے دل پر لگی تھی۔ بظاہر خندہ پیشانی سے مذاق برداشت کرنے کے باوجود اس کی پلکوں کے نم کنارے مسلسل نظر انداز ہو رہے تھے۔ میری بیسوں سہیلیاں تھیں مگر شہناز کی میرے علاوہ کوئی اور سہیلی نہیں تھی۔ گرم لہو کے صبر کا پیمانہ بھی بہت جلد لبریز ہو جاتا ہے۔ شہناز کے آنسو میرے غصے میں ڈھل گئے۔

دیکھو تم لوگ اس طرح کسی کی پرسنالٹی کا مذاق نہیں اڑا سکتیں۔ کیا ہوا اگر شہناز کا قد چھوٹا ہے یا وہ گلاسز پہنتی ہے۔ کیا اس کا دل نہیں ہے۔ کیا اس کے جذبات نہیں ہیں ؟

ساری کلاس میں ایک خاموشی چھا گئی۔

سوری شہناز ایک خفیف سی آواز ابھری کچھ دیر قبل کا کھلکھلاتا ماحول ایک دم سے سنجیدہ ہو گیا تھا۔

پروین شاکر کی خوشبو بند کر کے واپس بیگ میں ڈالی جا چکی تھی۔

مجھے تھوڑا افسوس ہوا۔ کچھ شہناز کے آنسوؤں پر، کچھ ہنسی مذاق کے تلخی میں ڈھل جانے پر۔ کتنا مزہ آ رہا تھا گپ شپ کا بیت بازی کا۔ مذاق طنز میں ڈھل جائے، نفرت یا تعصب کا لبادہ اوڑھ لے تو انسان کو پل صراط پر چلنا پڑتا ہے۔ اس پل صراط پر وہ اکیلا نہیں چلتا نسلوں کی نسلیں چلتی ہیں۔ میں خاموش ہوئی تو ناجیہ میرے سامنے محشر بنی کھڑی تھی۔

بہت سکون ملا نا تمہیں آج ____شہناز کی ہمدردی کر کے _____ نمبر بٹور کے ؟

کون سے نمبر بٹور کے ناجیہ ؟ یہ بھی تو دیکھو نا اس کے بھی کچھ احساسات ہیں۔

میں نے جارحانہ انداز میں جواب دیا۔

ہونہہ تم اور احساسات _____؟ کیا تمہیں کسی کو ہرٹ کرتے ہوئے کبھی اس کی فیلینگز کا اندازہ ہوا؟

ناجیہ کے لہجے میں ناگن کی سی پھنکار تھی۔

ٹھیک ہے تم خوب صورت ہو گوری چٹی ہو اور بہت ذہین بھی ______ مگر ایک سوال کا جواب تو دو؟

کو نسا سوال میں نے حیرت سے اس کا چہرہ تکتے ہوئے کہا۔

حسن کا معیار کیا ہے ؟ ہاؤ ڈو یو ڈیفائین بیوٹی؟

ناجیہ نے انتہائی سنجیدگی سے پوچھا۔

مجھے نہیں پتا_____ اس کے کڑے تیور دیکھ کر میں نے بیگانگی سے کندھے اچکاتے ہوئے کہا۔

یاد ہے پچھلے سال تم نے مجھے کیا کہا تھا؟ جب میں تمہارے ساتھ کسی لطیفے پر ہنس رہی تھی۔ میرے مسوڑھوں سے اوپر اٹھے ہونٹ اور کالی رنگت کے بیچ سفید دانت دیکھ کر تم نے کہا تھا ناجیہ مجھے ڈراؤ تو نہیں۔ ٹھیک ہے میں تمہاری نظر میں کالی اور بد شکل ٹھہری، کیا میرے احساسات نہیں تھے ؟ کیا کسی کی مسکراہٹ اتنی بد صورت ہو سکتی ہے کہ چھین لی جائے ؟ آج اپنی سہیلی کے چھوٹے قد کا مذاق بننے پر اتنا غصہ ہوئی، کیا مجھے کہے الفاظ بھول گئی ہو؟

آئی ایم سوری ناجیہ تم تو میری دوست ہو میں کبھی تمہیں ہرٹ نہیں کرنا چاہتی تھی بس یہ الفاظ زبان سے پھسل گئے۔ میں نے شرمساری سے وضاحت دینے کی ناکام کوشش کی۔

دل میں کہیں چھپے تھے تو زبان سے پھسلے۔ یہ تم گوری رنگت والوں کے دل میں تعصب کی بیماری کہاں سے جڑ پکڑ کر بیٹھ جاتی ہے۔ کیا خوبصورتی صرف جلد کی رنگت پر منحصر ہوتی ہے کہ انہیں اپنے علاوہ دنیا میں کوئی خوب صورت نظر نہیں آتا۔ میں جب آئینہ دیکھتی ہوں تو خود کو اچھی لگتی ہوں، میں اپنے بابا کو بہت پیاری لگتی ہوں آخر تم لوگوں کو کیوں نہیں لگتی____؟ اپنی شکل سے مجھے کوئی مسلہ نہیں تو کسی اور کو کیوں ہو؟ میرے گریڈز میری قابلیت میری اچیومنٹس زیادہ اہم ہیں میرے لیے۔

اور اس دن میں بہت دیر سوچتی رہی کہ کیا واقعی میری نیت اس کی شکل و رنگت کی ہنسی اڑانے کی تھی یا محض زبان کی پھسلن کسی کو اتنا ہرٹ کر سکتی ہے۔ اگر زبان پھسلی تو کہیں لاشعور میں دبا کوئی احساس تو نہیں۔

ناجیہ تو میٹرک کے بعد جانے کہاں چلی گئی مگر اُس دن اس نے مجھے ایسے آئینہ خانے میں لا کھڑا کیا جہاں میں نے انسانوں کے عکس ایک دوسرے زاویے سے دیکھنا شروع کیے۔ اس نے میری آنکھوں سے ایک پردہ، ایک جھلی بڑی بے دردی سے کھینچ کر الگ کی تھی جہاں ظاہری و باطنی تصویریں کسی پرزم سے گزر کر نئے ویو لینتھ میں تقسیم ہو کر نظر آنے لگیں۔ جہاں ہر ایک رنگ منتشر ہو کر کئی رنگوں میں ڈھل جاتا ہے اور میں اکثر کوئی کم تر صورت دیکھ کر خود سے سوال کرتی کہ آخر ____ خوبصورتی کیا ہے ؟ صرف ہمارے دیکھنے والی نظر، عدسوں کا فوکل لینتھ ______؟ یا یا پھر ہم تک پہنچنے والی روشنی کی موجیں ہمیں یہ صورت کس طرح دکھاتی ہے ؟ رئیل امیج ہیں کیا_____؟

خوب صورتی بھی وقت کی مانند ایک ریلیٹیو ویلیو ہی تو ہے۔ جس کے پیمانے ہر عہد میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ پھر حقیقی خوب صورتی کیسی ہو گی؟

کئی برسوں بعد مجھے پتا چلا کہ کنساس سٹیٹ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی مکمل کرنے کے بعد ناجیہ کی تقرری مقامی یونی ورسٹی میں بطور اسسٹنٹ پروفیسر ہوئی ہے۔ کسی سیلف میڈ لڑکی کی اتنی ترقی یقیناً قابل ستائش تھی… ایک دن اسے فون کر کے ملنے کا وقت طے کیا اور اس کے گھر پہنچ گئی… مبارک باد دینے کے علاوہ بچپن کی سہیلی سے ملنے کا اشتیاق بھی تھا۔ اس نے انہی دنوں نیا نیا گھر شفٹ کیا تھا۔ تب تک کافی سارا سامان ادھر ادھر بکھرا پڑا تھا اور کئی چیزوں کی مناسب سیٹینگ نہیں کی گئی تھی۔ وہ کچھ زیادہ نہیں بدلی تھی بس ڈھلتی عمر کے آثار نمودار ہونے لگے تھے۔ مجھے لاؤنج میں بٹھا کر وہ کچن میں چلی گئی۔ کچھ دیر بعد گھر کے اندرون سے چلانے کی آوازیں آنے لگیں۔ پس منظر میں برتن ٹوٹنے کے چھناکے بھی شامل تھے۔ ایسے میں مجھے وہاں بیٹھنا بہت فضول لگ رہا تھا۔ وہ ڈرائینگ روم میں آئی تو میں نے واپسی کی اجازت چاہی۔ وہ ہنسنے لگی اور کہا یہ سب دفع کرو تم کن باتوں میں پڑ گئی ہو۔ اپنے شوہر نامدار کو کچھ کھری کھری سنا رہی تھی، وہ ہے ہی اسی قابل۔

دیوار پر آویزاں تصویر میں ایک طویل قامت اور خوبرو شخص ناجیہ کے پہلو میں کھڑا تھا۔ اپنی شکل سے وہ ناجیہ سے قدرے کم عمر لگ رہا تھا۔

میں نے تصویر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا یہ ہے تمہارا ہزبینڈ؟

ہاں یہ موصوف گریڈ سترہ کا ملازم ہے۔ لو میریج ہوئی تھی ہماری۔ کافی بینیفیٹ دلائے ہیں میں نے اسے اور اس کی فیملی کو۔

یہ کہہ کر اس نے ایک فلک شگاف قہقہہ لگایا۔

اس کی ہنسی کی کھنک میں ایک احساس تفاخر تھا یا سرخوشی تھی لیکن وہ کھوکھلا قہقہہ نہ تھا۔

پھر پوچھنے لگی تم کہیں جاب کرتی ہو؟ شادی کی؟

میں نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا:

ایک پرائیویٹ ادارے کے آئی ٹی سیکشن میں جاب کرتی ہوں، شادی ہو ہی نہیں سکی۔

تمہاری شادی نہیں ہو سکی حیرت ہے مگر کیوں ؟ اس نے بھنویں سکیڑتے ہوئے پوچھا۔

ہمارے ہاں عموماً والدین ہی اولاد کی شادی کرتے ہیں، جب تک انہیں کوئی مناسب بر ملتا معاشرے کی نظر میں میری عمر ڈھل چکی تھی سو اب ایسے ہی گزر رہی ہے۔

مجھے لگا کہ میری مسکراہٹ میرا ساتھ نہیں دے پا رہی۔

یار آجکل کون پیرینٹس کے کیے رشتوں کی آس پر بیٹھا رہتا ہے۔ کہیں خود ٹرائی کرنا تھی نا! میری طرح۔

یہ کہہ کر اس نے ایک فلک شگاف قہقہہ لگایا اس کے ہونٹوں کے کنارے اسی طرح اوپر اٹھ گئے اور کالے مسوڑھوں کے بیچ سفید دانت نمایاں ہو گئے۔ دل ہی دل میں مجھے بہت سبکی کا احساس ہوا۔ ایسے لگا جیسے اس کے سب دانت الگ الگ شکلوں میں مجھ پر ہنس رہے ہوں مگر اس بار میں یہ بھی نہ کہہ پائی کہ ناجیہ مجھے ڈراؤ تو نہیں۔

٭٭٭

Advertisment

Be the first to comment

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.