چاند کو چھونے کی خواہش ۔۔۔ سلمی جبیں

 چاند کو چھونے کی خواہش

سلمی جبین

” بائے دی وے—– آپ لوگوں میں سے کوئی بھی مجھے ٹیچر کہہ کر نہ بلائے ، میں نے رول کال کرتے ہوئے اپنے طالب علموں کو تنبیہ کی ” سب میرا نام لیں یعنی صباحت—– یہی یہاں کی روایت ہے” ، لڑکیوں لڑکوں میں چہ میں گوئیاں شروع ہو گئیں ، ایشیا ، افریقہ اور جنوبی امریکہ کے بیشتر طالب علموں پر مشتمل یہ انٹرنشنل سٹوڈنٹس کا ایک بڑا گروپ تھا جو حال ہی میں یہاں وارد ہوا تھا ان میں سے کئی ایسے بھی تھے جو چالیس کی حد کو پار کر گئے تھے لیکن ویزا حاصل کرنے کی غرض سے پھر سے طالب علم بن گئے تھے-
میں نے پچھلی سیٹوں پر سر جھکائے ہوئے کم کے قریب جا کر پوچھا
” ہے کم اگر تمہیں میری بات سمجھ نہ آئے تو بار بار پوچھو ”
کم نے کوئی جواب نہ دیا بس سر ہلا دیا —— کم چائنا سے تھا اور اس کا ساتھ والی سیٹ پر بیٹھا ویتنامی لیو بھی ان ہی میں سے ایک تھے جنہوں نے چپ رہنے کی قسم کھائی ہوئی تھی ،

———- مجھے ان کی خاموشی کھل رہی تھی —- بظاہر ان ملکوں اور یہاں کے کلچر میں زیادہ فرق نہیں رہ گیا تھا وہ سب ہی ٹیکنالوجی میں مہارت رکھتے تھے لیکن پھر بھی کچھ ایسا تھا جس کو کلچرل شاک کہا جا سکتا تھا اور اکثر اس شاک کے زیر اثر گم سم سے معلوم ہو رہے تھے
میری پیشہ وارانہ ذمہ داریوں میں صرف پڑھانا ہی نہیں بلکہ انہیں یہاں کے طور طریقوں سے آگاہی بھی شامل تھی — ابھی نام لینے پر ہی جز بز ہو رہے تھے
” اچھا ، اچھا– ٹھیک ہے — جو دل چاہے کہو” میں نے ان کے ناموں کی لسٹ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
دفعتاً — ایک آواز آئی ” اب آپ کو سویٹی یا ہنی تو کہا نہیں جا سکتا ”
ہیں — میں نے چونک کر سر اٹھایا اور جہاں سے آواز آئی تھی اسے تلاش کرنے کی ناکام سی کوشش کی –
ہا ہا ہا —– ایک زور دارقہقہ کلاس میں گونج اٹھا ، سب کے سب ہنسنے لگے —- لیکن میں نے ایسے ظاہر کیا جیسے کچھ ہوا ہی نہیں — مجھے تحمل سے کام لینا تھا — کاش — اپنا وطن ہوتا تو وہ بے نقط سناتی کہ کہنے والا یاد ہی کرتا رہ جاتا — میں نے زیر لب خود کلامی کی — ابھی میری نظریں ادھر ادھر ڈھونڈ ہی رہی تھیں کہ بائیس تیئس برس کا نوجوان اپنی سیٹ سے کھڑا ہوا ، شرارت اس کے چہرے پر دمک رہی تھی ، دبی دبی مسکراہٹیں پورے ہال میں بکھر گئی تھیں
“کیا میں آپ کو مادام کہہ سکتا ہوں .. مجھے اچھا نہیں لگتا کہ آپ کو نام سے بلاؤں—- آپ میری دوست تھوڑی ہیں ” میں آواز پہچان گئی تھی لیکن نظر انداز کرتے ہوئے سر کے اشارے سے ہاں کرتے ہوئے اپنے کاغذات اور لیپ ٹاپ کی سیٹنگ ٹھیک کرنے لگی یہ آگسٹین اور باقی طالب علموں سے میرا پہلا تعارف تھا
——–
سمسٹر کے شروع میں تو آگسٹین بہت چہکتا رہتا اس کی کارکردگی بھی قابل ذکر تھی لیکن رفتہ رفتہ وہ کلاس سے غائب رہنے لگا کبھی دیر سے کلاس میں آتا اور خاموشی سے اٹھ کر چل دیتا ساتھی لڑکیوں سے چھیڑ چھاڑ میں بھی کمی آ گئی تھی —- صرف وہی نہیں اکثر کا یہی حال تھا کچھ امیر چائنیز سٹوڈنٹس کو چھوڑ کر بیشتر کو تو بیس گھنٹے کام بھی کرنا ہوتا تھا تاکہ اپنے ضروری اخراجات کی ادائی کر سکیں ، کئی تو انڈر ٹیبل— کل وقتی کام کر رہے تھے ، رات بھر پیٹرول پمپوں پر کام کے بعد کلاس میں اونگھتے رہتے اور ادھر ادھر سے نقل کر کے کام چلاتے لیکن نتیجہ میں فیل ہی ہونا تھا کیونکہ یہاں نقل ایک نا قابل معافی جرم تھا یہ بات بھی ان کے لئے کسی شاک سے کم نے تھی ، پہلے بحث کرتے ، دلیلیں دیتے پھر خوشامد پر اتر آتے — لیکن میں بھی کیا کرتی مجھے اپنی نوکری بھی تو پیاری تھی
قصہ مختصر یہ کہ کلاسیں زوروشور سے جاری تھیں ،دھواں دار لیکچرز اور اسائنمنٹس کی بھرمار میں کسی کو کسی کا ہوش نہ تھا ، اسی بھاگ دوڑ میں آدھا سمسٹر گزر چکا تھا—ایک دن اٹینڈ نس چیک کرتے ہوئے غور کیا تو پتا چلا — آگسٹین نے کئی اہم ٹیسٹ مس کر دیئے ہیں میں نے جا کر سٹوڈنٹ ایڈوائزر سے اس کا احوال پوچھا
” اگر اس کی اٹینڈینس کا یہی حال رہا تو اسے فائنل اگزیم میں نہیں شامل کیا جا سکتا” میں نے حتمی فیصلہ سنا دیا
راکیش درمیانی عمر کا نارتھ ہندستانی مینجر یوں تو کافی لئے دیئے رہتا تھا تھا لیکن آگسٹین کی معاملے میں کافی نرمی کا مظاہرہ کر رہا تھا
” صباحت اسے ایک چانس اور دے دیں — میں نے کل اس سے بات کی تھی— لگتا ہے بہت سخت پریشان ہے لیکن کچھ بتاتا بھی تو نہیں کیا حالات ہیں اس کے ، سال گزرنے کو ہے پھر بھی ابھی تک سیٹل نہیں ہو سکا—– اس کے دوستوں سے پوچھا تو سب نے لاعلمی ظاہر کر دی، ان کا کہنا ہے وہ کسی سے بات نہ کرنا چاہتا، دوست خود بھی اس سے دور دور رہنے لگے ہیں ” راکیش بات کرتے ہوئے ناک سکیڑ کر دوبارہ گویا ہوا ” اتنا گندہ جو رہتا ہے — کل میں نے اسے یہاں بلایا تھا — آپ یقین جانیں کپڑوں سے بو آ رہی تھی، میں تو ناک بند کئے بیٹھا رہا اس کے جانے کے بعد کتنی دیر کلیاں کرتا رہا ”
راکیش کی باتوں نے مجھے آگسٹین کے بارے میں فکر مند کر دیا تھا
“آپ ایسے طالب علموں کے لئے کاؤنسلنگ کیوں نہیں تجویز کرتے” میں نے راکیش کے مغرور انداز پر ذرا غصے سے کہا
آپ کو معلوم ہے کہ ابھی پچھلے سال ہی طالبعلم اتول کے ساتھ کیا ہوا تھا اور کالج والوں نے اسے کتنا اگنور کیا تھا ”
