نظم ۔۔۔ ہمایوں احمد منصور

نظم

 ہمایوں احمد منصور

اِن دنوں

 اپنی  آنکھوں سےاِِس طرح خیرات کر

کہ نمی  سکٔہ سکٔہ گرے

اور خزانوں کا مالک  یہ تعداد  گن کر  بہت  زور سے

اپنے  دربار میں ہنس پڑے

باجرے کی طرح

 ہر دعا اپنے ہاتھوں  کی منڈیر  پر نہ سجا

 یہ پرندوں کا دانہ نہیں

اےاناڑی  رفو گر

تو پہلے  ہتھیلی کے چھیدوں کو بھر

اور پھر اپنا دل چھان کے  پیش  کر

درد دوپہر کو

شام کے قہر کو

گھر کی گھڑیوں سے گرتے  ہوئے وقت  کی مٹٔھیوں میں  نہ بھر

ہا ں مگر آسماں کی طرف

  چور نظروں سے تکتی

اگر خالی جائے نمازوں   کے ہاتھوں میں تسبیح ملے

تو کہیں موسلادھار چپ کی طرح بیٹھ کر  صبر کے تیر سینے پہ گن

اور اُسے یاد کر

   کہ جسے یاد کرنے  ، منانے کا مخصوص کوئی بہانہ زمانہ نہیں

Similar Posts:

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Calendar

May 2021
M T W T F S S
 12
3456789
10111213141516
17181920212223
24252627282930
31  
Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: