اگر ہنسنا چاہتے ہو تم ۔۔۔ عذرا عباس

اگر ہنسنا چاہتے ہوتم
تو ہنس سکتے ہو
اپنی جیبوں کو جو آنسؤں سے بھری ہوئی ہیں
ان کو باہر جا کر جس جگہ پانی جمع ہے
جھاڑ آؤ
ان کے ضائع ہونے کا ملال نہ کرنا
یہ پھر آجائیں گے
لیکن میں کہہ رہی ہوں
تم کو ہنسنابھی ہے
اتنا کہ جو تمھیں روتے دیکھنا چاہتے ہیں
وہ دھوکا کھا جائیں
اوررونے لگیں
کہ ہم کیوں ہنس رہے ہیں
چلو ان کو چھوڑو
تم یہ تو کر سکتے ہو
کہ اپنے اپنے چہروں سے کہو کہ بسورنا چھوڑ دیں
اور یہ بھی نہیں تو اپنی آنکھوں میں ہنسی کہیں سے مستعا رلے کر بھر لو
تبدیلی کا امکان اب کم ہوتا جا رہا ہے
کم ازکم اپنی چہروں کی بناوٹ کوتو بدل لو
اور انتظار کرو
لفظوں کی ہیرا پھیری کہیں
ہوا میں نہ تحلیل ہو جائے
اور تم اپنے خوابوں کے محل سےخود کو چھڑا نہ سکو
اور کہیں بھول نہ جاؤ
تم کو خوابوں سے باہر جانا ہے

 

Read more from Azra Abbas

Read more Urdu Poetry

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: