طبعی موت سے خالی چوک ۔۔۔ مسعود قمر

طبعی موت سے خالی چوک

مسعود قمر

ماں کے رحم میں

خود کشی اور میں

ایک ساتھ رکھے گئے

خود کشی

میرے اور ماں کے خون سے

رحم میں میرے ساتھ پلتی رہی

میں اور وہ

جڑواں اور یتیم بچے تھے

ساری عمر

ہم محنت مزدوری کر کے

ایک دوسرے کو پالتے رہے

ملک۔۔۔۔۔۔۔ طبعی موت سے

خالی ہوتا جا رہا ہے

ہر تیسرا گھر

طبعی موت سے خالی ہے

سب پازیبیں ٹوٹی

اور

پاوٌں کے بغیر دفن ہو رہی ہیں

ادھ کھائے سیبوں سے

زمین اٹی پڑی ہے

ریل کار بغیر انجن کے

کمر تک اگی گھاس میں

بغیر پلیٹ فارم کے کھڑی ہے

لگتا ہے

سنسان گلی، چوک اور محلے میں

خود کشیوں کے ڈاکے پڑنے والے ہیں

اس سے پہلے سناٹے کی

تیز بارش سے راستے بند ہو جائیں

مجھے درختوں کے کوکتے سناٹے میں

جلدی جلدی گھر پہنچ جانا چاہیے

میں اپنی خود کشی

کسی کے ہاتھ لگنے نہیں دوں گا

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Calendar

January 2021
M T W T F S S
 123
45678910
11121314151617
18192021222324
25262728293031
Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: