سرخ بھیڑیں ۔۔۔ پیٹر ہانڈیکے

سرخ بھڑیں

( پیٹر ہانڈکے)


ایک عورت اچانک بولنا شروع کردیتی ہے۔

بچو! وہ سورہا ہے! وہ وہاں دروازے کے پیچھے بے خبر سورہا ہے۔ شاید تھوڑی دیر پہلے وہ کوئی خواب دیکھ رہا تھا کیونکہ ابھی جب میں اس کے کمرے میں گئی تو اس کی چادر فرش پر پڑی تھی۔ وہاں اس قدر اندھیرا تھا کہ پہلے میں سمجھی شاید وہ خود نیچے گرا پڑا ہے اور میں اسے اٹھانے ہی والی تھی، لیکن پھر میں نے خالی میٹرس کے اوپر اس کے حرکت کرنے کی آواز سنی۔ میں نے اس سے پوچھا بھی کہ اسے کسی چیز کی ضرورت تو نہیں مگر وہ ایک لفظ نہ بولا۔ اگرچہ اس کی آنکھیں بند تھیں مگر چہرے سے غضبناک نظر آتا تھا۔ لیکن پھر اس کی غضبناکی، تھکاوٹ کے تاثرات میں بدل گئی۔ بچو، وہ بیمار ہے اس لیے جب میں اناج گھر میں جاؤں تو تم اس کے کمرے میں مت چلے جانا۔ تمہیں یہیں ٹھرنا ہوگا۔ میں تمہارے لیے روشنی جلا دوں گی۔ لیکن جانے سے پہلے تمہیں بتانا چاہوں گی کہ وہ کیا سماں تھا جب اس کا باپ پہلی مرتبہ ہمیں ملنے آیا۔ میں خود اس وقت چھوٹی سی بچی تھی۔ اس وقت جنگ چھڑی ہوئی تھی، جنگِ عظیم جاری تھی اور ایسے میں اندر پڑے ہوئے آدمی کا باپ ہمارے گھر آیا اور پھر یہیں کا ہو رہا۔ وہ واپس نہیں جانا چاہتا تھا۔ حالانکہ جب وہ اچانک ہمارے گھر میں گھس کر بولا تھا “سرخ بھڑوں کا غول میرا پیچھا کررہا ہے۔” تو ہم میں سے کوئی بھی اس شخص کو نہیں جانتا تھا کیونکہ وہ آس پاس کے کسی علاقے کا رہنے والا نہیں تھا۔ ہمیں تو کافی دیر بعد معلوم ہوا کہ چند سپاہی جو اسے گولی سے اڑا دینا چاہتے تھے، اس کے پیچھے لگے ہوئے تھے۔ لیکن اس کا چہرہ دیکھ کر کوئی کہہ نہیں سکتا تھا کہ وہ اس قدر دہشت زوہ ہے کیونکہ ذرا دیر میں وہ ہمارے ساتھ بے تکلف ہوگیا اور اپنی اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ ہمارے پالتو بچھڑوں میں سے چند ایک خریدنا چاہتا ہے۔ جب تمہارے نانا جان نے اسے قیمت بتائی تو وہ کتنے عجیب طریقے سے ہنسا تھا۔ نانا جان اگر چاہتے تو بڑی آسانی سے اس سے دوگنی قیمت بتاسکتے تھے، جسے سن کر وہ ہنس پڑا تھا۔ کیونکہ ان دنوں حالات بہت کٹھن تھے اور قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی تھیں۔ لیکن اصل میں وہ خود اس روز کچھ خریدنے کے موڈ میں نہیں تھا۔ وہ تو بس حالات کا جائزہ لینا چاہتا تھا۔ تب نانا جان نے ہونٹ چباتے ہوئے میرے اوپر ایک قہر آلود نظر ڈالی، جیسا کہ ان کی عادت تھی، اور حکم دیا کہ جاؤ فوراً چند ٹھنڈے ٹکڑے اور کولر میں سے کچھ ڈبل روٹی لے آؤ تاکہ معزز مہمان کچھ کھا سکیں۔ معزز مہمان۔ واقعی ۔ بعد میں یہ شخص دو مرتبہ پھر آیا اور وہ سب کچھ کھایا جو نانا جان کے حکم پر ہم نے اس کی خاطر تواضع کے لیے اس کے سامنے لاکر رکھا۔ یہاں تک کہ وادی کے کسی شخص کو ان جانوروں کی لگائی گئی قیمت کا علم ہوا تو اس نے انہیں خریدنے کی پیش کش کردی۔ لیکن بچو، اب مجھے چلنا چاہیے۔ جب ابو ڈاکٹر کو لے کر آجائیں تو انہیں بتا دینا کہ میں کہاں پر ہوں۔ انہیں فوری طور پر جاکر اس کی خبر گیری کرنی چاہیے۔

میں جاگ گیا۔ جاگ تو میں اس سے پہلے ہی گیا تھا جب تم اندر آئیں اور ہلکی سی ایک چیخ تمہارے منہ سے نکلی تھی۔ لیکن میں اپنی نیند سے نہیں جاگا اور نہ کسی اور قسم کی بے خبری کے عالم سے بیدار ہوا بلکہ میں تو “باخبری” سے بیدار ہوا تھا۔ ہاں یہ میری با خبری تھی۔ جس سے میں جاگا تھا۔ باخبری جو وہاں بستر پر اپنے آپ کو اذیتیں دے رہی تھی جبکہ اس کے اندر جسم موجود تھا۔ لیکن جب تم نے اسے چادر سے ڈھانک دیا اور جب تم نے میرے اوپر جھک کر میرا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھام لیا تو میرا جسم باہر گر پڑا۔ میری آنکھیں بند تھیں لیکن میں نے اپنے جسم کو اپنی باخبری سے باہر گرتا ہوا محسوس کیا۔ اس زرد پانی میں گرتا ہوا، اس تاریک برف میں گرتا ہوا۔ میں اپنی باخبری سے جاگ گیا۔ اب میں ہر اس واقعہ کو سن سکتا تھا، جو میرے اردگرد ہورہا تھا اور ہر اس واقعہ کو بھی، جو نہیں ہورہا تھا۔ تمہارا نام ہے۔۔۔۔۔ تمہارا نام تھا ۔۔۔۔۔ میں تمہارا نام بھول گیا ہوں۔ لیکن میں پہاڑی پر واقع اپنے والد کے لاج سے تمہیں ملنے کے لیے آتا رہا جب کہ تمہارا شوہر وادی میں کام پر گیا ہوتا اور بچے اسکول میں پڑھنے کے لیے۔ اب میں گھر میں بستر پر پڑا ہوا ہوں، حملوں سے اپائج بنا ہوا ۔ مجھے اپنے زخموں کا زیادہ خیال رکھنا چاہیے تھا، مثلاً وہ زخم جو لکڑیاں کاٹتے ہوئے میرے جسم پر لگے۔ جنگ جاری تھی اس لیے وہ بڑی جنگ سے بیدار نہ ہوسکا۔

اس وقت جنگ ختم ہوچکی تھی جب میرے والد مجھے لے کر یہاں منتقل ہوئے۔ ہم نے اس مقام پر لاج کی تعمیر مکمل کی جہاں پر وہ سوگیا تھا جب اسے کہیں اور سونے کی اجازت نہ ملی۔ ہمارے پاس ایک لالٹین تھی جو اس بری طرح ٹمٹاتی تھی گویا ہوا کے تیز جھکڑ چل رہے ہوں۔ وہ شاموں کو اس کی روشنی میں بیٹھا بل بنایا کرتا تھا۔ اکثر وہ یہ سب کچھ چھوڑ کر میرے اوپر جھپٹ پڑتا۔ اس کا سر اندر کو دھنسا ہوتا اور وہ مجھے اپنے ہاتھوں میں اٹھا کر اوپر چوبی چھت سے لگا دیتا اور میرے جسم کو دباتا۔ کیا میں تمہیں تکلیف دے رہا ہوں، وہ بڑبڑاتا۔ میں اس ایذا رسانی کو برداشت کرنے پر اپنے آپ کو بہت باہمت تصور کرتی تھی۔ لیکن یہ سب کچھ بالکل اس طرح سے نہ تھا۔ جس وقت میں اپنے اوپر سے گزرنے والے شہتیروں اور نیچے سے اس کے ہاتھوں کے درمیان میں دبی ہوئی ہوتی تھی تو سوچ رہی ہوتی تھی کہ ابھی ایک لمحہ پہلے کس طرح یہ شخص ٹائپ رائٹر کے سامنے بیٹھا تھا اور بالکل چھوٹا سا نظر آرہا تھا۔ اور کس طرح اس کے رخساروں پر سائے ناچ رہے تھے اور کس طرح میں میز کی دوسری جانب سے اسے دیکھ رہی تھی۔ چنانچہ میں کہتی کہ ہاں تم مجھے تکلیف پہنچا رہے ہو۔ اور پھر میں اسی طرح چیخنا شروع کردیتی جس طرح کہ تکلیف میں عموماً چلایا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ ہنسنے لگتا اور دوبارہ مجھے نیچے فرش پر چھوڑ دیتا۔

کیا تمہارا خیال ہے کہ وہ میرے دروازہ کھولنے کی آواز سن لے گا؟

نہیں وہ سورہا ہے۔ امی نے کہا تھا کہ وہ سورہا ہے۔ مجھے تالے کے سوراخ میں سے کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ اندر سخت اندھیرا ہے۔

لیکن وہ ہمارے کمرے میں کیوں موجود ہے؟

اس لیے کہ وہ بیمار ہے۔

لیکن وہ اپنے گھر میں کیوں نہیں ہے؟

اس نے علی الصبح اپنے آپ ہی فرش پر رینگنا شروع کردیا تھا۔ امی نے دیکھ لیا تھا۔ یوں لگتا تھا جیسے وہ اونچی آواز میں ہنسنا چاہتا ہے۔ لیکن وہ ہنس نہیں رہا تھا۔ اور وہ بول بھی نہیں سکتا تھا۔ میرا دل چاہتا ہے اسے دیکھوں کہ وہ کیسا لگتا ہے۔

بعد میں وہ لڑکی میرے باپ کے قبضے میں آگئی جسے وہ اذیتیں دیا کرتا تھا اور جسے وہ ایک شام وادی سے اپنے گھر جاتے ہوئے ساتھ لے آیا تھا۔ لیکن وہ تو کوئی لڑکی نہیں تھی جس نے اس تاریک کمرے میں تالے کے سوراخ میں سے جھانکا تھا جہاں پر میں پڑا ہوا ہوں، جہاں تم ابھی تھوڑی دیر پہلے داخل ہوئی تھیں، جہاں تم ہاتھوں میں لیمپ لے کر داخل ہوتی ہو جو تمہارے ہاتھوں میں تھرتھرارہا ہوتا ہے کیوں کہ مجھے دیکھتے ہی تمہارے اوپر ایک لرزہ سا طاری ہوجاتا ہے۔

تم لیمپ کو فرش پر رکھ دیتی ہو اور میری چادر اٹھاتی ہو۔ تم سوچ رہی ہوتی ہو۔ یہ بستر سے نیچے گر پڑا ہے۔ تم مجھے اٹھاتی ہو اور واپس بستر پر ڈال دیتی ہو۔ تمہارے پاس سے تیز بو آرہی ہے۔ ڈبل روٹی کی بو۔ تمہارے پاس سے ڈبل روٹی کی بو آرہی تھی جب تم اندر داخل ہوئیں اور میرا چہرہ اپنےہاتھوں میں تھاما۔ میں تمہارے ہاتھوں کے درمیان میں ڈبل روٹی کی بو محسوس کرسکتا تھا۔ میرے باپ کے پاس سے بھی انتہائی تیز بو آتی تھی، جب وہ لڑکی کو مارتا پیٹتا تھا۔ ٹھرو! میں یہاں پڑا ہوا ہوں، ایک اجنبی گھر میں ایک اجنبی بستر پر۔ میں اس لیے یہاں آیا کہ میں اپنی انگلی کٹوا بیٹھا تھا۔ میں ایک اندھیرے کمرے میں بستر پر لیٹا ہوا ڈاکٹر کا انتظار کررہا ہوں جسے تمہارا شوہر اپنے ساتھ لایا ہے۔ اب دروازہ کھل رہا ہے۔ یہ چرچرا نہیں رہا لیکن میں اسے کھلتا ہوا سن رہا ہوں۔ وہ اندر آرہے ہیں۔ ان کے چہرے اس روشنی میں سیاہ محسوس ہورہے ہیں جو دروازے میں پیچھے سے داخل ہورہی ہے۔ میں روشنی کو سن سکتا ہوں۔ اب روشنی کو شور کم ہوتا جارہا ہے۔ پہلے اس کی آواز کم ہوتی ہے اور پھر مکمل خاموشی چھا جاتی ہے۔ لیکن اس لڑکی کی چیخیں کبھی خاموش نہ ہوئیں جس نے چاقو سے اپنی رگیں کاٹ لی تھیں، وہاں جنگل میں ہمارے گھر کے اوپر۔ وہ واپس اپنی باخبری کے عالم میں جاگری تھی جب اس نے تکلیف محسوس کی اور اپنے جسم سے خون کے فوارے چھٹتے ہوئے محسوس کیے جو بلیک بیری کے تمام درختوں پر پھیل رہا تھا جس کے نیچے وہ بیٹھی ہوئی تھی۔ میں نے تصور کیا کہ جب میرے باپ نے اس پر تشدد کرنا بند کردیا، وہ اٹھی اور اسی طرح چلی گئی جس طرح تم نیند میں چلتی ہو۔

ڈبل روٹی کی خوشبو دینے والے ہاتھ

اس نے ڈبل روٹی کاٹنے کی چھری اٹھائی، جو اس کے ہاتھوں کے لیے بہت بڑی تھی اور اپنی رگ کاٹ کر چھری اندر تک گڑو دی۔ پھر غالباً کچھ دیر تک بلیک بیری کے درختوں کے نیچے بیٹھی اس منظر کا نظارہ کرتی رہی۔ یا پھر اس خیالی تصویر کی خاطر وہ ایک مختلف چھری بھی لے سکتی تھی۔ ایک چھوٹی چھری۔ لیکن وہاں یہ سب کچھ دیکھنے والا کوئی بھی موجود نہیں تھا۔ یقیناً اس نے اس خیالی تصویر کو کچھ دیر کے لیے روکے رکھا ہوگا۔ کیونکہ وہ بے حس و حرکت بیٹھی رہی، اس کی آنکھیں اپنے ہاتھ پر جمی تھیں۔ میرے باپ نے صبح آتے ہی کس بے رحمی سے بے چاری کو بستر میں سے گھسیٹ کر دیوار پر دے مارا تھا جس سے دیوار کے پاس رکھا ہوا لیمپ کرچی کرچی ہو گیا تھا۔ پھر میرے باپ نے کیسی غضب ناک آواز میں اس سے کہا تھا:

“ڈارلنگ ادھر آؤ’ کولر میں سے گوشت اور ڈبل روٹی لاؤ۔” نہیں، میرے باپ کی آواز غضب ناک نہیں تھی۔ اس نے یہی تو کہا تھا کہ ڈارلنگ ادھر آؤ۔ میرے لیے گرم پانی لاؤ۔ میں کپڑے اتار کر جسم دھونا چاہتا ہوں۔ چنانچہ وہ گئی اور باورچی خانے میں اس کے لیے پانی گرم کرنے کو رکھ دیا۔ یہ تم کیا دیکھ رہے ہو؟ اس نے مجھے سے کہا۔ بہتر ہوگا کہ تم جاکر کونے میں کھڑے ہوجاؤ اور صبح کے نغمے گاؤ۔ میں نے اپنے آپ کو کونے میں کھڑا کرلیا۔ لکڑی کی دیواریں اور مکڑی کے جالے میرے منہ سے نکلنے والی لعن طعن، کا نشانہ بن رہے تھے۔ اسی حالت میں میں نے صبح کا نغمہ گایا اور اس دوران میں میں نے اسے چابی ہاتھ میں لیے اندر داخل ہوتے اور چوکھٹ پر رکتے سنا۔ وہ بولی تمہارا تو خون بہہ رہا ہے۔ نہیں، اس نے کہا میرا خون نہیں بہہ رہا۔ بلکہ میں خونی ہوں۔ پھر اس نے کچھ نہ کہا۔ میں نے ایک مکڑی کو دیکھا۔ اس کی آٹھ ٹانگیں تھیں یہاں تک کہ میں نے اس کی دو ٹانگیں توڑ کر اس کے جسم سے علیحدہ کردیں۔ میں اپنا صبح کا نغمہ الاپتا رہا۔ مجھے دھوؤ، میرے باپ نے حکم دیا۔ میں نے مکڑی کی باقی ماندہ چھ ٹانگوں میں سے بھی ایک ٹانگ نکال پھینکی۔ پھر پانچوں ٹانگ اور پھر یکلخت چوتھی۔ تب میں نے سنا کہ اس نے میرے باپ کو گرم پانی اور جھانویں کی مدد سے نہلانا شروع کردیا تھا۔ وہ نیچے جھکی اور پھر سیدھی کھڑی ہوگئی۔ وہ اس کا تمام جسم دھورہی تھی اور میں مکڑی کی بچی کھچی ٹانگیں اس کے جسم سے الگ کررہا تھا۔ میں اب کہہ سکتا تھا۔ میں اب بھی لکڑی کے شہتیر کی دانے دار سطح کو یاد کرسکتا ہوں جو اس وقت میری نظروں کے سامنے تھی، یا کوئی بھی دوسری چیز جسے تم اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتے ہو۔ لیکن مجھے سوائے پانی کے گرنے کی آواز کے اور کچھ یاد نہیں جو وہ جھانویں کو دبا کر رگڑتے وقت بہاتی تھی۔ شاید اسی طرح اس نے اپنے ہاتھوں کو دبا رکھا ہوگا جب وہ بلیک بیری کے درختوں کے نیچے لیٹی ہوئی تھی۔ لیکن وہاں غالباً دبانے کے لیے کوئی بھی چیز کسی بھی صورت میں باقی بچی تھی۔ لیکن سب سے پہلے ہمیں چیخوں کی آوازیں سنائی دیں جب ہم نیچے سے گھر کی جانب آرہے تھے۔ میں اس وادی میں واقع اپنے سکول سے آرہا تھا جبکہ میرا باپ کسی بھی جگہ سے نہیں آرہا تھا۔ اور ہم راستے میں ایک دوسرے کو ملے تھے۔ یہ جنگل سے کس کےچیخنے کی آواز آرہی ہے، میں نے پوچھا۔ نیل کٹھ ہوگا، یا بھٹ تیتر یا پھر شیر، میرے باپ نے کہا۔ یہ چیخیں کس قدر پر اثر ہیں، میں نے تعریفی انداز میں کہا۔ ہاں، میرا باپ بولا، انہیں چیختے ہوئے غور سے سنو۔ جب تم بڑے ہوگے تو تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ایک شیر یا بھٹ تیتر کس طرح چیختے ہیں۔ اب میں بڑا ہوچکا ہوں مگر مجھے نہیں معلوم کہ شیر کس طرح سے چیختے ہیں۔ لیکن اس عرصے میں میں یہ ضرور جان چکا ہوں کہ بلیک بیری کے درختوں تلے پڑی ہوئی ایک نحیف و نزار لڑکی کی چیخیں کیسی ہوتی ہیں جو کہ چیخنےکی استطاعت بھی نہیں رکھتی۔ بعد میں جب ہم تالاب کے کنارے ان کی تلاش میں سرگرداں تھے کہ اچانک سرخ بھڑیں آگئیں ۔ یہ موسم خزاں کا وسط تھا یا پھر موسم سرما کا۔ میرا باپ رک گیا اور سرکنڈے ایک طرف ہٹا کر پانی کے اس پار دیکھنے لگا۔ بھڑیں آگئی ہیں، چلو واپس چلیں۔ وہ واپس مڑ گیا اور میں اس کے پیچھے چل دیا۔ اس کے جسم سے آنے والی انتہائی ناگوار بدبو مسلسل میری ناک میں آرہی تھی۔ میں اس کے پیچھے پیچھے چل رہا تھا۔ جنگل کی جانب اس کے قدم اٹھنے کی رفتار بڑھتی جارہی تھی۔ بھڑیں آرہی تھیں۔ بھڑیں پہنچ چکی ہیں۔ پھڑوں نے جنگل میں چیخ ماری ہے۔ اس نےکہا۔ پھر زور دار برف باری شروع ہوگئی۔ سفید اور زرد رنگ کی برف۔ فضا میں گونچ پھیلی ہوئی تھی۔ سرخ بھڑوں کی سخت بُو برف کے ساتھ ساتھ نیچے آرہی تھی، جبکہ ہم جنگل کی جانب رواں دواں تھے جہاں وہ بلیک بیری کے درختوں کے نیچے بے سدھ پڑی تھی۔ آؤ میرے باپ نے کہا، تیز چلو، بھڑوں میں ہر جانب راستے بناتے ہوئے۔ اس کے بھاری بھرکم بوٹ برف میں گہرے نشانات چھوڑتے جارہے تھے اور ہوا میں اندھیرے میں اور ہوا سرسرا رہی تھی اور آہ و زاری کررہی تھی، گہرے نشانات، وہ بناتا چلا جارہا تھا اور میں اس کے پیچھے چل رہا تھا۔ ننگے پاؤں، بھڑوں کےدرمیان سے جو حرکت کر رہی تھیں اور بگھل رہی تھیں۔

کیا وہ سورہا ہے؟

نہیں وہ جاگ رہا ہے اور اس کی آنکھیں کھلی ہیں۔ اس سے کہو جا کر سو جائے۔

تم سو جاؤ۔

وہ کچھ کہتا کیوں نہیں؟

اس کا ہاتھ چھو کر اس کی نبض ٹٹولو۔

کچھ محسوس نہیں ہورہا۔

شاید وہ

جس نے بھڑوں کو ہٹایا اور حرکت دی ان گہرے راستوں پر جو اس کے لمبے جوتوں سے بن رہے تھے۔ یہاں تک کہ ہم نے اسے بلیک بیری کے درختوں میں پڑے ہوئے پالیا۔ گہرے راستے جو وہ بنا رہا ہے جن کے درمیان ہم چلتے ہیں جبکہ ہم دیکھ رہے ہوتے ہیں جبکہ ہم ماتم کناں ہوتے ہیں جبکہ میں اپنے باپ کے بنائے ہوئے راستوں میں گھس رہا ہوں۔

(ترجمہ: محمد اکرم چغتائی )

پیٹر ۃانڈکے آسٹریا کے نوبل انعام یافتہ ادیب ہیں

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: