اکیسویں صدی کا عشق ۔۔۔ مریم تسلیم کیانی

اکیسویں صدی کا عشق

مریم تسلیم کیانی

مجھے اور تمہیں کوئی ڈر نہیں

نہ کوئی وعدہ وفا کرنا ہے

نہ کوئی امید چراغ جلانا ہے

ایک شادی تھی فرسودہ رسم زمانے کی

وہ مرحلہ بھی طے کر چکے ہم

اپنی اپنی جگہ ہم کتنے مطمئن ہیں

اب ملنے بچھڑنے کا عذاب ہے کب

اب جستجو وصال کیسا

اب لذت لمس کی کسے تمنا

نہ زمانے کی فکر

نہ لوگوں کا خوف

ہم ان تمام جذبوں سے کتنے آگے نکل گئے ہیں نا

ہاتھوں کی پوروں میں سمٹ آئے ہیں

تم لمحہ لمحہ میرا انگ انگ چھوتے ہو

میں بھی اپنے سرہانے تمہارے لفظ پیتی ہوں

انگلی کے ایک اشارے پر دنیا کتنی سمٹ آئی ہے

ہم کو کتنا قریب لے آئی ہے

اور مجھے اور تمہیں کسی کا ڈر نہیں ہے

کیوں کہ میں نے بھی اپنے موبائل کا پاس ورڈ کسی کو نہیں بتایا

Similar Posts:

Facebook Comments Box

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Calendar

January 2022
M T W T F S S
 12
3456789
10111213141516
17181920212223
24252627282930
31