نئی بشارت کا نوحہ ۔۔ منصور قیصر

جب تیسرا درویش بھی اپنا خواب سنا چکا تو چاروں کچھ دیر کے لیے پھر پتھر کیمورتیاں بن گئے. البتہ ان کی آنکھوں میں سرخ روشنی چمک رہی تھی.. پھر انہوں نے پلکیں جھپک کا غیر ارادی طور پر پہلے زمین کی طرف اور پھر آسمان کی طرف دیکھا. رات کے سیاہ اندھیرے منجمد ہو چکے تھے. آسمان پر لرزاں ستاروں کے خیمے ابھی گڑے ہوئے تھے نیلگوں ہوا نے سانس روک رکھی تھی. اور پر اسرار فضا کو جیسے کسی نے حنوط کر دیا تھا۔

چوتھے درویش کے ہونٹوں میں پھڑپھڑاہٹ ہوئی اور وہ گویا ہوا'” دوستو. کیا بات ہے؟ تمہارے خوابوں کی کرچیوں سے. شب زخمی نہیں ہوا. رات کی آنکھوں میں پو پھٹنے کے کوئی آثار بھی نہیں ہیں اور ہمارے لئے یہ بھی مشکل ہے کہ ہم خاموشی کی چادر اوڑھ کر صبح صادق کا انتظار کریں۔”

پہلا درویش بولا، ” ابھی تو تمہاری باری باقی ہے. میں دم توڑتے ہوئے الاؤ میں خشک لکڑیاں ڈالتا ہوں. تم اپنے خوشبودار خوابوں کی گٹھڑی کھولو”۔

, چوتھا درویش ایک لمبی آہ بھر کر بولا، “مگر المیہ یہ ہے کہ میرے خوابوں کی خوشبو کو دیمک چاٹ چکی ہے۔ میں نے خوابوں کے دریچے بند کر دیے ہیں. آخر ہم کب تک خوش کن خوابوں  کی بیساکھیوں کے سہارے زندہ رہیں گے. ایک نا ایک دن تو ہمیں سچائی کا زہراب پینا ہی ہے۔”

دوسرے نے ذرا طنزا مسکرا کر کہا، ”  اچھے درویش ہو کہ تم نے وجدان کے دریچے بند کر رکھے ہیں آخر تم بھی اس بات کا اعتراف کیوں نہیں کرتے کہ ہمارے ہاتھوں  میں اپنے آپ کو سرزنش کرنے کے لئےجوچابک تھے وہ ہم نے دوسروں پر برسانے شروع کر دیے ہیں۔ “

پہلا درویش بولا, ” اگر پانچواں بھی ہمارے ساتھ رہتا تو یہ طویل اکتا دینے والی اجنبی رات کو ہم اپنی آپ کہانیوں کی درانتیوں سے کاٹ دیتے. میری سمجھ میں تو ابھی تک یہ نہیں آیا کہ وہ ہم سے روٹھ کر کیوں چلا گیا۔”

, دوسرے درویش نے پہلے کے شانے پر ہاتھ رکھتے ہوئے جواب دیا، “پانچواں درویش ہم سے صرف اس لئےروٹھ کر چلا گیا کہ مرشد نے خرقوں کا جو ترکہ چھوڑا تھا وہ ہم چاروں نے آپس میں ہی بانٹ لیا۔ جب پانچویں نے اپنا حصہ طلب کیا تو ہم نے اسے ایسا خرقہ پیش کیا جو پانی کو جذب نہیں کرسکتا تھا۔”

تیسرا درویش جو بہت دیر سے پتھرایا ہوا تھا. بیزاری کا اظہار کرتے ہوئے کہنے لگا ،”چھوڑو کیا قصہ لے بیٹھے ہو؟ جو بچھڑ گیا سو بچھڑ گیا. تمہیں کئی بار مرشد کا قول یاد دلا چکا ہوں کہ ماضی میں دفن ہونے والے لمحوں کی قبریں مت کھو دو کہ لاریب یوں محض  تعفن پھیلتا ہے اور پھر یہ کہ  پانچواں تو اب خود بھی اپنا مرشد بن گیا ہے۔”

دوسرے نے کچھ سبکی محسوس کی اور گویا ہوا، دوستو ۔ ہم نے مرشد کے خرقے پہن

کر کونسا تیر مار لیا ہے؟, سلوک, توکل ، قناعت اور شناخت کی کونسی منزل طے کرلی ہے ؟ آخر ہم مرشد کے نام کو کب تک پناہ گاہ کے طور پر استعمال کرتے رہیں گے۔ “.

پہلا درویش جس نے دم توڑتے ہوئے الاؤ میں چوب خشک سے نئی روح پھونک دی تھیجھنجھلا کر بولا۔بھایئو۔ کن بکھیڑوں میں پڑ گئے ہو, کیوں اختلافات کے فلیتوں کو چنگاری دکھا رہے ہو۔ یہ سچ ہے کہ اپنی کوتاہیوں کا احساس کرنا خود شناسی کی پہلی منزل ہے مگر یہ بھی سچ ہے کہ سیاہ اندھیروں سے ڈسنے والی رات کی ابھی پہلی منزل ہی گزری ہے ہمیں پو پھٹے تک بیدار رہنا ہوگا.. یہ بھی مت بھولو کہ ہم میں سے جس کی آنکھ بھی لگ گئی اسے تاک میں بیٹھا ہوا بھیڑیا پھاڑ جائے گا ۔”‏

. بھیڑیے کا نام سن کر چاروں پھر کچھ دیر کے لیے پتھر کی مورتیاں بن گئے. جب خاموشی کو اکتاہٹ کا زنگ لگنے لگا تو چوتھے درویش نے ایک فلک شگاف قہقہہ لگایا جس کی بازگشت دور پہاڑیوں میں سے سنائی دی۔ تینوں کو یہ بہت ناگوار گزرا. وہ اس پر لشکروں کی طرح جھپٹنے ہی والے تھے کہ چوتھا بولا صبر۔ صبر کہ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔.

حیرت کی بات ہے, کہ درویش ہوتے ہوئے بھی تم تاک میں بیٹھے ہوئے بھیڑیے سے ڈر گئے۔ حالانکہ ہم سب کے اندر خوف کا ایک بھیڑیا چھپا بیٹھا ہے جو منافقت کا گوشت کھاتا رہتا ہے۔”.

. اس کی بات سن کر تینوں نے گرد نے اپنے گریبانوں میں ڈال لیں۔ چوتھا پھر بولا,. اچھا اب دوزانو ہو کر بیٹھ جاؤ۔ میں تمہیں اپنا ایک ایسا ادھورا خواب سنانے لگا ہوں جو میں عنقریب دیکھنے والا ہوں۔ “

, پہلے نے دو زانو بیٹھے ہوئے تعجب سے پوچھا۔” تو کیا تم نے ابھی تک خواب نہیں دیکھا ؟

. نہیں. چوتھا بولا.  “خواب ابھی تک مجھے دیکھتا رہا ہے. پھر وہ گویا ہوا. صاحبو۔ خواب کچھ یوں ہے کہ میں مرشد کے حکم پر ایک بستی میں داخل ہوتا ہوں کہ اہل بستی کے دلوں میں اللہ کی محبت کی پنیری لگاؤں کہ کیا دیکھتا ہوں کہ بستی والے, کیا بڑے، کیا چھوٹے، اپنے مکانوں سے نکل کر بستی سے باہر ایک وسیع میدان میں جمع ہو رہے ہیں. ان سب نے اپنے کندھوں پر پھاوڑے بیلچے اور کدالیں اٹھا رکھی ہیں.  وہ یوں  خاموش ہیں جیسے کسی نے ان کے لبوں کو سی دیا ہو. ان کی آنکھوں سے تاسف کا تیزاب ٹپک رہا ہے. اس ہجوم میں سے کسی ایک شخص پر میری نظر پڑتی ہے ۔ جو مجھے سب سے زیادہ بزرگ معلوم ہوتا ہے. میں پوچھتا ہوں، ” جب تم اپنے ان رچے بسے  مکانوں کو چھوڑ کر اس میدان میں کیوں جمع ہو رہے ہو.؟” بوڑھا تعجب سے میری جانب دیکھتے ہوئے جواب دیتا ہے.” اجنبی دکھائی دیتے ہوں ورنہ یہ سوال نہ کرتے ۔”میں اثبات میں سر ہلا کرکہتا ہوں آپ درست فرما رہے ہیں.. مجھے تو مرشد نے بھیجا ہے کہ میں بستی والوں کے دلوں میں اللہ کی محبت کی پنیری لگاؤں بوڑھا بڑے سپاٹ لہجے میں میری طرف دیکھے بغیر کہتا ہے، ” یہ پنیری تو ہم نے تین دہائی پہلے اپنے دلوں میں لگائی تھی مگر وہ پودے تناور درخت نہ بن سکے.. کیوں کہ ہمارے دلوں کو سیم اور تھور لگ گئی ہےمیں پھر اپنا سوال دوہراتا ہوں ، ” مگر  مکانوں کو کیوں چھوڑ رہے ہو؟” بوڑھا ذرا جھنجھلا کر بولتا ہے.”تمہیں  نظر نہیں آرہا کہ مکانوں کی بنیادوں میں ریت بھر گئی ہے. یہ کسی وقت بھی ہم پر گر سکتے ہیں.” صاحبو, پھر میں دیکھتا ہوں کہ تمام بستی والے کیا چھوٹے کیا بڑے, کھیلتے ناچتے گاتے اور ایک دوسرے سے چہلیں کرتے. اس میدان میں اپنی قبریں کھود نے لگتےہیں, کسی کے چہرے پر کوئی ملال نہیں.جیسے وہ اسی دن کا انتظار کر رہے تھے. میں بھی ان کے ساتھ شریک ہو جاتا ہوں کہ وہاں محض تماشائی بن کر کھڑے رہنا بڑا معیوب نظر آتا تھا. دوسروں کی طرح میں نے بھی اپنے لئے بڑی کشادہ قبر کھود لیتا ہوں, پھر دیکھتا ہوں کہ ہر ایک کیا چھوٹا کیا بڑا اپنی گردنوں میں لٹکی ہوئی سنگ مرمر کی لوحیں اتارتا ہے جو اپنی قمیضوں کے اندر چھپا رکھی تھیں. ان لوحوں پر ہر ایک کا نام. اور اس کی ماں کا نام بڑے خوشنما طریقے سے کندہ تھا, ہاں یاد آیا. ہر لوح پر اس بستی کا نام بھی لکھا تھا۔ وہ بوڑھا  شہادت کی انگلی اٹھا کر میری گردن کی طرف اشارہ کرتا ہے, میں اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھتا ہوں وہاں لوح کی بجائے ایک طوق لٹک رہا ہے. جس پر سیاہی مائل خون کی پپڑیاں جمی ہوئی ہیں. ان سب کی دیکھا دیکھی میں بھی اپنی قبر پر وہ طوق نصب کر دیتا ہوں., پھر میں کیا دیکھتا ہوں کہ بستی کے سب لوگ,کیا  بڑے کیا چھوٹے نہایت فخر سے ایک دوسرے کو اپنی اپنی قبر پر نصب شدہ لوح دکھاتے ہیں۔ وہ انتہائی پر انبساط لہجے میں بلند آہنگ میں آپس میں باتیں بھی کر رہے ہیں۔ میرے پلے کچھ نہیں پڑ رہا. یہ بات نہیں کہ وہ کوئی غیر زبان بول رہے تھے. ان کی زبان کو اچھی طرح فہمید کرتا ہوں مگر نہ جانے کیا بات ہے کہ ان کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ میرے کانوں تک پہنچتے ہی اپنا مفہوم کھو دیتے ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے خشک پتوں پرریت گر رہی ہو۔ جب دن کے اجالے مرجھا جاتے ہیں اور نیند میں جھولتا ہوا سورج دور سمندر کی گود میں سر رکھ کر سو جاتا ہے، تو تمام بستی والے کیا چھوٹے کیا بڑے. خوشی خوشی ایک دوسرے کو الوداع کہتے ہوئے اپنی اپنی قبر میں گھس جاتے ہیں.میں ابھی ان کے نقش قدم پر چلتا ہوں.پھر میں  کیا دیکھتا ہوں کہ نئے سورج کی آنکھ سے گرم دھوپ بہہ رہی ہے, تمام بستی والے کیا چھوٹے کیا بڑے،  کھانے پینے اور آسائش کی دیگرچیزیں اٹھائے. بڑی شاہراہ پر جمع ہوگئے ہیں۔ وہاں شاید کوئی کارواں سرائے ہے۔ تھوڑی دیر بعد شاہراہ کے دونوں اطرافسے قافلے آنے شروع ہو جاتے ہیں۔ قافلے والے ان سے اشیائے خوردونوش خریدتے اور معاوضے میںانگا رنگ کی نقدی اور بدیسی چیزیں دیتے ہیں۔ کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ بعض قافلے والے اس کارواں سرائے کے باہراپنے خیمے گاڑ دیتے ہیں اور بستی والوں کی جوان اور خوبصورت عورتوں کو خیموں میں لے جاتے ہیں اور تھوڑی دیر بعد پرنچی مرغیوں کی طرح انہیں باہر پھینک دیتے ہیں.البتہ ان کی چادروں میں ان گنت تحائف بھرے ہوتے ہیں پھر کیا دیکھتا ہوں کہشام ڈھلتے ہی سب بستی والے کیا بڑے کیا چھوٹے, پھر قبروں کے پاس لوٹ آتے ہیں.مگر وہ اپنی اپنی قبر کو تلاش نہیں کر سکتے جیسے انہیں اپنی چیزوں کی پہچان نہ رہی ۔جو  بھی جس قبر میں اتر کر دیکھتا ہے وہ اسے قبول نہیں کرتی. دم گھٹنے لگتا ہے.. پھر کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی. ہرکوئی دوسرے سے پوچھتا ہے کہ میری قبر کونسی ہے. کوئی بھی اپنے نام کی لوح نہیں پڑھ سکتا. ہر کوئی سارے دن کی مشقت سے تھکا ماندہ اور جھنجھلایا ہوا ہے.جیسے نیند کی لمبی لمبی زبانیں اسے چاٹ رہی ہو. پھر وہ سب میرے گرد ہالہ بنا لیتے ہیں اور پوچھنے لگتے ہیں کہ تمہاری قبر کہاں ہے؟ . میں انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہوں، ” وہ ہے جس پر لوح کی بجائے ایسا طوق نصب ہے جس پر سیاہے مائل خون کی پپڑیاں جمی ہوئی ہیں۔” پھر وہ  بے قرار ہو کر پوچھنے لگتے ہیں، ” ہمارے نام کیا ہیں ؟ کیا ہمارے کوئی نام بھی تھے ؟. میں جواب دیتا ہوں، ” لا ریب تمہارے نام تھے کہ تم نے اپنی لوحوں پرکندہ کیے تھے تاہم مجھے معلوم نہیں کہ تمہارے نام کیا ہیں.کہ میں نے تم سے تمہارے نام نہیں پوچھتے تھے. ممکن ہے اب تم سب کا ایک ہی اسم ہو.کوئی اسم اعظم.” پھر دیکھتا ہوں کہ وہ سب کے سب مایوس ہوگئے ہیں اور قبروں کے سرہانے ٹیک لگا کر کھلے آسمان تلے بیٹھ کر ایک دوسرے سے اپنا نام پوچھ رہے ہیں۔

” پھر کیا ہوا؟”. پہلے درویش نے یوں مضطرب ہوکر پوچھا جیسے وہ کہانی کا نقطہ عروج معلوم کرنا چاہتا ہو۔

چوتھے درویش نے مشرق کی طرف نظریں جمائے ہوئے جواب دیا.” پھر کیا ہونا تھا.جب فجر کو کانوں  میں آواز پڑتی ہے کہ آو فلاح کی طرف. تو میری آنکھ کھل جاتی ہے اور یوں خواب ادھورا رہ جاتا ہے۔

. پھر چاروں درویشوں نے اسم اعظم کی تختیوں  کو خرقوں سے باہر نکال کر گردنوں میں نمایاں طور پر لٹکا لیا لیکن اندھیرے کی وجہ سے انہیں یہ نظر نہیں آرہا تھا کہ ان تختیوں پر اس میں اعظم مٹ چکا تھا اور وہاں سیاہی مائل خون کی پپڑیاں جمی ہوئی تھیں۔.

Read more from Mansoor Qaiser

Read more Urdu Stories

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Calendar

December 2020
M T W T F S S
 123456
78910111213
14151617181920
21222324252627
28293031  
Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: