گورکن ۔۔۔ محمود احمد قاضی

گورکن

محمود احمد قاضی

یہ شہر کا قدیم ترین قبرستان ہے جو روایتی طور پر مغربی کونے پر شمالا جنوبا انداز میں واقع ہے۔ یہ شہر سے باہر ذرا دوری پر موجود تھا لیکن اب اسے زندہ لوگوں کی پھیلتی پھولتی بستی نے ہر طرف سے گھیر لیا ہے اور اب یہی شہر کے اندر ایک چھوٹے شہر کی طرح بس رہا ہے۔ اب یہاں مزید قبروں کی گنجائش تو نہیں رہی لیکن لوگ اب بھی ادھر ہی کا رخ کرتے ہیں کہ وہ اپنے ہر مردے کو پہلے سے دفن شده عزیز و اقارب کے پہلو میں دفن کرنا ضروری خیال کرتے ہیں۔ قبروں کے بنانے کے حوالے سے قبرستان چونکہ۔ بے ترتیبی اور افراتفری کا نمونہ پیش کرتا ہے اس لئے یہاں بے شمار ٹیڑھی میڑھی پگڈنڈیاں اور ایک دوسرے

کو بے دردی سے کاٹی ہوئی قطاریں نمودار ہو چکی ہیں بلکہ بعض مقامات پر تو جگہ اتئی تنگ اور ناپید ہے کہ لوگوں کو قبروں کے اوپر سے گزرتے ہوئے انہیں پھلانگنا پڑتا ہے۔

امرا کے طبقے سے تعلق یا درویشی لائن سے منسلک بعض لوگوں نے یہاں کی قبروں کا حق مارکر سنگ مرمر سے مزین مزار اور لمبی چوڑی پختہ قبریں بنوا رکھی ہیں۔ رات کے وقت یہ قبرستان اپنے چاروں کونوں پر ایستادہ بجلی کے کھمبوں پر لٹکے قمقوں اور بعض درمیانی جگہوں پر موجود روشنی کے نظام کی بنا پر نیم روشن رہتا ہے۔ پانی کی فراہمی کا انتظام میونسپل کارپوریشن کے ذریعے مہیا کئے گئے نلکوں یا ہینڈ پمپوں کے حوالے سے کیا گیا ہے۔ قریبی جنازہ گاہ مسجد اور اس کے طہارت خانوں کے لئے بھی وافر مقدار میں پانی دستیاب رہتا ہے ادھر قریب کی قبروں پر ڈالنے والے گلاب کے پھولوں کی پتیاں بیچنے والے بھی بیٹھتے ہیں۔ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے والی قبروں کو مرمت کرنے والے اور گاہے بہ گاہے ان پر مٹی کی لپائی کرنے والوں کی ایک مخصوص تعداد یہاں دن کے وقت موجود رہتی ہے۔ وراثتی طور پر یہاں ایک دیرینه کور کن خاندان کے افراد پر وقت موجود رہتے ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ صدیوں پہلے جب سے یہ قبرستان قائم ہونا شروع ہوا تب سے ادھر یہی لوگ نسل درنسل لوگوں کی خدمت بجالاتے رہے ہیں۔

عبد اللہ ایک تنومند گورکن ہے۔ اسے قبر کھودنے کا فن اپنے آباؤ اجداد سے سینہ بہ سینہ نقل ہوا ہے۔ وہ اپنے ابے، دادے اور لگژ دادے کی طرح سے یکساں مہارت رکھنے والا ایک یکتا فنکار ہے۔ قبر کی کھدائی کے فن میں ابھی تک یہاں کوئی اس کا ثانی نہیں ۔ وہ کسی بھی قبرستانی زمین کے خالی نکڑے کے سر پر کھڑے ہو کر وہاں کی مٹی کو سونگھ کر بتا سکتا ہے کہ یہاں پہلے کی پرانی قبر کی باقیات ہیں یا نہیں۔ ویسے خالی جگہ کے لئے اس کے پاس ایک خاص توجیہہ  ہے کہ اس نے خود سے منع کر رکھا ہے کہ کسی بھی قبر کے لواحقین اگر تین سال تک اپنے پیارے کی قبر کی رکھوالی ، خبر گیری با نگرانی ترک کر دیں تو وہ جگہ اس کے نزدیک خالی تصور کر لی جاتی ہے۔ اس کے خیال میں اس کا یہ خود ساختہ طریقہ کار نافذ نہ ہو تو پھر آئندہ نئے مردوں کو دفنانے کے لئے اس قبرستان کو بند ہی کرتا پڑے گا۔

اس قبرستان کے گرداب سرکاری ادارے کی جانب سے ایک پختہ دیوار تعمیر کر دی گئی ہے جس کی وجہ سے قبروں پر اگی گھاس پر چرنے کے لئے چھوڑے گئے مویشیوں اور بھیڑ بکریوں سے اس قبرستان کی جان چھوٹ گئی ہے۔ تب سے عبد اللہ اپنے آپ کو اس مملکت گورستان کا مالک واحد سمجھتا ہے۔ وہ بیک وقت شریف آدمی، گستاخ اور بدمعاش شخص بھی ہے۔ وہ یہاں کا دادا ہے۔ اس کا |

روزگار ان ہی قبروں کی آباد کاری اور بڑھوتری سے وابستہ ہے۔وہ اور اس کا خاندان جس میں اس کا بوڑھا باپ ، لاٹھی ٹیکتی ماں، جوان بیوی اور چار اوپر تلے کے بچے شامل ہیں

ان مردوں کا دیا ہوا ہی کھاتے ہیں۔  مردے انکے ان  داتا ہیں ۔ وہ رات کو سوتے وقت ایک چار پانی کے قریب اپنا ضروری سا مان کسی، کدال، سل، کھرپی اور کانا رکھ لیتا ہے کہ کسی وقت بھی اسے ضرورت کے وقت جگایا جا سکتا ہے۔ اس کی آمدنی تو اتنی  نہیں کہ اسے آسوده حالی نصیب ہو سکتی لیکن وہ بھو کے پیٹ نہیں سوتا۔ عمومی طور پر وہ سبزی خور ہے لیکن اسے بھینس کا گوشت بھی پسند ہے اس لئے ہفتے میں ایک بار اس کے ہاں یہ گوشت ضرور پکتا ہے۔ اسے ہڈی والا گوشت زیادہ پسند ہے۔

وہ ہر رات کو بے مطلب اور بے مقصد ہی قبرستان کا ایک چکر ضرور لگاتا ہے۔ تب اس کے راستے میں آئی یا اس کی ٹانگوں کے درمیان میں سے گزرتي گو ئیں، نیولے، بجو اور کئی قسم  کے کیڑے مکوڑے اسے ڈرانے کی سعی ضرور کرتے ہیں لیکن وہ انہیں ادھر کا لازمی اور ضروری وسنیک قرار دیتا ہے کہ اس کی طرح ان کا بھی رزق ہیں موجود ہے۔

وہ ہمیشہ قبر کے لئے نئی جگہ کی پیمائش کرتا ہے۔ سات فٹ لمبا کانا یہاں اس کے کام آتا ہے۔ اس کے تجربے میں یہ بات آلی ہے کہ یہاں کے مرد و زن عموما پانچ سے ساڑھے پانچ فٹ یا پونے چھ فٹ  کے ہوتے ہیں ۔ سات فٹا یا اس سے زیادہ لمبائی – یعنی قد والا بندہ ابھی تک اس کے ملاحظے میں نہیں آیا ہے۔ اس لئے اس کا کانا قبر کی لمبائی ماپنے کے لئے ایک محفوظ اور کارآمد چیز ہے۔ حالانکہ ایک آدھ بار ساڑھے چھ فٹا بندہ اس کے سامنے آچکا ہے تب بھی یہی کانا اس کے لئے کافی ثابت ہوا ہے۔ قبر کی چوڑائی کو ماپنے کیلئے اس کے پاس ایک موٹا سوئی دھاگہ ہے قبر کی گہرائی تو عام طور پر ایک جیسی ہی ہوتی ہے اس لئے اسے اس سلسلے میں کوئی خاص تردد نہیں کرنا پڑتا۔

یہ رات ہے اور یہ اپنے دوسرے پہر سے معائنہ کرنے کو تیار ہے۔ رات کا گھپ اندھیرا ضرور طاری ہے لیکن کبھی کبھی آسمان پر بجلی کا کوندا بھی لپک جاتا ہے۔ ہر لپک کے بعد گھن گرج بھی سنائی دے جاتی ہے۔ بجلی کے چمکنے سے پورا قبرستان جل اٹھنے پر آمادہ نظر آتا ہے۔ وہ ایک عظیم شعلے کی مانند ہو اٹھتا ہے۔ ابھی بارش شروع نہیں ہوئی اور وہ چارپائی سے پاؤں لگائے بیٹھا سوچ رہا

ہے کہ بارش اب آنے ہی والی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ کسی بھی نئے مردے کی نوید دم توڑنے والی ہے۔ اتنے خراب موسم میں کوئی بھی اپنے مردے کو دفن کرنے کا نہیں سوچ سکتا۔ وہ دیکھتا ہے کہ کوٹھڑی کے کونے میں جھلنگا چارپائی پر اس کی بیوی چھوٹے کو گود میں لئے بیٹھے ہے۔ چھوٹے کو کئی دنوں سے بخار ہے اور اس کی الٹیاں بھی نہیں رک رہیں ۔ وہ سول ہسپتال سے ہو آیا ہے۔ بڑے

ڈاکڑ نے دوائی دی ہے مگر افاقہ نہیں ہوا ہے۔ اسی دوران وہ ایک آدھ حکیم اور ہومیو ڈاکٹر کو بھی بچے کو دکھا چکا ہے۔ اس کے سر پر مصیبت یہ آن پڑی ہے کہ اس کا پیسوں والا برتن خالی ہو چکا ہے۔ پچھلے پندرہ سولہ دنوں سے کوئی مردہ دفن ہونے کے لئے ادھر نہیں آیا۔   اتنے دنوں وقفہ اس کے لئے نئی بات ہی نہیں ، انہونی بھی ہے۔

اس کے گھر کا چولہا پچھلے دو دنوں سے ٹھنڈا پڑا ہے۔ وہ اور اس کا خاندان گھر میں موجود ڈیلوں کے اچار اور قریبی تندور سے منگوائی جانے والی ادھار کی روٹیوں پر گزارہ کر رہا ہے۔

عبد اللہ ایک دم اٹھتا ہے اور اپنے سامان سمیت کوٹھڑی سے باہر آ جاتا ہے۔ وہ قبرستان کے وسط میں

ایک جگہ منتخب کرتا ہے۔ وہ  کسی چلاتا ہے۔ وہ کدال  استعمال میں لاتا ہے اور قبر کو مناسب شکل دیتا ہے۔ اینا کا م ختم کرنے کے بعد وہ نئی کھدی قبر کے قریب بیٹھ جاتا ہے۔ اسے ایک مردے کا انتظار ہے۔

Similar Posts:

Facebook Comments Box

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Calendar

January 2022
M T W T F S S
 12
3456789
10111213141516
17181920212223
24252627282930
31