ڈبل ایک ایل ۔۔۔ فرحین خالد

ڈبل ایکس ایل

فرحین خالد۔

زندگی کی قیامت خیزیوں کے چرکے جب سینے پر گڑے ہوں تو راحت کے لیے خام خیالی کے آسرے بھی غنیمت ہوا کرتے ہیں ورنہ ہر سانس دہکتی آگ کی دھونی سے کم نہیں ہوتی ۔ سلکی نے سیلفی لیتے ہوئے اپنا پرفیکٹ اینگل تلاش کیا اور باقی کمی فلٹرز کی مدد سے پوری کر کے ایک جگمگاتی تصویر اپ لوڈ کردی . گھڑی پہ نظر ڈالی تو فلائیٹ کی آمد میں ابھی کچھ وقت باقی تھا۔ آئینے میں خود کو دیکھتے ہوئے وہ سوچ رہی تھی کہ کاش آسمان کے چاند تا روں کی دمک بھی اسے حاصل ہوجاتی تو وہ اس کو بھی اپنے روپ میں شامل کرلیتی تاکہ جاسم پہلی نظر میں ہی فریفتہ ہو جائے اور پھوپھو کی اپنی دوست سے رشتے داری کی خواہش پوری ہو سکے . وہ خود کیا چاہتی تھی یہ سوچنے کی اجازت اس نے اپنے آپ کو بھی نہیں دی تھی . وہ تو بس دنیا بھر کی امیدوں پہ پورا اترنا چاہتی تھی . زندگی کا ہر معیار ایک پہاڑ تھا جسے سر کرنا اس پر گویا فرض کر دیا گیا تھا . ایک ایسا بار گراں جو نہ اٹھائے بنے نہ گرائے بنے . ایک بن ماں کی بچی زندگی کو سازگار بنانے کیلئے کیا کیا جتن کرتی ہے یہ کب کسی نے جانا ہے ؟ اسے تو بس فرشتہ بننے پہ معمور کر دیا جاتا ہے جہاں غلطی کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی اور یوں وہ اپنے ہونے کا قرض چکاتی ہے . اس نے آئینے میں اپنی بگڑتی صورت کو دیکھا تو سوچ کے دھارے کو وہیں تھم جانے کو کہا ،چہرے کے آگے ایک ایسی جادوئی چٹکی بجائی کہ آنکھوں میں قندیلیں جل اٹھیں اور ہونٹوں پہ رس بھری مسکان . اس نے جلدی سے پرفیوم کا اسپرے کیا اور آنسہ پھوپھو کی آواز پہ لبیک کہتی ہوئی سیڑھیاں اترتی چلی گئی .

پھوپھو، جو گاڑی اسٹارٹ کر چکی تھیں ، سر نکال کے بولیں ..” ہائیں ؟ یہ کونسے کپڑے پہن لئے ؟ وہ سوٹ کیوں نہیں پہنا جو سیما کے گھر ڈنر پر پہنا تھا ؟” سلکی دروازے میں ایک قدم باہر اور ایک قدم اندر دھرے کھڑی تھی ، بولی ” یہ وہی تو ہے ! ” پھوپھو تنقیدی نظر ڈالتے ہوئے بولیں ،”آج کچھ جچ نہیں رہا ہے تم پہ.. کچھ پھنسا ہوا سا بھی لگ رہا ہے .وہ شرمندہ سی ہوتے ہوئے بولی ،” خدا کو مانیں ، پورے مہینے سے سخت ڈائیٹ پہ ہوں . مجال ہے جو ایک کھیل بھی اڑ کے منہ میں گئی ہو .” پھر تذبذب سے بولی ،” کیا کروں بدل لوں ؟” پھوپھو ہاں کہتے کہتے رک گئیں. گاڑی کا ریورس گیئر لگاتے ہوئے بولیں،” چھوڑو اب دیر ہو رہی ہے مگر دھیان سے دروازے کو ڈبل لاک لگا کر چیک کرنا . کل بھی تم نے سنگل لاک لگایا تھا .” ادھر سلکی سوچ رہی تھی کہ کل تو خود پھوپھو نے لاک کیا تھا مگر وہ بغیر احتجاج کیئے گاڑی میں آ بیٹھی اور سارے راستے وہی ہدایات سنتی آئی جو جاسم سے ملاقات کے متعلق تھیں اور اسے ازبر ہو چکیں تھیں.

ائیرپورٹ پہ منتظر، وہ لوگوں کے اژدہام کو دیکھ کر محزون تھی کہ شک کے دریاؤں میں تیرتے ہوئے یہ چہرے، آنکھوں میں آخری دید کو نقش کئے اپنے تابوت کو دھکیلتے ہوئے کتنے پر عزم نظر آ رہے ہیں لیکن در حقیقت یہ دوراہا انکو دو لخت کیئے دے رہا ہوگا . ایک چاہت پیچھے چھوڑ کے دوسری منفعت کا حصول کیا انکو مکمل سرشاری دے پائے گا ؟ پھر وہ راہ جو کبھی لی ہی نہیں کیا ان کے امکانات سورج ڈھل جانے پر راتوں کو نہیں ستائیں گے ؟ دوسری جانب لوٹ کے آنے والے مسافر بھی تھے جو ناک سکیڑے ماتھے پہ تفاخر کے بل سجائے اپنی متا ع کو چشم سیاہ سے بچاتے ہوئے ان کو بھی روند رہے تھے جن کو ذوق عصیاں نہ تھا .وہ اپنی سوچ کے بھنور سے ذرا دیر کو ابھری تو اسے محسوس ہوا کہ سامنے جاسم کھڑا ہے جو بے یقینی کے عالم میں ا سے دیکھ رہا ہے .پھر وہ چہرہ اسی بھیڑ میں گم ہو گیا . پھوپھو نے آکے اسے بتایا کہ سارے مسافر جا چکے ہیں اور جاسم کا کوئی پتہ نہیں مل رہا .جو نمبر ان کے پاس تھا اس پہ بھی کوئی نہیں اٹھا رہا تھا .انکو رہ رہ کر غصہ آ رہا تھا کہ دو گھنٹے گزر جانے پہ بھی اس نے کیوں نہیں رابطہ کیا . سلکی نے ان کی کیفیت کو دیکھتے ہوئے خاموشی اختیار کیئے رکھی کہ کہیں اسکا ابہام سن کر توپوں کا رخ اسی کی جانب نہ ہو جائے . پھر جب فون بجا تو جاسم کی امی کا تھا جن کی بات سننے کے لئے وہ خاموش گوشہ تلاش کرتے ہوئے آگے نکل گئیں . جو بات اس کے کان میں پڑی وہ پھوپھو کی آواز تھی ،” کیا مطلب ہے دوستوں کے ساتھ نکل گیا ہے !! اسے تو ہمارے ہاں رکنا تھا نا؟”

واپسی پر راستے بھر ان پر موت کی سی خاموشی طاری رہی . گھر پہنچ کر وہ اپنے کمرے میں جا کے بند ہو گئیں اور سلکی کو کرچیاں سمیٹنے کیلئے چھوڑ گئیں. جو بات اسے سمجھ میں آئی وہ یہ تھی کہ جاسم نے شاید ان کی نسبت دوستوں کو فوقیت دی ہے بلکہ انکی مہمان نوازی اور ضیافت کو بھی مسترد کیا ہے جس کی تیاری انہوں نے دل و جان سے کی تھی اور اب اس سبکی پر وہ سخت رنجیدہ ہیں . اسے بھی یہ بات بہت عجیب معلوم ہو رہی تھی کہ اگر جاسم نے اسے دیکھا تھا تو آ کے ملا کیوں نہیں . معذرت ہی کر لیتا کچھ تو بتاتا، آخر اسی ہفتے انکا نکاح بھی ہونا تھا .پتہ نہیں اس کے ہاتھ غصے سے کا نپنے لگے تھے یا نقاہت سے کہ ہاتھ سے پتیلی کا ڈھکن لڑھک کر گر گیا اور سامنے لذیذ بریانی اپنی اشتہا انگیز خوشبو سمیت جلوہ افروز ہو گئی . سلکی نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اور پتیلی پہ ٹوٹ پڑی . اس نے سوچا چولہے میں جائے ڈائٹنگ اور بھا ڑ میں جائے یہ دنیا جس کو وہ کبھی خوش نہیں کر سکتی تھی . پھوپھو شاید آواز سن کر آئی ہوں گی ،اس کو بریانی پہ یوں حملہ آور دیکھا تو پھٹ پڑیں . ” اسی بے پیندے کی بھوک نے آج تم کو رسوا کیا ہے مگر تمہیں کسی چیز کی پرواہ ہی نہیں ہے . تمہاری ماں بھی ایسی ہی تھی ، ہو س کی پتلی ! جس کو کبھی کچھ پورا نہیں پڑتا تھا . نہ میرا بھائی اس کو لبھا سکا اور نہ اسکی آمدن اسی لئے وہ کرئیر کے پیچھے تمہیں چھوڑ گئی .” سلکی کے حلق میں نوالہ اٹک چکا تھا . مرحومہ کے ماتھے کا کلنک اب اس کا نصیب تھا . گلا کھنکار کے وہ دھیمے لہجے میں بولی ،” پھو پھو ، جاسم کی بے مروتی سے اس بات کا کیا تعلق ہے ؟” وہ پھنکارتی ہوئی بولیں ،” ہے تعلّق !! ہزار مرتبہ کہا ہے کہ اس شکم پر پتھر باندھ لے مگر تمہاری تو بھوک ہی نہیں مرتی . جانتی ہو وہ کیوں نہیں آیا ؟ اس نے اپنی ماں کو یہ کہا ہے کہ جو لڑکی اس نے تصاویر میں دیکھی تھی وہ ایک وہیل مچھلی نکلی ، جس کے ساتھ وہ شادی نہیں کر سکتا . اب روؤ بیٹھ کے اس موٹاپے کو جو ایسا اچھا رشتہ گنوا بیٹھا ہے . ” یہ کہتے ہی وہ باہر نکل گئیں . سلکی ان کے ہتک آمیز جملوں کی شدت سے تھرا گئی . آنسوؤں کی جھڑی آپ ہی آپ لگ گئی . تاسف اس بات کا ہوا کہ بظاہر ایک بے ضرر سے سیلفی کے شوق نے اس سمیت ماں کی قبر کو بھی رگید ڈالا تھا . کسی روبوٹ کی طرح اس نے کام سمیٹا اور غیر ارادی طور پر آئسکریم کا ڈبہ لیئے بالکونی میں جا بیٹھی . جہاں وہ ہر چمچے کیساتھ اپنے اندر کی کڑواہٹ کو زائل کردینا چاہتی تھی .

وہ یہ سوچ رہی تھی کہ کیسا آدمی تھا جس کو میری شخصیت میں صرف ایک موٹا جسم نظر آیا اور اسی بنا پر مجھے رد کرگیا . کیا اسکو میرا رنگ روپ ، میرے لمبے بال ، میرا قد و قامت نہیں دکھائی دیا ؟ اور اس سے بھی بڑھ کر میری ذہانت ، میری ڈگری، میری سلیقہ مندی ، میرا کردار!! کیا انکی بھی کوئی وقعت نہیں تھی ؟ ابھی تو اس نے نہ میری وفا آزمائی تھی نہ میری جان نثاری کو پرکھا تھا پھر کیسے اس نے ایک لمحے میں مجھے مسترد کردیا ؟ وہ کمزور کیا پڑی ماضی کی گم گشتہ صدائیں ،بلائیں بن کر نیزے اور بھالے اٹھائے اس کے گرد آ کھڑی ہوئیں . ان سب کے چہرے بھیانک اور آنکھیں خونخوار تھی .. کچھ آگ اگل رہیں تھیں اور کچھ تمسخر اڑاتے ہوئے اسے چیلنج کر رہی تھیں .وہ تنہا ان کے مقابل کھڑی لرز رہی تھی .پھر ایک ایک کر کے نشتر چلنے شروع ہوئے . پہلا ہی عین سینے پہ آ کے لگا ،”ماں تو دوڑ گئی پر اپنا جرثومہ چھوڑ گئی .” دوسرا بھالہ اس کے ماتھے کے لئے تھا . ” پتہ نہیں اپنی باپ کی اولاد ہے بھی کہ نہیں !” ” ایک برگر میں تمہارا کیا ہوگا .” ” ڈبل ایکس ایل سائز ہی چلے گا آپ پر !” ” اتنے وزن پر تو اب کنوارہ لڑکا ملنے سے رہا !””وہ لڑکی نہیں وہیل مچھلی ہے !” اس آخری بازگشت نے تو لہولہان ہی کر ڈالا تھا . وہ دونوں کانوں پہ ہاتھ رکھ کر درد سے چلا اٹھی . آنکھ کھلی تو زارو قطار رو رہی تھی اور پھوپھو اس کو بانہوں میں بھرے دلاسہ دے رہیں تھیں کہ ،” میرا بچہ میرا چاند تمہیں کچھ نہیں ہو ا .” سلکی نے اپنی پھوپھو کا چہرہ دیکھا تو مطمئن ہو کے آنکھیں بند کر لیں مگر یہ ہولناکی اگلے تین دن تک جاری رہی .

عمر کو عروج اور جسم کو زوال ہو تو اکثر کو خدا یاد آجا تا ہے . مغرب کے بعد تسبیح پڑھتے ہوئے پھوپھو کہنے لگیں ،” بہت نباہ لی دنیا ،اب سوہنے رب سے لو لگانا چاہتی ہوں .” سلکی ہنس دی تھی . بولی ،” پھوپھو آپ پر بسنتی رنگ تو بہت کھلتا ہے، اسے اپنا لیں گی تو راس بھی آئے گا .” پھوپھو بھی چہک اٹھیں ،” جانتی ہو ، فلوریڈا سے ایک بہت ذہین اور قابل مذہبی اسکالر ان دنو ں وطن آئے ہوئے ہیں. کہا جاتا ہے کہ ان کی سوچ بڑی منطقی ہے اور انداز بیان ایسا ہے کہ فوری دل میں گھر کر جائے . انکے ہر سیمینار میں متعدد لوگ مشرف بہ اسلام ہوتے ہیں . میں سوچ رہی ہوں اس ہفتے ہم لوگ چلیں گے .” سلکی نظریں چرائے بیٹھی رہی مگر پھر دل نے کہا کہ دینی لوگوں کی محفل سے کچھ حاصل ہی ہوگا اسلئے حامی بھر لی . جب شیخ صاحب سے ملاقات ہوئی تو وہ اتنی مثبت ، اتنی خوش کن اتنی سحر انگیز تھی کہ پھوپھو نے طے کر لیا کہ اب جب تک وہ ملک میں مقیم ہیں یہ دونوں ان کے تمام لیکچرز میں شرکت کریں گی . پھر تو انکے شب و روز ہی بدل گئے .ہر لیکچر کے بعد پھوپھی اور بھتیجی دیر تک ان کے درس پر تبادلہ خیال کرتیں . سلکی تو اس لئے بھی پرجوش تھی کیونکہ پہلی بار اسکی بات کو اتنی توجہ مل رہی تھی اور اس کے سوالات کا تسلی بخش جواب دیا جا ر رہا تھا . اس کی زندگی کا ایک بڑا خلا جو وہ اکثر کھانے سے پر کیا کرتی تھی اب علمی جستجو سے مکمل ہو رہا تھا اور وہ روحانی طور پہ خود کو بہت افزودہ محسوس کر رہی تھی . اکثر خوابوں میں بھی پنچھیوں کی طرح اڑتی چہچہاتی اور اطراف النہار ذکر و اذکار کرتی .

شیخ البرکات بھی اسم با مسمی تھے . وہ جہاں جاتے محفل منور ہوجاتی . جس روز پھوپھو نے بتایا کہ وہ دعا کے لئے ان کے گھر بھی آئیں گے تو اس کی خوشی اورحیرت کا ٹھکانہ نہ رہا . سارا دن صرف کر کے اس نے گلدانوں میں پھول سجائے ، چائے کا سامان تیار کیا اور ڈرائنگ روم کو ان کے شایان شان بنانے کی فکر میں لگی رہی تو پھوپھو نے ٹوکا کہ پریشان نہ ہو ، وہ بہت منکسر المزاج شخص ہیں. انہیں ان ظاہری لوازمات سے کوئی سروکار نہیں مگر اسے پھر بھی قرار نہیں آ رہا تھا . اللہ اللہ کرکے جب وہ شام کو پہنچے تو پھر پھوپھو کے ہاتھ پاؤں پھولنے لگے کیونکہ وہ ڈھیروں تحائف کے ساتھ لدے پھندے آئے تھے . سلکی تو ان کی مدارات میں اتنی محو تھی کہ جب پھوپھو سے انہوں نے اسکا ہاتھ طلب کیا تو وہ بیہوش ہوتے ہوتے بچی . انہوں نے بتایا کہ ان کی تین بیویاں ہیں اور وہ سب ایک ہی گھر میں رہتی ہیں . ان کے درمیان اتنی یگانگت ہے کہ باہر والے بھی اندازہ نہیں کر پاتے کہ وہ بہنیں نہیں سوتن ہیں . ان کے وسیع مالی وسائل اور اراضی کی تفصیلات وہ گنگ ہوئے سن رہی تھی . مگر اگلی بات جو انہوں نے رکھی تو وہ پھوپھو کو بھی چونکا گئی . انہوں نے کہا کہ انکی دو معمولی سی شرائط ہیں . ایک یہ کہ سلکی اگلے تین مہینوں میں عمہ پارہ حفظ کر لے اور دوسری یہ کہ بس پندرہ کلو وزن گھٹا لے تو شادی کی تاریخ طے کر لی جائے گی . سلکی اور پھوپھو دونوں ہی ششدر رہ گئیں. شیخ صاحب نے موقعے کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے کہا کہ،” جلدی نہیں ہے ، آپ دونوں خواتین اچھی طرح سوچ بچار کر لیں صوابدید آپ کی اپنی ہے مجھے کوئی شکایت نہیں ہوگی .”

وہ تو چلے گئے مگر ان خستہ حالوں کو مزید ریزہ ریزہ کر گئے . سلکی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ شیخ البرکات کبھی اس کو شادی کا پیام بھی دیں گے .اس کی پاکیزہ سوچ یکدم پراگندہ ہو گئی تھی . اس سے پہلے کہ وہ مزید متنفر ہوتی پھوپھو نے ایک اور عقدہ کھول دیا . رات گئے وہ ہاتھ میں کچھ پرچے تھامے اس کے کمرے میں آئیں اور اس کے برابر میں بستر پر بیٹھ گئیں . ان کی سانس میں ایک کراہ سی ابھری جس کو سلکی نے بھی محسوس کیا . ان کی کمر کے پیچھے تکیہ لگایا تو انہوں نے پیار سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا ،” تم ان پچیس برسوں میں میرے جینے کا سہارا رہی ہو . اس رشتے سے جتنی محبت میں نے کشید کی ہے شاید لوٹا نہیں سکی ہوں . اس کے لئے میں تم مجھے معاف کردینا .” سلکی نے گھبرا کے کہا ،” کیسی باتیں کرتی ہیں پھوپھو ، آپ کا مجھ پر مکمل حق ہے . آپ نے تو وہ کیا ہے جو میرے ماں باپ بھی نہ کر سکے ، آپ سے معافی مجھ کو مانگنی چاہیئے نہ کہ ..” پھوپھو نے ہونٹوں پہ انگلی رکھ کے اس کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا اور کہا ،” مجھے اپنی بات کر لینے دو …. پچھلے کئی سالوں سے جو گلٹی میں سینے میں چھپائے پھر رہی تھی اسکا نتیجہ آ گیا ہے . میں زبان ہی کی پھوڑی نہیں نصیب کی بھی پھوڑی ہوں جو نہ اپنے گھر میں بس سکی اور نہ ہی اپنی بھتیجی کو ہنستا بستا دیکھ سکے گی . ڈاکٹر کہتا ہے کہ چل چلاؤ کا وقت آ گیا ہے ،کبھی بھی بلاوا آ سکتا ہے .” سلکی حیرانی اور شدت غم سے ان کے گلے لگ کے رو پڑی . دونوں ہی جذبات کے مد و جزر میں ڈوبے ایک دوسرے سے محبت کے دعوے اور گزرے ہوئے کل کی رنجشیں بھلانے کی باتیں کرتے رہے . آخر میں انہوں نے وہ مدعا بھی رکھ دیا جس کی تمہید میں انہوں نے یہ گل افشانی کی تھی . ایسے موقعے پر سلکی انکار کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی سو شیخ البرکات سے نکاح کیلئے سر تسلیم خم کر ڈالا .

وہ فلوریڈا چلے گئے تھے اور طے یہ پایا تھا کہ سالکہ بانو خود ہی امریکہ چلی آئے گی .ویزا اس کے پاپا چند سال پہلے آ کے لگوا گئے تھے مگر کبھی بلایا نہیں تھا . اسلئے وہ یہ سہولت جب چاہے استعمال کرسکتی تھی . پھوپھو بھی چاہتی تھیں کہ وہاں باپ کی موجودگی میں نکاح ہو جائے پھر جب چاہے وہ ان سے ملنے آتی جاتی رہے . کوئی ڈیڑھ مہینہ لگا ہوگا جس میں سلکی نے پارہ بھی حفظ کرلیا اور مطلوبہ وزن بھی گھٹا لیا . وہ یہ سب کام بڑ ی تندہی کے ساتھ اپنی پھوپھو کو خوش کرنے کے لئے کر رہی تھی اور پھر آخر انکو الوداع کہنے کا وقت بھی آ گیا . ایئر پورٹ پر رخصت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ،”بیٹی… میں نہ بھی رہوں تو خدا کی زمین بہت بڑی ہے ، تم تعلیم کے زیور سے آراستہ ہو مشکل فیصلے لینے میں تامل نہ برتنا . جاؤ ، فی امان اللہ!”

دیسی حسن جب دنیا کے میعار میں ڈھلا تو ہر اٹھتی ہوئی نظر میں توصیف کا پیغام نشر ہوتا محسوس ہوا . وہ ان تمام اشاروں سے بے نیاز جب شیخ البرکات کے آفس ملاقات کیلئے پہنچی تو انہوں نے بھی خوشگوار حیرت کا اظہار کیا ،پھر اسکو اسٹڈی میں بیٹھ کر شادی کی تفاصیل ڈسکس کرنے کے لئے کہا تو وہ ان کے پیچھے چلتی چلی آئی . کچھ کاغذی کاروائیوں کی تفصیل دینے کے بعد وہ گویا ہوئے کہ ،” ہمارا نکاح تو سادگی سے ہوگا مگر اس کے بعد کی رات دھوم دھام سے منائی جائے گی . “سلکی اس غیر متوقع لہجے اور موضوع کیلئے تیار نہیں تھی اس لئے نظریں زمین پہ جمائے سنتی رہی . وہ کہنے لگے کہ ایک بات میں آپ کو پہلے سے ہی بتا دینا چاہتا ہوں تاکہ بعد میں کوئی مشکل یا ابہام نہ رہے وہ یہ ہے کہ میں چاروں بیویوں سے بیک وقت ہم بستری کا قائل ہوں …” وہ پتہ نہیں کیا کہے جا رہے تھے مگر سلکی کے کان سرخ ہوچکے تھے اور اسکو کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا . اس نے ہمت کر کے سر اٹھایا اور پوچھا ،” آپ نے کیا کہا ہے ابھی ؟” تو شیخ البرکات نے بڑی سہولت سے فرمایا .” یہ بالکل جائز عمل ہے ، میں ثابت کر سکتا ہوں . میری موجودہ تینوں بیویوں کو بھی کبھی کوئی اعتراض نہیں ہوا ہے .” یہ سنتے ہی سلکی جو سناٹے میں بیٹھی تھی یکدم کھڑی ہو گئی . وہ کہنا تو بہت کچھ چاہتی تھی مگر ازلی اطاعت کی بیڑیوں کے قفل توڑنے کیلئے اسے اپنی جان سے گزرنا تھا . اخلاقیات سے گری ہوئی باتیں سن کر اس میں متلی اور ہیجان کی سی کیفیت پیدا ہونے لگی تھی . اس نے اپنی تمام تر قوت کو یکجا کرتے ہوئے کہا کہ” میں ایسے رشتے اور ایسی شادی پہ لعنت بھیجتی ہوں !” یہ کہتے ہی اس نے آفس سے باہر کی طرف دوڑ لگا دی . اس کی چڑھتی سانسیں ،اس کا گڈ مڈ ذہن اور اس کے ڈولتے قدم فرار کی راہ تلاش کر رہے تھے . وہ تھک گئی تھی مستعار فیصلوں کی پیروی کرتے کرتے . زیست کے اس نئے دوراہے پر وہ رشتے ناطوں کی منافقت اور مذہبی ڈھکوسلوں کے طوق کو اتار پھینک آئی تھی . اس بار وہ زندگی کو اپنی شرطوں پہ جینا چاہتی تھی .سامنے سے انسانیت کے پیروکاروں کا ایک جلوس آتا دیکھا تو اس میں ضم ہوگئی .

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: