شیزو فرینیا ۔۔۔ ثروت زہرا

شیزو فرینیا

(ثروت زہرا)

میں کوہ قاف ازل پہ بیٹھی

شعور سیڑھی کو کھینچتی ہوں

مرے زمانے کھسک رہے ہیں

حروف، رستہ بھٹک رہے ہیں

تمام ہند سے کھٹک رہے ہیں

یہ خواب دامن جھٹک رہے ہیں

یہ لو ! صحیفوں کے خاک داں سے

یقین چھلکا

لرزتے ہاتھوں سے خواب بکھرا

عروج سے اس زوال تک میں

سماعتوں کی جھلستی خو سے

دہک رہی ہوں

شعور کی بے شعور دنیا

بھگت رہی ہوں

Advertisment

Be the first to comment

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.