سرگرمی ۔۔۔ الطاف فاطمہ


سرگرمی

( الطاف فاطمہ )

گرجاگھروالے بڑے سکول کی بائیں طرف سڑک مڑکر گلی میں داخل ہوجاتی تھی یا پھر گلی موڑ کھاکر سڑک پرچلی آتی تھی۔ چھوٹی سی مختصرسی گلی تھی جس پرریڈیوٹرانسٹرکی مرمت کی دکانیں تھیں۔دوچاروہ بھی بہت معمولی ، گردآلود۔ ایک دکان جوریفریجریٹروں کے چھوٹے سے شوروم کی طرح استعمال ہوتی تھی۔ ایک مرتبہ غم وغصہ کے کسی اظہارکے موقعے پرپبلک نے مٹی کاتیل (ہوسکتاہے پٹرول ہو) چھڑک کرماچس کی تیلی اس پرپھینک دی۔ تیلی پھینکنے والے کوشاید یہ پتابھی نہ ہوگاکہ شوروم کے مالک نے اپناساراجی پی فنڈ اورانشورنس پالیسی فروخت کرکے یہ شوروم بنایاتھا۔ ابھی دوہی فریج نکلنے پائے تھے۔خیربعض لوگوں کاخیال تھاکہ دشمنی اورحسدکانتیجہ تھی یہ حرکت۔ بہرحال وہ دل پکڑکررہ گیا۔ قالینوں کے ایک شوروم میں سیلزمین کے طورپرملازمت کرنے لگا۔ کہتے ہیں ایک دن گاہک کوقالین دکھاتے دکھاتے وہیں لیٹ گیا، پھرنہ اٹھا۔ جملہ معترضہ کچھ زیادہ ہی لمباہوگیا۔ ورنہ کہنے کی صرف یہی بات تھی کہ اسی دکان کے عقب میں پتلاساگیلری نما سرہیرا تھا۔ اسی میں برسوں سے ایک دبلاپتلاساشخص سیکنڈ ہینڈ کتابوں کی دکان لگائے بیٹھاتھا۔

سرہیرے یاگیلری نماکمرے کے چاروں طرف اونچے اونچے لکڑی کے ریکوں پرکتابیں لگاکر جماعتوں کی نشان دہی کردی تھی۔ گتے کے چھوٹے چھوٹے چوکور ٹکڑوں پر۔۔۔میٹرک ، ایس سی (سینئر کیمبرج) غرض کے جی ون سے میٹرک اورایس سی بلکہ ایچ ایس سی کی کتابیں بھی دستیاب تھیں۔

لوگوں کوتعجب بھی ہوتاتھاکہ یہ کیا بات ہے کہ مارکیٹ اور بڑی بڑی دکانوں میں توکتاب ملے نہ۔۔۔ مگراس پرانی سیکنڈ ہینڈ دکان پرکبھی یہ جواب سننے میں نہ آیاکہ کتاب نہیں ہے۔ بات یہ کہ بچوں اوردکان داروں کے درمیان معاہدہ رہتا تھاکہ نتیجہ سنتے ہی پورا کورس بندھا ہوا مجھے دے جاؤ، پھر دیکھو تم جو کتاب مانگو گے، ملے گی۔ یقینی طورپرپاس ہونے کااندازہ لگالینے والے بچے (نتیجے والے دن ) پیسج ڈے کوپورا کورس بندھا ہوا ساتھ لاتے ۔ وہ اس کے بدلے میں اگلی جماعتوں کے کورس لے لیتے، کچھ رقم کے اضافے کے ساتھ۔ سکول کے بچوں نے کبھی اس کانام جاننے کی بھی کوشش نہ کی۔ وہ ’’کتابوں والے سر‘‘ کے نام سے مشہور تھا۔ تقریباًساڑھے تین فٹ کاقد، دبلاپتلا، سیدھاپاجامہ، پرانی وضع کی دھاری دارقمیص۔ چھوٹی سی فرنچ کٹ ڈاڑھی۔۔۔ذرا اندر کو دھنسی چمک دارہنستی ہوئی آنکھیں، آنکھوں پرعینک، منہ میں پان،دل میں بے پناہ قناعت کادریاموجزن۔۔۔ کتابوں کے ہجوم اور انبارمیں دبا بیٹھا رہنے والایہ شخص۔۔۔ بچوں کے لیے خاصے کی چیزتھا۔ سکول سے نکلے، گاڑی یابس کے آنے میں دیرہوئی اوردکان میں جاگھسے۔

