اے مرے دلبر ۔۔ دعا عظیمی

نظم

دعا عظیمی

اے میرے دلبر

کاش ایسا ہوتا کہ تو میرا تکیہ ہوتا

میں اس کو کھولتی

اس میں بھرے

روئی کے ریشوں کو اپنی پوروں سے محسوس کرتی

کسی روز سامنے بٹھا کر

تم سے نو سوال کرتی

تمہیں دنیا میں آنا کیسا لگا؟

خشکی اور پانی پانی اور آگ میں کیا رشتہ ہے؟

ہوا خیر بانٹتے بانٹتے

اچانک تیز کیوں چلنے لگتی ہے؟

غریب کی کٹیا کے جلتے اکلوتے چراغ کو بجھا ڈالتی ہے

کبھی ساری بستیاں زیر آب آ جاتی ہیں

زندگی جو قوانین فطرت کے تابع ہے کسی روز سارے قوانین اندھے ہو کے لاٹھی کی طرح برسنے لگتے ہیں؟

زندگی موت سے کیوں کھیلتی ہے؟

توازن توازن توازن کیا ہے

بےترتیبی کا حسن تمہیں بھی کھینچتا ہے؟

کیا تم مہربانوں سے ہمیشہ مہربانی کا سلوک کرتے ہو؟

کھلتے پھولوں کی بے آواز چپ سے واقف ہو ؟

جواب کیوں نہیں دیتے؟

میرے گھر آو نا

یا کسی کلب میں ملو

میرے رقص کے ساتھی بنو

دھنک کی پینگ تک ساتھ چلو

ہمالہ کو چھو کر کہکشاؤں کے راستے بادلوں کے قافلوں کو چھوڑتے بہت دور چاند سے آگے کسی زمیں پر بسیرا کریں گے

Similar Posts:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Calendar

September 2021
M T W T F S S
 12345
6789101112
13141516171819
20212223242526
27282930  
Show Buttons
Hide Buttons