غزل ۔۔۔ شہناز پروین سحر

Shehnaz Parveen Sahar is one of the prominent, famous and senior poets. Pathos is  part of her poetry and is highly effective feature of her poems. This quality of amply speaks about her experiences in life and stirs up emotions of sympathy and sorrow.

 

غزل

(شہناز پروین سحر )

معبود تجھ سے ایک جبیں چاہئے مجھے

پھر اس کے بعد کچھ بھی نہیں چاہئے مجھے

تیرے جہاں پہ اپنا جہاں کیوں میں وار دوں

کوئی بہشت ہے تو یہیں چاہئے مجھے

پرواز کیا کروں کسی بنجر فلک پہ میں

اڑنے کے واسطے بھی زمیں چاہئے مجھے

دھوکا ملے تو پوری توانائی سے ملے

چھوٹی شکست بھی تو نہیں چاہئے مجھے

ہر روز ٹوٹتے ہیں بھروسے کے آیئنے

خنجر بکف یقین نہیں چاہئے مجھے

میں کیا کروں کہ میری ضرورت ہے نفرتیں

اب تو  سحر  خلوص نہیں چاہئے مجھے

Advertisment

Be the first to comment

Share your Thoughts: