امیر صادقین تم کہاں ہو ؟ ۔۔۔ فارحہ ارشد

امیر صادقین تم کہاں ہو

فارحہ ارشد

شام رے

کون گلی گیئو شام رے

سکھی بتا دے

کون گلی گیئو شام ۔۔۔۔۔۔

سامنے والے گھر کی بالائی منزل کی وہ کھڑکی جو ہمیشہ کھلی رہتی تھی پچھلے ایک عرصے سے بند پڑی ہے اور میں اپنی کھڑکی کے شیشوں سے ناک چپکائے، اس پر جمے گرد و غبار کی دبیز تہہ دیکھ سکتی ہوں۔ بھوری خاک کو اتنی طویل مدت تک بارشوں نے دھونے کی کوشش میں جیسے کھڑکی کے شیشوں پر ہی مل دیا ہے۔

یہ ایک طرح سے اچھا ہی ہوا ہے۔ بند کھڑکی کمرے میں کسی کے موجود نہ ہونے کو ایک واہمے میں بدل دیتی ہے اور یہ یقین کہ اس جانب اب کوئی بھی نہیں ، اس کو ڈانواں ڈول رکھتی ہے۔ آس نراش کے درمیان معلق رکھتی ہے۔ مکمل مایوس ہونے سے بچائے رکھتی ہے اور میں مکمل مایوس نہیں ہونا چاہتی۔ مجھے مایوسی سے خوف آتا ہے۔ آس زندگی ہے۔آس سپنوں کو حقیقت بناتی ہے۔

مجھے مایوس ہونا پسند نہیں۔

مجھے خواب اچھے لگتے ہیں۔

دھندلے دھندلے عکس والے خواب۔۔۔۔۔جہاں اپنا ہی اختیار، اپنی ہی مرضی۔۔۔۔

کوئی جبر و کراہ نہ گھٹن

آزادی

پرندوں جیسی آزادی

پنکھ لگا کر آزاد فضاوں میں اڑتے جانا

اڑتے جانا ۔۔۔ دیوانہ وار اڑتے جانا

دیوانہ وار

بس کن اور فیکون کا کھیل

خواب کے اندر کی دنیا کے سچ سے بڑا کون سا سچ ۔۔۔

رہو ۔۔۔ عمر بھر رہو

یہ بند کھڑکی بھی خوابوں کی طرف جا کھلتی ہے۔ آس کو نراش میں نہیں بدلنے دیتی۔

میں دن میں ہی نہیں رات کو بھی تھوڑے تھوڑے وقفوں سے اٹھ اٹھ کر جانے کتنی بار اس کھڑکی کو خاموشی سے دیکھنے کا عمل دہراتی رہتی ہوں، جیسے ابھی وہ کھڑکی کے پٹ وا کرے گا اور ایک سنجیدہ اور گھمبیر نگاہ ارد گرد کے منظر سے ہوتی ہوئی مجھ پر آن ٹھہرے گی۔

آو ۔۔۔  امیر صادقین

جو سب سے منفرد تھا۔ دنیا کے سارے مردوں سے الگ تھلگ ۔۔۔۔

جو اپنے بنائے ہوئے جہاں کا خود ہی ناخدا تھا۔

جو بڑے کام کرنے کے لیے ہی اس دنیا میں آیا تھا۔

وہ اس سے کہیں زیادہ بے نیاز تھا جتنا دکھائی دیتا تھا۔

جب وہ سوچتا تھا تو اس کا دھیان نہ لگتا تھا۔کسی دور دیس کا باسی ۔۔۔۔ جو بھولے بھٹکے اس دیس میں آ نکلا ہو۔

ہاں وہ ایسا ہی تھا۔

اور جب وہ اپنی سوچ کو بیان کرتا تو آس جاگ اٹھتی ۔۔۔۔۔۔ زندگی کی طرف جانے والے نئے نئے در اپنی تمام تر سچایئوں کے ساتھ وا ہونے لگتے۔ وہ جو بند گلی میں بھی اپنے خیالات کی طاقت سے راستہ بنا لیتا تھا۔

اور جب لکھتا تو ایسا منطقی انداز اختیار کرتا کہ مخالف کو بھی مانتے ہی بنتی۔

پڑھنے والے کے سامنے اپنے نقطے کو مدلل انداز میں رکھتا ہوا ——- نپا تلا انداز مگر اس کی بات اتنی واضح ہوتی کہ خود ہی اپنے نقطے کی تشریح بن جاتی۔ یہی وجہ تھی کہ وہ خاص لوگوں میں ہی نہیں عام لوگوں میں بھی اپنے نظریات و تصورات کا نہ صرف عمدہ پرچارک تھا بلکہ اسکی بات دماغ سے ہوتی ہوئی سیدھی دل میں جا ترازو ہوتی۔

ایسے سنجیدہ موضوعات چنتا جن کی طرف خال خال ہی کسی کا دھیان جاتا۔ ایسی باتیں لکھتا جو پڑھنے والے کی سوچ کو جھنجھوڑتیں اور انہیں اپنی بات پیش کرنے کے لیے اکساتیں ۔۔۔۔ یہی وجہ تھی کہ چند ہی روز میں سوشل میڈیا پر اس کے نام کا طوطی بولنے لگا اور اس کے سٹیٹس نوجوان نسل کی والز پر دھڑا دھڑ شیئر ہونے لگے۔ ایسے ایسے مباحث شروع ہوئے جس سے دانشوران وقت کا ایک مخصوص گروہ ہی نہیں بلکہ وہ طبقہ بھی متوجہ ہو گیا جو اسی کے ہم عصر لکھنے والوں کا تھا۔ ۔۔۔۔۔ پھر انہی لوگوں پر ہی نہیں بلکہ عام لوگوں کے خیالات پر بھی ان کا ایسا اثر ہوا کہ انہوں نے جھٹ اس کا بت بنا لیا اور یوں پوجا کرنے لگے کہ مخالفت میں آئی ہر رائے پر اسے ایسے محفوظ کرتے جیسے کوئی اپنے بھگوان کو۔

خود تراشیدہ بھگوان ہوں، خدا ہو یا خدا کا عطا کردہ سنگھاسن ۔۔۔۔ ان پر ایک بار ایمان آ جائے تو ایمان والا بھی اپنی جان اس سے آزاد نہیں کرا پاتا۔

وہ خدا کے عطا کردہ سنگھاسن پر آ بیٹھا تھا۔ اس کی بات پر یقین کرنے والے بڑھتے چلے گئے۔

اور وہ کہتا ۔۔۔۔

” دیکھا تم نے شاہ بانو ۔۔۔۔۔ ؟   یہ ہماری نئی نسل ہے۔ زرخیز ذہنوں والی، آگے بڑھنے والی مگر اس نے بہت دکھ اٹھائے ہیں۔ اپنوں کے اٹھائے دکھ سے بوجھل دلوں والی نسل۔ ۔۔۔۔ میں نے ان کا دکھ سمجھا۔ اس پر بات کی اور اب دیکھو کیسے لشکر در لشکر مجھ سے آن ملے ہیں۔ کوئی ان کی بات نہ کرتا تھا، میں نے کی، کوئی ان کے درد کی طرف توجہ نہ دیتا تھا، میں نے دی، کوئی ان کی بات سننے والا نہ تھا، میں نے سنی۔ اور اب دیکھو۔۔۔۔ یہ کیسے بولتے ہیں ۔۔۔۔۔ بولتے ہی چلے جاتے ہیں۔ ”  وہ خوش ہوتا تو اسکی آنکھوں کی چمک بڑھ جاتی۔ میں وہ چمک دیکھ سکتی تھی۔ اسکو سمجھ سکتی تھی کیونکہ مجھے اس سے بے پناہ محبت تھی۔

” تم تو میرے انا ہزارے ہو ” ۔۔۔۔۔۔۔ میں ہنس کر کہتی تو وہ اپنے مخصوص انداز میں ایک لمبی آہ بھرتا اور کہتا

” انا ہزارے جیسے لوگ ایک وقت پر خود حکومت کی بے ضابطگیوں کے خلاف لڑتے لڑتے کب اس کا حصہ بن جایئں۔ پتہ بھی نہیں چلتا۔میں انا ہزارے نہیں ہون۔ ” ۔۔۔۔ وہ سختی سے تردید کرتا۔

” میں ۔۔۔۔ میں ایک خاموش آواز ہوں جو صور اسرافیل سے بھی تیز ہے۔ میرا کوئی نام نہیں۔ ۔۔۔۔میرا کام میرا قلم ہے ۔۔۔۔ میری طاقت میری سوچ ہے۔ بھلے مجھے ہائبرڈ وار کا سبب قرار دیا جائے مگر میں ایسے ہی لکھتا رہوں گا۔ ظلم، نا انصافی، بر بریت و بہیمیت کے خلاف میرا قلم بولتا رہے گا۔ “

فیصلے والوں نے مختلف صحافیوں اور سوشل میڈیا پر سرگرم افراد کی تصاویر پر مشتمل ایک سلایئڈ دکھائی تھی اور کہا تھا کہ یہ لوگ سوشل میڈیا پر غیر ریاستی پروپیگنڈے میں مصروف ہیں۔ اس میں امیر صادقین کا نام سر فہرست تھا۔

اس مخصوس فہرست میں اس کا نام سب سے اوپر لکھا جا چکا تھا

 جو سوشل میڈیا پر لوگوں کے ذہنوں تک رسائی کر کے ان کے نظریات تک بدل ڈالتے ہیں۔

ان فہرست مرتب کرنے والوں کا خیال تھا کہ ایسے لوگ ملک دشمن ہوتے ہیں۔

” یہ کیا کہہ رہے ہیں امیر صادقین ؟ ۔۔۔۔ ” میں متفکر ہو کر اس سے پوچھتی۔

” کسی بھی معاشرے یا ملک یا گھر کو اندر سے زیادہ خطرہ ہوتا ہے کیونکہ باہر کے لوگوں کے لیے ایک دیکھی اور ایک ان دیکھی دیوار موجود ہوتی ہے جسے پھلانگنے کے لیے کسی بڑی حکم عملی کی ضرورت ہوتی ہے اور بڑی حکمت عملی کو بھی اس ملک ، معاشرے یا گھر والے روکنے کے لیے اس سے بھی بڑی کوئی حکمت عملی تیار کر کے حملہ ناکام بنا سکتے ہیں۔ اصل خطرہ اندر سے اٹھتا ہے، جس کے لیے ہم تیار نہیں ہوتے۔ اور تیار ہوں بھی تو سب سے مشکل کام اپنے لوگوں کو کسی بات یا فعل یا حکمت عملی سے روکنا ہوتا ہے۔ کیونکہ آپ انکے خلاف ہتھیار نہیں اٹھا سکتے۔ اٹھا بھی لیں تو وار کرتے ہوئے ہاتھ کپکپا جاتے ہیں۔ یہ حقیقت ہے۔ ” جانے وہ مجھ سے بات کر رہا تھا یا خود سے۔

جب بھی وہ کوئی نئی بات سوچتا تھا تو اس کے لیے میرا ہونا نہ ہونا ایک سا ہی لگنے لگتا تھا۔

” مگر ہر ملک، معاشرے اور گھر کے اندر فیصلے کرنے والے مختلف ہوتے ہیں۔ ترقی یافتہ فیصلہ کرنے والے پسماندہ فیصلے والوں پر اپنی مرضی کے فیصلے تھوپ کر باقی لوگوں پر اثر انداز ہوتے رہتے ہیں۔ ساری گڑ بڑ یہیں ہوتی ہے۔ ان کے فیصلے اس پسماندہ ملک، کمزور معاشرے اور گھروں والوں کے مطابق نہیں کیے جاتے اور جب کوئی حکم عدولی کرے کہ ہم رات کو دن نہیں کہیں گے تو فیصلہ کرنے والی طاقتیں اپنے ہی لوگوں کو زور بازو دکھانے لگتی ہیں۔ کوئی ایک آواز ان کے خلاف اٹھے تو وہ اسے دباتے دیر نہیں لگاتے۔ حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ زیادہ ویران آوازوں کو دبا نہیں پایئں گے۔

فیصلے والوں کو جو بحث، ادب، زبان، کلچر، عقیدہ نا پسند ہو اسے پسند کرنا تخریب کاری و غداری کے حاشیئے میں آ سکتا ہے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں۔ “

وہ یہ کہتے ہوئے وہیں ایک طرف پڑے لیپ ٹاپ پر اپنا سٹیٹس لکھنے لگا۔

وہ بولتا تو میرا جی چاہتا اسکے لبوں سے ادا ہونے والا ایک ایک حرف کسی آیت کی طرح دل کے صحیفے میں جمع کرتی جاوں۔ اس کی ایک بات بھی بھلا ضائع کرنے والی کب ہوتی تھی۔

” میرا قلم، دی ایمپررز نیو کلودز، کا وہ ننھا بچہ ہے جس کی ” بادشاہ ننگا ہے” کی گونج نے خاموش اور سہمے ہوئے لوگوں کو آواز دے دی ہے۔ اور یہی فہرست والوں کا مسئلہ ہے۔

میرا قلم اس نقشے کا مرکزی کردار ہے جو ففتھ جنریشن وار کے نام پر ان سوالات کو اٹھانے سے روکنے کے لیے تھوپی جا رہی ہے۔ جو اٹھائے جانے ضروری ہیں۔

ایک کے بعد دوسرا نقشہ بھی بنے گا اور زیادہ حساس سوال پوچھنے پر جسم اور روح کے حساس حصوں پر اس نئی جنگ کے برے اثرات بھی مرتب کئے جایئں گے۔ مگر یہ تو ہونا ہی تھا۔ کیونکہ جب ظلم بڑھتا ہے تو مظلوم کمزور نہیں طاقتور ہوتا ہے۔

میرا قلم انا ہزارے جیسے لوگوں سے زیادہ طاقتور ثابت ہوگا کہ یہ اور قلم والوں کو جنم دے گا۔ اور ایک مرے گا تو دوسرا اسکی جگہ لے گا اور یہ بات غلط فیصلے والوں کی سمجھ میں آ چکی ہے۔ اسی لیے تو میرا نام سر فہرست ہے۔

وہ سچ کہتا تھا۔ وہ گم تو ہو گیا مگر اس کی سوچ قلم والوں کی ایک پوری کھیپ تیار کر گئی۔

مجھے اس کی باتیں سچی لگتی تھیں یوں جیسے میری ہی سوچ کا سرا پکڑ کر وہ اپنے دماغ میں اتر کر بول رہا ہو۔

اسکے سارے دماغی فیصلے مجھے اپنے ہی لگتے۔

ماں نے مجھے زندگی میں آگے بڑھانے کے لیے بہت جد و جہد کی۔ شہر کے کالج سے لکھایا پڑھایا۔ میرا گاوں سے دور کا ایک حوالہ تھا کہ میں لکھتی تھی۔ ایک دنیا مجھے جانتی تھی اور ان کا ماننا تھا کہ میں بہت پر اثر لکھتی ہوں۔

سکھی سہیلیاں اس وقت پیا دیس سدھار چکی تھیں جب میں نے شہر کے کالج میں داخلہ لیا۔ اب میرے بچپن کی کوئی سہیلی اس بستی میں موجود نہ تھی۔ اور اگر وہ ہوتیں بھی تو میں ان سے کیا باتیں کرتی۔ ان کا دماغ اپنے شوہر، بچوں اور گھر یا زیادہ سے زیادہ اس بستی سے باہر نکل ہی نہ پاتا جبکہ میں خود کو گلوبل ولیج کی ہر خبر پر نظر رکھنے والی آج کی با شعور لڑکی سمجھتی تھی۔ میں ان سے اگر کوئی بات کرتی تو وہ ہو نقوں کی طرح آنکھیں پھاڑے مجھے اجنبی نظروں سے دیکھنے لگتیں۔ یوں ہمیں کوئی بھی بات یا دلچسپی کی چیز آپس میں کسی مشترکہ موضوع پر جوڑ نہ پاتی۔

ایسے میں کمپیوٹر اور انٹر نیٹ تک ہی میری دلچسپی اور سرگرمیاں محدود ہو کر رہ گیئں۔ کمپیوٹر کے اندر ایک جہان آباد تھا جو مجھے پوری دنیا سے جوڑے رکھتا اور ہر بات یا واقعہ سے با خبر رکھتا۔

لکڑی کے جائے نماز پر بیٹھی اماں مرغیوں کو دانہ دنکا ڈالتی جانے کیا بولتی جاتی تھیں۔ میں کمپیوٹر میں دماغ گھسائے لکھتی چلی جاتی۔ لکھنے کے دوران بدستور ان کے مسلسل بولنے کی آوازیں آتی رہتیں مگر میں کبھی خیال نہ کر پائی کہ وہ کیا کہہ رہی ہیں۔ میرے لیے وہ آواز ہی کافی تھی۔ کبھی ان کی اور ٹی وی کی آوازیں ایک دوسرے میں مدغم ہو جاتیں اور الفاظ گڈ مڈ مگر میں اپنی دنیا میں گم آوازیں سنے جاتی۔ اماں اور ٹی وی دونوں کیا کہہ رہے ہیں اس سے مجھے کچھ لینا دینا نہ تھا۔ میں کہانیاں بنتی اپنے کرداروں کے ساتھ ایک گھر بناتی ان کے ساتھ ہنستی روتی باتیں کرتی اور پھر کسی دوسرے گھر میں جا گھستی۔ کہانیوں کی دنیا ہی میری دنیا تھی۔

یا پھر اماں اور امیر صادقین ۔۔۔۔

اسی حال میں دن گذرتے جا رہے تھے۔

ایک روز وہ جنگل کی طرف اترنے والے ڈھلوانی راستے پر لمبے لمبے درختوں کے بیچوں بیچ جگہ بنائے کنکریاں نیچے دور کہیں کھایئوں میں پھینکتے ہوئے میری طرف دیکھنے لگا۔

اس کے دل کو میں بہت گہرائی تک کبھی نہ جان پائی۔ وہ میری باتوں کے جواب میں بس ایک اداس سی مسکراہٹ میری طرف کسی ایسے سکے کی مانند اچھال دیتا جو صدیوں پہلے کا ہو اور جو میرے کسی کام نہ آ سکتا ہو۔

ایسا نہیں تھا کہ وہ مجھے نا پسند کرتا تھا۔ میں نے کئی بار اس کی آنکھوں میں اپنے لیے محبت کا دریا امنڈتے دیکھا تھا۔

اس روز اس نے کوئی اور بات نہ کی تب مجھے پتہ چلا کہ اس کا مجھے صرف دیکھ لینا ہی کتنا معنی رکھتا تھا۔

ایک ایسی ہی ڈھلتی ہوئی شام کے کنارے ہم دونوں خاموش بیٹھے تھے۔ وہ بہت کم کم آتا ۔حالانکہ اسے میرے گھر آنے پر کوئی پابندی نہ تھی۔ روکتا بھی کون ؟ ۔۔۔ میری ایک اکیلی ماں جو خود چاہتی تھی کہ اسکے مرنے سے پہلے میرے ہاتھ پیلے ہو جایئں۔

اس شام وہ مجھے بہت اچھے موڈ میں لگ رہا تھا۔

” تمہیں خبر ہے کہ تم میری ہی صناعی ہو۔ میرے ہاتھوں سے بنی دیوی جس کا ہر خط میں نے کسی ماہر سنگتراش کی طرح تراشا ہے۔ بنایا ہے۔ سنوارا ہے۔سجایا ہے۔ اور بدن کی صناعی ہی نہیں کی بلکہ تمہارا دماغ، دل اور ان میں بھری تمام تر عقل و آگہی اور ایمان و محبت بھی میری ہی دین ہے۔ تم میری وجہ سے ہو۔ میں نہ ہوتا تو تم بھی نہ ہوتیں۔ تمہارا ہونا میرے ہونے سے مشروط ہے۔”

” ہاں مجھے بھی یہی لگتا ہے کہ میں تمہاری ہی تخلیق ہوں ۔” وہ میرے سامنے پڑی ایزی چیئر پر جھول رہا تھا اور اس کی والہانہ نگاہوں نے میرے چہرے کے ہالے کو اپنی اوک میں رکھ لیا تھا۔

اس کے گھڑے ہوئے ” فریبی قصوں ” میں لپٹا بے ساختہ ، بھر پور اور ہیجان انگیز اظہار میرے وجود کے اندر ماہئی بے آب کی سی تڑپ بھر دیتا۔

” اور میں تو سمندر ہوں ” وہ کہیں دور دیکھتے ہوئے سرگوشی کرتا۔

” نیلے پانیوں والا سمندر جس کی وسعتوں میں تم مچھلی بن کر رہنا چاہتی ہو۔ مچھلی نہ بنو۔ میرے وجود کا آدھا حصہ اوڑھ کر مجھ جیسی بن جاو۔ کوئی نہ جان سکے یہ ایک ہی سمندر ہے یا دو۔ جن کی منہ زور لہریں ایک دوسرے میں مدغم ہو گئی ہیں۔ اور اب وہ سب کو ایک ہی سمندر لگتی ہیں۔ میری لہروں میں سے آر پار ہوتی تمہاری لہریں ۔۔۔۔  ” وہ اس انداز سے بولا تھا کہ اس روز سانجھ  سے پہلے کی ساری شفق میرے سارے وجود پر چھا گئی تھی۔ اسی لیے تو وہ اتنی پرشوق نگاہوں سے مجھے دیکھتا جا رہا تھا۔ کس قدر وارفتگی ہے۔

” تم دیکھنا میں اپنی پچانویں سالگرہ شاہ بلوط سے ڈھکے ان مکانوں میں سے اس بند کھڑکی والے ایک گھر میں اپنے بایئس بچوں اور اٹھاون پوتوں  پوتیوں اور اکہتر پڑپوتوں، پڑپوتیوں  اور دس سگڑ پوتوں اور پوتیوں کے ساتھ مناونگی۔ وہ بھی تمہارے ساتھ تمہاری بیوی کے روپ میں ۔۔۔۔۔”

مجھے اپنی اس وقت کی بات یاد آ گئی جب بچپن میں، میں اسے آسمان پہ ٹمٹماتے ستاروں میں دیکھا کرتی تھی۔

” میں ایک غریب ملک کی اتنی آبادی بڑھانے کا خواہشمند ہرگز نہیں۔ ” اس نے کسی ستارے سے اتر کر میرے کان میں سرگوشی کی تھی۔

اور پھر ہم دونوں کتنا ہنسے تھے۔ اتنا کہ میری آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔ وہ بس ایک ٹک مجھے دیکھے جا رہا تھا۔

” شاہ بانو ۔۔۔ کبھی بارش اور سورج کی آنکھ مچولی دیکھی ہے تم نے ؟ ۔۔۔۔ بس ایسی ہی لگ رہی ہو اس وقت” اور میں کیسی نہال ہو گئی تھی اس کے ایسے والہانہ انداز پر۔ میں نے شرم سے چہرہ ہاتھوں میں چھپا لیا تھا۔ جب کچھ دیر کے بعد ارد گرد اسے ڈھوندا تو وہ واپس کسی ستارے پر جا چکا تھا۔ اس رات وہ مجھے ہر ستارے میں نظر آیا تھا۔

بچپن کے اس واقعے کے خیال سے نکل کے دیکھا تو جانے کب کا وہ اٹھ کر جا چکا تھا۔ کچھ دیر پہلے والی جھولتی کرسی خالی تھی اور اپنی جگہ پر ساکت جیسے اس کے اٹھتے ہی اس کا وقت روک دیا گیا ہو یا با لکل میری طرح ۔۔۔۔۔ جب وہ مجھ سے دور جاتا تو لگتا میرا بھی وقت رک گیا ہے۔

اس کے ہر روز کے سٹیٹس پر کئی کئ ہزار ویوز آنے لگے۔ اسکی باتیں لوگوں کے دلوں پر اثر کرتی تھیں۔ خاص طور پر نوجوان نسل کا وہ نمائندہ تخلیق کار بن گیا۔ اس نے فیصلہ لینے والی قوتوں کے خلاف ایسی ایسی بحثین کروایئں کہ سوشل میڈیا میں اس کی بات کو لے کے جنگ کا سا سماں بنتا چلا گیا۔

” آسمانی باغ کا نقشہ دکھانے والے ، آسمانی کتابوں والا معاشرہ کیوں نہ بنا سکے ۔۔۔۔” اس موضوع ، پر ہوئی بحث نے سوشل میڈیا پر ایسی چنگھاڑ پیدا کی کہ ہر طرف امیر صادقین کے نام کا شور مچ گیا۔ کہیں مومن کہہ کر ہاروں کا حقدار ٹھہرایا گیا تو کہیں کفر کے فتووں کا سزاوار۔

نئی نسل کے نمائندے اس کی بات کا سرا پکڑ کر بھگوانوں اور مختلف خداون کے مذاہب کے ٹھیکیداروں سے دست و گریباں ہونے لگے۔

اور پھر اس روز ایک افسوسناک واقعہ ہو گیا کہ کسی بڑے شہر کے کالج کے لڑکوں میں اس کے سٹیٹس کو لے کر بحث نے ایسی شدت اختیار کی کہ دونوں گروہوں میں ہاتھا پائی ہو گئی۔ اس سے پہلے کہ کوئی بیچ بچاو کرانے آگے بڑھتا، ایک لڑکے نے ریوالور نکالا اور اندھا دھند فائرنگ شروع کردی۔ کئی زخمیوں میں سے ایک چل بسا تو امیر صادقین کی مخالفت میں لوگ سڑکوں پر بینر لیے نکل آئے۔

میں بھاگ کر باہر آئی تو ہماری سرائے کے  باہر ہی وہ مل گیا۔

” یہ آپ نے کیا کر دیا” میں نے غصے اور دکھ سے کہا

” مجھے افسوس ہے کہ نئی نسل کو بس لڑنا آتا ہے۔ “

وہ آخر سوچتے کیوں نہیں ؟۔ ۔ کیا سوشل میڈیا کا قصور ہے کہ وہ سوچنے والی نسل پیدا نہیں ہونے دے رہا ؟ کیا سوچنا صرف ان کے حصے کا کام تھا جو پہروں اپنے پسندیدہ لکھاریوں کی کتاب ایک طرف رکھ کر ایک اک نقطے پر اپنے دماغ سے مزید نئے اور تازہ نقاط نکال کر لے آتے تھے۔ ” میں نے اچنبھے سے اسے دیکھا کیونکہ اس بار وہ اس نسل سے خفا نظر آتا تھا جو ہمیشہ اس کی امید کا مرکز رہی تھی۔

” اس لیے کہ ان کو اپنے پسندیدہ لکھنے والوں کی بات سے بھی انکار کرنا آتا تھا۔ اور انکار بنا دلیل کے ممکن نہیں۔ انکار والا بننا آسان نہیں۔۔میری اتنی کوشش کے باوجود انہیں انکار کرنا نہیں آیا ؟ اور وہ میرا ہی بت بنا کر میری لکھی ہر بات پر ایمان لے آئے یہ سوچے سمجھے بنا کہ میں بھی انسان ہوں۔ میں بھی غلط ہو سکتا ہوں اور اگر میں ٹھیک ہوں تو اس کے لیے بھی ان کے پاس واضح دلیل موجود نہیں۔ انہیں نہ ماننا آتا ہے نہ انکار کرنا۔ افسوس ۔۔۔۔ افسوس۔۔۔۔”دور فلک بوس درختوں کو وہ ایسے دیکھ رہا تھا جیسے انہیں کہہ رہا ہو، ‘بونے کہیں کے’۔۔۔۔۔۔۔

” گو کہ آواز میں طاقت ضرور ہے مگر کیا محض آواز ہی کافی ہے ؟۔۔۔۔ خالی، کھو کھلی چیختی چنگھاڑتی آوازیں ۔۔۔۔۔۔ ایسی آوازیں کائنات میں پہلے کم ہیں کیا ؟ ۔۔۔۔ سوچنے والے تو کائنات میں بسی ان خاموش اور غیر مانوس آوازوں کو بھی سمجھنے کی کوشش میں ہیں کہ ضرور اس کے پیچھے بھی کوئی کائناتی رمز ہے ۔۔۔۔ کوئی پوشیدہ یا مخفی پیغام ہے جو شاید ان کی زبان سے الگ کسی اجنبی زبان سے تعلق رکھتا ہو اور اس طرح شاید کوئی زبان دریافت کر لیں۔

کیسے لوگ ہیں ہم ؟۔۔۔۔ ہم جلاو پتھراو کریں تو اپنے لیے ۔۔۔۔ اپنے لیے آواز اٹھاتے خود غرض احتجاج ۔۔۔۔ کوئی دوسرے کے لیے آواز نہیں بنتا۔

اس پر یہ ہماری نئی نسل ۔۔۔۔ جو بنا سوچے سمجھے دھاڑ رہی ہے۔ جانتی ہو شاہ بانو۔ ۔۔۔۔ اب تو مجھے یوں لگنے لگا ہے کہ جیسے یہ میرا لکھا پڑھتے ہی نہیں۔ پڑھنے والا تو لکھنے والے سے بھی بڑا ہوتا ہے بشرطیکہ پڑھے۔۔۔۔ اقرا ۔۔۔۔ وہ سرخ چہرہ لیے بولتا چلا جا رہا تھا اور میں حیرت سے اسے تکتی جا رہی تھی۔

” یہ لات و منات، یہ عزی و ہبل ۔۔۔۔ یہ سارے بت بڑے اس لیے نہیں تھے کہ یہ اونچائی اور چوڑائی میں بڑے تھے بلکہ ان کے ماننے والوں نے انہیں بڑا بنا دیا تھا اور بھلا ماننے والے کون تھے ؟ ۔۔۔ انہی بتوں کو بنانے والے انسان ۔۔۔ جن کی سوچ نے ان بتوں کو جنم دیا اور ایک وقت آیا کہ وہ بے جان بت جو انسانوں کے تخلیق کردہ تھے، بڑے بن گئے اور انسان ان کے سامنے چھوٹے رہ گئے۔  ۔۔۔۔انسان نے اپنا خسارہ خود ہی کر لیا۔ پتہ ہے شاہ بانو ؟  ۔۔۔۔ کیونکہ انہوں نے سوچنا چھوڑ دیا تھا۔”

اس کی سوچیں کس قدر کربناک تھیں۔

” یہی ۔۔۔۔ یہی وجہ کہ آج کا لکھنے والا، عزی اور ہبل بن بیٹھا  اور ان کے سامنے رہ گئے ۔۔۔۔ نہ سوچنے والے چھوٹے چھوٹے انسان۔ اور استعمال ہوتا انسانی ریوڑ جنہیں کوئی اور ہانک رہا ہے۔ کب تک چلے گی یہ کہانی۔

مجھے ہبل نہیں بننا۔ مجھے لات و منات میں سے نہیں ہونا۔ میرا لکھا اگر نئی نسل کو سوچنا نہیں سکھا سکتا تو ٹھیک ہے۔ میں تو لکھنا چھوڑ سکتا ہوں نا ۔۔۔۔ ” اتنا مایوس اور اداس میں نے اسے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ وہ سامنے پڑے پتھر کو زور زور سے پاوں  سے ٹھوکر مار رہا تھا۔ ۔۔۔ میں جانتی تھی کہ اس جیسے لوگ راتوں رات نظام بدلنے پر تو قادر نہیں ہوتے مگر یہ سمجھا ضرور دیتے ہیں کہ ہم بت، گدھے روبوٹ یا ریوڑ نہیں۔

زور کا جھٹکا بہت زور سے لگا تھا

میں اسے اداس دیکھ کر خود بھی غمزدہ ہو گئی۔

اماں مجھے پکار رہی تھیں اس لیے میں بھاگتی ہوئی وہاں سے گھر کی جانب ہو لی۔

اس کے بعد وہ مجھے کبھی نظر نہ آیا۔ جہاں ہم اکٹھے ہوتے تھے یا باتیں کرتے تھے، میں ہر اس جگہ اسے ڈھونڈنے گئی ۔۔۔ مگر وہ کہیں نہیں تھا۔ یہاں کی آبادی اتنی زیادہ نہ تھی کہ کسی کو آسانی سے ڈھونڈا نہ جا سکتا ہو ۔۔ یہ پہاڑیوں کے اوپر بنا ایک چھوٹا سا گاوں تھا جو پندرہ بیس گھروں سے زیادہ  پر مشتمل نہ تھا۔

مجھے یوں بولائے بولائے پھرتے دیکھ کر لوگ کیا سوچیں گے ؟

گو یہاں کے باسی بہت عزت و احترام دینے والے لوگ تھے۔ میری ماں نے بیوگی کے کئی سال اس جگہ اکیلے گزارے تھے ، کسی مرد کے سہارے کے بغیر۔ سب نے ان کی ہمیشہ مدد کی اور عزت دی۔

اور پھر وہ تھا میری زندگی کا ایک بہت بڑا سچ ۔۔۔۔ دشمن جاں امیر صادقین ۔۔۔ میرا خواب ۔۔۔ جس نے میری تنہا اور بے رنگ زندگی میں کئی لاکھ رنگ بھر دیے تھے۔

کہاں چلا گیا امیر صادقین ۔۔۔۔ آہ

مایوس اور تھکے قدموں سے میں گھر لوٹ آئی۔

ہر سو سرد بے اعتنائی اور بے حس خاموشی کا راج تھا۔

جاڑوں کی سرد شام اور سناٹا ایک مدت سے میرے وجود سے لپٹا رفتہ رفتہ مجھے گھن کی طرح کھائے جا رہا تھا ۔۔۔۔

وہ سرد شام جب پندرہ برس پہلے کھڑکی والے گھر کے سامنے ایک چارپائی پر کوئی بے حس و حرکت لہو لہان پڑا تھا۔ سب اس چارپائی کے ارد گرد جمع تھے اور میرے وجود پر سر شام اور سناٹا اتر رہا تھا کبھی نہ مجھے آزاد کرنے کے لیے۔

جانے کون تھا ؟ میں اسے با لکل نہ جانتی تھی ۔۔۔۔ مگر یوں لگا جیسے وہ اجنبی جوان چارپائی سے اٹھ کر میرے پاس آ بیٹھا ہو۔

جانے کیوں وہ میرے پاس آیا اور پھر ہر وقت ہی میرے ساتھ رہنے لگا۔

وہ میری تنہا یئوں کا ساتھی بن گیا۔

ہم گھنٹوں باتیں کرتے رہتے اور اماں کی آنکھوں سے جھر جھر آنسوبہنے لگتے۔ جانے اماں کیوں اتنا روتی تھیں۔ میں کبھی نہ سمجھ پائی۔

باہر برف باری جاری تھی۔

اب کئی روز تک ایک سرائے سے دوسری سرائے تک کے افراد کے بیچ فاصلہ بڑھ جائے گا۔ سب مناظر دھندد کے اندر چھپ جایئں گے۔ کئی کئی ہفتے سورج کی جھلک تک نہ ملے گی۔ وہی مہیب اور گہرا سناٹا۔

جانے میں اتنی دیر سے کس سے باتیں کئے جا رہی تھی۔ اماں نے یاس بھری نظروں سے مجھے دیکھا اور پھر ٹی وی دیکھنے لگیں۔ فیض احمد فیض کا کلام گایا جا رہاتھا

اٹھے گا انا الحق کا نعرہ        جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو

نیوز چینل پر امیر صادقین کے خلاف خبریں چل رہی تھیں۔ میں صوفے پر پاوں رکھے گھٹنوں میں سر دیے سہمی سہمی نگاہوں سے سب کو اس کے خلاف بولتا سنتی رہی۔ اور اس نوجوان کی تصویر خالی نگاہوں سے دیکھے جا رہی تھی جسے کل صبح قتل کر دیا گیا تھا۔ اس کی ماں اور بہنوں کو پچھاڑیں کھاتے دیکھ کر میں نجانے کتنی دیر کپکپاتی رہی۔

وہ سچ کہتا تھا۔ ہم ہائی برڈ وار لڑ رہے ہیں۔ کیمیکل کی جنگ سے بھی بڑی جنگ ہے یہ کیونکہ ہمارے خلاف ہمارے اپنے بھی دشمنوں کی صف میں سامنے کھڑے ہیں۔ ۔۔۔۔ اپنے مفادات کی جنگ ہم عوام کی کھوپڑیوں پر لڑنے والے۔

نیوز کاسٹر کی آواز نے دل کو مٹھی میں جکڑ لیا تھا۔ وہ کہہ رہا تھا

” مگر امیر صادقین ہے کہاں ؟ “

سوشل میڈیا کی اس بھیڑ میں موجود اس ایک شخص نے اس قوم کی معصومیت، سادہ لوحی اور بھروسے کو اس قدر زک پہنچائی کہ ہو سکتا ہے کوئی اپنے سائے پر بھی یقین نہ کر پائے۔۔۔بے یقینی کا زہر رگوں میں اس قدر اتر چکا ہے کہ اب تو یہ بتانا بھی دشوارہے کہ سوشل میڈیا کی بھیڑ میں شامل ایک شخص جو الگ سا کچھ لکھنے کی کوشش کر رہا تھا وہ کوئی سنجیدہ اور متین شخص بھی تھا یا محض کوئی سوانگ رچانے والا مسخر یا کوئی ڈگڈگی بجانے والا مداری ؟

نیوز کاسٹر  کے لب ہل رہے تھے لیکن میرے دماغ میں سناٹا بھر چکا تھا۔

میں نے کپکپاتے ہاتھوں سے سامنے پڑا لیپ ٹاپ کھولا اور سایئن اِن ہو کر امیر صادقین کے نام والا پروفائل کھولا او ر اسے ڈیلیٹ کر دیا۔

ایسے لگا جیسے امیر صادقین کو کسی پہاڑ کی چوٹی سے آسمان پر زندہ اٹھا لیا گیا ہو اور میں بے بس سی اس کو اپنی زندگی سے جاتا دیکھ رہی ہوں۔

میرا دل صلیب بن گیا

آہ و فغاں کا طوفان میرے دل سے اٹھا اور پہاڑوں کی برفیلی چوٹیوں پر پھیل گیا۔

آہ ۔۔۔۔۔۔ امیر صادقین ۔۔۔۔

میرا وہم ۔۔۔۔ یا دنیا کی سب سے بڑی حقیقت۔

میرا جھوٹ یا میری ہستی کا سب سے بڑا سچ

میرا آیئنڈیل یا میں خود ۔۔۔

مجھے لگا میں نے اپنے وجود کا آدھا حصہ خود اپنے ہاتھوں سے بنایا اور پھر اسے مار ڈالا۔

کیا مجھے ودیعت کردہ تخلیق کرنے کے فن پر اتنی کاملیت عطا ہو چکی تھی کہ میں اپنے ہی کردار کے ساتھ زندگی گذارنے لگی۔

تو کیا میں اپنے فن میں یکتا تھی یا اس درجہ ناقص کہ کردار کو جب تک چاہتی زندہ نہ رکھ سکتی۔

تو کیا میری تخلیق بے ثبات تھی

اپنی مرضی کی زندگی کیا صرف کہانیوں کے اندر ہی تھی ؟

باہر تو اتنی خاموشی اور تنہائی تھی کہ کئی گھنٹے تک ایک طویل ‘ ھو وووو ‘ کی آواز کے علاوہ کوئی آواز سنائی نہ دیتی۔

اماں ۔۔۔۔ اماں  کہاں گیئں ۔۔۔۔ میں نے آخری بار تنکا پکڑنا چاہا

مگر بے سود ۔۔۔ وہاں کوئی نہ تھا۔

ایک اجتماعی قبر میرے دل میں بنی اور میں اس پر بیٹھ کر زار زار رونے لگی۔

زمین کی رگوں نے میرے قدموں کے نیچے سانسیں لینا شروع کر دیں اور پھر ان رگوں سے خون ابلنا شروع ہوا اور میرا وجود اس خون کی اونچی ہوتی لہر میں آنکھوں تک ڈوب گیا۔ سکوت مرگ ہر طرف چھانے لگا۔

” تو شاہ بانو ۔۔۔وہ آپ ہیں جو تاریخ کے اوراق پارینہ میں لکھی اپنی ہی کہانی سے خود باہر رہ گیئں۔۔۔۔”

میں اسی تنویمی کیفیت میں بے تابانہ دوڑتی ہوئی کھڑکی سے جا لگی اور ایک ڈوبتی نگاہ عین سامنے والے گھر کی کھڑکی پر ڈالی جس کے اندر کی طرف مکڑی کے جالوں کے مہین اور نرم و نازک سے کئی پردے تنے تھے۔

گوکل ڈھونڈھی

بندرا بن ڈھونڈھی

ڈھونڈھی پھری میں ری سب گام رے

کون گلی گیئو شام رے

سکھی بتا دو

کون گلی گیئو شام ۔۔۔۔۔۔!

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Calendar

November 2020
M T W T F S S
 1
2345678
9101112131415
16171819202122
23242526272829
30  
Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: