مکالمہ ۔۔۔ کشور ناہید


تخلیق کی تہذیب ۔۔۔۔۔ سیمون اور سارتر کے درمیان ایک مکالمہ

ترجمہ: کشور ناہید
****************

سیمون نے کہا چلو اب تمھارے فن کی ادبی اور فلسفیانہ حیثیت کے بارے گفتگو کرتے ہیں۔ کیا تم اس بارے میں کچھ کہنا پسند کرو گے۔

سارتر: اب تو اسیے موضوعات پر بات کرنے کو بالکل دل نہیں چاہتا۔ ہاں تھا ایک زمانہ کہ جب میں ایسی باتیں کرنا پسند کرتا تھا۔

سیمون: “الفاظ” کتاب میں تم نے لکھا ہے کہ لکھنا پڑھنا کس طرح تمھاری زندگی میں داخل ہے۔ تم نے گیارہ سال کی عمر میں ادیب بننے کا سوچا تھا۔ تمھارا مقدر ہی ادیب بننا تھا۔ البتہ اس 20 سال کی عمر کے درمیان تم پر کیا گزری۔ جب میری تمھاری ملاقات ہوئی تو تم نے بتایا تھا کہ تم سپینوزا اور سٹینڈل کی طرح ہونا چاہتے تھے۔ تو چلو اسی زمانے سے بات شروع کرتے ہیں۔ جب میں پہلے تمھیں ملی تھی۔

سارتر: میں نے 11 سال کی عمر میں “Gotz Vov Berhchin’gen” لکھا تھا۔ وہ بڑا ظالم آدمی تھا مگر اس کے مقاصد نیک تھے۔ پھر میں نے جرمن میں زمانۂ وسطٰی کے ایک آدمی کو پڑھا۔ یہ کسی ایسے آدمی کے بارے میں تھا کہ جس کو گھنٹہ گھر میں بند کرتے ہیں۔ اس میں ایک سوراخ ہوتا ہے جو کہ 12 انچ تک جاتا ہے۔ سوراخ میں اس کا سر رکھ دیا جاتا ہے۔ ساڑھے گیارہ اور ڈیڑھ بجے کے درمیان اس کے ہاتھ کاٹ دیے جاتے ہیں۔

سیمون: یہ تو بالکل ایڈ گرایلن پو کے انداز میں ہو۔

سارتر: میں اس سے متاثر بہت تھا۔ میں بہت عرصے تک دوسروں کی نقالی کرتا رہا۔

سیمون: اچھا تو تم نے کب اپنا انداز اختیار کیا۔

سارتر: میں پندرہ سال کی عمر تک اخباروں اور رسالوں کی کہانیوں کی نقلیں بناتا رہا اور ان جیسا لکھنے کی مشق کرتا رہا۔ پیرس جانے کے بعد میرا انداز بدلا۔ چودھویں سال میں، میں نے Gotz لکھا۔ بعد میں ذرا زیادہ سنجیدہ چیزیں لکھنے کی کوشش کرتا رہا۔

سیمون: اس سے پہلے تمھیں ایڈونچر اور ہیروز والی کہانیاں پسند آتی تھیں۔

سارتر: شاید جو کچھ مجھ میں نہیں تھا۔ یعنی بہادری، لڑنا، شجاعت بس ایسی چیزیں، تحریر میں مجھے پسند آتی تھیں، وہ سارے ہیرو جو تلوار کی نوک پر مملکت بچاتے تھے یا شہزادیوں کو عصمت بچاتے تھے، مجھے اچھے لگتے تھے۔

سیمون: پیرس آنے کے بعد کون سی قوت نے تمھارا انداز تبدیل کروایا۔

سارتر: اس انداز بدلنے میں دوسروں کی تحریروں کا بڑا داخل ہے۔ ایڈونچر کہانیوں کے علاوہ سیاحت، محبت، تششدد اور ساری جذباتی اوسط درجے کی تحریریں کہ جن کے آخر میں آپ کو سبق بھی دیا جاتا ہے۔

سیمون: پیرس آنے کے بعد تم نے پڑھنے کا انداز کس کے کہنے پہ بدلا۔

سارتر: جن دوستوں کے ساتھ میں پیرس آیا۔ میرے ساتھ دو لڑکے آئے تھے نزان اور مصور گروبر کا بھائی۔ گروبر نے پراؤسٹ پڑھنا شروع کیا تھا پھر ایک بہت بڑھے لکھے ذہین شخص مسٹر جارجن نے ہمیں کلاسیکی ادب پڑھانا شروع کیا۔ وہ ہمارے سامنے سوالات اٹھاتا اور کہتا کہ جاؤ لائبریری میں جاکر ان سوالوں کے جواب تلاش کرو۔ میں سانتے گینوے لائبریری جاکر اس موضوع پر جو کچھ بھی میسر ہوتا، پڑھ لیتا۔ اس وقت میں نے ادبی دنیا میں ایک ادیب کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک پڑھے لکھے مہذب شخص کی حیثیت سے داخل ہونے کا سوچا۔

سیمون: پراؤسٹ کے علاوہ اور کون سے ادیب تمھیں اچھے لگے۔

سارتر: مثال کے طور پر کونریڈ۔

سیمون: کیا تم نے گائیڈ کو پڑھا؟

سارتر: ہاں پڑھا، تھوڑا سا، مگر مزا نہیں آیا۔

سیمون: کیا تم نے گرازو کو پڑھا؟

سارتر: مجھے نہیں پسند تھا۔ البتہ نزان نے نہ صرف اس کو پسند کیا بلکہ اس کے انداز میں کہانی بھی لکھی کہ ہیرو اور اس کی بہن دیوتاؤں کے پاس جاتے ہیں۔ بالکل امرا کا ماحول بنایا اور یونانی بچے دکھائے۔ ہر چند جزباتی سطح پر یہ ہیرو میں خود تھا۔ ہاں یہ محض ایک کوشش تھی لکھنے کی۔

سیمون: اس کہانی میں لڑکی تو آرمینیا کی تھی؟
سارتر: ہاں، واقعی تھی۔ مگر وہ بے چاری بولی کہاں۔ وہ تو بس نوجوان کے ساتھ موجود تھی۔

سیمون: تم ایڈونچر کی نقل سے آگے کیسے بڑھے۔

سارتر: مجھے ایڈونچر پڑھتے ہوئے ہی احساس تھا کہ یہ میری زندگی کی پہلی منزل ہے اور یہ اور طرح ہی کی کتابیں ہیں کہ میں نے اپنے دادا کی لائبریری میں لامزریبل اور مادام بواری جیسی کتابیں بھی پڑھی تھیں۔ میرے لیے اس وقت ایک چیز اہم تھی کہ کوئی ایسی کتاب پڑھوں جس میں کچھ جرأت مندی بیان کی گئی ہو۔ اسی زمانے میں میرے استاد کا تبادلہ بھی ہوگیا۔ اب نیا استاد آیا۔ وہ نیا نیا محاذِ جنگ سے واپس آیا تھا۔ وہ ذرا مختلف آدمی تھا۔ میں نے اپنے اس استاد پہ کہانی لکھی۔ یہ گویا میری حقیقت نگاری کا آغاز تھا۔

سیمون: یو تم بچگانہ تحریریں لکھنے اور پڑھنے کے طلسم سے باہر نکل آئے۔

سارتر: ارے نہیں۔ ایڈونچر تو مجھے ہمیشہ اچھا لگا۔ یاد ہے اسی زمانے میں میں نے ایک ٹی بی کی مریضہ کی کہانی لکھی تھی۔ اس میں تھوڑا تھوڑا میں بھی تھا۔

سیمون: اس کہانی میں تم بہت مایوس اور بد دل نظر آتے ہو۔

سارتر: بھئی۔ اس زمانے میں نہ مجھے ٹی بی کا پتہ تھا۔ نہ میں نے عشق کیا تھا نہ کوئی جنسی تجربہ تھا۔ تو گویا یہ بھی خوفناک کہانیوں کا ہی ایک زاویہ تھا۔ اسی طرح میرا پہلا ناول “شکست” جو کہ شائع نہ ہوسکا۔ وہ بھی حقیقت نگاری کی جانب میرا پہلا قدم تھا۔ ہر چند یہ بڑی بھونڈی حقیقت نگاری تھی۔

سیمون: اس کے بعد کے ناولوں میں تم نے یونانی اساطیر کے حوالے اور ماحول کی ملحوظ رکھا۔ کیا اس تحریر میں تمھاری لاطینی اور یونانی زبان کی تعلیم کام آئی؟

سارتر: میں نے قدیم زمانوں کو طلسماتی ذخائر کی طرح استعمال کیا ہے۔ درے کی رومن تاریخ کو میں بہت لطف لے کر پڑھتا رہا ہوں۔ میں رئیسانہ انیسویں صدی کے تمام ادب سے واقفیت رکھنے والے صوبے سے متعلق ہونے کی بنا پر، یہ سب کچھ نہیں پڑھتا رہا بلکہ یہ پراؤسٹ پڑھنے کے بعد، میرے لکھنے کا انداز، میرے احباب، یعنی بہت کچھ بدل گیا تھا۔

سیمون: لفظ اور لوگ دونوں بدل گئے تھے؟

سارتر: مجھے معلوم ہے کہ لوگوں کے بارے میں تم کبھی بہت تیز اور کبھی بہت بعدل ہو جاتی تھیں۔ لوگ عمل اور ردِ عمل دونوں میں مختلف طریقوں میں ظاہر ہوتے ہیں۔ تمھیں یاد ہے فلابیئر ایک زمانے میں صرف رومانوی ادب کی بات کرتا تھا جبکہ وہ ڈومیڑی میں رہتا تھا!

سیمون: تم ہوسٹل میں کیسے رہتے تھے؟

سارتر: بڑے عجیب و غریب تاثرات ہیں۔ میں ہوسٹل سے اپنے دادا کے گھر جاتا تھا وہاں لائبریری تھی۔ میں کتابیں پڑھتا تھا۔ میرے دادا خود استاد تھے۔ مجھے ان کا گھر بہت اچھا لگتا تھا۔ تم یہ جان کر حیران ہوگی کہ میں اتوار کو چرچ میں گاتا بھی تھا۔

سیمون: تم یہ سارے کام بخوبی کرلیتے تھے؟

سارتر: نہ صرف خوب کرتا تھا بلکہ مجھے یاد پڑتا ہے کہ میں نے فلسفے میں تو اعزاز بھی حاصل کیا تھا۔

سیمون: تم آدمی لٹریچر کے تھے۔ تم نے فلسفے کو اپنے لیے کیوں منتخب کیا؟

سارتر: کیونکہ جب میں نے کلاس میں فلسفہ پڑھنا شروع کیا تو مجھے احساس ہوگیا کہ فلسفہ دنیا بھر کے علم کا نام ہے، سارے علوم کا منبع فلسفہ ہے۔ ساری دنیا کو بیان کرنے کا ہنر مجھے یہیں سے آیا۔

سیمون: کیا ادیب کے لیے دنیا بھر کو بیان کرنا ضروری ہے؟

سارتر: ایک ادیب کو فلسفی بھی ہونا چاہیئے۔ میرا تعلق اس زمانے سے ہے کہ جب ذاتی تحریریں کچھ معیوب سمجھی جاتی تھیں۔

سیمون: مگر تم نے پراؤسٹ کے انداز میں لکھنا شروع کیا اور پراؤسٹ کو تو ذاتی تجربات بیان کرنے کا بڑا شوق اور بڑا ملکہ تھا۔

سارتر: ہاں! وہ میرا آغاز تھا۔ بعد میں جب میں نے فلسفہ پڑھنے کے لکھنا شروع کیا تو میں نے سوچا کہ لکھنے والے کو ہمشہ ایسا لکھنا چاہیئے کہ وہ قاری پر وہ انکشافات کرے جن کے بارے میں اس نے کبھی نہ سوچا ہو۔

سیمون: یہ تو بہت بڑا دعوٰی ہے۔ کیا تم خود کو اتنا قابل، اتنا خداداد سمجھتے ہو؟

سارتر: بالکل۔ ہر چند حساب اور نیچرل تاریخ میں میرے نمبر ہمشہ خراب آئے مگر مجھے پتہ تھا کہ میں بہت ذہین ہوں۔ مجھے یہ بھی پتہ تھا کہ مجھ میں کوئی ایسی خاص خوبیاں نہیں ہیں۔ ہاں یہ یقین تھا کہ چونکہ میں کتابیں لکھ رہا ہوں۔ اس لیے دنیا کے سامنے سچ کو لاکے رہوں گا۔

سیمون: یہ یقین تمھیں کیسے اور کیوں تھا؟

سارتر: اس لیے کہ میرے اپنے خیالات تھے۔ یہ خیالات میرے اندر اس وقت سے تھے جبکہ میں سولہ سال کا تھا۔ میں دنیا کو دیکھتا جاتا تھا اور لفظ جمع کرتا جاتا تھا اور لگتا تھا کہ سچ جمع ہوتا جارہا ہے کہ لکھنا کیا ہے لفظوں کو جمع کرنا ہی تو ہے۔ شاید مجھے زبان پر یقین تھا اور جب تحریر میں کوئی فلسفیانہ بات ہو۔ علاوہ ازیں میری بہت سنجیدہ تعلیم ہوئی تھی۔ میں چاہتا تھا ذرا اس کا ذائقہ بدلوں۔ مین نے سورلسٹ سٹائل میں بھی لکھا۔ میرے لیے سب سے اہم یہ تھا کہ میں زیادہ سے زیادہ نئے تصورات سامنے لاؤں۔

سیمون: تمھاری زندگی میں ایک ڈائری بھی بہت اہمیت رکھتی ہے۔ وہ کیا قصہ ہے؟

سارتر: یہ بھی دلچسپ قصہ ہے۔ مجھے میٹرو میں ایک ڈائری ملی۔ بالکل سادہ، بالکل نے نام۔ یہ میری پہلی فلسفہ نوٹ بُک بنی۔ یہ نوٹ بُک شاید کسی ڈاکٹر کسی لیباٹری والے نے دی تھی۔ سارے صفحات ابجد کے مطابق تھے۔ میں نے بھی اپنی یاداشتیں اسی طرح لکھنی شروع کردیں۔


Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: