میری زندگی ۔۔۔ لیون ٹراٹسکی

میری زندگی( اقتباس )

( لیون ٹراٹسکی )

ہمارے کام کی حیرت ناک کامیابی نے ہمیں ایک طرح کے نشے سے مدہوش کر رکھا تھا۔ انقلابی کہانیوں کی بجائے انقلابی پراپیگنڈا سے ہماری تنظیم میں شامل ہونے والے محنت کشوں کو انگلیوں پر گنا جا سکتا تھا۔ جب کوئی انقلابی دو یا تین لوگوں کو سوشلزم کی طرف لے آتا تو ہم سے بڑا کارنامہ سمجھتے تھے۔ اس کے برعکس ہمارا عملی کام لامحدود اور بہت زیادہ تھا اگر کہیں کوئی کمی تھی تو وہ انسٹرکٹر وں اور مارکسی ادب کی تھی مارکس اور اینگلز کے لکھے ہوئے کمیونسٹ مینی فیسٹو کی کاپیوں کی قلت تھی اور استاد انہیں ایک دوسرے سے چھینتے پھرتے تھے ان کاپیوں میں بھی کافی سارا مواد غائب تھا۔

ہم نے جلد ہی اپنا ادب خود پیدا کرنا شروع کر دیا یہ ایک طرح سے ہماری ادبی کام کی باقاعدہ ابتدا تھی جس کا انطباق اتفاق سے میری انقلابی سرگرمیوں سے ہوگیا۔ میں ہاتھ ہی سے لمبے لمبے مضمون لکھتا رہتا اور ان کی نقلں کرتا۔ اس وقت ہمیں۔ ٹائپ رائٹر کی موجودگی کا کوئی علم نہیں تھا میں حروف کو بڑا صاف اور واضح طور پر لکھنے کی کوشش کرتا تاکہ تھوڑے سے تھوڑا پڑھا لکھا آدمی بھی کسی دقت کے بغیر مضمون پڑھ سکے۔ میں ایک صفحہ دو گھنٹے میں مکمل کرتا تھا۔  کئی ہفتے مجھے کمر سیدھی کرنے کا موقع نہ ملتا۔ فقط مطالعہ کے لیے وقت نکالتا تھا۔ لیکن ورکشاپس اور ملوں کے مزدور اور محنت کش کا سنی سیاہی سے لکھے ہوئے ہمارے پراسرار کاغذ پڑھ کر جوش و جذبےکااظہارکرتے تو میری خوشی کی انتہا نہیں رہتی تھی پھریہ کاغذ ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں منتقل ہوتے رہتے اور ان پر بحث جاری رہتی و ان کاغذوں کے مصنف کو کوئی پر اسرار بستی سمجھتے تھے جو چوبیس گھنٹے ان کی ورکشاپوں اور ملوں میں گھومتی رہتی اور ان کے حاات کا جائزہ لے کر اسے کاغز پر منتقل کر دیتی تھی۔

ہم کاپی تیار کرتے اور رات کو اپنے کمروں میں چھپائی کا کام کرتے رہتے۔۔ ایک آدمی صحن میں پہرے دار کے فرائض انجام دیتا۔ خطرے کی صورت میں ہم نے اپنے کام کو جلانے کا پورا انتظام کر رکھا تھا

ہر چیز ابتدائی مرحلے میں تھی۔ ہم بالکل مبتدی۔ لیکن نکولا ژیف کی پولیس ہم سے بھی زیادہ مبتدی اور نا تجرب کار تھی۔ بعد میں ہم چھپائی والی مشین ایک متوسط عمر کے کارکن کے گھر لے گئے جو کانوں میں کام کے دوران ایک حادثے میں اپنی آنکھوں بیٹھا تھا۔ اس نے بلاجھجک اپنا اپارٹمنٹ ہمارے حوالے کردیا۔ وہ ہلکہ سا قہقہہ لگا کر کہا کرتا تھا “اندھے آدمی کے لئے تو ہر جگہ قید خانہ ہے”۔۔ ہم نے آہستہ آہستہ اس کے اپارٹمنٹ میں چھپائی کا سارا سامان جمع کرلیا۔ ہم رات کو کام کرتے تھے۔ گندا کمرہ جس کینیچی چھت ہمارے سروں کو چھوتی مفلسی کی مکمل تصویر تھا۔ ہم ٹین کی شیٹ پر تیل کے چولہے سے اپنا انقلابی کھانا تیار کرتے تھے۔ اندھا ہم سے زیادہ اعتماد کے ساتھ کمرے میں پھرتا رہتا تھا۔۔ جب میں چھپائی والی مشین سے تازہ تازہ چھپا ہوا کاغذ نکالتا تو دو کارکن جن میں ایک لڑکا اور دوسری لڑکی تھی بڑی مشتاق نظروں سے دیکھنے لگتے کوئی ہوش مند آدمی اس صورتحال میں ہمیں کام کرتے دیکھ لیتا تو یقینا یہ سوچ کر ہمارا مذاق اڑا تا کہ یہ بیوقوف اس طرح ایک طاقتور پرانی حکومت کا تختہ الٹ دیں گے۔ مگر یہی خواب فقط ایک نسل نے حقیقت میں بدل دیا۔ ہماری ان راتوں سے  1905 فقط آٹھ سال دور تھا را اور 1917 بیس برسوں سے بھی کم۔

اس وقت منہ زبانی پروپیگنڈا مجھے اشاعت یافتہ کاغذوں کی نسبت کبھی زیادہ تسلی نہیں دیتا تھا۔ میرا علم ناقص تھا اور مجھے معلوم نہیں تھا کہ اپنے الفاظ میں کس طرح تاثیر پیدا کروں۔ ہم نے کبھی تقریر نہیں کی تھی۔ فقط ایک دفعہ جنگل میں یوم مئی پر ہونے والے جلسے میں تقریر کی تھی جس میں مجھے بڑا پریشان کردیا تھا۔ مجھے اپنا ہر لفظ جھوٹ محسوس ہو رہا تھا

اس کے برعکس جب میں اپنے گروپ میں بات کرتا تو میری کارکردگی ایسی بری نہیں ہوتی تھی۔ بہرحال انقلابی کام پوری رفتار سے جاری رہا میں نے اوڈیسہ سے رابطے قائم کئے اور انہیں مضبوط بنایا۔ شام کو میں اسٹیمر پر چلا جاتا تیسرے درجے کا ٹکٹ خریدتا اور چمنی کے پاس جیکٹ کو سرہانے رکھ کر اور کورٹ کو اپنے اوپر ڈال کر سو جاتا۔ صبح کے وقت اوڈیسہ پہنچ جاتا اور جن لوگوں سے مجھے ملنا ہوتا ان سے ملتا۔ سفر میں کوئی وقت ضائع کئے بغیر اگلی رات کو واپس آجاتا ہے۔ اوڈیس میں میرے رابطوں میں اچانک اضافہ ہوگیا۔ وا یوں کہ پبلک لائبریری کے دروازے پر میری ملاقات ایک ورکر سے ہوئی جس نے عینک لگا رکھی تھی۔ ہم نے ایک دوسرے کو غور سے دیکھا اور سمجھ گئے۔ وہ کمپوذیٹر البرٹ پول یاک تھا جس نے بعد میں پارٹی کے مرکزی اشاعت گھر کو منظم کیا تھا۔ تنظیم میں ہماری دوستی ایک سنگ میل کی حیثیت اختیار کر گئی تھی اس سے ملاقات کے چند روز بعد میں باہر ” غیرقانونی لیٹریچر” سے بھرا ہوا ایک بیگ لے آیا ۔  ی سب سے بڑے خوبصورت سرورقوں  والے پروپیگنڈہ پمفلٹ تھے۔ہم  بیگ کو کھو کر تحسین بھری نظروں سے دیکھتے رہتے۔ یہ پمفٹ ہم نے چشم زدن میں تقسیم کردیئے جس سے ہماری توقیر میں اضافہ ہوگیا۔

پول یاک  اتفاسےقا مجھے معلوم ہوا کہ ہمارے مکینک شر نسل جو خود کو انجینئر کہتا تھا اور ہمارے گروپ میں شامل ہونے کی کوشش میں لگا رہتا تھا اصل میں ایک پرانا مخبر تھا۔۔ وہ ایک احمق آدمی تھا اور ہروقت یونیفارم کی بیج والی ٹوپی پہنے رہتا تھا۔ حسی طور پر ہم نے کبھی اس پر اعتماد نہیں کیا تھا۔ لیکن اسے ہم سے ان لوگوں کے متعلق کچھ نہ کچھ معلوم ہو گیا تھا۔۔ میں نے ایک دن اسے موخن کے کمرے میں بلایا اور اس کا نام لیے بغیر اس کی ساری داستان حیات سنادی۔۔و پا گل ہو گیا ہم نے اسے دھمکی دی کہ اگر اس نے ہمارے ساتھ دھوکا کیا تو ہم اسے ٹھکانے لگا دیں گے۔۔ یہ دھمکی کارگر ثابت ہوئی تین ماہ بعد وہ ہمیں چھوڑ کر چلا گیا۔ جب م گرفتار ہوئے تو اسی شر نسل نے ہمارے خلاف شہادتوں کے خوفناک انبار لگا دیے

ہم نے اپنی تنظیم کا نام جنوبی روسی ورکرز یونین رکھا ہوا تھا۔ ہمارا اس میں دوسرے شہروں کے ورکرز کو شامل کرنے کا ارادہ بھی تھا۔ مییں نے سوشل ڈیموکریٹک خطوط پر اس کا دستور بنایا۔ مل مالکان نے اپنے کرائے کے لوگوں کے ذریعے ہمارے اثر کو زائل کرنے کی کوشش۔۔ ہم اگلے دن نئے پرچوں سے ان کا جواب دے دیتے۔ اس لڑائی نے محنت کشوں ہی کو نہیں بلکہ عام شہریوں کو بھی بیدار کر دیا تھا۔ سارا قصبہ ان انقلابیوں کی باتیں کرتا رہتا جو ہینڈ بلوں سے ملوں اور ورکشاپوں پر دھاوا بول رہے تھے۔ پولیس ابھی تک سوئی ہوئی تھی اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ باغ میں رہنے یہ جوان۔ یہ کوئی کارآمد کام کرنے کے قابل تھے۔ اسے شک تھا کہ ہمارے پیچھے زیادہ تجربہ کار ہاتھ تھے یعنی پرانے جلاوطن لوگ۔ اس سے یہ فائدہ ہوا کہ ہمیں کام کرنے کے لیے مزید دو تین ماہ مل گئے۔ آخر ہماری نقل و حرکت پر گہری نظر رکھی جانے لگی۔۔ پولیس ایک کے بعد دوسرے گروپ کا سراغ لگانے لگی۔ لہذا ہم نے اسے دھوکہ دینے کی خاطر۔ نکولا ثئف کو چند ہفتوں کے لئے چھوڑ دینے کا فیصلہ کرلیا۔ مجھے اپنے گاؤں جانے کے لیے کہا گیا تھا۔ سوکولوسکایا اور اس کے بھائی کو  کواکا ترینولاف جانے کے لیے کہا گیا۔ اس کے ساتھ ہی ہم نےیہ فیصلہ کیا تھا کہ اگر بڑی تعداد میں گرفتاریاں ہوئیں تو ہم چھپیں گے ن نہیں بلکہ جرات سےگرفتاریاں دیں گے تاکہ کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ دیکھا نہ تمہارے رہنما تمہیں چھوڑ کر بھاگ  گئے

۔ گرفتار ہونے والوں میں سے بہت سے اتفاقی طور پر گرفتار ہوئے تھے بہت سے لوگ جن پر ہم تکیہ کئے ہوئے تھے ہمیں چھوڑ گئے۔ ہم سے غداری کی مثالیں بھی سامنے آیئن۔ بعض لوگ جو ہماری تعلیم میں بڑے غیر نمایاں تھے انہوں نے بڑی جرت اور مضبوط کردار کا مظاہرہ کیا ‏۔ مثلا آگسٹ ڈورن نامی ایک خرادیہ تھا۔ اس کی عمر کوئی پچاس سال کی ہوگی۔ وہ نامعلوم وجوہات کے باعث گرفتار کر لیا گیا تھا۔ وہ ایک طویل مدت تک جیل میں رہا ۔ اس کا قصور محض اتنا تھا کہ وہ چند بار ہمارے گروپ میں آیا تھا۔۔ قید میں اس کا طرز سلوک بڑا شاندار تھا۔ وہ بلند آواز میں گانے گاتا رہتا اور ملی جلی روسی زبان میں لطیفے سنا کر جوانوں کے حوصلے بلند رکھتا تھا جب ہمیں ماسکو کی جیل میں بھیج دیا گیاتو ہم ایک ہی کوٹھری میں قید تھے۔ ڈورن  سماوار کو مزاحیہ انداز میں خطاب کرکے اپنے پاس آنے کو کہتا۔ جب وہ اس کے پاس نہ آتی  تو کہتا تم نہیں آؤ گی۔۔ کوئی بات نہیں۔ ڈرون تمہارے اس آ جائے گا۔ یہ بات ہر روز دوہرائی جاتی اور ہم ہر روز اس سے لطف اندوز ہوتے۔

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: