منٹو ۔۔۔ سعید احمد

17 جنوری

( سعید احمد )

سعادت حسن کی آخری رات 
سرد رات تھی ,
منٹو گورنمنٹ کالج کے
مرکزی دروازے سےاندر آیا 
انیس ناگی نے دیکھا 
بھاگتے ہوئے گیا 
منٹو نے کہا 
اثر کھتے اے
انیس ناگی نے
اونچی آوازیں سنیں 
منٹو نے گالیاں دیں 
وہ باہر آیا اور کہا 
کرامت کھتے اے
منٹو کرامت حسین جعفری سے
مل کر باہر آیا 
اس نے بیس روپے ادھار 
لئے تھے ,
وہ نیلے گنبد کی طرف 
چلا گیا 
سعادت حسن 
کرب اور اذیّت میں 
تڑپ رہا تھا 
اس نے اپنی بہن ناصرہ کو کہا 
مالٹے کا جوس بنا دو
جگر پھٹ چکا تھا 
خون کی قے وہ 
کر چکا تھا 
جسم ٹھنڈا 
صفیہ نے ماتھے پر لگایا 
شراب کا ایک گھونٹ 
منہ میں ڈالا
ناصرہ نے منع کیا 
صفیہ نے ایمبولنس بلائی 
منٹو نے کہا 
یہ ذلت جس کو ذندگی کہتے ہیں 
اب ختم ہونی چاہیے 
ہسپتال کے راستے میں 
منٹو نے سعادت حسن 
کا ساتھ چھوڑ دیا
سعادت حسن مرگیا 
منٹو سماج کی گلی سڑی بدبودار 
لاش کو ,سماج کے ٹھیکیداروں اور 
اپنے پبلشروں کو دفن کرنے کےلئے 
نکل پڑا ,منٹو پوری دنیا میں 
پھیل گیا ,
منٹو نے کہا تھا 
سعادت حسن 
میں اس بدکار دنیا کو 
جانتا ہوں ,آو دیکھو 
برصغیر کے ہر شہر میں 
سکولوں اور کالجوں میں اور 
تھیٹرروں میں میرے ڈرامے اور 
میں بہت خوش ہوں کہ 
میری طرح کی ایک بہادر اور 
ہنر مند لڑکی 
نندتا داس ممبئی میں 
فلم بنا رہی ہے
منٹو ,
میں اس کی نمائش کا
انتظار کر رہا ہوں ۔

Advertisment

Be the first to comment

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.