دس لاکھ میں ایک ۔۔۔ مرزا اطہر بیگ

دس لاکھ میں ایک

مرزا اطہر بیگ

وہ صبح بھی ویسی ہی تھی جیسی کہ صبح جو کل  تھی۔

مملکت کے سب معمولی لوگوں کی طرح الیاس مبین کے دن کا آغاز بھی آدھی رات کی تقویم سے نہیں بلکہ سورج کی صبح سے ہوتا تھا۔ دھند آلود کلیلی سردی، زرد گرم دھوپ اور ترچھی برستی بارش کی صبح جوملکت کے سب لوگوں کو دہلا کر ان کے سہمے ہوئے دھڑکتے دلوں میں، غسل خانوں، بھیگتے مساموں، کُند بلیڈوں، نیم پختہ ناشتوں اور بوٹ پالشوں کا ایک طوفان برپا کر دیتی تھی۔ پھر میلے کاغذوں کا ایک پلنده صبح کے اس طوفان میں نمودار ہوتا تھا اور دھڑکنوں میں ہر طرف تازه اخبار کی پھڑ پھڑاہٹ کے ساتھ ساتھ شروع کرو‘ تیار ہو جاؤ‘‘ کی صدائیں بلند ہونا شروع ہو جاتی تھیں۔

الياس نے دیکھا کہ میز پر پھیلے اخبار کا ایک کو نا تلے ہوئے انڈے کی پلیٹ میں گھس کر انڈے کی زردی کے اوپر بیٹھ گیا ہے اور چکنائی چوس چوس کر رنگ بدل رہا ہے۔ ایس نے تیزی سے پلیٹ کو اپنی طرف کھینچا اور تلے انڈے کی اوپری جلد چٹکیوں سے نوچ نوچ کر نیچے پھینکے گا۔ سامنے بیٹھی بیوی اور بچے نے حیرت سے اسے دیکھا۔

“کاغذ تو پاک ہوتا ہے ابو۔” بچے نے کہا۔

“آدھا انڈا ضائع کر دیا۔ صاف ستھرا کاغذ ہی تو تھا۔” بیوی نے کہا۔ الیاس نے حلق میں لا یعنی سی خرخراہٹ پیدا کی اور کہا ’’آدھا نہیں ۔ صرف پچیسواں حصہ بلکہ ایک بٹا سینتالیس ” پھر ماتھے پر بل ڈال کر اتنے غور سے اخبار دیکھنے لگا جیسے کالموں میں کوئی نجاست یا پلیدگی ڈھونڈنا چاہتا ہو۔ کسی سور کی جلد۔  کسی کتے کا بال ۔ کسی شیطان کا تھوک یا شتونگڑوں کا پیشاب۔ ڈبل روٹی کے ٹکڑے نگلنے کے ساتھ ساتھ اس نے فلمی اشتہاروں کی نیم برہنہ عورتوں کو بیزاری سے دل ہی دل میں برہنہ کیا پھر چھوٹی سرخیوں کی طرف بڑھنے کے بعد انڈا منہ میں ڈال لیا۔

”انڈ ا تلنا !  اس طرح کہ جلے بھی نہیں اور زردی سخت بھی نہ ہو۔ ایک چھوٹا سا راز ہے جس کو استعمال کر کے بیوی کو ہرصبح  ایک گہرے فخر کا احساس نصیب ہوتا ہے۔ ایسا ہی احساس مجھے اس وقت ہوتا ہے جب میں بے رابط اعداد کے مجموعے کو کامیابی سے یقین کے فارمولوں میں بدلتا ہوں ‘‘