صرف کورس ہی نہیں بکتاتھایہاں، اس کی دکان میں کومکس اورکہانیاں، ہانس کرسچن کی کہانیوں کی رنگین تصویری کتابوں سے لے کرچارلس ڈکنز، ہارڈی، شیکسپیئر اوربرنارڈ شاکے علاوہ شارلٹ برونٹے، ڈیفنی دی ماریئر اورڈینس رابنس تک دستیاب۔ اورمیٹرک اور ایس سی کی لڑکیاں شہدکی مکھیوں کی طرح ٹوٹ کر گرتی تھیں۔

دکان کا تمام تر چارج کتابیں تلاش کرنے سے لے کرگلے میں پیسے ڈالنے تک کاعمل بچوں ہی کے ہاتھ میں رہتا۔ بہ یک وقت چار چار پانچ مل کرالماریوں کے اوپر تختوں پر بیٹھے ہوئے کتابیں ڈھونڈرہے ہوتے ہیں۔ ساتھ پڑھ بھی رہے ہیں۔ یہ بھی ہرقسم کی شرارتوں اورغوغاکے درمیان بڑی طمانیت سے اکڑوں بیٹھے ہیں۔ خودہی کتابیں چھانٹ رہے ہیں یا پرانی کتابوں کی جِلدیں باندھ رہے ہیں۔ البتہ کھاناکھاتے وقت بچوں سے لڑنے لگتے، ’’ارے نوالہ حلق سے نہیں اترنے دیتے۔ پانی کاگھونٹ بھی نہیں پینے دوگے؟ نالائقو۔ ‘‘

پھربچوں ہی کے مشورے سے کتابیں کرائے پربھی دینے لگے۔ بس ایک چونی تھماکراچھی سے اچھی کتاب پڑھنے کومل جاتی۔ ویسے ان کی طبیعت میں کاروباری ہتھکنڈے بالکل نہ تھے۔ چاہتے توخودہی آئس کریم رکھ لیتے، مگر انہوں نے ایک بہت نادار شخص کو اجازت دے رکھی تھی کہ دکان کے آگے والے تھڑے پر بیٹھ کرآئس کریم بیچ لیاکرے۔ اسی طرح مصالحے والے، چنوں اورچپس والے کوبھی کبھی نہ ٹوکاکہ کیاآنے جانے کاراستہ روک کربیٹھ جاتے ہو۔ ایسے لفافے تومیں خود رکھ لوں گا۔

ایسی ہلاچلی، غلغل اوربچوں کی معصوم مصاحبت میں کچھ احساس ہی نہ ہواکہ کتنا وقت گزر گیا ہے۔ چونکے تواس وقت جب یہ محسوس ہواکہ وہی لڑکے جوپہلے بندروں کی طرح کتابوں کی الماریوں پر چڑھے یا نیچے اکڑوں بیٹھے دکان کواتھل پتھل کرتے تھے، اب اپنے بچوں کی انگلیاں پکڑے کتابوں کی تلاش میں آنے لگے ہیں۔ پھروہ ننھے منے بچوں کوبتاتے، ’’یہ تمہاری امی توبالکل ہی بندریاتھی، غصہ آجاتاتولڑنے والے لڑکوں کامنہ نوچ لیتی۔ اف اللہ آئس کریم کتنی کھاتی تھی۔۔۔اچھا۔۔۔ اچھا! یہ تمہارے ابوہیں۔ پہلے توبالکل خرگوش ہواکرتے تھے۔ بس سرپرکان نہیں کھڑے تھے۔ ‘‘

ماؤں، باپوں کوکتنااچھالگتاتھا، کوئی کس پیارسے ان کے بچپن کی واردات بیان کرتاتھا۔ ایسے میں بھی بہت وقت گزرگیا۔ دکانوں کے کتنے بورڈ بدل گئے ۔ کتنی نئی دکانیں کھل گئیں۔ حدیہ کہ مشروبات کے نام تک نئے نئے آنے لگے۔

کون سی کولا۔۔۔کون سی کولا۔۔۔یہ کولا، وہ کولا۔۔۔

کتابوں والے سرکابچوں سے بڑامذاق چلتا۔

’’آج کون سی کولاپی کرآئے ہو؟ پتاہے ایک نئی بوتل چلنے والی ہے۔ ڈریکولا؟ ۔۔۔ سر سے پیرتک ڈراکرکپکپی چڑھادینے والی۔ ‘‘

’’ارے بھائی تم اتنی کولائیں پیتے ہو، کبھی لغت میں بھی یہ دیکھاکہ اس کے معنی کیاہیں!پینے سے اس لفظ کاکیاتعلق بنتاہے؟‘‘

’’آپ بتادیں سر۔۔۔‘‘

’’ارے بھائی ڈکشنری میں تلاش کرو۔ ڈکشنریاں دیکھناسیکھو۔۔۔ پھرپیو۔۔۔ ڈکشنری دیکھو، لغت دیکھو،بڑے کام کی چیزہے۔ ‘‘

بچے آکسفورڈ ڈکشنریوں کے پاکٹ ایڈیشنوں پرٹوٹ پڑتے۔ پھراس سلسلے میں ڈکشنریاں بک بھی جاتیں۔ دوڈھائی حدتین روپے میں ڈکشنری ان کی جیب میں پہنچ جاتی۔

وقت دھیرے دھیرے سرک رہاتھا، اورکتابوں والے سرکے پاس اتنی مہلت نہ تھی کہ اس کی رفتارکااحساس کرسکیں۔ بس کبھی کبھارمنہ اٹھاکردیکھتے توایسالگتاجیسے اس جگہ کی اہمیت بڑھ رہی ہے۔ قیمت بہت زیادہ ہوگئی۔ ہرطرف زندگی کی نت نئی غیر ضروری ضروریات کی دکانوں میں اضافہ ہو رہاہے۔ آزوبازو وپلازے اورپینوراماٹائپ عمارتوں کے بننے کی آوازیں آنے لگی ہیں۔ چھوٹی چھوٹی دکانیں لیے بیٹھے لوگوں پر ایک سہم سا چڑھا رہنے لگا۔ مگرکتابوں والے سر کو کیا پرواہ تھی۔ اس اندھیرے، کتابوں اور پرانے کاغذکی مخصوص بُووالے سرہیرے کوکون پوچھے گا۔ وڈیو فلموں، کیسٹوں اوروڈیوگیمزکی دکانیں ابھرتی ہیں ،ابھریں۔ میری سستی لیکن بے بہاکتابوں کی کشش بچوں کواِدھرہی لائے گی۔ وہ مطمئن رہے۔ ویسے بھی طبیعت میں بے صبری ، بے چینی نہ تھی۔ ایک جمود سا تھا جو وجود پر طاری رہتا۔

پرانی کتابوں سے پٹی، سیکنڈ، تھرڈ بلکہ فورتھ ہینڈکتابوں کی وہ گیلری بلکہ سرہیرے نمادکان، ہزاروں روپے ماہانہ پرجس دن اٹھی تووہ ذرابھی نہ چونکے۔ افسردہ بھی نہ ہوئے۔ دل کی حالت توخداہی بہتر بتا سکتا ہے۔ مگریہ کہ چہرے پر شکن بھی نہ آئی۔ دکان کے مالک اورنئے کرایہ دارسے زبانی کلامیStay لیا۔ اور کوئی نہیں جانتاکہ کس سرگردانی اورتگ ودوسے دوچارہوئے ہوں گے۔

آس پاس کی ساری ہی دکانیں دھڑادھڑچلتی تھیں، خاصی رونق رہتی تھی۔ خاص کردرزی خانے میں گاہک پر گاہک ٹوٹتا۔ اس علاقے میں یہی چارچھے دکانیں تھیں نہ بڑی نہ چھوٹی۔ البتہ بائیں ہاتھ کی تیسری دکان، کہتے ہیں شیردہان تھی۔ آگے سے کھلی (شیرکے منہ کی طرح) پیچھے سے پتلی۔ کوئی دس سال سے اس کی زنجیرمیں موٹاسازنگ خوردہ قفل پڑارہتاتھا۔ بس وہی ایک دن آکر توڑ ڈالا۔ ایک چھوٹی سے بالٹی میں قلعی کا چوناتھا۔ پیلارنگ ملاہواایک نئی سی کوچی، خود ہی دکان میں سفیدکرڈالی ۔ مدتوں بعد دکان کورنگ روغن ملاتوجیسے ہنس پڑی، جیسے شیرنے اپنا دہان کھول دیا ہو۔ پیچھے سے ایک ریڑھی پر لدے کتابوں کے بنڈل آتے گئے۔ دن بھر ٹھونک پیٹ کرتے الماریاں فٹ کرتے گزر گیا۔ پسینے میں تربتر ایسے کہ کرتا اتار کر نچوڑ لو۔ پھربھی دل ویساہی ٹھنڈاتھا، عجب دل تھا، عجب دما غ تھا، ہراساں ہوتا ہی نہ تھا۔ لوگ تھے کہ تین تین چارچار مددگاروں کے ہوتے ہاتھ پاؤں پھولنے لگتے۔ وہ اللہ کا بندہ، اکیلا ہی چپ چاپ اپنی کتابیں جماتا رہا۔ بعضے بعضے بنڈلوں پرتوبرسوں برسوں کی گرد جمی تھی۔ پرانے وقتوں کے انگریزی رسالے، کروشیاکے کام، کڑھائی ، بُنائی، کراس سٹیچ کے کاموں کے، مگراب بیبیاں خودکرتی ہی نہیں کچھ۔ خود پڑھتی ہیں یا پڑھاتی ہیں۔ بال سیٹ کرواتی ہیں اورہرچیز، حدیہ کہ ٹکوزیاں تک ریڈی میڈ بنی بنائی خریدلاتی ہیں۔ بس ان ہی بنڈلوں پر سالوں کے حساب سے گرد کی تہیں جمی تھیں۔ کوئی پوچھتا نہ تھا ان کو۔ کاغذپیلے پڑتے پڑتے خاکستری ہونے لگے تھے۔ ایسی تمام کتابیں اور رسالے ترپالوں میں باندھ کرکباڑیوں کے لیے الگ رکھتے گئے۔

تب ہی خواجہ قسیم نے آکرمعمولی صاحب سلامت کے بعد، اس دکان کی شیردہانی کے قصے سنانے شروع کردئیے۔

’’یہ دکان چلتی ہی نہیں۔۔۔ کبھی نہیں چلی۔ ‘‘

پریوں کے دیس سے آئے ہوئے بونے جیسا انسان(سکول کے بچوں کے کتابوں والے سرکے بارے میں یہی ریمارکس ہوتے تھے) مسکرایا۔ بچوں کی صحبت میں رہتے رہتے، کتابوں والے سرکی حسِ مزاح بہت بڑھ گئی تھی۔

’’ارے صاحب، یہ توشیردہان ہے۔ کہتے ہیں جو عمارت، جو دکان حد یہ ہے کہ بسے بسائے مکانوں میں بھی جوکمرا یادالان شیردہان ہو،وہ اپنے اندر کسی کو آباد نہیں ہونے دے گا، فلاح نہیں پانے دے گا۔ خود کھنڈربن جائے گامگربستی کوبرداشت نہیں کرے گا۔ ‘‘