یہ سننا تھا کہ راکیش کے ماتھے پر بل آگئے بظاہر نارمل انداز میں بات کر رہا تھا لیکن اس کی تیز آواز ظاہر کر رہی تھی کہ اسے بہت برا لگ رہا ہے ” ہم نے سب کچھ یہاں کے قاعدے اور قوانین کے مطابق کیا تھا، مس صباحت آپ اتنی جذباتی کیوں ہو جاتی ہیں ”
” کیونکہ میں صرف خانہ پوری نہیں— حقیقت میں ان کی مدد کرنا چاہتی ہوں “میں نے جل کر ترکی با ترکی جواب دیا
” تو ہم بھی تو وہی کر رہے ہیں جتنی ہماری زمہ داری ہے ، ہم کوئی ان کے رشتہ دار تھوڑی ہیں جو ہر وقت ان کی خیر خبر رکھیں ” راکیش اب کی بار تھوڑا نرم لہجے میں بولا ، مجھے محسوس ہوا جیسے اندر سے میری بات ٹھیک ہی لگی ہو –
یہ کوئی پہلی بار نہ تھی ، ڈیپرشن ان طالب علموں کی عام بیماری تھی لیکن اتول کے خود کشی والے واقعہ نے تو جیسے سب کو ہلا کر رکھ دیا تھا ، مجھے ہر وقت ایسا محسوس ہوتا جیسے میری غفلت نے اسے ایسا کرنے پر مجبور کیا تھا حالانکہ اس میں میرا کیا قصور تھا کہ وہ اپنے غریب ماں باپ کے اکلوتے خواب کی تعبیر تھا ، باپ نے اپنا آبائی مکان گروی رکھ کر اسے پڑھنے کے لئے انٹرنشنل یونیورسٹی بھیجا تھا لیکن انہوں نے ایسا کیوں سمجھا کہ یہاں بھیجتے ہی ان کے سارے دلدر دور ہونے والے ہیں اتول کو یہاں کا نم آلود موسم راس نہ آیا— اسے ہر وقت گھر کی یاد آتی رہتی —— نہ اسے کھانا پکانا آتا تھا اب ہر جگہ تو وجیٹرین کھانا نہیں ملتا تھا ، پٹرول پمپ اور گروسری اسٹورز پر کام کرنے کے لئے بھی سفارش چاہئے تھی اور وہ کسی کو جانتا تک نہ تھا اورنہ ہی جاننا چاہتا تھا ، شراب پیتا نہ سگریٹ پھر سگریٹ بڈی یا ڈرنک بڈی کیسے بناتا اسی دوران وہ سخت الرجی کا شکار ہو گیااس کا میڈیکل انشورنس بھی ایکسپائر ہو رہا تھا گھر سے پیسے مانگنا اسے گوارا نہ تھا جانتا تھا باپ کو قرضہ لے کر ہی بھیجنا ہو گا، یہ سب باتیں اس نے مجھے بتائی تھیں ، مجھے یاد ہے — جب وہ میرے پاس آیا تھا اس کی آنکھوں میں امید کے دیئے مدھم ہو چلے تھے —- وہ کہہ رہا تھا — ” میں بہت مشکلات میں گھر گیا ہوں ” —- لیکن میں سوچ رہی تھی ” گھر کی مرمت کے لئے بینک نے قرضہ دینے سے انکار کر دیا ہے — سردیاں سر پر ہیں اس مرتبہ انسولیشن کروانا بہت ہی ضروری ہے ورنہ چھوٹی بیٹی سمر کو پھر سے سانس ہو جائے گا ” وہ اپنا قصہ سنا رہا تھا اور میں اپنی فکروں میں گرفتاراس کی مدد کیا کرتی اسے سٹوڈنٹ کاؤنسلر کے پاس جانے کا مشورہ دے کر خاموش ہو گئی تھی –
اتول بیماری میں بھی باقائدگی سے کلاسیں اٹینڈ کرتا رہا تھا لیکن جب کلاس سے غائب ہو گیا تو کالج والوں کو فکر ہوئی کمرے کا دروازہ اندر سے تو بند نہیں کیا جا سکتا تھا —– میں ، راکیش اور اتول کی اکلوتی دوست ساہنی یہ دیکھ کر سکتے میں آ گئے— اتول نے اپنی کلائیاں کاٹ لیں تھیں ، اس کے چاروں طرف خون کا ننھا سا تالاب بنا تھا اور وہ اس میں لتھڑا بے سدھ پڑا تھا — ایمبولنس بلوائی گئی لیکن وہ ہسپتال جانے سے پہلے ہی اپنی جان گنوا چکا تھا ، ساہنی بتا رہی تھی گھر والے اصرار کر رہے تھے کہ کچھ پیسے بھیجنا شروع کرے تاکہ مکان کے قرض کی قسطیں اد ا کی جا سکیں — لیکن وہ اتنا دباؤ برداشت نہ کر سکا ، میں تو فرض کئے بیٹھی تھی کہ جوان ہے جب اتنی دور آیا ہے تو اسے ان مسائل سے نمٹنا بھی آنا چاہیئے لیکن وہ تو خاموشی سے مر گیا تھا ،ایسے کیسے اتنی خاموشی سے مر گیا—– نہیں— یہ صرف میرا خیال تھا— اس نے تو پوری کوشش کی کہ اس کی پریشان آواز کوئی سن لے لیکن اس کے اس پاس ہر کوئی اپنی دنیاالگ بساۓ، کانوں میں ڈاٹ پھنسائے ہیپی کے سانگ پر سر دھننے میں مصروف تھا اور وہ کم زور آواز ہیپی تو نہ تھی جو کوئی دھیان دیتا بس زندگی سے ہار گئی تھی –
یہ آگسٹین کی کہانی میں اتول کہاں سے آ گیا میں نے سر جھٹکا —، دونوں انٹرنشنل سٹوڈنٹس اور ان کے ایک جیسے مسائل اندر سے جواب آیا —- تو اسے تو آنا ہی تھا لیکن میں نے سوچ لیا تھا اس بار اتول کو مرنے نہیں دوں گی ، میں نے راکیش سے اس کا پتا لیا اور اس کے فلیٹ کی طرف چل دی ابھی کالج سے تھوڑی دور ہی گئی ہوں گی وہ ایک پب کے باہر بچھی ہوئی کرسیوں میں سے ایک پر بیٹھا ہوا نظر آ گیا اس نے مجھے دیکھ لیا تھا اس سے پہلے میں اس کے قریب جاتی وہ اپنی جگہ سے اٹھا اور تیزی سے ساتھ کی گلی میں داخل ہو گیا میں اس کے پیچھے پیچھے گئی لیکن اسے تو جیسے زمین نگل گئی تھی ، میں سوچ رہی تھی آخر اسے چھپنے کی کیا ضرورت تھی میں صرف بات ہی تو کرنا چاہ رہی تھی —- کوئی بات نہیں کل دیکھوں گی —- میں نے خود کو تسلی دی اور بس اسٹاپ کی طرف ہو لی –
اگلے دن کلاس ختم ہونے کے بعد را کیش کے بتائے ہوئے پتے پر ڈھونڈتی ڈھانڈتی اس کے فلیٹ پر پہنچی جو کالج سے کچھ ہی فاصلے پر تھا لیکن میری راستے بھولنے کی کی کمزوری نے اسے بڑھا کردگنا کر دیا تھا ، کئی بار بیل بجانے اور دستک دینے کے بعد مایوس ہو کر واپس پلٹ رہی تھی کہ دروازہ کھلا اور آنکھیں ملتا کوئی نوجوان کھڑا نظر آیا جو یقینن آگسٹین کا فلیٹ میٹ تھا
” اوہ معاف کرنا — میں نے شائد آپ کی نیند خراب کر دی ” میں نے شرمندہ سے لہجے میں کہا
کوئی بات نہیں اب تو کر ہی دی ہے — جی آپ کی تعریف ؟” نوجوان زبردستی کی مسکراہٹ چہرے پر لاتے ہوئے بولا
” وہ — دراصل مجھے آگسٹین کے بارے میں معلوم کرنا تھا ” — میں نے مدعا ظاہر کیا
” اوہ — وہ تو کئی روز ہوئے فلیٹ چھوڑ کر جا چکا ہے ”
” کہاں گیا ہے کچھ تو پتہ وغیرہ تو دیا ہو گا ” میں نے مایوسی کے عالم میں پوچھا
” نہیں — وہ زیادہ بات نہیں کرتا تھا بس اتنا بتایا تھا کہ کوئی سستے کرائے کا فلیٹ مل گیا ہے “یہ کہہ کر اس نے دروازہ بند کر دیا
اور میں وہیں کھڑی سوچ رہی تھی — ایک تو اس ملک کی اپنے کام سے کام رکھنے والی راویت کبھی کبھی کتنی بھاری پڑ جاتی ہے —- اب کہاں ڈھونڈوں اسے — ایک بار خیال آیا — چھوڑو مجھے کیا ایسے ہی ہزاروں طالب علم ہر سال غریب الوطنی کا دکھ سہتے ہیں آخر میں کس کس کا غم پالوں—– ابھی کل ہی تو وہ کورین لڑکی یونا بتا رہی تھی –
میری آنکھوں کے سامنے کل کا منظر گھوم گیا
” صباحت — میں تو یہ ڈپلومہ مکمل کرنے سے پہلے ہی یہاں سے چلی جاؤں گی ”
” کیوں — یونا تم تو بہت اچھی سٹوڈنٹ ہو ، ایسی بات کیوں سوچ رہی ہو ” میں نے حیرت سے استفسار کیا
” تمہیں نہیں معلوم ، میرے ساتھ کیا ہوا ” وہ اداس نظروں سے میری طرف دیکھتے ہوئے بولی
” شام کو کلاس سے گھر جاتے ہوئے کسی نے مجھ پر شیشے کی بوتل کھینچ ماری” — یہ کہہ کر وہ ایک لمحے کو سانس لینے کو رکی — خوف اس کے لہچے سے جھلک رہا تھا —
“اوہ ” — میں چونک گئی تھی
وہ دوبارہ گویا ہوئی ” اگر پیچھے ولیم نہ ہوتا تو میرا چہرہ تو زخمی ہو ہی گیا ہوتا — وہ تو اس نے مجھے ایکدم کھینچ کر ایک سائیڈ پر کر دیا اور یوں مجھے نقصان نہ پہنچ سکا— لیکن وہ بدتمیز لڑکے زور زور سے چلاتے ہوئے گزرے ” گو بیک تو یور کنٹری یو ایشین فیس ”
اس کی آنکھوں میں آنسو تھے ” صباحت کیا ہم ایشین اتنے برے ہوتے ہیں؟ ”
” ارے نہیں — میں نے ٹشو پیپر کا ڈبہ اس کے آگے بڑھاتے ہوئے پیار سے اسے کے شانے تھپتھپائے
“تم تو اتنی خوب صورت ہو کہ آرام سے کسی بھی مووی میں ہیروئین آ سکتی ہو ”
” چھوڑیں صباحت ” اس نے بے یقینی سے گردن ہلائی “آپ کی تسلی سے میرا دکھ کم نہیں ہونے والا ”
وہ رو رہی تھی———————
اور—- میں انہی سوچوں میں غلطاں بس اسٹاپ پر پہنچ گئی تھی ، میری سوچ کا تسلسل جاری تھا—- آخر کس کس کا دکھ بانٹوں —- یونا تو واپس جا کر بھی کامیاب ہی رہے گی لیکن—- سرجیت کور کا کیا بنا ہو گا—- اسے تو یہاں آئے ہوئے چار ہفتےہی ہوئے تھے اور اس کی ساتھی لڑکیوں نے وہ تماشے دکھائے کہ اس کا راویت پسند دماغ برداشت ہی نہ کر پایا ، اسے اتنا شدید شاک پہنچا کہ واپس پنجاب بھیجنا پڑا —– کاش—- وہ بھی کچھ کھلے ذہن سے سوچتی ” چلو کوئی بات نہیں لڑکیاں ہیں— موج مستی کرنے لڑکوں کے ساتھ راتوں کو گھومنے نکل پڑی ہوں گی —- کیا ہے جو انہوں نے پٹیالہ شلواروں کی جگہ چھوٹے چھوٹے نکر پہننے شروع کر دیئے تھے — لیکن نہیں —- اس نے تو سختی سے سوچنا تھا کہ بس جیسی وہ ہے ایسی ہی سب لڑکیاں ہوں —- خیر— اب کیا کروں—- میں نے پریشان ہو کر اپنا سر دونوں ہاتھوں سے تھام لیا جو تیزی سے گھوم رہا تھا — میں نے خود کو تسلی دی — ایسے جانے کتنے اسٹوڈنٹس دیار غیر آتے ہیں اور کیا کیا مشکلات سہتے ہیں —- ایک آگسٹین بھی سہی — میری سوچ کی سوئی سرجیت کور سے ہوتی ہوئی ایک بار پھر آگسٹین پر آ کر اٹک گئی تھی ، اسی ادھیڑبن میں پتا ہی نہیں چلا کب بس میں بیٹھی اور سفر بھی تمام ہوا — میں گھر پہنچ گئی تھی
————-
“میڈم صباحت آپ آگسٹین کو ڈھونڈ رہی تھیں “کالج کے استقبالیہ لاونج میں داخل ہوتے ہوئے پیچھے سے کسی کی آواز نے مجھے ٹھٹکا دیا— یہ وہی فلیٹ میٹ تھا ، اس بار اس کا رویہ دوستانہ تھا جیسے اپنے پچھلے طرز عمل پر نادم ہو— میں نے اس کے بدلے انداز پر توجہ دیئے بغیر تیزی سے پوچھا
“اچھا تو کہاں ہے وہ ”
” جی — مجھے اس کے بارے میں کسی سے پتا چلا ہے– آپ ابھی میرے ساتھ چلئے — اس سے پہلے کہ وہ وہاں سے بھی کہیں غائب ہو جائے ”
میں نے اور کوئی سوال کرنا مناسب نہ سمجھا جلدی سے اپنی ڈائری اور لیپ ٹاپ لاکر میں رکھا اور اس کے ساتھ ہو لی———
ہم کئی پتلی گلیوں سے گزر کر دوبارہ بڑی شاہراہ کے آخری سرے پر پہنچ چکے تھے میں سوچ رہی تھی — یہاں تو سٹوڈنٹس کے فلیٹ نہیں ہیں ہو سکتا ہے کسی بنگلہ میں کمرہ شیئر کر رہا ہو گا —- ڈیوڈ یعنی روم میٹ جو چائنیز دکھائی دیتا تھا اس دوران ایک لفظ بھی نہیں بولا— بس خاموشی سے میرے ساتھ چلتا رہا میں نے دل میں سوچا ضرور اس کی انگریزی کم زور ہے اسی لئے چپ ہے— خیر مجھے کیا —- میں سوچوں کی عجیب پگڈنڈیوں سے نکل کر حقیقت کی سڑک پر آ چکی تھی جو ختم ہی ہونے والی تھی اور ذرا آگے وسیع موٹر وے شروع ہونے کو تھا ، مجھ سے رہا نہ گیا ” یہاں کہاں ہو گا وہ — یہاں تو کوئی مکانات بھی نہیں ”
” وہ دیکھئے” —- اس نے انگلی سے فٹ پاتھ کے کونے پر ایک گتے کے بڑے بورڈ کی طرف اشارہ کیا جس کے ساتھ بوسیدہ سا گدا بچھائے کوئی لیٹا ہوا تھا اس نے کروٹ بدلی — —— مجھے ایک زور دار جھٹکا لگا ——– بڑھی ہوئی داڑھی ، زرد رنگت اور لاغر ہڈیوں کا پنجر— یہ آگسٹین ہی تھا میں اپنی جگہ پر جیسے منجمد ہو کر رہ گئی تھی — الفاظ ساتھ نہ دے رہے تھے اپنی ہمت مجتمع کر کے کچھ بولنے کو تھی– اسی دوران سٹی کاؤنسل کاڈیوٹی پر موجود وارڈن وہاں آ چکا تھا اس نے ہمیں نظر انداز کرتے ہوئے پرچے پر کچھ لکھا اور آگسٹین کی طرف بڑھا دیا
آگسٹین اپنا سر گھٹنوں میں چھپائے بیٹھا تھا ، ڈیوڈ نے پرچہ اس کے ہاتھ سے لے کر میری طرف دیکھا اور بولا” غلط فٹ پاتھ پر سونے کے جرم میں آگسٹین پر چار سو ڈالر کا فائن لگایا گیا ہے”
اور —-

میرے سینے میں چھپے لاتعداد سوالات دم توڑ گئے تھے

Advertisment

Be the first to comment

Share your Thoughts: