تانبے کے برتن ۔۔۔ خالد فتح محمد

تانبے کے برتن

خالد فتح محمد

کالونی میں پہلا گھر میرا ہے اور اسی نسبت سے میرے عزیز و اقارب اور میرے  جاننے والوں نے اس گھر کے کئی نام رکھے ہوئے ہیں مثلا چیک پوائنٹ، انفارمیشن پوسٹ، سٹارٹ پوائنٹ وغیرہ۔ ہمیں یہاں منتقل ہوئے زیادہ عرصہ نہیں ہوا تھا کہ ایک مانوس سی صدا کان میں پڑی۔ ہمارے گاؤں میں ایک بھکاری آیا کرتا تھا جو اسی طرز کی صدا لگاتا- اس نے خاکی یا ایسے ہی کسی مٹی خورے رنگ کا تہبند اور کرتا پہنا ہوتا- کرتے کے اوپر کھدر کا جھولا نما چوغہ لٹکایا ہوتا جس کے دو خانے تھے- ایک خانے میں وہ گندم اور دوسرے میں دھان یا مکئی کی خیرات ڈلواتا- اس کے پاس اکتارا ہوتا- جسے وہ عجیب سی دن میں بجایا کرتا ہمیں وہ دھن شاہکار لگا کرتی تھی اور جب ہم موسیقی کو سمجھنے کے شعور کی سطح پر آئے تو حیرت ہوئی کہ بھلا وہ بھی کوئی پسند کرنے والی چیز تھی- خیر—– بات اس مانوس صدا کی ہو رہی تھی- بھکاری گاؤں میں داخل ہوتے اکتارا بجاتے ہوئے ایسی زبان میں گانا شروع کر دیتا جو پنجابی قطعا نہیں تھی- اس کے گانے کے چند الفاظ ہی  سمجھ میں آتے جن میں  “سوہنا ،  رب سچا،  جندڑی ” شامل تھے- پھر وہ گانا بند کر کے ایک صدا لگاتا- یہ صدا ایک لمبی سی چیخ کے مشابہ ہوتی جس میں زیر و بم ہوتے- جب اس بھکاری میں ہماری دلچسپی ختم ہوگئی تو اس کی صدا سمجھ میں آنا شروع ہو گئی۔-

“دے دو خدا کے نام پر، جو دے خوش رہے اوربا برکت ہو اور جو نہ دے—–“

 یہاں اس کا سانس ختم ہو جاتا وہ چھاتی پھیلا کر گردن کی رگوں کو کستا اورپھر سے صدا لگانا شروع کر دیتا- اس نے خیرات نہ دینے والے کے بارے میں یہ کبھی نہیں بتایا تھا کہ اس کا انجام کیا ہوگا یا شاید اسے نہ دینے والے میں دلچسپی ہی نہیں تھی۔

میرے لئے اس فقیر کا عید کی خوشی سے کم نہیں ہوتا تھا- اس کے اکتارے کی دھن اور چیخ نما لے بدن میں مسرت کی لہر دوڑا دیتی– خیرات دینے کے تصور سے ذہن ایک غرور بھری توقع سے ڈولنے لگتا- گلی میں داخل ہو کر وہ اکتارے پر دھن بجاتے، گاتے ہوئے آتا اور پھرپہلے ہی گھر کے سامنے صدا لگا دیتا– میں نے پہلی مرتبہ جب یہ صدا سنی تو میرے لئے اس کی کوئی اہمیت نہیں تھی- مجھے یہ ایک بے ہنگم شور لگا تھا اس وقت میری عمر 4 برس کے قریب تھی- میری دادی اناج سے بھری تھالی اور میری انگلی پکڑ کر دروازے کی طرف چل پڑی- ڈیوڑھی نما تعمیر کے دونوں طرف دروازے تھے– بڑا دروازہ گلی میں کھلتا تھا اور چھوٹا صحن میں۔ ہم چھوٹے دروازے میں سے ڈیوڑھی میں داخل ہوئے تو میں نے گلی میں بھکاری کی پہلی جھلک دیکھی- مجھے وہ ان کہانیوں میں سے کسی ایک کا کوئی کردار لگا جو دادی ہمیں رات کو سنایا کرتی تھی- اس کے قریب پہنچ کر دادی نے تھالی میرے ہاتھ میں تھما ئی  توبھکاری سیس  دیتے ہوئے جھولے کا منہ کھولنے لگا- میں خطرہ محسوس کرتے ہوئے اپنی جان بچانے کے لئے بلند آواز میں رونے لگی–

بھکاری کے ساتھ یہ میرا پہلا رابطہ تھا- بعد میں خوف کی جگہ دل چسپی نے لے لی اور بھکاری ہمارے لئے ایک تماشہ بن گیا- اس کی آواز سنتے ہی ایک دوڑ لگ جاتی —- اور آج چالیس برس بعد جب میں نے اس سے ملتی جلتی صدا سنی تو میرا جسم خوشی سے کانپنے لگا- گندم سے بھری تھالی، بھکاری کی سیس، اکتارے کی دھن اور گانا—– مجھے وہی دن یاد آگئے- وہ یادیں میری انگلی پکڑ کر مجھے باہر لے آئیں۔ گیٹ کے باہر لمبے قد کا دبلا سا  آدمی، ایک ٹانگ سڑک پر رکھے سائیکل پر بیٹھا ہوا تھا- اسے دیکھ کر مجھے مایوسی ہوئی- میرے ذہن میں گاوں والا بھکاری تھا- اس آدمی سے بات کئے بغیر اندر جانے کا فیصلہ کر کے مڑنے کا سوچا ہی تھا کہ اس آدمی کی صدا نے مجھے روک دیا-

” ردی، ٹین، ڈبے لو  وا، ٹٹ بھج۔۔۔۔”

مضمون تو اور تھا لیکن طرز ویسی ہی تھی-

“کیا کچھ خریدتے ہو؟ ” میں نے لاتعلقی سے پوچھا

“جو بھی آپ بیچنا چاہیں—- ردی ،لوہا، فرنیچر کی لکڑی ، سلور،  تانبے کے برتن۔۔۔۔”

باورچی خانے کے سٹور روم  میں ایک شیلف پر دادی کے تانبے کے برتن رکھے ہوئے تھے- وہ برتن دادی کے جہیز کے تھے اور ان کی عمر صدی سے اوپر تھی- دادی نے ان برتنوں کو ہجرت کے دوران میں بھی اپنے ساتھ رکھا تھا- یہ برتن آج تک استعمال نہیں ہوئے تھے دادی بتایا کرتی تھیں کہ اس کی شادی کے بعد سے یہ ہندوستان میں اس کے گاؤں اور پاکستان بننے کے بعد ہمارے گاؤں والے گھر پر پر چھتی پر رکھےتھے– میرے گھر میں ایک شیلف ان کے لئے مختص تھا- خاندان نے جب زرعی زمین کو غیر منافع بخش اکائی سمجھتے ہوئے گاؤں سے نقل مکانی کرنے کا فیصلہ کیا تو میں نے اپنے حصے کی تھوڑی سی زمین کے عوض ان برتنوں کو لینا مناسب سمجھا– یہ ایک جذباتی فیصلہ تھا -میں نے سوچا کہ حالات اگر بہتر ہو گئے تو زمین پھر خریدی جا سکے گی لیکن دادی کے برتن شاید کہیں اور نہ سنبھالے جا سکتے تھے-

وہ آدمی بائیسکل پر اسی طرح بیٹھا تھا– مجھے اس کی آنکھوں میں دلچسپی نظر آئی- یہ ایسی  دلچسپی تھی جو ایک قسم کا تفاخر لئے ہو– مجھے اس کی وجہ سمجھ میں آگئی- وہ ٹٹ بھج خرید کر گھروں کی حالت جان جاتا ہے-

“دیکھو ہمیں یہاں منتقل ہوئے کچھ ہی دن ہوئے ہیں- ابھی سامان صحیح جگہوں تک پہنچایا نہیں جا سکا- چند دنوں کے بعد چکر لگا لینا– ہاں تمہارےنرخ  کیا ہیں؟”

– آپ کو بہتر نرخ   ملیں گے -وردی پانچ روپے کلو- لوہا 30 روپے اور تانبے کے برتن—-“

– میں نے اس کو ہاتھ کے اشارے سے منع کیا

– میں تانبے کے برتنوں کانرخ نہیں کر سکتی تھی- یہ برتن میں نے امانت سمجھ کر رکھے ہوئے تھے امانت کو کسی وقت لوٹا یا بھی جاتا ہے-لیکن اس امانت کو سنبھالے رکھنا ہی اسے لوٹانا ہے۔ یہ برتن دادی اور میرے درمیان میں پل کا درجہ رکھتے تھے اور دادی اس پل پر باقی پوتے پوتیوں کے ساتھکھڑی تھی-

ہمارے لئے دادی ہی زندگی تھی–

– ہم اپنے والدین کے بجائے دادی کی اولاد تھے- وہ سارا دن ہمیں اپنے ساتھ رکھا کرتی تھیںہماری مایئں دادی سے خائف رہا کرتی تھیں۔ مجھے نہیں یاد کہ اس نے انہیں کبھی ڈانٹا ہو یہ ان سے کوئی تقاضا کیا ہو– وہ چھوٹے قد کی نازکی بوڑھی عورت تھی شاید جوان بھی  رہی ہو- ہم دادی  کو جوانی میں دیکھنے کی کوشش کیا کرتے تھے لیکن ہمیشہ ناکام رہتے ہیں—ہم شاید اسے بوڑھا ہی دیکھنا چاہتے تھے-ممکن ہے ہمیں یہ ڈر ہو کہ جان ہو کر ہی نہ کھو بیٹھے۔ ہمارے پاس دادی کی کوئی تصویر نہیں تھی-وہ ہمارے دلوں میں زندہ تھی اور تانبے کے برتن اس کی یاد دلاتے رہتے – مجھے لگتا ہے کہ وہ ہاتھ میں  تھالی اٹھائے ہماری انگلیاں تھامے ہمیں اندھیری، ناہموار گلیوں ، جھگیوں ، فاقہ مستوں کے ٹھکانوں اور اہل ثروت کے مکانوں میں لئے پھرتی ہے—وہ ہماری ترقی کا سبب تھی -وہ مر چکی تھی لیکن ہمارے اندر اسی طرح زندہ تھی کہ اس کے زندہ ہونے سے خوف محسوس ہونے لگتا -میں ہمیشہ زندگی کے ساتھ نبردآزما رہتی اور اس جنگ کو ایسے لڑا جیسے میرے خیال میں دادی نے لڑنا تھا– وہ میرے پیچھے کھڑی ہوتی- میں اگر مڑ کر دیکھتی تو اپنی اداس آنکھوں سے گھورتی ہوئی مجھے آگے بڑھنے کے لئے اکسا رہی ہوتی-

میرے اندر آنکھوں میں جھانکنے کی ہمت نہیں تھی

 وہ آدمی اسی طرح کھڑا رہا- مجھے لگا کہ اسے میرے جواب کا انتظار تھا-دادی نے  اپنے دروازے سے کسی کو کبھی خالی ہاتھ  نہیں جانے دیا تھا-

-” بایئسکل  سے اترکر وہاں بیٹھو—” میں نے پورچ میں بڑی کرسی کی طرف اشارہ کیا

میں تمہارے لئے ناشتہ بنا کر لاتی ہوں- ” اس آدمی نے کچھ کہنا چاہا لیکن میں تیزی سے اندرچلی گئی۔-

میں پراٹھا اور انڈہ ٹرے میں رکھ کر لے آئی- وہ سگریٹ سلگائے میرے انتظار میں تھا- مجھے آتا دیکھ کر اپنی سگریٹ کو پیروں تلے مسلا اور ٹرے ٹانگوں پر رکھ لیا۔-

مجھے اچانک خیال آیا کہ دادی کو مرے ہوئے تیس برس ہونے کو آئے لیکن وہ اس ریفری کی طرح تھی جو میچ کو وہسل کے سہارے انجام تک پہنچاتا ہے– میںچ تو ابھی ختم نہیں ہوا تھا-اب جب کہ میں خود دادی بننے والی تھی کیا مجھے اب بھی ریفری کی ضرورت تھی ؟- میں نے اپنی زندگی دادی کے سائے میں گزاری اور ایسے زندگی کرنا آج مجھے ایک شکست لگی- مجھے یقین ہے ہ دادی اس ہار کو کبھی قبول نہیں کرے گی-میں سمجھ گئی کہ گھنے درختوں کے نیچے نئےاگنے والے درخت پھلتے اور پھولتے نہیں، وہ  ہمیشہ اپنی بقا کی جدوجہد میں مصروف رہتے ہیں- اگرچہ وقت بہت گزر چکا تھا مگر دھوپ حاصل کرنے کے لئے مجھے دادی  کی چھاؤں میں سے نکلنا ہوگا- یہ ایک عجیب احساس تھا- پہلے تو میں خائف ہو گئی اور میرے جسم میں کپکپی سی دوڑ گئی- مجھے لگا کہ میں آزاد ہو رہی ہوں- میں یہ بھی جانتی تھی کہ پنجرے میں بند رہنے کے بعد پرندے پرواز کے قابل نہیں رہتے-اگر  دوران پرواز میں گر گئی تو ؟

“میں گھر سے ناشتہ کرکے آیا تھا-”  اس آدمی کی آواز مجھے سہارا لگی—وہ کرسی پر ٹرے رکھ کر میری طرف دیکھ رہا تھا- میری نظر خالی ٹرے پر ٹھہر گئی- دادی نے  اپنی اداس آنکھوں سے اسے گھور کر خوفزدہ کر دینا تھا- مجھے درخت کی گھنی چھاوں میں سے باہر نکلنے کی ضرورت تھی- میں نے اس کی طرف مسکرا کر دیکھا–

—“- ” ناشتہ کرنے میں کوئی حرج نہیں—- میں ابھی آئی

میں نے اندر جا کر ردی اکٹھا کرنا شروع کر دیں– ریاض اخبار پڑھنے میں مصروف تھے۔ میں ان کے پاس خاموش کھڑی سوچتی رہی-

“آپ اخبار پڑھ چکے ہیں ؟ “

رادی والا اسی طرح کھڑا تھا- اس نے میرے ہاتھ میں سے چھوٹا سا بنڈل دیکھا  تو اپنی مایوسی چھپ نہ سکا- میرے لیے اس کی اہمیت اور طرح  تھی- مجھے وہ ٹریفک پولیس کا سپاہی لگا جو رکی ہوئی بھیڑ کوسمت دیتا ہے- اس کے آنے سے  دادی کو دیکھنے کے لئے مجھے کئی آنکھیں لگ گئیں- اس نے اس کا کچھ کمال تو نہیں تھا لیکن اس نے ایک- زنگ خوردہ مشین میں حرکتضرور پیدا کر دی تھی میں نے اب تک دادی کی آغوش میں سانس لیئے تھے اور اچانک یہ آغوش مجھے تنگ لگی–

“تمہارا نام کیا ہے” ؟

“فضل الہی” اس نے جھجھکتے ہوئے جواب دیا

فضل تم یہ رکھ لو اور بتاؤ”—اس دفعہ میں تھوڑا سا جھجھکی۔

” بتاو ۔۔۔۔ کہ تانبے کے برتن کس بھاو خریدو گے ؟” اور جواب کا انتظا کئے بغیر میں اندر کی طرف چل پڑی۔

Khalid Fateh Muhammad

Khalid Fateh Muhammad was a Urdu story writer from Pakistan. He wrote regarding the theme of social issues in Pakistan. His most famous works are ‘Khud-farebi,’ ‘Ham Wahan Hain, Jahaan,’ and ‘Ham Wahan Hain, Jahaan.’

Read more from Khalid Fateh Muhammad

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Calendar

November 2020
M T W T F S S
 1
2345678
9101112131415
16171819202122
23242526272829
30  
Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: