کھڈیوں پر بُنے لوگ ۔۔۔ فارحہ ارشد

کھڈیوں پر بُنے لوگ

فارحہ ارشد

جو بھی اس گلی سے گزرتا اس سہ منزلہ عمارت کی طرف متوجہ ہوئے بنا نہ رہ سکتا۔ ایک چیز اس حویلی کو دوسرے گھروں سے ممتاز کرتی تھی، وہ اس کا خوبصورت اور منفرد فن تعمیر تھا۔

دیکھنے والا ایک بار ضرور سوچتا کہ یہ غلط جگہ پر بنی ہے۔ اس کو ان تنگ و تارک گلیوں میں بنے آسانی سے نظر انداز کیے جانے والے چھوٹے چھوٹے رہائشی مکانوں مین کسی نے غلطی سے کسی اور جگہ سے لا کر یہاں گھسیڑ دیا ہے۔ با لکل ویسے ہی جیسے تصویری جگسا پزل میں کوئی غلط ٹکڑا جوڑ دیا گیا ہو۔

جاہ و جلال سے کھڑی قدیم طرز کی یہ عمارت جس کے بڑے بڑے لکڑی کے ستون اور طویل راہداریوں پر بنے لکڑی کے شہتیر اور گوتھک طرز کے جھروکے خاص طور پر قابل دید تھے۔

سفید سنگ مر مر میں سنگ موسیٰ کی پچی کاری کا عمدہ کام ، اینٹوں اور رنگوں کے ملاپ کا ایک سحر انگیز مظہر، مینا کاری کا ایسا ہنر، جسے دیکھ کر اسے تعمیر کرنے والے کے لیے بے اختیار تعریفی کلمات ادا ہونے لگتے۔ بند جھروکے کے اسرار کو جنم دیتے اور جب کافی انتظار کے بعد بھی نہ کھلتے تو دل بے مان سی اداسی کا شکار ہونے لگتا۔

ایسا حسن جس میں اداسی رچی ہو، دل کی عجیب پر اسرار سی کیفیت سے بھر دینے والا فسوں اور سحر انگیز۔

بیتے دنوں کی خوشحالی اور فنی شعور کا گواہ یہ گھر جب تعمیر کیا گیا ہوگا یقیننا اس گھر کے مکینوں کا طوطی بولتا ہو گا۔

مگر اب عین اس عمارت کے نچلے حصے میں بنی چند دکانین اس بات کا ثبوت تھیں کہ بھلا وقت لد چکا ۔ عمارت کی شان و شوکت سے نگاہ پھسل کر جب ان دوکانوں پر رکتی تو یوں لگتا جیسے اک خوبصورت قیمتی پوشاک پہن کر نک سک سے تیار ہوئی کسی ماہ پارہ نے پھٹے پرانے گندے سے جوتے پہن رکھے ہوں۔

اونچی چھت والے برآمدوں کے محرابی دروازوں پر بنے لکڑی کے شہتیروں میں جب کبوتروں کی غٹرغوں سنائی دیتی تو ویرانی کا احساس سوا ہونے لگتا۔

گھر کی فضا مغموم تھی جیسے مکین اٹھ کر کہیں چلے گئے ہوں اور انہیں واپسی کا راستہ بھول گیا ہو۔

اس عالی شان حویلی نما گھر کا ایک مکین پینسٹھ سالہ نحیف و نراز لال حسین، جس کے عجیب سے حلیے کو دیکھ کر ہنسی آتے آتے اداسی طاری ہونے لگتی تھی۔ باریک جھریوں بھرا سفید پتلا سا چہرہ، باریک سیاہ خاموش لب اور ان سے زیادہ خاموش آنکھیں ۔ خمیدہ کمر جیسے زمانے بھر کا بوجھ اٹھاتے اٹھاتے تھکن سے دوہری ہو گئی ہو۔

اگر زمانہ دل گیا تو اس میں اس کا کوئی قصور بھی تو نہیں تھا۔ وہ اپنے ساتھ اپنا زمانہ لیے پھرتا تھا۔ با لکل اس حویلی کی طرح جو ہمیشہ گئے وقتوں کی یاد دلاتی تھی۔

لال حسین سفید براق کرتا پاجامہ اور اسی رنگت کے جذبات والی بے رنگ سفید آنکھیں لیے اس حویلی میں یوں پھرتا جیسے اسکا کشھ گم ہو گیا ہو۔ وہ ہر وقت گم صم سا کچھ نہ کچھ ڈھونڈتا رہتا۔ کبھی بوسیدہ بکسوں میں ، کبھی تصویروں کے بوسیدہ البموں میں ۔ وہ تصاویر دیکھتا رہتا جو مختلف مکمل اور نا مکمل عمارتوں کے فن تعمیر کی عکاس تھیں۔

رعشہ زدہ ہاتھوں سے البم گراتی تو تصاویر یوں بکھر جاتیں جیسے ایک زمانہ پرانے وقتوں سے نکال کر موجودہ وقت میں بنے فرش پر بچھا دیا گیا ہو۔

وہ انسانوں کے قدیم ترین اجداد کی ان باقیات میں سے تھا جنہیں اپنے فن سے عشق تھا۔ جو نسل در نسل اپنے علوم و فنون کو آنے والی نسل کو سونپتے آئے تھے اور ان کی آیئندہ نسلوں نے بصد شوق اور پورے خلوص سے اوزار کے ذریعے اپنے فن کا لوہا منوایا تھا۔ وہ اپنی آیئندہ نسل کی تلاش میں نگاہیں دوڑاتا رہتا جو ہمیشہ خالی ہی لوٹ آتیں تو دیواروں پر بنے آیئنہ کار، منبت کاری اور پچی کاری کے نمونے اس پر کبھی پھبتیاں کسنے لگتے تو کبھی اس کے ساتھ مغموم ہو جاتے۔ سنگ مر مر کی محرابوں اور ستونوں کے پایوں پر نیم قیمتی پتھروں پر نظر ڈالتا تو اسے لگتا وہ خود بھی اپنے اجداد کے ستونوں کے پایوں پر پیوست سنگ یشب ہے جس کی شفافیت پر ہی اس نسل کی تکمیل ہوئی۔ با لکل ویسی چمک والا، جیسے ٹوٹنے سے پہلے ستارہ تیز جگمگا ہٹ پیدا کرتا ہے۔ وہ بھی اپنی نسل کا آخری ٹوٹنے والا ستارہ تھا، آخری قیمتی پتھر ۔۔۔۔۔ سنگ ِ یشب۔

اور یہ دکھ اسکے خلیوں میں رینگنے لگتا۔

اس حویلی کی دوسری مکین بایئس سالہ زہرا تھی۔ زہرا بنت لال حسین۔

زہرا جوان اور حسین تھی مگر اس کے دھیان کا پکھنو اپنی جوانی اور رعنائی سے اڑ کر لال حسین کی منڈیر پر جا بیٹھا تھا۔ حویلی میں بھاگ بھاگ کر کام نمٹاتی، جس میں سے آدھے سے زیادہ کام لال حسین کے ہوتے۔ وہ لال حسین کی آخری شادی کی پہلی اور آخری نشانی تھی۔ تین بیویاں تھیں جو سب اللہ کو پیاری ہویئں اور انکے بچے دوسرے ملکوں کو پیارے ہوئے۔ سوائے اس آخری نشانی کے۔ کئی عشروں سے وطن واپس آنے کا نام ہی نہ لیا۔ وہ ناراض تھے باپ سے۔ اس کے پیشے سے۔اور اس زمین سے جس میں ان کی پیڑھیوں کی پیڑھیاں اس فن کی نذر ہویئں مگر اس زمین اور یہاں کے باسیوں نے ان فنکاروں کی قدر نہ کی اور ہمیشہ راج مستری کہلائے۔

” ابا۔۔۔ یہ تمہارا راج مستریوں والا کام نہ تو پیسے دیتا ہے اور نہ ہی عزت۔ اس کام سے مجھے شرم آتی ہے۔ ”  بڑے بیٹے نے اتنے تواتر سے یہ بات دوہرائی کہ چھوٹا بیٹا بھی اسی کی زبان بولنے لگا۔ اور اس سے چھوٹا بھی۔

تین گھبرو جوان بیٹے جنہیں دیکھ ر وہ فخر کرتا اور ایک بیٹی پیدا کرنے پر وہ چھوٹی بیوی سے ناراض پھرا کرتا، وہی بیٹے اسکے فن پر تین حرف بھیجتے اس کا غرور مٹی میں ملاتے یکے بعد دیگرے عزت کمانے پردیس سدھار گئے۔

وہ دکھ سے سوچتا کہ اسکے باپ نے بھی اسے ترکی، ایران اور فرانس کام سیکھنے کی غرض سے بھیجا تھا مگر وہ کام سیکھ کر واپس آ جاتا تھا۔ اپنے وطن کی تاریخی عمارتوں کو باپ دادا کی طرح بناتا سنوارتا  رہتا۔ اس کے بیٹوں کو باپ دادا کے فن سے لگاو تو کیا اس قدر بے زاری تھی کہ اسے راج مستری کا کام کہہ کر نہ صرف اس کے لیے تحقیر آمیز الفاظ کہے بلکہ وطن کی مٹی ہی پاوں سے کھرچ ڈالی۔

یہ گھر اس نے چودہ سال کی عمر میں خود بنایا تھا بلکہ میاں جی نے اسے سکھانے کے لیے اس سے بنوایا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ اس گھر میں فن ِ پچی کاری، مینا کاری اور شیشہ کاری کے خوبصورت نمونے مختلف جگہوں پر بنے تھے۔ گویا یہ حویلی نما گھر جو بظاہر بہت عالیشان اور قیمتی نمونوں کا منھ بولتا ثبوت دکھائی دیتا تھا، دراصل یہ وہ علم کا خزانہ تھا ، جو اس کے دادا نے اس کے ہاتھوں میں منتقل کیا تھا۔ میاں جی جو کام اسے سکھاتے وہ اس میں مزید نئی جہتیں تلاش کر لیتا اور میاں جی حقہ گڑ گڑاتے ہوئے بی بی سے کہتے،

” لے فیر بھلیے لوکی !! تیرا بیٹا تو ماہر ہو گیا ہے۔ اسکے ہاتھ میں سات پشتوں کی مہارت ہے َ”

وہ سینہ پھلا کر کہتے۔ ہر آنے جانے والے کو لال حسین کا فن دکھاتے اور فخریہ انداز میں ابا و اجداد کے قصے لے کر بیٹھ جاتے۔

” یہ جو لال حسین نے پچی کاری کی ہے یہ بڑے ابا جی نے اپنے دادا سے سیکھی تھی۔ اس وقت وہ وزیر مسجد بنانے کے لیے ایران سے یہ کام سیکھ کر آئے تھے۔ انہوں نے مجھے سکھائی اور میں نے اپنے بیٹے کو۔ ہمارے بڑے کئی پشتوں سے یہ کام کرے آ رہے ہیں۔ ” ان کے لہجے میں تفاخر جھلکنے لگتا۔

” رنجیت سنگھ کے دور میں شاہی قلعے کے شیش محل پر جو حرم تعمیر کروایا گیا، اس کو بنانے

میں ہمارے پرکھوں کا ہنر بھی شامل ہے۔ شیش محل اور بعد میں تعمیر شدہ حرم وہی جگہ ہے، جہاں رنجیت سنگھ نے کوہ نور ہیرے کی نمائش کا بند و بست کر رکھا تھا ۔ “

آخری عمر میں وہ بیٹھک میں اپنے بڑے اور رنگین پایوں والے پرانے طرز کے پلنگ  پر نیم دراز حقے کے لمبے لمبے کش لیتے، محفلیں سجاتے اور خاندانی ورثے کے واقعات فخریہ انداز میں سناتے رہتے۔

” یہ جو اپنا شاہی قلعے والا شیش محل ہے نا ۔۔۔۔  اسکی چھت پر بڑی مضبوط لکڑی کے شہتیر لگائے تھے مگر ان کے نیچے چونے سے گچ کاری کی گئی اور آیئنے پیوست کئے گئے۔ بڑی فنکاری کا یہ کام تھا۔ جب اتنی اعلی لکڑی ہی گل گئی تو چونا کتنی دیر تک جوڑے رکھتا۔ اب یہ حال ہے کہ چونے کا کام اپنی جگہ چھوڑ رہا ہے اور آیئنے نیچے گر رہے ہیں۔

بڑے ابا جی بتاتے تھے انیس سو بایئس میں ان کے والد کے ساتھ انہوں نے بھی اس چھت پر ایک اضافی چھت ڈال کر شہتیروں کو ہینگر سے لٹکانے کے کام میں حصہ لیا تھا۔ اب اتنے سالوں بعد وہاں سے بھی پانی رسنے لگا ہے اور حکومت ہے کہ اس کا اس طرف کوئی خیال ہی نہیں۔ میں تو کہتا ہوں بادشاہت کا دور ہی اچھا تھا۔ ہمارے کام کی قدر تھی۔ اس فن کا ان لوگوں میں شعور تھا، پہچان تھی، قدر تھی۔

وہ افسوس سے سر تکیے پر رکھ کر چھت کو گھورنے لگتے۔

” اب تو جی بندے کی ہی قدر رہی نہ پہچان۔ ایسے فن کے قدر دان کہاں ملیں گے ؟ ” سننے والے انکی ہاں میں ہاں ملاتے۔

کچھ عرصہ پہلے جب ابھی لال حسین کے حواس بہتر کام کرتے تھے تب وہ سوچتا، ” میآن جی اب ہوتے تو فن کی اپنے سپوتوں کے ہاتھوں بے قدری دیکھ کر مر ہی جاتے۔ وہ تو اچھا ہے کہ بندہ اپنے زمانے میں مر جاتا ہے ورنہ اتنا بدلاو دیکھ کر تو پاگل ہی ہو جائے۔ “

اسی طرح کی باتیں سوچنے والا لال حسین سچ مچ نیم پاگل ہو گیا اور زہرا اسکے پیچھے پیچھے بھاگتے بد حواس سی رہنے لگی۔

 اور خود لال حسین اور بی بی کو بھی باپ کو یوں پکارنا اچھا لگتا تھا مگر پھر ایسی عادت ہوئی کہ وہ دھڑلے سے نام پکارنے لگی اور باپ تو کیا محلے داروں کو بھی عجیب نہ لگتا تھا۔

یوں وہ بی بی کے ساتھ ساتھ اس کے لیے بھی لال حسین ہی رہا۔ دادی ضعیف تھیں اس لیے وہی چھوٹے چھوٹے کام ننھے منے ہاتھوں س

 کرتی۔ اسکے جوتے اتار کر سلیپر پہناتی۔ کھانا دیتی۔ بی بی اور لال حسین جو کام بھی کہتے وہ خوش ہو کر حکم بجا لاتی۔

رشتے دار یا تو جالندھر رہ گئے تھے یا کینیڈا سدھار گئے تھے۔ یہ بھی اسے بی بی ہی نے بتایا تھا۔ اس نے تو بی بی اور لال حسین کے علاوہ کسی کو دیکھا تک نہیں تھا۔ لال حسین اکثر کہتا:

” سودائی ہو گئے ہیں ۔ اپنے پرکھوں کا فن اور عزت کی روٹی چھوڑ کر وہاں برتن مانجھتے ہیں۔ ایک ڈرایئور بن گیا ہے۔ دوسرا ریسٹورنٹ پر چھوٹا بن گیا۔ تیسرا سردیوں میں برف ہٹا کر رستے بناتا ہے اور گرمیوں میں جوتے پالش کرتا ہے۔ اپنا فن قبروں میں دفن کر گئے۔ لو بتاو !! نواب زادے کہتے ہیں ، ہمیں راج مستریوں والے کام سے شرم آتی ہے، بے عزتی ہوتی ہے۔ اب تو بے عزتی نہیں ہوگی ناں ۔۔۔۔ پرائے لوگوں کے جوتے رگڑتے ہوئے۔ ”  لال حسین بولتا تو پھر بولتا ہی چلا جاتا۔ اس کی آنکھیں تاسف سے بھر جاتیں تو بی بی اسکے دکھ کو سمجھتے ہوئے اونچے پیڑھے پر بیٹھی چولھے پر چڑھائی ہنڈیا میں تیز تیز چمچ گھمائے جاتی۔

” چل چپ کر لال حسین۔ پرکھوں کا کام بس تیرے تک ہی تھا۔ اس حقیقت کو مان لے۔ اب  اس کو تیرے شاگرد ہی چلایئں گے۔ “

” شاگرد !! مگر بی بی  !  ہمارے گھر سے تو اس کا جنازہ ہی نکال دیا نا میری نا ہنجار اولاد نے۔ اس سے تو بہتر تھا میں بے اولاد ہی رہتا۔ “

” ن لال حسین ! خیر مانگ ان کی۔ وہ اگر اس میں خوش ہیں تو، تُ بھی اس صدمے سے نکل آ۔ “

بی بی دبی دبی سی آواز میں کہتیں تو لال حسین ایک دم اٹھ کر باہر چلا جاتا۔ “

” لو دیکھو ! آج پھر روٹی بیچ میں چھوڑ کر ہی اٹھ گیا ہے۔ ” وہ افسوس سے دوپٹہ کانوں کے پیچھے اڑس کر بولنے لگتیں۔

” تمہارے میاں جی سے کہا بھی تھا ان پر سختی نہ کرو۔ وہ کہتے تھے لال حسین اگر چودہ سال کی عمر میں فن کے نمونے بنا سکتا ہے تو اس کے ہاتھوں میں کڑے پڑ گئے ہیں کیا ؟ ایک دن اتنا مارا کہ گھر ہی چھوڑ گیا۔ کراچی جا کر دم لیا۔ جانے کیسے دبئی کا ویزہ لگ گیا اور وہاں سے ہی آگے کینیڈا نکل گیا اور چھوٹے دونوں کو  ۔بھی بلا لیا۔ ماں کو بھی لے گئے۔ وہیں شادیاں کیں اور مرنے جینے پر بھی نہیں آئے۔ ایک کی تو قبر بھی وہیں بن گئی۔ ارے لال حسین، جب انہوں نے رشتہ توڑ دیا اپنی قبریں بھی الگ کر لیں تو تُو کیوں ان کا غم کرتا ہے۔ ” وہ لال حسین کے اٹھ جانے پر کم و بیش یہی الفاظ دہراتیں۔

آٹھویں جماعت میں پہنچنے تک زہرا نے لال حسین کے تقریبا سارے کام اپنے ذمے لے لیے۔

اس روز زوروں کا جھکڑ آیا اور بی بی کو بھی ساتھ بہا کر لے گیا۔ وہ بی بی کا سرد ہاتھ تھامے اس وقت تک بیٹھی رہی جب تک ان کا ہاتھ اپنی جگہ لکڑی کی مانند نہیں ہو گیا۔ وہ ڈر کے مارے دور جا بیٹھی۔

بی بی کیا گئیں، اس کا بچپن اور سکھیوں سہیلیوں کے سنگ کیکلیاں ڈالنا اور قلانچیں بھرنا بھی ساتھ ہی لے گیئں۔

لال حسین ایسا خاموش ہوا کہ ضرورت سے زیادہ بات کرنا ہی چھوڑ بیٹھا۔

آنکھوں میں نمی کہ تہہ برسہا برس سے جمی تھی۔ زہرا کو لگتا یہ نمی فضا میں گھل کر دیواروں اور فرش تک کو چمٹ گئی ہے حتیٰ کہ اس کا اپنا وجود بھی ان دیواروں کی طرح سیلن زدہ ہوتا جا رہا ہے مگر نمی ہے کہ جوں کی توں ہے۔

لالحسین کی صحت روز بہ روز گرتی چلی گئی اور ذہن نے بھی ساتھ چھوڑنا شروع کر دیا۔ پہلے پہل تو وہ زہرا کا نام بھول جاتا۔ چیزوں کے نام بھولنے لگا۔ جہاں بیٹھتا گھنٹوں وہیں بیٹھا رہتا۔ روتا تو روتا رہتا۔ وہ اسے دلاسے دیتی۔ اس کی صحت کا خیال رکھتی مگر لال حسین کے درد کا کوئی اپائے نہ ہوا۔ دیمک کی طرح کوئی دکھ لال حسین کو اندر ہی اندر چاٹنے لگا تو تھک کر اس نے عقل و شعور سے فرار کی راہ اختییار کی اور یوں لال حسین بچہ بن گیا۔ نادان، نا سمجھ اور خاموش۔

زہرا کی موٹے اور جلے ہوئے کناروں والی روٹی کھاتے، جانے کب لال حسین نے اسے بی بی سمجھنا شروع کر دیا۔

یہ تو نہ زہرا کو سمجھ آئی نہ لال حسین کو۔

زہرا اسے سفید کپڑے پہنا کر تیار کرتی۔ دو گھڑی کسی کام میں مصروف ہو کر اس سے لا پرواہ ہوتی تو وہ سیڑھیاں اتر کر گلی میں کھسک جاتا۔ کہیں بھی ذرا سا جمع ہوا پانی دیکھتا، اس میں کود کر مٹی نکالتا اور وہیں زمین پر نقش و نگار بنانے بیٹھ جاتا۔ وہ سر نکال کر جھروکے میں سے جھانکتی اور بنا چپل اور دوپٹے کے تیز تیز دو دو سیڑھیاں پھلانگتی اس کو جا پکڑتی۔ ” اوئے ؒال حسین۔ میں تیرا کیا کروں ؟ ” وہ اسے دھموکے جڑتی گدلے بدبو دار پانی میں سے اٹھاتی اور بازو سے پکڑے ہانپتی کانپتی ہوئی، سیڑھیوں پر سے کھینچتی اور اوپر لا کر نل کے نیچے بٹھا دیتی۔

” ہائے لال حسین ! ابھی تمہیں نہلایا تھا۔ کیا حال کر لیا تو نے اپنا۔ “

وہ اس کو کسی ننھے بچے کی طرح صابن کی ٹکیہ مل مل کر نہلانے لگتی۔ مگر وہ بچہ ہی تو نہیں تھا۔ وہ تو پینسٹھ سالہ لال حسین تھا اور وہ زہرا بنت لال حسین۔ لال حسین کپڑے بھی خود سے پہننا بھول چکا تھا۔ ہاتھ ہی نہیں جسم بھی ڈھیلا چھوڑ دیتا اور زہرا کو اسے کپڑے پہناتے ہوئے کبھی تو یاد بھی نہ رہتا کہ وہ اس کا باپ ہے اور مرد ہے اور کبھی یاد آتا تو آنکھیں بند کر لیتی اور دوسری طرف منھ کر کے اس کا پاجامہ بدلنے لگتی۔

” ہائے لال حسین ! تو کتنا پیارا لگ رہا ہے” وہ تالیاں پیٹتے ہوئے ہنستی چلی جاتی۔

ان دنوں سردیاں عروج پر تھیں۔ ٹھنڈے پانی نے اپنا کام کر دکھایا اور لال حسین بخار میں پھنکتا ہوا چار پائی سے جا لگا۔ جیسے تیسے محلے کے ڈاکٹر کو گھر بلا لائی۔

جوان ڈاکٹر کے ساتھ سیڑھیاں چڑھتے ہوئے وہ لحظہ بھر کے لیے خوفزدہ ہوئی۔ جوانی دل پر آئے نہ آئے بدن پر تو گھیرا کئے ہوئے تھی اور اس کا ادراک دوسری جوان لڑکیوں کی طرح اسے بھی تھا۔

اگلے ہی لمحے اس نے خوف جھٹک دیا۔ ” ارے ڈر کیسا ؟ لال حسین جو ہے۔۔۔۔” وہ مطمئن اور کسی حد تک بے نیاز ہو گئی۔ یہی بے خوفی اور بے نیازی سامنے والے کو کسی اشتعال کا موقع ہی نہ دیتی۔

منھ پھٹ بھی تو غضب کی تھی۔ ایک بار دوکاندار نے دہی کا شاپر پکڑاتے ہوئے اس کا ہاتھ پکڑا تو اس نے جوتے اتار کر اسے اتنا مارا کہ اس کے بعد ارد گرد کے سارے دوکانداروں کو اس کے جوان روپ کی طرف آنکھ اٹھاتے ہوئے کئی بار خود سے اجازت لینا پڑتی۔

لال حسین کا بستر سے اٹھنا محال ہو گیا تو اس نے نیچے کرائے پر اٹھائی دکانوں سے حکیم جی کو بلایا جو حکمت کے ساتھ ساتھ دم درود بھی کر دیا کرتے تھے۔ ان سے کہہ کر ایک لڑکا بھی کچھ دنوں کے لیے تنخواہ پر رکھ لیا۔

لڑکا تین روز تو رہا پھر بہانہ بنا کر ایسا گیا کہ واپس ہی نہ آیا۔ اس نے حکیم صاحب کو بتایا تو کہنے لگے وہ کہتا ہے مجھے حویلی سے ڈر لگتا ہے۔

تھرما میٹر لگا کر دیکھا، بخار اب با لکل نہیں تھا البتہ لاغر پن میں اضافہ ہو چکا تھا۔ وہ اس رات پاس پڑی چارپائی پر ہی لیٹ گئی۔ لال حسین اٹھنے لگا تو چکرا کر بستر پر ہی ڈھے گیا۔ اس نے تیزی سے اٹھ کر اسے تھام لیا۔ اس کے اشارہ کرنے پر وہ اسے باتھ روم تک لے آئی۔ بڑی مشکل سے سہارا دے کر بٹھایا کیونکہ بغیر سہارا اس سے بیٹھا بھی نہیں جا رہا تھا۔ وہ اسے کندھوں سے تھام کر وہیں کھڑی ہو گئی۔ لال حسین نے دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر اسکا سہارا لے رکھا تھا۔

فارغ ہوا تو لحظہ بھر کے لیے اسے جھجک  سی محسوس ہوئی مگر پھر دھونے کے لیے اسکے پچھلی جانب جھک گئی۔

دن رات کی دیکھ بھال سے وہ آنے والے چند دنوں میں ہی ٹھیک ہو گیا۔

اس دن اس نے اس کی مونچھیں تراشیں، شیو بنائی، تیل کی مالش کی، تولیے کو گرم پانی میں بھگو کر اچھی طرح اس کے سارے جسم کو صاف کیا۔ پاوڈر چھڑکا اور استری کیا ہوا لش پش کرتا، کرتا پاجامہ پہنایا۔ مُشک کی شیشی الٹ دی۔جب وہ اس کی پھٹی ایڑھیوں پر ویسلین لگا رہی تھی تو لال حسین ہچکیوں سے رونے لگا۔ وہ اٹھی اور دوپٹے کے پلو سے اس کے آنسو صاف کرنے لگی۔ مگر پھر نہ جانے کیا ہوا کہ وہ خود بھی لال حسین کے سر پر بوسہ دیتے ہوئے بے آواز آنسووں سے رو پڑی۔

” میرا  حویلی کے درو دیوار جیسی اونچی شان والا لال حسین۔ جب تم بیمار تھے نا تو میں نے گھر کے ہر گوشے میں تمہیں دیکھا۔ تب مجھے پہلی بار پتہ چلا کہ میں کیا کچھ کھونے والی ہوں۔” وہ اس کے بالوں میں کنگھی سے زیادہ انگلیاں پھیرتے ہوئے کہہ رہی تھی۔

“اور تب ہی مجھے پتہ چلا کہ تم میرے لیے کتنے اہم ہو۔ میں نے تمہارے ہاتھ سے کیے کام ہاتھ لگا لگا کر دیکھا۔ تم کتنے بڑے آدمی ہو۔ تم نے کتنا کام کیا ہے۔ اتنی چھوٹی عمر میں اتنا خوبصورت کام۔ اب تو تمہاری انگلیاں نا ممکن کو بھی ممکن بنا دیتی ہوں گی۔ تمہارے جیسے لوگ تو اپنے ملک و قوم کا فخر ہوتے ہیں۔ جی چاہتا ہے تمہیں سلام کروں۔ ” ماتھے پر ہاتھ رکھ کر جھٹ سے اس نے سلیوٹ کیا۔

لال حسین کی آنکھوں کے کناروں سے سمندر بہہ نکلا۔ وہ پاگل کب تھا۔ سب جانتا اور سمجھتا تھا۔ وہ تو اپنے فن کو اپنی آیئندہ نسل میں منتقل نہ کرنے پر غمگین تھا۔اپنے پرکھوں سے شرمسار تھا مگر کفارہ تھا کہ ادا ہی نہ ہو پاتا تھا۔

” لال حسین ! تم ایسا کیوں نہیں کرتے کہ مجھے سب سکھا دو۔ ” زہرا کو اچانک خیال سوجھا۔

دیواروں میں پیوست آیئنوں میں نظر آتی اڑتی تتلی رشک سے ساکت ہو گئی۔

کتنے ماگھ گزرے، ہاڑ کی جلتی شامیں بیتیں، جانے والے واپس نہ آئے کہ ان کے ہاتھ فن کار کے ہاتھ نہ تھے۔ بڑے بد نصیب ہاتھ تھے۔

اور وہ سچے فن پارے تراشنے کا نصیب ساتھ لائی تھی۔

وہ چوڑیوں سے خالی کجلایئوں والے ہاتھوں کو حیرت سے دیکھنے لگا جن کی اوک میں پارس پتھر بنانے کی ترکیب پڑی تھی۔

فنکار چاہتا ہے اسے یاد رکھا جائے مگر یاد رکھنے والے دل بڑے خالص ہوتے ہیں۔

زہرا بنت ؒال حسین کا دل بھی بڑا خالص تھا۔ وہ ٹوٹے ستارے کو متھی میں جگنو بنا چکی تھی۔ جگنو اڑنے سے پہلے اپنی روشنی اس اندھیری مٹھی میں بھر رہا تھا۔

لال حسین، روٹی پر سالن رکھ کر کھانے والی کے ہاتھوں میں چھپے فنکار کو دیکھ رہا تھا۔ جن کے پیدا ہونے پر بتاشے بانٹے وہ پنکھ بن کر اڈاری بھر گئے اور وہ بتاشوں پر مور پنکھ جیسا رقص کرتی رہی۔ وہی جس نے لال حسین کی پگڑی، میلی نہ ہونے دی، جوتوں پر گرد نہ ٹھہرنے دی۔

پھٹی ہوئی چادر میں پرکھوں کی آبرو چھپائے اس کے جھکے ہوئے کندھے کے ساتھ کندھا ملا کے یوں آن کھڑی ہوئی جیسے موسیٰ کے ساتھ ہارون۔

مٹی کے بت کے کان میں کن کہا جا رہا تھا اور وہ فیکون کی صورت میں اٹھ کر بیٹھ گیا۔

” جب تم مجھے سکھا دو گے ناں تو ہم ٹائلز نما پچی کاری، شیشہ کاری اور مینا کاری کے چھوٹے چھوٹے اقلیدی نمونوں کے ٹکڑے مختلف بڑی کمپنیوں کو فروخت کریں گے۔۔۔” وہ اس کی امید زندہ کرنے لگی۔

لال حسین اس کا معصوم سا چہرہ تکتا جا رہا تھا۔ اس کے رعشہ زدہ ہاتھوں کی کپکپاہٹ تیز ہونے لگی۔

اسیں کھڈیاں تے اُنے ہوئے لوک وے

تے لوکی ساڈا مُل لانودے

زہرا کی آواز حویلی کی دیواروں میں گونج رہی تھی۔

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: