دنیا کے کنارے پر ٹنگی عورت ۔۔۔ محمود احمد قاضی

دنیا کے کنارے پر ٹنگی عورت
محمود احمد قاضی

وہ تساہل بھرے انداز میں  اٹھ کر کھڑکی کی طرف آتی ھے۔ یہ کھڑکی باہر کی جھاڑ جھنکار ٹنڈ منڈ دنیا سے رابطہ کرنے میں آخر اس کی مدد کرتی ھے ۔ حالانکہ زیادہ تر وہ مایوس ہی ھوتی ھے کہ وہاں بھی اس کے دیکھنے کو محسوس کرنے کو کچھ خاص نہیں ھے ۔۔ پھر بھی وہ بلا ضرورت محض عادتاۤ کھڑکی میں سے باہر کا بنجر منظر اپنے اندر اتارنے میں لگی رہتی ھے ۔۔ وہ اپنی ٹھوڑی کو کھڑکی میں نصب ٹیڑھی لکڑی سے بنے پتلے لٹھوں سے چھواتی ھے ۔۔ لکڑی نیم گرم ھے۔۔ باہر کی کسی بیوہ کی طرح بین کرتی ، کُرلاتی ھوا اس کی ناک سے ٹکرا کر اس کے آس پاس بکھر جاتی ھے ۔۔ پانی میں پھینکے گئے کسی شدید طور پر لوہے کے گرم ٹکڑے کی طرح شوں کر کے بجھ جاتی ھے ۔۔ وہ ھوا کو نامہربان سمجھ کر آہ بھرتی ھے ۔۔ واپس اپنے بستر کی جانب آتی ھے جو شکنوں سے پُر ھے ۔۔ وہ اپنی اُنگلیوں سے اسے سنوارتی ھے ۔۔ اپنے پاؤں کے نیچے بوڑھے ھوتے، مٹتے نقوش والے، جگہ جگہ سے ادھڑے ھوئے اپنے شوہر کی یاد گار قالین کی سلوٹوں میں اس کے پاؤں الجھتے ہیں ۔ وہ خود کو اس الجھاؤ سے کسی طرح نکال لیتی ھے ۔۔ وہ بے مقصد طور پر چھت کی طرف دیکھتی ھے ۔۔ شہتیر، کڑیاں ، سارا کچھ اس پر گرنے کو ھے ۔۔ اس نے جب بھی چھت کی طرف دیکھا ھے یہ گھر اسے ڈولتا ھوا سا لگا ھے ۔ جیسے یہ کسی زلزلے کی زد میں ھو ۔ گھر جو مٹی سے اُسارا گیاھے ۔۔ مٹی ہی سے لِپا ھوا ھے ۔ اس مٹی میں ایک قدرتی چمک ھے جو برسوں کے بعد بھی ماند نہیں ھوئی ۔۔ یہ گھر دو مساوی پیمائش والے مستطیل کمروں اور ایک چوکور برآمدے پر مشتمل ھے ۔۔ آگے چھوٹا سا صحن ھے ۔۔ بیرونی در پر قُفل لگانے کا یہاں کبھی سوال ہی پیدا نہیں ھوا کہ اس گھر کا کوئی باہر والا دروازہ ھے ہی نہیں ۔۔ پانی کے لئے اسے ذرا دوری پر موجود یعنی دو میل کی مسافت پر بہتے چشمے کی اور جانا پڑتا ھے ۔ یہیں سے وہ اپنے گھر کے استعمال کے لیے، پینے کے علاوہ دوسری ضرورتوں کے لیے بھی پانی سے بھرا کنستر لاتی ھے ۔ اس چشمے پر وہ نہا بھی لیتی ھے ۔ کیونکہ وہ پانی دور سے لاتی ھے اس لیے وہ پانی کے کنستر کو سہج سہج استعمال کرتی ھے اسےاس کو کم از کم تین دن تک استعمال میں لانا ھوتا ھے ۔

اپنے شوہر کی پنشن ( جہادی ھونے سے پہلے وہ ایک سکول میں پڑھاتا تھا) وصولنے کے لیے اسے ہر ماہ پہاڑی سے اترنا پڑتا ھے ۔ یہ ایک خشک مری ھوئی پہاڑی ھے جو آبادی سے الگ تھلگ بے ڈھنگے ابھار کے قریب واقع ھے ۔۔ ایک بل کھاتا سانپ راستہ اس کے گھر تک آتا ھے ضروریاتِ زندگی کے لیے وہ ہر دو ھفتے بعد نیچے اُترتی ھے ۔۔ تب اس کا گدھا اس کے ساتھ ھوتا ھے ۔۔ اس کے شوہر کے جہادی مشن میں شہید ھونے کے بعد سے یہی اس کا ساتھی ھے ۔ یہ ایک کارآمد جانور ھے ۔۔ یہ گھر کے پچھواڑے میں رھتا ھے ۔۔اس کے لیے وہاں ایک چھپۤر سا کھڑا کر دیا گیا ھے۔۔ کبھی کبھی وہ اسے کھُلا بھی چھوڑ دیتی ھے ۔۔ وہ ادھر اُدھر اپنی غذا پر منہمارنے کے بعد شام سے پہلے واپس آ جاتا ھے ۔۔ ایک دو بار وہ اس کے زخموں کا علاج بھی کروا چکی ھے تب اس کے زخموں میں  پیپ پڑ گئی تھی ۔ایک ناگوار بُو اس کے زخموں سے برآمد ھوتی تھی، مگر وہ منہ بنائے بغیر، بنا کسی کراھت کے اس کے زخمی وجود پر خود پھائے رکھتی رہتی تھی ، مگر وہ اسے ایک مانس کی طرح پیار کرتی ھے کہ وہ اس کی زندگی کی گاڑی کو کھچا کھچ کھینچنے میں  مدد دیتا ھے ۔۔

اس کی عمر اس وقت چالیس کے لگ بھگ ھو چکی ھے ۔۔ لیکن چونکہ اس کی کاٹھی مضبوط ھے اس لیے وہ کسی طرح سے بھی تیس سے زیادہ کی نہیں لگتی ۔اسی لئے اس کے لیے اب بھی کبھی کبھی پیغام آ جاتا ھے ۔۔ مگر وہ اب شادی نہیں کرنا چاھتی ۔۔ وہ اب اپنی باقی ماندہ زندگی میں کسی دوسرے مرد کا پٹا اپنے گلے میں ڈال کر مزید دکھ نہیں جھیلنا چاھتی کہ اس نے اپنے پہلے شوہر سے کون سے سکھ پائے تھے ۔۔ وہ ایک خونخوار چوپائے جیسا تھا ۔۔ ایک بھیڑیا یا بھیڑیا نما ۔۔ وہ دن رات اس کا خون پیتے ھوئے نہ تھکتا تھا ۔۔ مگر وہ اب تھک گئی تھی اور کسی نئے مرد کے رحم و کرم یا ظلم کے سہارے خود کو مزید بے سہارا نہیں کرنا چاھتی تھی ۔۔ ویسے بھی وہ اب اپنے آپ کو ارد گرد کی دنیا کے گورکھ دھندے سے اتنا اوپر لے آئی تھی کہ اب تو اس کے چاروں طرف پیش آنے والا کوئی واقعہ ، سانحہ یا کوئی انوکھی اور عجیب خبر اس تک پہنچتے پہنچتے وقت کی بساند سے لتھڑ چکی ھوتی تھی جیسے کہ بامیان والے بتوں کے ٹوٹنے کی واردات جب ھوئی اس کی خبر اپنی بوسیدگی سمیت اس تک ایک ماہ بعد پہنچی تھی ۔۔ اور تب وہ محض بڑبڑائی تھی اور بس ۔۔ اسی طرح جب جہادی اس کے اطراف سے غراتے ھوئے گزرتے تھے تو وہ ان کو راکٹ لانچروں اور دیگر جنگی سامان سے لدا پھندا دیکھ کر بے حسی کی مورت بنی رہتی تھی اس کے احساسات کو شائد اتنا زنگ لگ چکا تھا کہ وہ اب خوشی غمی یا کسی بھی دوسری طرح کے ردِ عمل کو بھُلا بیٹھی تھی ۔۔ وہ ان کے چھوڑے ھوئے بارودی پٹاخوں اور مخالفین کے جوابی حملوں کے مضمرات سے جدا، کٹی ھوئی ایک ایسی مخلوق تھی جس کے پاس بعض اوقات خود اپنے ہی سوالات کا کوئی مناسب یا ڈھنگ کا جواب نہیں ھوتا تھا ۔۔

وہ بیس مریں یا تیس یا سارے کے سارے بچ رہیں اس کے نزدیک اس بات کے کچھ معنی نہیں ھوتے تھے ۔۔ پھر یہ بھی کہ وہ کون تھے جہادی یا مخالف۔۔ وہ ان باتوں سے خود کو ایک عرصہ سے علیحدہ کر چکی تھی ۔۔ وہ رب کو اب بھی رب ہی سمجھتی تھی مگر وہ اس کی عبادات کو ایک مدت سے ترک کر چکی تھی ۔۔ یوں لگتا تھا اس کے اندر دل پھیپھڑوں اور جگر کی جگہ پتھر کی سِل رکھی جا چکی تھی ۔۔

وہ ایک بار پھر بستر پر جا لیٹی اور نیچے کے علاقے سے آئے ھوئے شادی کے لیے پیغام اور اس کی نوعیت کے بارے میں سوچنے لگی۔۔ ایک لمحے کے لیے اس نے سوچا پنشن کی رقم کم تھی وہ بمشکل گزارہ کر پاتی تھی۔۔ او ر اس کے ساتھ گدھا بھی تھا۔۔ اس کے نان نفقے کا بندوبست بھی اسی کے ذمے تھا ۔۔ وہ باہر کے خشک جھاڑیوں والے علاقے میں آوارگی کرتا جب چر کر واپس آتاتھا تو صاف پتہ چلتا تھا کہ اس کی پسلیوں سے جھانکتی بھوک کی کسک ابھی بھی موجود ھوتی تھی ۔۔ یہ ایک الگ بات تھی کہ وہ ایک نہایت فرمانبردار اور صابر و شاکر جانور تھا ۔۔ نیا پیغام اس کی کسی درخت کی سوکھی شاخ جیسی زندگی کو تازگی مہیا کرنے کے لیے کافی تھا ۔ یہ ستر سالہ قبائی زندگی کی تمام تر مسرتیں تو شائد اسے نہیں دے سکتا تھا لیکن بھوک مٹانے کا وافر سامان اس کے پاس موجود تھا ۔۔ اس نکتہ پر پہنچتے ھوئے اس نے اپنے سر کو ہاں کی صورت میں ہلایا تھا لیکن پھر عین اسی وقت اسے اس شخص کی پہلے سے موجود موٹی تازی بیویاں یاد آئیں جو کہ خاصی جھگڑالو اور چرب زبان تھیں۔۔ اس کے انکار کرنے کے لیے یہی وجہ کافی تھی ۔۔ اس نے کہلوایا ۔۔ بابا ،، اب بس کرو ۔ میری خلاصی کرو ۔ میں اب ضعیفہ ھوں ۔۔ مجھے اب یوں ہی رھنا ھے ۔۔ مجھے اپنی مزید بربادی درکار نہیں ۔ سو معافی دو مجھے ۔۔

اس کے دن اگر بنجر تھے تو راتیں کسی گڑھے میں گرے ھوئے شخص کی طرح گزرتی تھیں ۔۔ اس گڑھے کا کوئی پیندا ہی نہ تھا اس کی گہرائی شائد پاتال سے بھی آگے جاتی تھی ۔۔ اس اندھیرے گڑھے میں اس کا وجود خود بخود اوپر نیچے ھوتا رھتا تھا ۔ اس کےکناروں پر پھسلن تھی سو وہ مستقل طور پر ادھر ہی کی مکین بنی رھتی تھی ۔ کبھی کبھار وہ ہمت کر تی اور ہنبھلی مار کر باہر آنے کا جتن کرتی وہ کامیاب رہتی اور اپنے بستر پر آ لگتی ۔۔ اس کا بستر اس کے لیے عافیت کی جگہ تھی جہاں اسے آرام اور سکون ملتا تھا ۔۔ وہ ایک بے پایاں آنند سا محسوس کرتی تھی۔۔ جب وہ گھر کے کاموں کو نمٹا کر اس پر آ لیٹتی تو اسے بہت دور سے آنے والی دم توڑتی، سسکتی ھوا کی کسی مفہوم کے بغیر آواز کا کوڑا اپنے جسم پر برستا ھوا لگتا ۔ وہ اس احساس سے اپنے آپ کو پرے کر لیتی کیونکہ وہ خاموشی کی اب اتنی عادی ھو چکی تھی کہ اس کا خود سے ھمکلام ھونابھی اسے برا لگتا تھا ۔ اس کی اپنی آواز اب اس پر بھاری تھی۔۔ سفید مکئی کی روٹی،چٹنی ،پانی،بستر کھڑکی سے آتی بے مروت ھوا۔۔ وقت کی تندی تیزی۔۔ روح پر خراش ڈالتی گدھے کی ڈھینچوں ڈھینچوں۔۔ تب وہ بوکھلا کر اٹھتی اور دو چار سوٹیاں رسید کرتی ۔۔ وہ اپنے اوپر ھونے والے اس بے وجہ ظلم کے بطون میں چھپے مفھوم کے سمجھے بغیر اس کا یہ قہر سہہ لیتا ۔۔اسے اس کے اس طرح مار کے سہہ جانے پر طیش آتا تھا ۔۔ ارے بھئی یہ تو ہارے ھوئے پچھڑے ھوئے ھم انسان لوگوں کا شیوہ ھے کہ غم سہیں اور چُپ رہیں لیکن تم تو ایک گدھے ھو ۔۔ ایک جانور ھو تمہیں تو چاھیئے کہ کبھی اپنے اوپر لادے گئے بورے اور بوجھ کو الٹا دو ۔۔ دولتیاں جھاڑو ۔۔ اپنا ھونا ثابت کرو ۔۔ وہ اس کی جلی کٹی باتیں سُنتا اور آگے سے منہ بسور کر رہ جاتا ۔ ادھر اُدھر کسی اور طرف اپنا دھیان لگا لیتا ۔۔

ان دنوں اس کے چاروں طرف کی خبریں کچھ اچھی نہ تھیں ۔۔ جنگ بڑھ گئی تھی ۔۔ قتال میں اضافہ ھو رہا تھا ۔ لوگوں کو مار کر ان کو درخت سے الٹا لٹکا کر ان کے کٹے ھوئے سروں کو ان کے پاؤں کے اوپر رکھا جارہا تھا ۔۔ اتحادی فوجوں اور ملکی سورماؤں کے درمیان یدھ گھمبیر ھوتا نظر آ رہا تھا ۔۔ پر اسے کیا ۔۔ وہ یہاں موجود ھے ۔ ایک طرف ۔۔ ایک نکڑ پر ۔۔ ایک سرےپر ۔ اپنی برسوں کی بے رس زندگی کے ساتھ ۔۔ اس نے بھی تپسیا کے بعد اب نامناسب حالات کے ساتھ رہنا سیکھ لیا ھے ۔ اسے اب اپنے شوہر کے حوالے سے ڈراؤنے خواب بھی نہیں اتے تھے ۔۔ اس کے اندر کا ٹھاٹھیں مارتا احساسات کا دریا تو کب کا خشک ھو چکا تھا ۔ یا اس نے اسے جان بوجھ کر ایسا ھونے دیا تھا ۔۔ بعض اوقات آپ کو کشتیاں خود جلانی بھی تو پڑ جاتی ہیں ۔ فتح ھو یا نہ ھو یہ تو بعد کی بات ھوتی ھے ۔ اس کے جزبوں کو کب کی نیند آ چکی تھی یا اس نے انہیں خود ہی تھپک کر سلا دیا تھا ۔۔ وہ شائد اندر سے آدھی سے زیادہ مر چکی تھی ۔ ۔۔ جو کچھ باقی بچا تھا اب اس کے ہاتھ میں خالی ریت جیسا تھا اس کے وجود میں تلخ حالات کی تلچھٹ تھی ۔۔ وہ اپنی زندگی کی تازگی کو کب کی تج چکی تھی ۔۔ وہ زندگی کا میٹھا نمکین، کھٹا اور کڑوا پن سب بھلا بیٹھی تھی۔۔ اب اس کے پاس گئے دنوں کی کسیلی یاد رہ گئی تھی ۔ اب جب وہ کھڑکی سے باہر دیکھتی تھی یا اپنے گھر کے پچھواڑ ے کے گدھا استھان سے نظر آنے والے آسمان کی جانب نظر کرتی تھی تو اس کی بینائی میں دھندلا پن نمودار ھونے لگتا تھا ۔۔ اور پہاڑوں کے پیچھے سے اسے ڈوبتے سورج کی نارنجی کرنیں یا رات کو چاند کی چاندنی کی جب لپک نظر آتی تھی تو وہ ساری ان چیزوں کو پہاڑوں کے دامن میں موجود جھاڑیوں اور کنکروں سے الجھا ھوا پاتی تھی یوں اس کی جمالیات کے سوتوں پر گرتی مٹی کا انبار اس کے رہے سہے جزبوں کی زندگی کے رس کو بھی چوس لیتا تھا۔۔ اور کبھی کبھی یوں بھی ھوتا تھا کہ وقت کا بے رحم برما اس کے وجود میں جگہ جگہ سوراخ کر کے اسے اندر سے کھوکھلا کر دیتا تھا وہ ان سوراخوں میں اُنگلیاں ڈال کر اپنے خون کا سواد خود چکھتی تھی تو اس کے اندر سے بھیڑیا پن کی علامت ابھر آتی تھی ۔۔ اب وہ خود کو کھا لینے کے در پے تھی شائد۔ مگر یہ ایک انوکھی کیفیت تھی حالانکہ ایسا کرنا اس کے بس میں نہ تھا۔۔ جب وہ تگ و دو کرتی تویہ ہاتھ کسی اور کے ھوتے تھے ۔۔ کہیں اور ھوتے تھے کہ اس کی نسوں میں دوڑتے بھاگتے چلتے پھرتے مچلتے خون کا سرد پن اسے جاگنے سے اونگھنے کی طرف لے جاتا تھا ۔۔ وہ زندگی کی ایک بے حس موجودگی میں خود کو الٹا لٹکا ھوا محسوس کرتی تھی ۔۔ کئی بار تو وہ یہ تک سوچنے لگتی تھی کہ وہ ھے بھی یا نہیں ۔ وہ اپنی سانسوں کو بعض اوقات اپنی ھتھیلی پر ایک پھونک کی صورت میں چکھ کر دیکھنے کی کوشش کرتی تھی ۔۔ اس کو محسوس ھوتا تھا کہ اس کی سانسوں میں زہر تھا ۔۔ وقت کا تھوہر تھا ۔

یہ ایک عام سی شام تھی ۔ وہ ابھی ابھی چشمے سے نہا کر آئی تھی ۔۔ وہ اپنے بدن کو خشک کرنے کے بعد اپنے بالوں میں کنگھی کر کے ابھی آئینے کے سامنے سے ہٹی ہی تھی کہ اس نے اسے اپنی دہلیز پار کرتے دیکھا ۔۔ وہ اپنے گدھے کی طرح جوان تھا ۔ لمبے پٹوں والا ۔۔ موٹی کالی آنکھوں والا ۔ اس کی مونچھوں میں ابھی نوخیزی تھی ۔ داڑھی میں سُرمئی لڑکپن تھا ۔ وہ اس کی نظر میں ابھی شائد کم سن تھا ۔ وہ اس پاس اپنی پیاس بجھانے آیا تھا ۔۔ اس کے گدھے کو بھی پانی کی طلب تھی کہ وہ پچھلے کئی دنوں سے متواتر سفر میں تھا ۔۔ اس نے دونوں کے لیے پانی مہیا کر دیا ۔۔اس نے بتایا کہ وہ اُدھر سے اِدھر آ رہا تھا یعنی گزر رہا تھا کہ اسے شام نے آ لیا ۔۔ آگے راستہ چونکہ جوکھم والا تھا اس لیے اس نے تہیہ کیا کہ وہ ادھر ہی رک جائے ۔ اگر وہ چاھے تو ۔۔ اپنی اس خواھش کے اظہار کے سااتھ ہی اس نے اپنی کلاشنکوف کندھے سے اتار کر ایک طرف رکھ دی ۔۔ رات کو روٹی کھانے کے بعد وہ بولنے لگا۔۔ بولتا رہا ۔ اسے اپنے بارے میں بتاتا رہا ۔۔ اس کے لہجے میں ایک گونج اور کرارا پن تھا۔۔ وہ زندگی کے جوہر سے لبا لب بھرا ھوا تھا ۔۔اس نے بتایا وہ ایک باغی ھے ۔ وہ کسی طرح کی بھی جکڑ بندی کو پسند نہیں کرتا ۔ اسے جہادیوں غیر جہادیوں سے نہ نفرت تھی اور نہ ہی محبت تھی کہ وہ ایک پیشہ ور لڑنے والا جنگجو تھا۔۔ وہ اُدھر سے بھی لڑ سکتاتھا اور اِدھر سے بھی آ سکتا تھا ۔۔ وہ ایک آزاد منش تھا ۔۔ ایک ازلی آوارہ گردتھا ۔۔ وہ کسی بھی قسم کے آدرش سےعاری ایک بندہ تھا ۔ کیونکہ وہ اپنی مرضی کرتا تھا اس لئے لازماۤ اس کے مخالف بھی موجود تھے سو وہ ہر وقت خود کو موت کے نرغے میں پاتا تھا ۔۔ گولی کسی وقت بھی کسی طرف سے بھی آ سکتی تھا ۔۔ جب وہ گفتگو کے اس موڑ پر پہنچا تو اسے اس سے ڈر لگا۔۔ اس نے پھونک مار کر لالٹین بجھا دی اور اسے اپنی آواز نیچی رکھنے کو کہا ۔۔ اندر سے وہ چاھتی تھی کہ وہ اب ادھر سے دفعان ھو جائے ۔۔ چلا جائے ۔۔ وہ اس کے خیالات کے کھردرے پن سے خائف ھو گئی تھی ۔ لیکن اس پر ظاہر نہیں کر رہی تھی ۔ وہ مسلسل بولتا رہا ۔۔ اسے زچ کرتا رہا ۔۔ وہ جب بولتا تھا تو اس کا بے درد لہجہ اسے ڈراتاتھا ۔ لمبے پٹوں والا کچھ دیر کے لیے چپ ھوا پھر اس نے اس کے بارے میں پوچھا ۔ یہ چپ رہی ۔۔ پھر وہ جلد ہی سو گیا ۔ اس نے اس کے لیے برآمدے میں بستر بچھا دیا تھا۔ وہ ایک دو بار اٹھ کر اسے دیکھنے آئی ۔۔ اس کے خراٹوں میں جوانی کی مستی تھی ۔ وہ دیر تک جاگتی رہی ۔۔ وہ بہت جتن کر کے خاصی دیر سے سوئی ۔ سونے سے پہلے اسے اپنے شوہر کی جوانی یاد آ گئی وہ بھی اس نوجوان کی طرح ھوا کرتا تھا ۔اس کے خواب میں بھی یہی تصور تھا اس سکی نیند اچاٹ ھو گئی اس نے اٹھ کر پانی پیا ۔۔ پھر بھی اس کے حلق میں کانٹے چبھتے رہے ۔ وہ بے چین رہی ۔۔ پھر پتہ نہیں کس وقت واقعی اس کی آنکھ لگ گئی ۔ وہ تھک کر سو گئی ۔۔ اسے لگا کوئی اس کے اوپر تھا اور اس کا دم گھٹتا تھا ۔۔ وہ اس پر ایک طاقتور تیندوے کی طرح چھا جانے کی کوشش کر رہا تھا ۔۔ اس نے ہاتھ پاؤں کا استعمال کیا ۔۔ اسے پرے دھکیلا ۔اپنے ناخن آزمائے۔۔ دانتوں سے اسے کاٹا ۔ مگر وہ اس پر حاوی ھوتا گیا ۔۔ اس کی چیخیں اس کے گلے میں دم توڑ گئیں ۔۔ جلد ہی اس کی مدافعت بھی ختم ھو گئی ۔ اس نے خود کو بستر پر بکھرے ھوئے پایا ۔۔ اسے پتہ چل گیا کہ وہ جا چکا تھا ۔۔ سورج نکل آیا تھا ۔ وہ اٹھ کر کھڑکی کی جانب آئی ۔۔ اس کے ہاتھ میں اپنے شوہر کی گن تھی ۔وہ اسے لوڈ کر چکی تھی اور اب اس کی منتظر تھی اسے معلوم تھا وہ جلد ہی پہاڑ کی اوٹ سے برآمد ھو گا ۔۔ ایسا ہی ھوا ۔۔ اس نے لبلبی دبائی ۔ ٹھائیں ۔۔ اس نے اسے اپنے سینے پر ہاتھ رکھے اپنے گدھے کی پیٹھ پر مسلسل جھُکتے ھوئے پایا۔۔

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: