خود کشی اور معاشرہ ۔۔۔ ابصار فاطمہ
خود کشی اور معاشرہ ابصار فاطمہ معاشرے کو سمجھنا بھی سائنس ہے معاشرتی سائنس۔ جس
خود کشی اور معاشرہ ابصار فاطمہ معاشرے کو سمجھنا بھی سائنس ہے معاشرتی سائنس۔ جس
امید شیخ ایاز (ترجمہ آفاق صدیقی) زندگی کے جال میں کتنی ہی خوشیاں اچانک آ
لوکل ٹرین میں احمد ہمیش سنو ! اس جغرافیہ میں میری روح کی آب و
بے ذائقہ بوسوں کے داغ صفیہ حیات میں نے ساونڈ پروف دروازہ بنوا لیا ہے
میری ایک نظم جو آخری نہیں عاصم جی حسین میں اپنے جیسا تھا بالکل خود
وصال مکرر ثمین بلوچ روح کے ناتواں پیروں میں پیوست الم کے کڑے وجود کی
ادراک نائلہ راٹھور اب مجھے خود پر رحم نہیں آتا خود ترسی کی کیفیت نے
انقلاب (چھاونی ہلتی ہے) ارجن ڈانگلے ہم اس وقت بھی ان کے دوست تھے جب
چڑیا عرفان احمد عرفی گلی پہلے ہی بہت تنگ تھی اُس پر جب سے لوگوں
رسیدی ٹکٹ امرتا پریتم / ثمین بلوچ 27مئی 1966ء اج بلغارین لکھاریاں دے اک اکٹھ