گرمٹیہ ۔۔۔ سلمی جیلانی

Salma Jeelani is a famous fiction writer , presently living abroad. Many of her stories collections have been published by now.

گرمٹیہ

( سلمی جیلانی )

کانٹوں بھری باڑ کی چبھن کو دل میں لئے عبدل نے تاسف سے سوچا “کیا اسی دن کے لئے اس کے بزرگ اپنی بسی بسائی دنیا چھوڑ کر اس انجان بستی میں چلے آئے تھے ،یہاں کے اجاڑ جنگلوں کو اپنے خون پسینے کی محنت سے سینچا ،……آج جب ریتیلی مٹی سونا اگلنے لگی تو ………..ہم گرمٹیہ کی اولاد کہلائے ….

کندھے پر چھوٹا سا کپڑوں کا تھیلا اور پوٹلی میں دو تین دن کا کھانا لئے وہ اس خار دار تار کی باڑھ کے سامنے کھڑا تھا ، جسے پار کرنے کے بعد اس زمین کے لئے اجنبی قرار دیا جانے والا تھا-

وہ تو اسی بستی میں پیدا ہوا -اسی مٹی سے بنا تھا پھر کیوں وہ کھیت اس کے نہیں ، بلکہ ان کے تھے جنہوں نے کوئی محنت نہ کی – مگر یہاں کے مقامی ہونے کی وجہ سے انہیں قانون اور معاشرے کی ہر حمایت حاصل تھی – اس کے باپ دادا جنہوں نے اس دیس سے محبت کی حالانکہ وہ تو یہاں آنا بھی نہیں چاہتے تھے – مگر ان کے ساتھ دھوکہ کیا گیا-

اس کی دادی زرینہ بتاتی تھی، جب وہ سات سال کی تھی -ٹاٹ کے پردے کے پیچھے سے گلی میں تماشا کرنے والوں کو دیکھتی تھی-

ان میں سے ایک جو بڑا چالاک دکھائی دیتا تھا ، پیار سے اپنے پاس بلا کر بولا ” چلو ایک بڑی کشتی میں اس سے بھی اچھا تماشا لگا ہے ” 

نئے تماشوں کے شوق میں وہ اس کے پیچھے چل پڑی اور بندرگاہ تک جا پہنچی ، 

سامنے ایک بڑی سی کشتی میں رسیوں کی سیڑھیاں لگی تھیں ، وہ سب اس پر چڑھتے گئے – 

کشتی میں اور بھی بہت سے لوگ تھے جو اپنی کہانیاں سنا رہے تھے –

کوئی اس کی طرح تماشا دیکھنے آیا تھا کوئی اجنبی زمینوں پر کھیتوں میں کام کرنے جا رہا تھا جہاں اسے بہت سی پگهار ملنے والی تھی –

باتوں میں پتا نہ چلا کہ کشتی آہستہ آہستہ کھلے سمندر میں بڑھنے لگی تھی – اس نے دیکھا کنارہ کہیں دور رہ گیا تھا –

اب اسے اندازہ ہوا کہ ان سب کے ساتھ کوئی بڑا دھوکہ ہو گیا ہے – 

وہ رونے اور چلانے لگی …. مگر ساتھ کھڑے ہوئے ہنٹر والے تماشا دکھانے کے بجائے ان سب پر بے دریغ ہنٹر برسانے لگے – 

ان میں سے ایک جوشیلا لڑکا تو کھلے سمندر میں کود گیا —

سہمے ہوئے لوگوں نے دیکھا وہ تھوڑی دور پانی کی منہ زور لہروں سے لڑتا رہا پھر گہرے پانیوں میں مدغم ہو گیا –

جہاز میں موجود روزینہ اور اس کے دوسرے ساتھیوں نے حالات سے سمجھوتہ کر لیا 

وہ اب ماضی کو چھوڑ کر آگے بڑھ جانا چاہتے تھے- وہ ماضی جہاں کبھی ان کا سب کچھ تھا –

مگر وقت کی بے رحم گرد میں دفن ہو چکا تھا –

وہ نئی بستیاں بسانے میں کامیاب تو ہو گئے، مگر اپنی شناخت پیچھے ہی چھوڑ آئے –

اب وہ صرف گرمٹیہ پناہ گزیں تھے ، جو روز بیلوں کی جگہ ھل میں جوتے جاتے ، مٹی سخت پتھریلی زمین کو نرم کرتے ، اس میں کبھی گنا اگاتے ، کبھی دوسرے اناج اگاتے مگر اس زمین کے مالک کبھی نہ بن سکے –

مقامی ھتیارے آتے اور سارا اناج چھین کر لے جاتے –

عبدل نے باپ کو ہمیشہ بیماری سے لڑتے دیکھا … دادی زرینہ کو جو گھر الاٹ ہوا تھا وہ بھی اس کے علاج کی نذر ہو گیا –

اور یوں گزرتے وقت کے ساتھ ان کے قدم زمین میں جمنے کی بجائے اکھڑتے ہی گئے-

آج تو حد ہی ہو گئی – 

عبدل کے ہاتھ میں چند روپے پکڑا کر اسے زمین سے بے دخل کر دیا گیا-

گھر سے اس کا سامان نکال کر سڑک پر پھینک دیا اور قیمتی چیزیں اپنے قبضے میں لے لی گئی تھیں – 

وہ اپنے خوابوں کے بکھرے ہوئے ملبہ پر بے بسی سے اکڑوں بیٹھ گیا کچھ دیر زمین کو خالی نظروں سے تکتا رہا –

پھر اس کی آنکھ سے ایک آنسو ٹپکا جو کچی مٹی میں جذب ہو گیا یہ اس کی طرف سے اپنے پرکھوں کی محنت کو خراج عقیدت تھا -اس نے جھک کر اپنے قدموں تلے سے مٹھی بھر مٹی اٹھائی اور ہوا میں اچھال دی ،اور تھکے ہوئے قدموں سے پہاڑی کے دوسری طرف جانے والی پگڈنڈی پر چل پڑا تاکہ اپنے پیارے گاؤں پر دوبارہ اس کی نظر نہ پڑے –

کانٹوں کی باڑھ کے پیچھے ، گنے کے کھیت کی طرف سے آنے والی ہوا میں اس کی سسکیاں بھی شامل ہو گئ تھیں –

Advertisment

Be the first to comment

Share your Thoughts: