غالب کے دو شعر (تفہیم غالب) ۔۔۔ راشد جاوید احمد

tafheem e ghalib 1

غالب کے دو شعر

(تفہیم غالب)

 

:(جرات ِ تفہیم)

(راشد جاوید احمد)

 

 

حالانکہ ہے یہ سیلی ء خارا سے لالہ رنگہے

غافل کو میرے شیشے پہ مے کا گمان ہے

 

سیلی کا مطلب ہے تھپڑ، خارا ایک سخت پتھر ہے۔ سیلیء خارا سے مراد ضرب ِ صدمات اور مصائب ِ دنیا ہے۔ شیشہ کنایہ ہے دل کا۔  یہاں سیلیء خارا کے لفظی معنی مراد لینا درست نہیں کیونکہ پتھر کی چوٹ سے شیشہ چکنا چور ہو جاتا ہے، سرخ ( لالہ رنگ) نہیں ہوا کرتا۔ لیکن مسلسل ضربوں سے جگہ داغدار ہو جاتی ہے۔ غالب دور کی کوڑی لاتے ہیں، اس بظاہر مشکل شعر میں وہ انتہائی آسان لفظوں میں کہہ رہے ہیں کہ میرا دل صدمے اٹھاتے اٹھاتے خون ہو گیا ہے لیکن جو شخص میرے حال سے واقف نہیں ہے وہ یہ سمجھتا ہے کہ میرے شیشے  (دل) میں سرخ رنگ کی شراب بھری ہوئی ہے۔

 

ہستی کا اعتبار بھی غم نے مٹا دیا

کس سے کہوں کہ داغ، جگر کا نشان ہے

 

غالب نے یہ بہت ہی بلند پایہ شعر کہا ہے۔ مطلب یہ کہ جگر کو، جس پر، ہستی کا دارو مدار تھا، غم نے مٹا دیا اور اس کی بجائے داغ رہ گیا۔ غالب کا کہنا ہے کہ اب میں کیسے سمجھاوں کہ یہ داغ ہی جگر کا نشان ہے۔ دراصل وہ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ جو شخص عاشق نہیں ہے، وہ جگر رکھنے کے باوجود جگر نہیں رکھتا ۔ رکھتا ہوتا تو عشق ضرور کرتا اور عشق کرتا تو جگر کی بجائے داغ موجود ہوتا۔ دوسرے لفظوں میں غالب کہتے ہیں کہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جگر درست کام کرتا رہے تو زندگی ہے، میں سمجھتا ہوں کہ یہ بات غلط ہے۔ داغ ہو ( جگرنہ ہو) تو زندگی ہے۔ اسی داغ سے جگر کا ثبوت ملتا ہے

 

Advertisment

Be the first to comment

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.