ٹھہرا ہوا موسم ۔۔۔ محمود احمد قاضی

ٹھہرا ہوا موسم

محمود احمد قاضی

دھند ہے کہ چاروں طرف سے اس نے شہر کو گھیر لیا ہے ۔

پر چیز ساوئی ہوئی ہے، ٹھٹھری، منجمد۔

 کیثر میں لت پت جوتے کمرے کے کونے میں ٹکاا کر جب وہ مڑتا کارت پر پڑتا ہے تو اس کا سایہ اس عورت پر پڑتا ے  جو خود اب اسکے سائے کا حصہ معلوم ہوتی ہے

شی ۔۔۔۔ چپ

قدم قدم وہ اس کی جانب آتا ہے۔

عورت کا دھواں دھواںچہرہ تھوڑی دیر کے لئے تھر تھراتا ہے پھر ساکت ہو جاتا ہے۔

خاموشی کا اشارہ اپنے ہونٹوں پر جمی انگلیوں پر سجائے وہ کمرے کے کونے میں نقطہ بنی عورت کی طرف بڑھتا ہے جو اسے اپنے اتنے قریب پا کر خوشی اور غم کے ملے جلے تاثرات

والے چہرے کے ساتھ چیخ پڑنے کی حسرت کو اپنے سینے میں چھپائے بے حرکت ہے۔ عورت مرد کے ہے ہنگم  وجود کی پرچھائیں کو دیوار پر اچھلتے کودتے دیکھ کر مسکرانے کی کوشش کرتی ہے مگر فورا ہی اس کی مسکراہٹ بجھ جاتی ہے اور وہ وہیں سمٹی سڑی پڑی رہتی ہے۔

ایکہاتھ  سے خاموشی کا اشارہ اپنے ہونٹوں پہ چپکائے وہ دو سرا ہاتھ اس کی طرف بڑھا تا ہے۔

وہ عورت کی پیشانی پر جھکتا ہے، جھکتا  چلا جاتا ہے کہ ایک مدت سے یہ پیشانی اسکے بوسے کی منتظرہے۔ عورت خاموشی سے اس کی طرف دیکھے جاتی ہے۔

وہ اپنے پپڑی زدہ کھردرے ہونٹوں پر زبان پھیرتا ہے۔

فو ۔۔۔ فو ۔۔۔۔ فو   ۔۔۔۔۔

منہ سے عجیب طرح کی سرگوشیانہ انداز کی آوازیں نکالتا ہوا وہ عورت کو اپنے ساتھ چمٹا لیتا ہے۔

عورت کے جسم کا تناؤ ٹوٹنے کا نام نہیں لیتا۔

دونوں گہری گہری ٹهری ٹھری سانسیں لیتے ہیں۔

کمرے کی فضا تاریک ٹھٹهری، منجمد ۔

باہر دھند اور زیادہ گہری ہو چکی ہے۔

مم۔۔۔۔مم۔۔

عورت کے ہونٹ مرد کے ہونٹوں میں پیوست پتھر ہو چکے ہیں۔

 اور مرد کا چہرہ عورت کی چھاتیوں کے درمیان لاکٹ بنا پڑا ہے۔

 لالٹین کی لو اس ملگجے ماحول میں تھرتھراتی ہے تو عورت کی چھاتیوں کے نیچے اس کے دل کی دھڑکن تھم تھم جاتی ہے۔ وہ محسوس کرتی ہے کہ اس کی پیشانی پر ثبت پوسہ ابھی باسی نہیں ہوا۔ وہ مسکرانے کی کوشش کرتی ہے لیکن اسی لمحے لمبی تیز وسل کی آواز کمرے کی خاموش فضا کو مرتعش کر دیتی ہے۔

وہ جلدی جلدی کسی نہ کسی طرح اپنے جسم کی گٹھری کھولتا ہے اور وہ قمیض جس میں ابھی تک نمی باقی ہے پہننے کی کوشش کرتا ہے۔

قمیض اس کے بغلوں کے پاس پھنس چکی ہے۔

 تامرادی کے یہ لمحات اتنے طویل ہو جاتے ہیں کہ جن کو وہ گلیوں بازاروں چوکوں چھتوں کی ممٹیوں پر اندھیرے کی سلوٹوں کی آڑ میں ُجل دیتا رہا ہے سیٹیوں کو چوسنیوں کی طرح منہ میں دبائے دہے پاؤں چھہ مار کر اندر داخل ہو جاتے ہیں۔

 بغلوں کے پاس پھنسی اس کی قمیض ایک جھٹکے کے ساتھ اس کی گردن میں جھول جاتی ہے۔ وہ اس چھوٹے سے کمرے میں ہر طرف پھیل جاتے ہیں۔

چیزوں کو الٹتے پلٹتے پیروں کی دھمک سے کچے فرش کی مٹی اڑاتے وہ اس کی طرف اتنی نفرت

سے دیکھتے ہیں کہ اپنے تھوک کا پٹاخہ پھیکنے کے لئے بھی اس کے چہرے کا ہی انتخاب کرتے ہیں۔ ان کے تھوک سے لتھڑا چہرہ جب ان کی ٹھوکروں کی زد میں آتا ہے تو عورت جو ایک عرصے سے چننا چاہتی تھی اتنے زور سے چیختی ہے کہ ان میں سے ایک جو اس تمام عرصے میں اپنی گھنی مونچھوں کے پیچھے صرف مسکرانے ہی پر اکتفا کرتا ہے۔ اب اتنا سنجیدہ ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے ماتھے پر ابھر آنے والی رگوں کے سائے میں پھڑکتے ابرووںسے اشارے دیتا ہے اور دو بد ستور چیزوں کو الٹتے پلٹتے پیروں کی دمک سے کچے فرش کی مٹی اڑاتے ہیں۔

سب کچھ کچے فرش کی گرد کے پیچھے گرد ہو جاتا ہے۔

ان کے تھوک اورٹھوکروں سے  لتھڑا مرد کا چہرہ ایسی پہچان  بناتا ہے کہ اب وہ محض ان کی نفرت کی تصویر ہے ۔ اس عورت کی چھاتیوں کے درمیان بنا لائٹ نہیں کہ اس کی چھاتیوں پر  اب ان کے ناخنوں کی لمبی بھدی ان گنت خراشیں ہیں۔

دھند ہے کہ چاروں طرف سے اس نے شہر کو گھیر لیا ہے۔

 ہر چیزسوئی ہوئی ہے، ٹھٹھری، منجمد ۔

ایٹم بموں کے زیر زمین دھماکہ کرنے والے ممالک کو خراج ادا کرنے والے ریڈیو، ٹیلی ویژن مسلسل اعلان نشر کر رہے ہیں۔

” آنے والے دنوں میں موسم ایک جیسا رہے گا؟

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Calendar

March 2021
M T W T F S S
1234567
891011121314
15161718192021
22232425262728
293031  
Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: