کچے شہتوت ۔۔۔ انور زاہدی

کچے شہتوت

انور زاھدی

بہار کے شروع شروع کے دن تھے۔ ہوا کے جھونکوں میں ہرطرف پھولوں کی مہک ایسے بسی تھی جیسے قدرت نے آسمان سے زمین پر چاروں طرف ائیر فریشنر سے اسپرے کر دیا ہو۔۔۔ یہ جن دنوں کا ذکر ہے میں شاید آٹھویں کے امتحان سے فارغ ہو کر نویں کلاس کی تیاری میں مگن تھا۔۔۔۔

عجب عمر تھی اور عجیب دن۔۔۔ اپنی ذات کے علاوہ مجھے کچھ دکھائی ہی نہیں دیتا تھا۔۔۔ میں اپنے کمرے میں بیٹھا کچھ پڑھ رہا تھا کہ ممی نے آواز دی۔۔۔ باہر نکلا تو وہ کچن کے دروازے میں کھڑی تھی۔۔۔ وہیں انہوں نے مجھے بلا کر پیسے دئیے اور مارکیٹ سے بسکٹ اور ومٹو سکواش کی ایک بوتل لانے کو کہتے ہوئے تاکید کی۔۔۔

رومی۔۔۔ دیکھو ہمیشہ کی طرح کھیل میں نہ لگ جانا۔۔۔ تمہارے پاپا کے ایک دوست اپنی فیملی کے ساتھ ہمارے ہاں آرہے ہیں۔۔۔

میں نے ہمیشہ کی طرح ممی کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے پیسے لیے اور سائیکل نکال کر گھر سے نکل کھڑا ہوا۔۔۔ کوئی آدھے گھنٹے کے بعد جب گھر پہنچا توایک ریڈی میڈ بہانہ میرے پاس موجود تھا اور وہ میں نے ممی کے سامنے نہایت سلیقے سے پیش کرتے ہوئے کہا۔

ممی گھر کے قریب والی مارکیٹ سے بسکٹ تو مل گئے تھے۔۔۔ لیکن ومٹو سکواش کی بوتل لینے کے لیے مجھے صدر بازار جانا پڑا۔۔۔

ممی نے گھورتے ہوئے مجھے شک بھری نظروں سے دیکھا۔۔۔ اور کچن میں چائے بنانے میں لگ گئیں۔۔۔

میں بجائے ڈرائنگ روم میں جا کر پاپا کے دوست اور ان کی فیملی سے ملتا وہیں سے واپس اپنے کمرے میں آگیا۔۔۔ اور دوبارہ اپنی کتابوں میں کھو گیا۔۔۔ کچھ ہی دیر گزری ہو گی کہ پاپا کی آواز آئی۔۔۔

ارے بھئی رومی۔۔۔ ادھر آؤ بیٹے۔۔۔ میں ڈرائینگ روم میں پہنچا۔۔۔ تو وہاں پاپا اور ممی کے علاوہ۔۔۔ پاپا کے دوست اپنی مسز اور ایک لڑکی کے ساتھ بیٹھے تھے۔۔۔میں نے ایک سرسری نظر وہاں بیٹھے ہوئے لوگوں پر ڈالی۔۔۔ پاپا کے دوست اوران کی بیگم کو چھوڑتے ہوئے جب میر ی نظر وہاں موجود اپنی ہم عمر لڑکی پر پڑی تو اس میں مجھے کوئی ایسی خاص بات نہ نظر آئی۔۔۔جس کے باعث میں اسے کوئی اہمیت دیتا۔۔۔ ہاں البتہ ایک چیز جو مجھے پہلی ہی نظر میں محسوس ہوئی تھی وہ اس لڑکی کے دیکھنے کا مخصوص انداز تھا۔۔۔ اس کے چہرے پر دو بڑی بڑی سیاہ آنکھیں نہ صرف جاذب نظر تھیں۔۔۔ بلکہ وہ اس لڑکی کے ذہین اور خود اعتماد ہونے کی غماز بھی دکھائی دیں۔۔۔

لطیف صاحب ۔۔۔ یہ میرا بیٹا رومی ہے۔۔۔ اور پاپا میری طرف مڑکے کہنے لگے۔۔۔

بیٹے یہ آپ کے انکل اور آنٹی ہیں انہیں سلا م کریں۔۔۔ اور ہاں یہ ان کی بیٹی۔۔۔ انیلا ہے۔۔۔تم ۔۔۔ایسا کرو انیلا کو اپنے ساتھ کمرے میں لے جاؤ یا پھر باہر لان میں جا کر کھیلو کودو۔۔۔

میں نے کمرے میں موجود پاپا کے دوست اوران کی مسز کو سلام کیا اوران کی بیٹی انیلا کو اپنے ساتھ چلنے کے لیے بددلی سے دعوت دے دی۔۔۔

ہاں ہاں ۔۔۔ بیٹی انیلا جاؤ۔۔۔ اور رومی کو اپنا دوست بنالو۔۔۔ پاپاکے دوست لطیف صاحب نے اپنی بیٹی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔

انیلا وہاں سے اٹھ کر میرے ساتھ ڈرائنگ روم سے باہر نکل آئی۔۔۔ صحن میں برآمدے کے دروں میں لگی بیلوں کو دیکھ کر وہ ایک لمحے کو رکی اور مجھ سے پوچھنے لگی۔۔۔

یہاں۔۔۔ پودے۔۔۔ میرا مطلب ان بیلوں سے ہے۔۔۔ یہ کس نے لگائے ہیں۔۔۔؟

میں نے انیلا کی بات سنی ان سنی کرتے ہوئے کہا۔۔۔

یہ شوق میری ممی کا ہے۔۔۔ ان کا بس چلے تو سارے گھر کو باغ میں بدل ڈالیں۔۔۔

میری بات کو سن کر وہ حیرانی سے مجھے دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ تمہیں پودے۔۔۔ بیلیں۔۔۔ اور پھول اچھے نہیں لگتے۔۔۔؟

پہلی بار اس لڑکی کی بات سن کر جسے اب تک میں نے کوئی اہمیت نہیں دی تھی۔۔۔ میں اپنے خیالات کے گرداب سے باہر آگیا۔۔۔ اور چونک کر اسے حیرت سے دیکھا۔۔۔ وہاں میرے سامنے ایک تیرہ چودہ برس کی دبلی پتلی سی لڑکی۔۔۔ زرد اور سبز پھولوں کی فراک پہنے سفید ساکس اور سکول شومیں ملبوس اپنے کندھے پرجھولتے ہوئے بالوں میں سرخ ربن لگائے اپنی بڑی بڑی سیاہ آنکھوں کو کھولے ہوئے۔۔۔ میری طرف ایسے دیکھ رہی تھی۔۔۔ جیسے صحرا میں سے گزرتے ہوئے کسی دشت نورد کو اچانک کوئی سراب نظرآجائے۔۔۔ اور میں اس محو حیرت لڑکی کو بیچ صحن میں کھڑا یوں دیکھے جارہا تھا جیسے میری آنکھوں کے سامنے چاروں طرف دیوں کے دل اٹھنے سے چاندنا ہو گیا ہو۔۔۔ اتنے میں ممی کی آواز میرے کانوں میں پڑی۔۔۔

رومی۔۔۔ انیلا بیٹی کو۔۔۔ یہاں بیچ صحن میں ایسے کیوں لے کر کھڑے ہوگئے ہو۔۔۔ اپنے کمرے میں لے جا کر بیٹھو۔۔۔ میں تم لوگوں کے لیے ومٹو کے گلاس وہیں لاکر دیتی ہوں۔ ۔۔ تم انیلا کو اپنی کتابیں وغیرہ دکھاؤ۔۔۔ یا پیچھے لان میں جا کر کھیل لو۔۔۔

ممی کی آواز مجھے دشت حیرت سے واپس لے آئی اور میں انیلا کو لے کر اپنے کمرے میں پہنچ گیا۔۔۔

وہ میرے کمرے میں داخل ہو کر ایک بارپھر کمرے کو ایسے حیرت سے دیکھنے لگی۔۔۔ جیسے کوئی ماہر آثار قدیمہ کسی نئی دریافت کو بغور دیکھتاہو۔۔۔ جب میں نے اسے کرسی پر بیٹھنے کو کہا۔۔۔ تو وہ کرسی پر بیٹھتے ہوئے مجھ سے بولی۔۔۔

تمہارانام تو بڑا اچھا ہے رومی۔۔۔ مگر تم اسے کیسے لکھتے ہو۔۔۔؟

انیلا کی بات سن کر میں نے ہنستے ہوئے کہا۔۔۔

اس میں کیاخاص بات ہے یہ تو بہت آسان سا نام ہے۔۔۔

اور میں نے وہیں اپنے سامنے میز پر پڑے کاغذ پر اپنا نام انگلش میں لکھ کر اسے دکھایا۔۔۔ اور کہا۔۔۔

ایسے۔۔۔ کیا اس نام میں کوئی خاص بات ہے۔۔۔؟

میرے لکھے ہوئے نام کو دیکھتے ہی وہ مسکرائی اورکہنے لگی۔۔۔

مجھے معلوم تھا کہ تم یہی لکھو گے۔۔۔ رو م سے رومی۔۔۔ لیکن۔۔۔ روم کا مطلب توکمرہ ہوتا ہے۔۔۔ اور تم کمرہ تو نہیں ہو۔۔۔ تم تو انسان ہو۔۔۔ تمہیں چاہیے کہ اپنے نام کے اسپیلنگ میں۔۔۔ اور کی جگہ۔۔۔یو۔۔۔ کا استعمال کرو۔۔۔ تو لفظ رومی کا صحیح مطلب نکلے گا۔۔۔ اور یہ اچھا بھی لگے گا۔۔۔

میں جواب تک خود کو بے حد عقل مند سمجھا کرتا تھا اپنے سامنے موجود اس چھوٹی سی ایک دبلی پتلی سی لڑکی کے سامنے ہونق بنا۔۔۔ اس کی شکل اسے دیکھے جارہا تھا۔۔۔ جیسے آج سے پہلے کبھی کسی لڑکی کونہ دیکھا ہو۔۔۔ میری محویت کو توڑتے ہوئے آخرکار وہ بولی۔۔۔

رومی۔۔۔ اب میری شکل ہی دیکھتے رہو گے۔۔۔ یامجھے کچھ دکھاؤ گے بھی۔۔۔؟ میری سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ انیلا کو کیا دکھاؤں۔۔۔ میرے کمرے کو تو اس نے داخل ہوتے ہی آثار قدیمہ سے متعلق کر دیا تھا۔۔۔ بالآخر نجانے کیا سوچتے ہوئے میں نے اسے اپنے کامکس نکال کر دکھائے۔۔۔ اتنے میں ممی ٹرے میں ہم دونوں کے لیے ومٹواسکاش کے گلاس اور پھل رکھ کے لے آئیں۔۔۔ انیلا نے بجائے اشکاش کے گلاس اٹھانے کے میرے کامکس کو دلچسپی سے دیکھا اور پھر میری طرف ایک حیرت سے دیکھ کر کہنے لگی۔۔۔

رومی تم کس کلاس میں پڑھتے ہو۔۔۔؟

مجھے یوں لگا جیسے میرا سارا اعتماد اور اپنی ذات کے بارے میں سارا زعم۔۔۔ ہاتھوں پر لگے صابن کے جھاگ کی مانند بہہ گیا۔ میں نے رندھی ہوئی آواز میں۔۔۔ جیسے میں کسی جاب کے حصول کے لیے انٹرویو بورڈ کے سامنے بیٹھا اپنی قسمت کا فیصلہ سن رہاہوں۔۔۔۔ ڈرتے ڈرتے آہستہ سے جواب دیا۔۔۔

نویں میں۔۔۔

میرا اتنا ہی کہنا تھا کہ وہ کھلکھلا کر ہنسی۔۔۔ اور اسکاش کا گلاس ہاتھ میں تھامے ہوئے مجھ سے کہنے لگی۔۔۔

اور ابھی تک کامکس پڑھتے ہو۔۔۔ یہ تو میں نے چھٹی کلاس میں پڑھنا چھوڑ دئیے تھے۔۔۔ اب میں آٹھویں میں ہوں۔۔۔ اور آج کل لوزیا اسکاٹ کا ناول۔۔۔ لٹل ویمن۔۔۔ جو میرے ماموں نے برتھ ڈے پر دیا تھا، پڑھ رہی ہوں۔۔۔ اور تم۔۔۔ تمہارا نام تو اتنے بڑے فلسفی شاعر پر ہے اور پڑھتے کامکس ہو۔۔۔

انیلا نے میرے سارے اعتماد کا بھرکس نکال کے رکھ دیا تھا۔۔۔ میں جواب تک خود کوہر چیز سے لاتعلق سمجھا کرتا تھا۔۔۔ اس دبلی پتلی سانولی سی لڑکی کے سامنے خود کو اس قدر بے بس سمجھ رہا تھا۔۔۔ اور ابھی میں اسی سوچ میں گم تھا۔۔۔ کہ کس طرح اس تیز طرار لڑکی سے اپنی شکست کا بدلہ لوں کہ اس نے کامکس کوو ہیں میز پر رکھتے ہوئے مجھ سے کہا۔۔۔

آؤ باہر لان میں چلتے ہیں۔۔۔ یہاں تمہارے کمرے میں تو کامکس کے علاوہ کچھ اور ہے ہی نہیں۔۔۔

اور میں اس کے کہنے پر فوراً ہی اس کے ساتھ باہر لان میں ایسے چلا گیا۔۔۔ جیسے یا تو خود میں اسی بات کے انتظار میں تھا۔۔۔ اور یا پھر اس بظاہر سیدھی سادی لڑکی نے اپنی باتوں سے مجھے مسحور کر دیا تھا۔۔۔ بلکہ اگر یہ کہوں توکہیں زیادہ مناسب ہوگا۔۔۔ کہ انیلا کی ناقابل فہم شخصیت۔۔۔ اور پھر اس کی باتوں نے مجھے مکمل طور پر مسمرائز کرکے رکھ دیا تھا۔۔۔

لان تمام رات ہونے والی بارش کی وجہ سے دھلا دھلا دکھائی دے رہے تھے۔۔۔ یہ موسم بہار کی شاید پہلی بارش تھی۔۔۔ درختوں اور پودوں پر ہر طرف رنگ بکھرے پڑے تھے۔۔۔ ہلکے ہلکے ہوا کے جھونکوں میں مرطوب موسم کی خنکی کے ساتھ ساتھ لان میں کھلے ہوئے پھولوں کی خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔۔۔

انیلا پلک جھپکتے میں لان کے مرکز میں لگے شہتوت کے درخت کے نیچے جا کھڑی ہوئی۔۔۔ اس نے مڑ کر ایک دفعہ میری طرف دیکھا۔۔۔ جیسے اپنی اس مہم میں مجھے بھی شریک کرنا چاہتی ہولیکن دوسرے ہی لمحے کچھ کہے بغیر درخت پر چڑھنے لگی۔۔۔ میں نے یہ سوچتے ہوئے کہ کہیں وہ گر نہ جائے۔۔۔ پھر یہ بھی سن رکھا تھا کہ شہتوت کے درخت کی لکڑی کچی ہوتی ہے اور اچانک ٹوٹ جاتی ہے۔۔۔ اسے اس بات سے باز رکھنے کی کوشش کی۔۔۔ اور دوڑ کر اسے منع کرنے کے لیے شہتوت کے درخت تک پہنچا لیکن وہ اتنی دیر میں درخت پر چڑ ھ چکی تھی اور میں نیچے کھڑا اسے ایک شاخ سے لٹکتا ہوا کچے شہتوت توڑنے میں مگن دیکھ رہا تھا۔۔۔ اب وہاں میری نگاہوں کے سامنے شاخ سے لٹکتے ہوئے شہتوت کے گچھوں کے بجائے۔۔۔ انیلا کی فراک میں سے نظر آتی اس کی گندمی رنگ کی دبلی پتلی ٹانگیں دکھائی دے رہی تھیں۔۔۔ میں اسی منظر میں گم تھا کہ وہ وہیں شاخ سے لٹکے ہوئے میری طرف دیکھ کر مسکراتے ہوئے بولی۔۔۔

رومی۔۔۔ کیا دیکھ رہے ہو۔۔۔ شہتوت۔۔۔ یا کچھ اور ۔۔۔؟

اور میں جیسے چوری کرتے ہوئے پکڑے جانے کے خوف سے گھبرا کر اپنے دفاع میں کچھ کہنے ہی والاتھا۔۔۔ کہ وہ تڑاخ سے بولی۔۔۔

کیوں نہیں کہتے کہ میری ٹانگیں دیکھ رہے ہو۔۔۔ مگر کامکس پڑھنے والوں کے ہاں تو ہر چیزکامک ہوتی ہے۔۔۔ شاعری تم کہاں سمجھو گے۔۔۔؟

یہ کہتے ہوئے انیلا نے وہیں سے اک دم نیچے چھلانگ لگائی اور مجھ پر آگری۔۔۔ اور ہم دونوں بھیگے ہوئے لان کی گھاس میں ایک دوسرے پر ڈھے گئے۔۔۔ انیلا کا چہرہ میرے چہرے کے اتنا قریب تھا۔۔۔ کہ اس کے ہونٹ میرے ہونٹوں کو مس کررہے تھے۔۔۔ اس کے ایک ہاتھ میں کچے شہتوتوں کاگچھا تھا۔۔۔ جو میرے گالوں کو چھورہا تھا۔۔۔ میری سانسوں میں شہتوت کی مانوس خوشبو کے ساتھ۔۔۔ اس کے گرم جسم کی ایک غیر مانوس مہک بس گئی تھی۔۔۔ جس کی وجہ سے مجھے اپنا سانس بوجھل ہوتا محسوس ہونے لگا تھا۔۔۔ اور لگتاتھا جیسے اگر یہی کیفیت کچھ دیر اور رہی۔۔۔ تو شاید میرا سانس رک جائے گا۔۔۔ ہانپتی ہوئی وہ مجھ پر سے اٹھی اور اپنی فراک کو درست کرتے ہوئے کھڑی ہو گئی۔۔۔ اور میرا ہاتھ تھام کرکہنے لگی۔۔۔

آؤ رومی۔۔۔ اب اندر چلتے ہیں۔۔۔ آج کے لیے اتنا ہی کافی ہے۔۔۔ اگلی بار آؤ ں گی تو تمہارے لیے کچھ کتابیں لاؤں گی۔۔۔

کچھ دیر بعد وہ اپنے والدین کے ساتھ چلی گئی۔۔۔

انیلا کے چلے جانے کے بعد آج پہلی بار مجھے احساس ہوا کہ میرا کمرہ واقعی ایک آثار قدیمہ سے کم نہیں تھا۔۔۔ لیکن انیلا کی کچھ دیر کی موجودگی نے اس کمرے میں۔۔۔ ایک نیا رنگ بھر دیا تھا۔۔۔ دیکھنے میں اک چھوٹی سی دبلی پتلی لڑکی۔۔۔ جسے میں نے پہلی نظر میں درخوراعتنا نہ سمجھا تھا۔۔۔ میری ذات میں اس قدر قلیل سی مدت میں ایک انقلاب برپا کر گئی تھی۔۔۔ میرے بیڈ اور پڑھنے کی میز پر بکھرے کامکس میرا ہی مذاق اڑاتے ہوئے نظر آنے لگے۔۔۔ ٹیبل کے اوپر لگے آئینے میں خود پر نظر ڈالی تو ایسا لگا۔۔۔ نجانے کتنا وقت تیزی سے گزرگیا تھا۔۔۔ یوں لگتا تھا جیسے اس مختصر سے وقت میں۔۔۔ میں ایک نو عمر لڑکے سے ایک نوجوان میں تبدیل ہو گیا تھا۔۔۔ میں نے وہیں ٹیبل کے اوپر لگے آئینے میں کرے آن سے اپنا نام RUMI لکھ ڈالا۔۔۔ لیکن ایک تبدیلی کے ساتھ۔۔۔ او کے بجائے یو سے۔۔۔

Similar Posts:

Facebook Comments Box

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Calendar

January 2022
M T W T F S S
 12
3456789
10111213141516
17181920212223
24252627282930
31