خواجہ قسیم کوجواب دینے کی بجائے دل میں سوچ رہے تھے۔ توکیامیری وہ پتلی لمبی گیلری نما دکان بھی ایک دم ہی شیردہان ہوگئی ہے۔

اگرچہ یہ دکان بھی سکول سے بہت فاصلے پر نہ تھی لیکن درمیانی سڑک پرگاڑیوں، بسوں اور ویگنوں نے ایک دم ہی تیزچلناشروع کردیاتھا۔ یا پھر یہ بات تھی کہ پہلے بچوں کے ہجوم اور غلغل میں ایسی باتوں پر نظرہی نہ پڑتی تھی۔ اور سکول کی اس قریبی گلی سے ان کی موجودہ گلی تک آنے میں دوزیبرا کراسنگز پڑتی تھیں جن کے سرے پروہ خودہی آدھاآدھاگھنٹہ راہ کھلنے کے انتظارمیں ہی کھڑے رہتے۔

مسخری مسخری ہنستی ہوئی شکلوں، بندروں جیسی عادتوں والے، ساری دکان کی کتابیں بکھیر دینے والوں سے فراق کاسبب بن گئی تھیں، یہ تیزرفتارگاڑیاں اور مصروف راہیں۔ کچھ عرصہ تو دکا ن جمانے اور ٹھیک ٹھاک کرنے میں ہی گزر گیا۔ لیکن فرصت سے بیٹھنے کے بعد وہ چہرے ، وہ شوخیاں بہت یادآئیں، ملول سے رہنے لگے۔

پھر ایک اور بات کااحساس ہونے لگا کہ اب بچوں کو سیکنڈ اور تھرڈ ہینڈ نصابی کتابوں سے دلچسپی نہیں رہی۔ نہ پرانا کورس دیتے ہیں، نہ لیتے ہیں، حالاں کہ سکول زیادہ دور نہ تھا۔ اب ان کوچونی دے کر کتابیں چاٹنے کا چسکا بھی نہ رہا تھا۔ حالاں کہ آتی دفعہ د کان کی تبدیلی اور نئی دکان کا پتہ چھپوا کر پرچے ان سکولوں میں تقسیم کر آئے تھے جہاں جہاں ان کی کتابیں جاتی تھیں۔

پھریہ محسوس ہونے لگاکہ اب کوئی چارلزڈکنز، ہانس کرسچین اورکیٹس کونہیں پوچھتا۔ شیکسپیئر اور برنارڈشاکی جِلدیں اپنی جگہ پرٹھیک ٹھاک رہنے لگیں۔ کیا تو حلق سے نوالہ اتارنامشکل تھا۔۔۔ کیااتنی فرصت رہنے لگی کہ دکان کے بیچ وبیچ آرام سے چٹائی پھیلاکراطمینان سے سوتے رہتے۔

خواجہ قسیم کوجب بھی موقع مل جاتا،آبیٹھتے۔ اِدھراُدھرکی بات اورپھروہی بات۔۔۔

’’یہ شیردہان ہے۔ ‘‘

’’یہ چلے گی نہیں۔۔۔ وہ بھورے مرزا کا حال یاد ہے۔۔۔ ‘‘وہ کسی پاس بیٹھے سے گواہی حاصل کرنے لگتے۔’’بس مکھیاں ہی ماراکرتے۔ اونگھتے رہتے تھے، دکان میں بیٹھے۔ گھروالی نکل گئی تھی تنگ دستی سے گھبراکر۔ دس سال کاایک لڑکابھی ۔ بس ایک دن تانگہ بلایا۔ لڑکے کی انگلی پکڑی۔ بکسا تانگے میں دھرا اور ایسی گئی کہ شکل نظرنہ آئی بھورے مرزاکو۔‘‘

وہ اس قصے سے گھبرانے لگے۔

’’یار کوئی اور بات کرو۔۔۔ تمہاری باتیں سن کربرے برے خواب آتے ہیں۔ جیسے بڑے بڑے سیلاب آرہے ہوں اور میری ساری کتابیں ان کی لہروں کے ساتھ بہی جارہی ہوں۔‘‘

تھوڑا وقت اور گزرا تو کورس کی پرانی کتابوں کے علاوہ انہوں نے وقت کی ضرورت سمجھ کر اردو کے رسالے، اردوکی کتابیں رکھ لیں۔ اونچی قسم کے افسانے، اعلیٰ درجے کی ناولیں، کلاسیکی شعراء کے مجموعے، نئی تنقیدیں ، نئی شاعری۔ سب ہی کتابیں پرانی کتابوں کی صورت میں جمع کرلی تھیں۔

بعض وقت وہ حیران ہو کر کہاکرتے تھے، ’’یہ ایسی کتابیں لوگ بیچ کس دل سے دیتے ہیں۔‘‘ وہ بھی الماری میں اپنی اپنی جگہ مقیم رہیں۔ اگرکوئی کبھی ہاتھ میں لے کرقیمت پوچھ لیتا تولرز کر واپس رکھ دیتا، ’’پرانی کتاب اوراتنی گراں۔۔۔ ‘‘

وہ بھی اب ذرا تیزی سے جواب دینے لگے تھے۔

’’دنیابھرکی گراں چیزیں توفخریہ خریدیں گے۔ مگرکتاب کہ جس میں لطافتِ خیال اوردانش کے موتی ہوں گے، دس پانچ کی بھی مہنگی لگتی ہے۔ ‘‘

پھروہ سمجھانے لگتے۔ ’’بھائی میں سستی کتاب اس لیے بیچتا تھا کہ پرانی کتابوں والے کوڑیوں کے مول بیچتے تھے میرے ہاتھ، اوراب میں اتنی مہنگی خریدوں تو۔۔۔‘‘

وہ رک جاتے۔ خیرچلواب نیاتجربہ بھی کرتے ہیں۔ خیال میں آتا۔

دکان میں جاسوسی ناولیں، رومانی رسالے اورڈائجسٹ نظرآنے لگے۔ ان کے دوچارپچھلے ملنے والے جو زیادہ تر چونی دے کرپڑھتے، پھر راہِ ورسم بڑھ جانے پردکان میں بیٹھ کر فری مطالعہ کرنے لگے۔ دکان میں بیٹھ کرپڑھنے والوں کاان کے یہاں کوئی معاوضہ نہ تھا۔ وہ اعتراض کرتے۔

’’یہ کیا یار، کیا لاکر جمع کرلیا۔ ریڈر کا مذاق بگاڑدوگے۔ ‘‘

’’یہ تمہاراقاری رہ کہاں گیاہے۔ وہ تواب ناظر ہے۔ ناظر بس دیکھتاہے۔ ‘‘

کتابوں والے سرکی عادت نہ تھی کہ وہ کسی چیزکے تعارف سے گھبرائیں یااسے ہدفِ ملامت بنائیں۔ یہی سبب تھاکہ انہوں نے کبھی وی سی آر یا وڈیو کو الزام نہ دیا۔ اگرچہ پہلووالی گلی میں وڈیوگیمزکی دکان کھل چکی تھی اور بچوں کو اس درجہ متوجہ کرچکی تھی کہ چھٹی کے اوقات میں ادھرہی امنڈتے تھے۔ وہ تویہ کہا کرتے تھے، ’’ارے بھائی یہ تومشینیں ہیں۔ یہ بھلا آدمی کاکیا بگاڑ سکتی تھیں۔ بھلاکیوں کر چڑبیٹھیں وہ تو آدمی نے خودہی اپنے آپ پرچڑھالیاہے ان کوبلکہ خودچڑھ بیٹھاہے۔ ارے یہ مشینیں توبڑی کام کی ہوتی ہیں۔ انسانی عظمتوں اورقوتِ تسخیرکا نشان۔۔۔ان کوبھی غلط غلط طریقے پر استعمال کرکے ذلیل کررکھاہے۔‘‘

جب سے کتابوں کی دکان پر بیٹھے پڑھا ہی کرتے تھے۔ ذرا وقت ملتا اور مطالعہ شروع ہوجاتا، اس لیے بے تکان بول لیتے تھے مگر عام حالت میں کم سخن ہی نظرآتے۔

ان کوبڑی ناراضگی تھی۔ ’’یہ بہت ہی نیاآدمی اپنی مشینری سے کام نہیں لے رہاہے۔ ان مشینوں کے ہاتھوں بیچ دیاہے۔ ‘‘

وہ ریڈرشپ کی کمی کارونابھی نہیں روتے تھے۔ کہاکرتے تھے، ’’ یہ وقت کی آوازہے۔۔۔ بس اب کتاب کاعہد ختم ہوا۔ ‘‘

کسی نے ایک مرتبہ مشورہ دیاکہ علاوہ کتابوں کے کچھ کیسٹ وغیرہ رکھ لو۔کچھ اورجنرل سٹور والاسامان لگادیکھو۔

غصہ توآتاہی نہ تھا۔ چیں بجیں بھی نہ ہوئے۔ پان چباتے چباتے بس اتناکہا، ’’نہیں بھائی۔۔۔ ملوث نہیں کروں گااس کام کوکسی دوسری چیزسے۔ کتاب توبس کتاب ہے۔ اس کاایک تقدس ہے۔ ‘‘

بس ایسی ہی باتیں کرتے کرتے ڈاڑھی کڑبڑی ہوئی اورپھربالکل ہی جھک سفیدہوئی۔

بس ایک دفعہ ہی دکان پربیٹھناموقوف کردیا۔ یہ بات نہیں، مر ے مرائے نہیں تھے۔ بس جیسے دل ہی مرگیاتھا۔

بہت مہینے گزرگئے توایک نوجوان نے آکر دکان کا تالا کھولا۔ ترپالوں سے ڈھکے کتابوں کے بنڈل ریڑھیوں پرلدواکرکباڑیوں کے پتے دے کر بھیج دئیے۔ سب شیکسپیئر، برنارڈشا، موپاساں، دوستووسکی، چارلس ڈکنز۔۔۔ میر، غالب کے نسخے، سرسّید کی آثار الصنادید، گھربیٹھے دل کیسا داغ داغ ہوا ہوگا اس اُفتادپر۔

اس نوجوان نے دکان کونئے سرے سے آراستہ کیا۔ مشہور مشروبات کے بورڈ آویزاں کیے، ایک ایک پر کیسٹ سجائے۔ ایک کاؤنٹرپر کافی کی بوتل، پیالیاں اور پرکیولیٹردھرا۔ کہتے ہیں دکان تھوڑی تھوڑی رینگنے سی لگی، پھرخودکبھی ادھر نہ آئے۔

ایک مرتبہ خواجہ قسیم کومل گئے تھے، راستے میں۔ کہنے لگے، ’’میاں، تم کہتے تھے یہ دکان شیردہان ہے۔ میں کہتاہوں یہ وقت شیردہان ہے۔ لینے نہیں دے رہاہے کسی کو۔ کسی کی آبادکاری پسندنہیںآرہی ہے اس کو۔۔۔

تخریب کاریاں۔۔۔ سازشیں۔۔۔ ریشہ دوانیاں۔۔۔ جنگوں کی دھمکیاں۔۔۔ خون ریزیاں، یہ سب کیا ہیں۔ آبادکاری کے نقشے مٹانے اوربستیوں کوکھنڈربنانے کے آثار۔

خواجہ قسیم میری مان لو۔۔۔ دکانیں نہیں، یہ وقت شیردہان ہے۔

کتاب جیسی معصوم شے کوبھی کھاگیا، مٹادیا۔۔۔‘‘

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: