کھڑکی ۔۔۔ آغا سہیل

کھڑکی

آغا سہیل

سامنے با لکل سامنے دیوار پر ٹوٹے ہوئے پنکھ کی تصویر آویزاں ہے۔ تصویر کے پہلو میں کھڑکی کھلی ہے۔ نیچے فرش پر دو بڑے بڑے فل بوٹ پڑے ہیں۔ کھڑکی سے باہر کھلا ہوا آسمان ہے جہاں سے پہاڑوں کا سلسلہ نظر آتا ہے۔ پہاڑوں پر برف جمی ہے، اکا دکا ابر کے لکے تیرتے نظر آتے ہیں۔۔ ہوا سرد ہے۔ کھڑکی بند کرنے کی خواہش ہوتی ہے مگر باہر کے نظارے سے جی چرانا اچھا نہیں اس لیے میں بند نہیں کرتا۔

” ڈیڈی ”  کھلونوں سے کھیلتے کھیلتے میری بچی بول پڑی ہے، ” ہیلی کاپٹر وہاں پہاڑ پر کیوں اترا ہے ؟ “

” پولنگ بوتھ بنانے کے لیے آیا ہے۔ “

” وہ کیا ہوتا ہے۔ “

” وہاں ووٹ ڈالے جاتے ہیں۔ “

” مگر وہاں تو ایک ہی آدمی رہتا ہے۔ اکیلا آدمی۔ “

” ہاں اسی اکیلے آدمی کے لیے تو بوتھ بن رہا ہے۔ “

بچی نے کھلونا اٹھایا اور نقلی رائفل میری جانب تان لی۔

” ہینڈز اپ “

میں دونوں ہاتھ اٹھاتا ہوں اور اوپر لے جاتا ہوں، ” بے بی آپ نے پھر وہی کھیل شروع کر دیا۔ “

” مجھے اچھا لگتا ہے۔ “

” مجھے ڈر لگتا ہے بے بی۔ “

میری بچی محظوظ ہو گئی اور رائفل لیے ہوئے باورچی خانے میں میری بیوی کو ڈرانے کے لیے چلی گئی۔ اور میں پھر تنہا رہ گیا۔ تنہا ہوتے ہی میں اٹھا اور اپنے ننگے پاوں جا کر ان جوتوں میں ڈال دیے جو فرش پر پڑے ہوئے ہیں۔ میرے پاوں سات نمبر ہیں اور جوتے کسی طرح بھی دس نمبر سے کم نہ ہوں گے۔ سوکھے، کھٹکر فل بوٹ جن کے اندر سے مرے ہوئے چوہوں کی بدبو نکلتی ہے اور مجھے مرے ہوئے چوہوں سے سخت نفرت ہے۔ میری بیوی کو بھی نفرت ہے۔ میری بچی بھی شدید نفرت کرتی ہے مگر ہم سب کی خواہشوں کے خلاف یہ جوتے یہاں رکھے ہوئے ہیں۔

میری سمجھ میں نہیں آتا کہ اس قدر شدید نفرت کے باوجود میں اکثر ان جوتوں میں اپنے پاوں کیوں ڈال دیتا ہوں۔ اگر میری بیوی اور بچی میری اس حرکت کو دیکھ لیں تو مجھے سخت سست سنایئں مگر مجھے پتہ نہیں کہ تنہائی کا ایک لمحہ بھی میسر آ جائے تو مین اضطراری طور پر جوتوں کے قریب ضرور پہنچ جاتا ہوں۔ جی تو یہی چاہتا ہے کہ انہیں اٹھا کر اتنی دور پھینک دوں کہ پھر کبھی نظر نہ آیئن مگر کیا کروں مجبور ہوں۔ میری بیوی اور بچی بھی مجبور ہیں۔

ہم نے اکثر چاہا کہ ان بوٹون کی موجودگی کو ہم یوں نظر انداز کردین کہ جیسے یہ ہیں ہی نہیں۔ جس طرح شتر مرغ اپنے سر کو چھپا کر سمجھتا ہے کہ وہ پورے کا پورا چھپ گیا ہے اسی طرح اکثر اجنبی مہمانوں کے سامنے ہم ان بوٹوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں مگر کچھ ہی دیر بعد چبھتی ہوئی نگاہوں سے نکلتے ہوئے نفرت اور حقارت کے شعلے ہمیں اپنی غلطی کا احساس دلا دیتے ہیں۔ اور ہم سب شرمندہ ہو جاتے ہیں۔ ان جوتوں کی موجودگی میں ہمارے کمرے کا نفیس ماحول غارت ہو جاتا ہے اور ہمیں یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے تاریخ نے ایک بار پھر اعادہ کیا اور شاہی مسجد کو پھر اصطبل بنا دیا گیا۔ نعوذ با اللہ۔۔

میری بیوی نے تو اپنی سہیلیوں کو بلانا ہی چھوڑ دیا ہے۔میری نبچی تک اپنی کلاس فیلوز کو مدعو کرنا مناسب نہیں سمجھتی۔ ہم سب کے سب بڑے شدید ذہنی کرب کا شکار ہیں۔ اب ہم ان کمبخت جوتوں کی طرف نگاہ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتے مگر یہ ہمارے شعور میں ہر وقت ڈٹے رہتے ہیں۔

” اف ۔”

چائے کا کپ لیے ہوئے میری بیوی داخل ہوئی تو میرے پاوں جوتوں کے اندر گھسے ہوئے دیکھ کر تلملا اٹھی

” یہ آپ کیا کر رہے ہیں۔ “

میں شرمندہ ہو گیا۔

” بانو ۔۔۔۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ میں کیا کروں، یہ کمبخت میرے پاوں میں بھی نہیں آتے۔ “

” اجڈ “

میری بیوی نے گالی دی، معلوم نہیں مجھے یا جوتوں کو، لیکن میں نے یہی سمجھا کہ جوتوں کو دی ہے۔ میں اچھل کر جوتوں کے باہر برآمد ہوا اور چائے کا کپ لے کر کرسی پر جا بیٹھا، شال پیروں پر ڈال لی اور چائے پینے لگا۔

” ہیلی کاپٹر اتر گیا ؟ “

” ہونہہ”

” عجیب بات ہے۔ ایک آدمی کے ووٹ کے لیے اتنا اہتمام۔ “

” رائے ایک آدمی ہی کی کیوں نہ ہو، جمہوریت کے تقدس۔ “

” میں کھڑکی بند کردوں ؟ “

” کیوں ؟ “

” سردی ہے۔”

” ہے تو سہی مگر آسمان نظر آتاہے۔ “

میری بیوی کرسی کے ہتھے پر میرے قریب بیٹھ گئی اور پیار سے میرے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگی اور آہستہ سے بولی

” رات پھر میں نے خواب میں دیکھا۔”

” پھر ؟ “

” ہاں۔ “

” کیا ہوا ؟ “

‘وہی۔ “

” وہی تو خواب میں بھی دیکھتا ہوں۔ “

اسی  لمحے میری بچی بھاگتی ہوئی آئی اور بولی۔

” ڈیڈی رات میں نے خواب یں دیکھا تھا۔ “

” تم نے بھی خواب دیکھا تھا ؟ “

” ہاں ڈیڈی میں نے دیکھا ۔۔۔۔۔۔ میں نے دیکھا۔ “

” کہ یہ جوتے ۔۔۔۔ “

” ارے آپ کو کیسے معلوم ڈیڈی۔’

ہم دونوں میاں بیوی سر نیہوڑا کر بیٹھ گئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جیسے ہم مجرم ہوں

سامنے با لکل سامنے دیوار پر ٹوٹے ہوئے پنکھ کی تصویر آویزاں ہے۔ تصویر کے پہلو میں کھڑکی کھلی ہے۔ نیچے فرش پر وہ بڑے بڑے فل بوٹ پڑے ہین۔ کھڑکی سے باہر کھلا آسمان ہے جہاں پہاڑوں کا سلسلہ نظر اتا ہے۔ پہاڑون پر برف جمی ہے۔ اکا دکا ابر کے لکے تیرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ہوا سرد ہے۔ کھڑکی بند کرنے کی خواہش ہوتی ہے مگر باہر کے نظارے سے نظر چرانا اچھا نہیں اس لیے میں بند نہیں کرتا۔

Similar Posts:

Facebook Comments Box

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Calendar

January 2022
M T W T F S S
 12
3456789
10111213141516
17181920212223
24252627282930
31