ضلعی خبریں ۔ اداریہ۔ سب کچھ معمول کی اوسط کے عین مطابق ہے۔ اشتہارات بھی وہی ہیں اور تلاش گم شدہ کا یہ اشتہار بھی معمول کے مطابق ہے۔ لوگ گم ہوتے رہے ہیں ۔۔ کہیں کھو جاتے ہیں۔ غائب ہو جاتے ہیں یا پتہ نہیں کیا ہوتا ہے کہیں ادھر ادھر ہو جاتے ہیں ۔ پھر ان کے متعلق اشتہار آتے ہیں۔ گھر واپس آجاؤ تمہیں کچھ نہیں کہا جائے گا۔ آخر کہا بھی کیا جا سکتا ہے۔ اطلاع دینے والے کو بھاری انعام کا لا لچ ۔ بھلا کتنا بھاری۔ علاوہ خرچہ آمدورفت ۔ فلاں بن فلاں اتنے عرصے سے لا پتہ ہے۔ رنگ گندمی۔ اس پتے پر اطلاع دیں۔ تصویر میں کیسا بنا ٹھنا بیٹھا ہے۔ کب اتروائی ہوگی اس نے یہ تصویر ۔  شناختی کارڈ کے لئے۔ کسی کو بحیثیت خاوند اپنا آپ پسند کروانے کے لئے۔ یا شاید ویسے ہی ۔ زیادہ امکان ایک بات کا ہے کہ ویسے ہی ۔ دائیں جبڑے پر زخم کا نشان ۔ اس تصویر کے جوڑے پر تو زخم کا نشان نظر ںہیں آ رہا۔ لوگوں کو چاہیے کہ اپنی ایک آدھ نماینده تصویر ایسی بھی بنوا لیا کریں جو ان کا گمشدگی کے بعد تلاش کے اشتہار میں دی جا سکے۔ یا پھر بندے کے منہ ماتھے کا خط اوسط سے انحراف ہی اتنا زیادہ ہو کہ ہر تصویرہی شناختی تصویر بن سکے ۔

قانون امکان ۔ اوسط ۔ خط اوسط سے انحراف!

مملکت کے ہر ایک نظام کی شماریات معلوم کرنے والے ادارے میں دس سال تک ملازمت کرنے کے بعد ہر شے اور ہر شے اور ہرعمل کا خط اوسط سے انحراف معلوم کرنا۔ جونیئر اسٹیٹسٹیکل آفیسر الياس مہین (ایم ایس سی اسٹیٹس) کی عادت ثانیہ بن چکا تھا۔

یہ چہرہ تو ایسا نہیں کہ آسانی سے پہچانا جا سکے ۔ کسی کو نظر آ بھی گیا تو پھر بھی۔ جبڑے پر زخم آخر کیسے آیا ہو گا۔ کھیل کود کے دوران لڑائی بھڑائی  ۔ کوئی حادثہ۔  زیادہ امکان یہی ہے کہ کوئی حادثہ۔

”آپ اخبار ہی چاٹتے رہیں گے یا دفتر بھی جائیں گے۔ ” بیوی نے برتن سمیٹتے ہوئے پوچھا

الیاس نے اطمینان سے گھڑی پر سات بج کر تیرہ منٹ کا وقت دیکھا اور اٹھ کھڑا ہوا ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑے ہو کر اس نے اپنے سراپے کا تنقیدی جائزہ لیا۔  کلین شیو چہرے کو پسند یدگی سے دیکھا۔ ان چند بالوں کی موجودگی پر پھر حیرت کی جو دو بار شیو کرنے کے باوجود غائب نہیں ہوئے تھے۔ پھر معمول کے مطابق آفٹر شیو لوشن کی شیشی کھول کر بایئں ہتھیلی پر چھ قطرے گرائے اور دائیں ہاتھ کی انگلیاں خوشبو دار جراثیم کش سیال میں تر کر کے انہیں چہرے کی جلد پر احتیاط سے پھیرنے لگا۔ “جس رفتار سے بیلون میں استعمال کر رہا ہوں اس حساب سے چھٹیاں نکال کر یہ ابھی مزید 47 دن چلے گا۔ ” اپنے اس یقین سے ایک تقویت بخش لطف حاصل کرتے ہوئے اس نے اپنے جبڑے کو مزے سے سہلایا۔ ”میرے جبڑے پر زخم کا کوئی نشان نہیں ‘‘

“اخبار سنبھال کر رکھنا میں واپس آ کر دیکھوں گا۔”  اس نے بیوی سے کہا۔ پھر ہر صبح کی طرح اس صبح بھی اس نے بریف کیس سنبھالنے سے پہلے دن کا اولین سگریٹ لگا یا ۔

ٹھیک ساڑھے سات منٹ بعد جب یہ سگریٹ ختم ہوگا تو میں گلی سے نکل کر سڑک پر پہنچ چکا ہوں گا۔ پھر میں ایک ہی جھٹکے میں سگریٹ کے ٹوٹے کو نکڑ پر بنے گٹر کے تنگ منہ میں

پھینکنے کی کوشش کروں گا۔ تیزی سے چلتے چلتے۔ بازو کی ایک قوی حرکت سے سگریٹ کے ٹوٹے کو کسی گٹر کے تنگ منہ کے اندر ڈال دینے کا امکان اگر چہ ہزار میں ایک ہے۔ لیکن ہوسکتا ہے کہ آج میں کامیاب ہو جاؤں ‘‘

الياس مبین اس صبح بھی ٹوٹ کو گٹر کے منہ کے اندر پھینکنے میں کامیابی حاصل نہ کر سکا۔ یہ بھی معمول کے مطابق تھا۔ اسی طرح جیسے اس کا بس سٹاپ پر کھڑے ہو کر ایک منٹ میں تین بار گردن

کو ساٹھ کے زاویے پر با ئیں گھمانا اور ہر آتی بس کے ماتھے پر 50 کا نمبر پہچاننےکی کوشش کرنا معمول کے مطابق تھا۔

7 بج  کر 22 منٹ۔

 50 نمبر کی بس کے لئے مجھے اوسط 12.67 منٹ تک انتظار کرنا پڑتا ہے اور ابھی صرف سات منٹ گزرے ہیں۔ الیاس نے اطمینان سے گھڑی دیکھتے ہوئے سوچا۔ سامنے نظر دوڑا کر اس نے سڑک کے پار مخالف سمت کے بس سٹاپ پر کھڑے کچھ لوگوں کو پہچانا۔ پھر اور بائیں طرف دیکھا۔ قصائی کی دکان پر الٹے ٹنگے تین سر کٹے بکر ے۔ بالٹیوں میں پانی اور پانی میں تیرتی کلیجیاں ۔ پھپھڑے۔ دل ۔ اوجھڑیاں جو الیاس مبین کونظرتونہ آئی تھیں مگر اس کے خیال کے مطابق وہیں تھیں اپنے اپنے مقام پر۔ وہی منظر ہے ۔ معمول کا منظر وہی رہتا ہے صرف بکرے بدل جاتے ہیں۔ “مزید بائیں طرف پھلوں کی ریہڑھی۔ حاجی اسٹیل ورکس ۔ لوہے کے جنگلے ۔ فریم، سائنٹیفک بیکری… بیکری کا مالک… کیک پیسٹریاں۔ بسکٹ… کچھ اور بائیں طرف… کنکریٹ کا تھڑا… تھڑے پر بیٹھا ایک آدی لا ثانی جزل مرچنٹ۔ یہ کیا. تھڑے پر بیٹھا آدمی …… بیٹھا آدمی۔ وہ آدمی جوتھڑے پر بیٹھا سامنے دیکھ رہا ہے …. وہ آدمی ۔!

زندگی میں پہلی بار جونئیر ایسٹیٹیکل آفیسر الیاس مبین (ایم ۔الیں ۔ سی اسٹیٹس) نے اپنی سکس بائی سکس نظر اور بے خطاحافظے پر شک کیا۔ کیا محض نظر کا دھوکہ ہے۔ وہم ہے یا

کچھ اور۔ یا پھر وہ شخص جو اس وقت سائنٹیفک بیکری اور لاثانی جزل مرچنٹ کے درمیان تھڑے پر بیٹھا ہے۔ وہی ہے جس کی تصویر آج صبح میں نے گمشدگی کے اشتہار میں دیکھی تھی۔ یہ ناممکن  ہے یا پھر انتہائی کم ممکن Highly Improbable ایسے کسی واقعے کا امکان تو 10 لاکھ میں ایک سے بھی کم ہوگا۔ مگر وہ شخص جو سایئنٹفک بیکری اور لاثانی جنرل مرچنٹ کے درمیانی تھڑے ۔۔۔۔

سات بج کر تیئس منٹ اور سات بج کر چوبیس منٹ  کے درمیان کا کوئی سیکنڈ یا مائکرو سیکنڈ ایک پاگل لمحہ تھا۔

ایک ایسا لمحہ جو عظیم شہر کے شور یلے پس منظر کے مخالف اپنے وجود کو برقراررکھتے

کسی شخص کے توازن کو برباد کر سکتا ہے۔ جس میں پیس منظر اور پیش منظر ایک دوسرے کی مخالف سمت میں زقند لگاتے ہیں اور سب کچھ اتھل پتھل  ہونے لگتا ہے۔

تھڑے پر آدمی کو دیکھنے۔ گم شدہ کی پہچان کا پہلا خفیف احساس ہو نے۔ احساس کے بڑھنے

۔ تیزی سے سڑک پار کرنے۔ دائیں جبڑے پر زخم کا نشان ڈھونڈنے اور پھر انتہائی غیر امکانی کے امکائی میں بدلنے پر ایک پاگل لمحہ محیط تھا۔

الیاس مبین نے جانا کہ وہ صبح کی دھوپ میں کھڑا گن گن کر سانس لے رہا ہے۔ بریف کیس کے ہینڈل پر اس کی گرفت اتنی مضبوط ہے کہ وزن غائب ہو چکا ہے ۔ ٹریفک کا شوربے حد بلند ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ سب آوازیں صاف اور بالکل جدا جدا ہیں ۔ پاؤں کے تلوے جرابوں کو گیلا کر رہے ہیں اور خشک حلق میں دل اچھلتا ہے! ذراسی حرکت نہیں ذرا سی جنبش نہیں ۔ نہیں تو کچھ ہو جائے گا۔ !

پھر آپ ہی آپ حلق کے عضلات اپنے آپ کو تر کرنے کے لئے متحرک ہوئے تو سب کچھ پیچھے کو پلٹ گیا۔ ہر احساس کا عکس لوٹ آیا اور آنکھوں میں وہ آدمی جوکنکریٹ کے تھڑے پر بیٹا لاتعلقی سے صبح کے ہجوم کو تکے جارہا تھا۔

“یقینا یہ وہی شخص ہے۔ شک و شبہے کی کوئی گنجائش نہیں ۔ زخم کا نشان بھی واضح ہے۔ میرا حافظہ اتنا کمزور نہیں ہوسکتا۔ الیاس نے بریف کیس کے وزن کو پھر سے محسوسں کرتے ہوئے سوچا۔

“یہ وہی ہے ۔ مگر وہی ہے تو پھر کیا؟ میں کیا کر سکتا ہوں؟ مجھے کیا کرنا چاہیے؟ مجھے تو دفتر پہنچنا ہے۔ 50 نمبر کی بس ؟“

جوئیئر سٹیتسٹیکل آفیسر الیاس مبین نے اپنی نظریں تھڑے پر بیٹھے آدمی پر جمائے رکھیں اور تیزی سے اپنا رویوں کا کیٹیلاگ کھنگالنے لگا مگر وہاں ایک بھی کارڈ ایسا نہ تھا، جس پر اس انوکھی صورتحال سے نپٹنے کی ترکیب درج ہوتی ۔ ” گم شد و مشتہر کئے گئے افراد سے اتفاقیہ ملاقات ہونے پر اختیار کی جانے والی تدابیر” یہ عنوان کہیں بھی موجود نہ تھا۔

“ہوسکتا ہے یہ سرے سے وہ آدمی ہی نہ ہو کوئی اور ہو الیاس پھر تذبذب کا شکار ہونے لگا۔ ہو سکتا ہے وہی ہو نہیں وہی تو ہے۔ اس کے دا ئیں جہڑے پر زخم کا نشان ہے۔

دا ئیں پر ہے یا بائیں پر۔ یہ میرا دایاں ہے اس کا دایاں کون سا ہوگا۔ جس زاویے پر وہ بیٹھا

ہے اس کا دایاں وہی ہے جہاں زخم … بایاں … دایاں میرے خدا کیا ہوربا ہے۔۔سب کنفیوزہو رہا ہے… کچھ اور نشانیاں ھی تو درج تھیں، کیا تھیں ؟… عمر .. قد، مجھے فورا ایک اخبار خریدنا چاہیئے۔۔ سیدھی سی بات ہے پہلے ذہن میں نہیں آئی ۔”

“ایسے موقعوں پر سب سے پہلے وہ اخبار پھر حاصل کریں جس میں اشتہار چھاپا گیا ہے ۔” کی تدبیر نمبر 1 مرتب ہونے پر الیاس مبین  کا یقین اور صورتحال پر قابو پانے کا احساس لوٹ آیا۔

“شناخت” وہ بڑبڑایا۔ ”شناخت بنیادی چیز ہے۔ پہلے اس کا یقین ہو پھر کوئی اگلا قدم اٹھایا جائے ۔ اس نے احتیاط سے اپنی نظر تھڑے پر بیٹھے شخص پر سے ہٹائی اور دس باره دکانیں اور ایک سائن بورڈ تازہ اخبار، رسائل، کتابیں کی طرف دیکھا اور ساتھ ہی الیاس مبین (ایم ۔ ایس ۔سی) کے چہرے پر “ابھی پکڑا جائے گا‘‘ کی پر اعتماد مسکراہٹ پھیلنے گی۔ اس نے سائنٹیفک بیکری اور لاثانی جزل مرچنٹ کے درمیانی تھڑے کی طرف اس طرح دیکھا جس طرح اونچی چھلانگ لگانے والا کھلاڑی اس نشان کو دیکھتا ہے جو اس کے ٹارگٹ سے بہت نیچا رہا ہو۔

“ابھی سب کچھ واضح ہو جائے گا۔ اشتہار پھر سے دیکھنا چاہیے۔” الیاس نے سوچا اور اپنے قدم تیز ی سے بک سٹال کی طرف بڑھانا چاہے مگر وہ ایک قدم بھی نہ اٹھا سکا۔

شاید وہ الیاس کے لئے حیرت اور ناممکن کی صبح تھی اور وہ گھڑی اس کے منطقی شعور کو مسمار کرنے والی تھی ۔ گم شدہ سمجھے گئے شخص میں رونما ہونے والی تبدیلی اس کے لئے اتنی ہی غیر متوقع اور اچانک تھی ۔ وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ وہ گم شدہ کی شناخت کو کبھی یقینی نہیں بنا سکے گا۔

تھوڑے پر بیٹھا آدی آگے کو سرکا اور شہر کی فٹ پاتھ پر اتر آیا۔

عمر پینتیس سال ۔ رنگ گندمی ۔ قد پانچ فٹ چھ انچ ۔ یقینا یہی لکھا تھا اشتہار میں۔ میری یا داشت اتنی غلط بھی نہیں ہوسکتی۔ کاش مجھے وہ اشتہار دوباره دیکھنے کی مہلت مل جاتی۔

 مگر یہ کہیں ر کے بھی تو ۔ پتہ نہیں کسی شیطان کی روح اس میں حلول کر گئی ہے۔ مسلسل چلے جارہا ہے۔ بھاگے جا رہا ہے۔ رنگ گندمی. قدپانچ فٹ چھ انچ یا شاید سات انچ۔  جبڑے کا نشان۔ نشان کی تو تصدیق ہوگئی تھی ۔ پچھلے چوک میں، میں اس کے اتنے نزدیک ہو گیا تھا کہ چاہتا تو ہاتھ بڑھا کر اسے چھو بھی سکتا تھا۔ مگر میں نے اسے چھوا نہ تھا زخم کا نشان دیکھا تھا۔  اور نشان واقعی تھا۔ دائیں جبڑے پر نہیں بائیں جبڑے پر ۔ دایئں ۔۔ میرے خدا میں کس جھنجھال میں پھنس گیا ہوں ۔ مجھے چاہیے تھا کہ فورأ أ روک لیتا۔ روک لیتا تو پھر کیا ہوتا؟ الیاس مبین کا ذہن اس سوال کا کوئی جواب نہ دے سکا۔ ایسا شخص پہچانا جائے تو فورا رو کنے کی کوشش کریں …‘‘ کی ممکنہ تدبیر نمبر 2 مرتب نہ ہو پانے پر اس نے مضطرب ہو کر اپنی کلین شیوڈ ٹھوڑی اس مضبوطی سے تھامی جیسے اسے جڑ سے اکھیٹر دینا چاہتا ہو۔ آفٹر شیو لوشن کی کمزورسی لپٹ انگلیوں سے اڑ کر نتھنوں تک پہنچی تو اس نے خوشبو کی مانوسیت کو اپنے بھوکے پھیپھڑوں میں کھینچ لیا۔ ” پیلے رنگ کا یہ لوشن چھٹیاں نکال کر ابھی چالیس دن اور چلے گا۔ پینتالیس دن ؟ تیس دن؟ ۔ جونئیر اسٹیٹسٹیکل آفیسر کا شماریاتی ذہن ڈولنے لگا۔ جانی پہچانی خوشبو کی ڈورنے جسم میں اتر کر بکھر تے ریشوں کو پھر سے باندھا اور آنکھیں تیزی سے آگے پڑھتے اس شخص کی پشت پر بھی رہیں جواب عظیم شہر کے ایک اور چوک کو عبور کر کے کسی اور سمت مڑ جانے پر آمادہ نظر آتا تھا۔

عظیم شہروپسا ہی تھا جیسا کے عظیم شہر جوکل تھا۔

وہ جو ابھی نہیں ہیں اور مردوزن کی گہری بافتوں میں آدھے خلیوں کے امکان کی صورت متحرک ہیں ۔ لذت محض کے چشموں میں پھوٹتے، ربڑ کی تھیلیوں اور خون آلود دھجیوں کی صورت گندی نالیوں میں بہہ جاتے ہیں ۔ وہ جو کالے۔ گورے۔ بھورے۔ فربہ۔ توانا۔ نحیف ۔ سوکھے جسموں کے سرخ خون میں جڑیں گاڑے زندگی کا امرت چوستے ہیں پھر متوازن غذا کی بوتلوں پر چیک کر۔ چرمراۓ پستانوں کو بھنبھوڑ کر اس عظیم شہر پر آنکھ کھول دیتے ہیں۔

بس سٹاپوں کے ہجوم میں لمس کی آرزو پر فزکس کیمسٹری ٹپکا تے طالب علم درس گاہوں میں

کوانٹم میکینکس سے لے کر محمود غزنوی کی فتوحات تک ہر قابل فروخت اطلاع کا بھاو لگاتے معلم۔ پھانسی کی کامیابی اور مزید  ضر بیں سہنے کی قبولیت کا سڑٹیفیکیٹ جاری کرنے والے ڈاکڑ۔ طاقت کے ہر نمرود کی آتشک چاٹتے خصی دانشور، لوطی فاسفی ، مجلوق نظریہ گر،کوڑھی اخبار ساز۔۔

اور وہ جوعظیم شہر کا دوسرا آدھا ہونے کے دعوے دار ہیں ۔ علم ، سچائی محبت حسن، آزادی جیسے لفظوں کی دھونی رما کر اپنی ذات کا جن برآمد کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور خود بونے  بن جاتے ہیں۔

پارکوں میں کھلے پھول سلفیورک ایسڈ سے آلودہ شبنم چوستے ہیں ۔ پری وش لوگ فلموں میں اتنی لاقائی محبتیں دکھاتے ہیں کہ دیکھنے والے صرف ریہرسل پرقتل ہو جاتے ہیں ۔ کتابوں میں سچائیاں اتنی محفوظ ہیں کہ کسی کو کانوں کان ان کی خبر تک نہیں ہوتی اور “سب اچھا ہے۔ “آزادی سے شاہراہوں پر ٹہلتا ہے۔

عظیم شہر ویسا ہی تھا۔ کروڑوں دیواروں کا مجموعہ جو باہم گھر گھر کر روشنی اور فضا و دبوچتی ہیں اور کونوں کھدروں کا ایسا حصار تعمیر کرتی ہیں جس میں ہرصبح خلق کا بم پھٹتا ہے اور قطار اندر قطار انسانی لہریں سڑکوں کے Shock Absorbers میں جذب ہونے لگتی ہیں۔

“یہ سڑک جانے کب ختم ہو گئی اور یہ جنونی آدمی کب رکے گا۔” الیاس نے تقریبا روتے ہوئے سوچا۔ وہ کون سی منحوس گھڑی تھی جب میں اپنا سب کام چھوڑ چھاڑ کر اس کے پیچھے چل پڑا تھا۔ اس وقت سات بج کرکچھ منٹ تھے۔ کتنے منٹ تھے‘‘ کلائی سامنے کو اٹھا کر اس نے گھڑی دیکھی اور چونک پڑا،” گھڑی تو بند ہے۔

7.23 پر لعنت ہے اس پر۔ اب تو سورج سر پر ہے۔ دوپہر ہوگئی۔ یا شاید سہ پہر‘ دایاں قدم ۔ بایاں قدم دایاں۔ بایان الیاس مبین کو محسوس ہوا کہ تھکن سیسہ بن کر اس کے ٹخنوں اور گھٹنوں میں منجمد ہو رہی ہے۔ آگے بڑھتے اس شخص کا تعاقب کر تے قدموں کی دکھن کھوپڑی میں دھمک پیدا کرتی تو بریف کیس کا بوجھ  اس کے لئے ناقابل برداشت ہونے لگتا۔ اس کا جی چاہا کہ وہ بازو کو زور گھما کر سیاہ رنگ کے اس چوکور ڈبے کو دور پھینک د ے

اور اس طرح کم از کم بازوؤں کے درد سے نجات حاصل کر لے مگر پھر اسے یاد آیا کہ بریف کیس میں تو انتہائی اہم اعداد و ہ رپورٹ بند ہے جس کی روشنی میں مملکت کی ترقی کے کئی منصوبے وضع کئے جایئں گے۔ اس کا ذہن دفتر میں اپنے کمرے کی طرف بھٹک گیا۔

کریم رنگ کا کمرہ جس کی دیواروں پر اوپر کو اٹھتے ہے شمار گراف لٹکے ہیں ۔ خالی کری جس کا کشن ایک کونے سے پھٹا ہے۔ ردی کی ٹوکری، بڑی میز ، پیر و یٹ ، کیلنڈر، آہنی سیف، زرد رنگ کے پردے جن کی سبز دھاریاں بہت بری لگتی ہیں ۔ “نہیں آۓ ابھی تک الیاس صاحب۔ ” ایم ڈی نے پوچھا۔ ”نہیں صاحب جی‘‘ چپڑاسی نے کہا ۔ “کوئی درخواست چھٹی کی “

 ‘‘ نہیں صاحب ‘‘ ہیڈ کلرک کو بلاو”۔ ” جی صاحب “۔ ” مظفر صاحب اس الیاس مبین کو Absent مارک کریں ” ۔ لیں سر‘‘ کمرے میں اب خاصا اندھیرا ہے۔ پیپر ویٹ نظر نہیں آتا اور کیلنڈر پر آج کی تاریخ پڑھی نہیں جاتی۔

وہ شخص اتنی تیزی سے پیچ دار گلیوں میں سے چکراتا نکلا کہ الیاس کے لئے اپنے تھکے ہوئے جسم کو متوازن رکھنا بھی مشکل ہونے لگا۔ پھر جب وہ شخص بالکل غیر متوقع طور پر ایک تنگ سی گلی میں مڑ کر کسی کشادہ شاہراہ پر نکلا تو الیاس نے شدت سے چاہا کہ وہ رک کر تھوڑی دیر کیلئے ہانپ لے اور ساکن ہو کر ٹانگوں کی تھرتھراہٹ دور کر لے۔

یہ مجھے پاگل کر دے گا۔ یہ خود پاگل ہے۔ جب ہی تو گھر سے بھاگا ہے۔ گھر! مجھے تو گھر جانا ہے۔ کاش یہ میرے گھر کے سامنے سے گزرے اور میں خاموشی سے گھر میں داخل ہو جاؤں اور اسے جہنم واصل کر دوں ۔ کہیں اسے علم تو نہیں ہو گیا کہ اسے پہچان لیا گیا ہے۔ کہیں یہ مجھے جُل دے کر غائب تو نہیں ہونا چاہتا

 اب وہ عظیم شہر کے ایک پر ہجوم علاقے میں داخل ہونے کو تھے اور ہجوم کو دیکھتے ہی الیاس کے اوسان خطا ہونے لگے۔ مدتوں سے ایک ہی متحرک نقطے پر مرکوز اس کی آنکھیں باہر کو بل آئیں اور گردن کے اعصاب تن گئے۔

بس اب گیا ہاتھ سے۔ غائب ہو جائے گا۔ بھیڑ میں رل مل جائے گا۔ میں اسے کھودوں گا اور پھر بھی کسی کو علم نہیں ہو سکے گا کہ وہ کہاں ہے۔ ہٹو۔ ہٹو۔ پیچھے ہٹو۔ گزرنے دو۔ نکل جائے گا وہ بھی مجھے رستہ دو بھائی صاحب ۔ بزرگو۔ بی بی ۔ مسٹر۔ پلیز ذرا ایک طرف ہوں مجھے گزرنے دیں۔ آگے نکلنے دیں۔ دیکھیں دیکھیں  وہ جا رہا ہے۔ سب کے سامنے نکلا جارہا ہے۔ میرا رستہ نہ روکو۔ یہ گردن اس کی تو ہیں ۔ کہاں گیا۔ ہاں وہ ہے۔ گم تو نہیں ہوا۔ رستہ دے دو بے وقوفو۔

تمہیں علم نہیں وہ کون ہے تم میں سے کوئی اسے نہیں پہچانتا۔ تم کچھ نہیں جانتے۔ احمقو وہ ہمیشہ کے لئے کھو جائیگا ۔ پھر اس کا سراغ بھی کبھی نہیں ملے گا۔  میں جانتا ہوں وہ کون ہے۔ میں عظیم شہر کا واحد آدی ہوں جو اس شخص کو پہچانتا ہے۔

تیز وتند آندھی میں کسی کٹی پتنگ کے پیچھے بھاگتے بچے کی طرح ۔ طوقانی دریا میں بہتی لاش کی طرف بڑھتے تیراک کی طرح الیاس نے عظیم شہر میں چکراتے اس انسانی بگولے کے تعاقب کا جوکھم جاری رکھا۔

سڑکوں پر ۔ شاہراہوں پر گلیوں میں ۔ بازاروں میں ۔ چوکوں میں، پارکوں میں اتنا مسلسل کہ کب اور کہاں‘‘ مٹ کر درد کے ایک ایسے دائمی’’اب‘‘ میں بدل گیا جسے سائرن کی طرح گو نجتے دو احساس بریکٹ کر رہے تھے۔

“میں ایک سنگین حماقت کر رہا ہوں “

“میں اس شخص کو ہر گز دوبارہ نہیں کھونے دوں گا۔”

پل صراط کے اس سفر کے دوران الیاس نے اپنے وجود کی لمبی چیخ  کوسوچ تخیل اور یاد کے سہاروں سے دبانے کی کوشش کی۔ اس نے گھر، بیوی، پچے کے تصور کو۔ Tranquilizer بنانے کی آرزو کی ۔

مسلسل

اس پر وہ شخص گہری رات میں ایک ایسی تاریک گلی میں داخل ہوا جس کے اوپر تنی لمبی آسمانی مستطیل میں سوڈیم لیمپ جیسی زرد روشنی کا چاند تیرتا تھا۔

“میں اب ایک قدم بھی نہیں اٹھا سکتا۔ مگر میں قدم اٹھاوں گا۔ میں یہیں ڈھیر ہو کر گہری نیند سو جاؤں گا۔ میں آخری دم تک اس کا پیچھا کروں گا ۔‘‘

الیاس کو وہ اب تاریکی میں محض ایک غائب ہوتا ہیولہ دکھتا تھا پھر الیاس نےیہی سمجھا کہ اب اسے تیزی سے آگے بڑھ کر دائیں یا بائیں کسی گلی میں مڑنا ہوگا۔ کیونکہ وہ پہلے بھی کئی بار اسی طرح اچانک اپنی سمت بدل کر پیچھے آنے والے کو متحیر کر چکا تھا

اپنی بچی کچھی سب قوتیں یکجا کرتے ہوئے الیاس مبین نے اپنے جسم کو آگے کی طرف دھکیلا اور پھر پہلی بار قرنوں بعد پہلی بار اس کے قدم رک گئے ۔

سامنے ایک مکان کا بند دروازہ تھا اور وہ ایک بند گئی تھی. مجنونانہ وحشت کے زیر اثر وہ چاروں طرف گھوم گیا۔

گلی بالکل سنسان تھی۔

آسمانی مستطیل سے جھانکتا چاند گلی کے سب بند کواڑوں سے لشکتے آہنی تالوں پر روشنی کی آخری نحیف کرنیں گرا رہا تھا؟

بریف کیس الیاس کے ہاتھوں سے چھوٹ کر نیچے گرا۔ دھماکے کے چھیدنے ارتعاش کے ساتھ ہی سب کچھ بالکل تاریک ہو گیا۔

———————————————————–

بریف کیس کے گرنے کی آواز نے بس سٹاپ پر کھڑے

سب لوگوں کو چونکا دیا اور جونئیر اسٹیٹسٹیکل آفیسر الیاس مبین (ایم ۔ الیس سی اسٹیٹس) نے بھی چونک کر اپنی نظریں سائنٹینک بیکری۔ لاثانی جنرل سٹور۔ خالی تھڑے اور قصائی کی دکان پر لٹکے تین سر کئے بکروں کے معمول کے منظر سے ہٹا لیں ۔ اس نے جلدی سے بریف کیس دوبارہ ہاتھ میں تھاما اور گزرتی ٹریفک میں 50 نمبر کی بس ڈھونڈنے لگا۔

تعجب ہے ابھی تک بس نہیں آئی ۔ اس نے گھڑی دیکھی ۔ “سات بج کر تیس منٹ نہیں ابھی اتنی دیر نہیں ہوئی ” ۔الیاس نے ٹھوڑی کھجلاتے ہوئے سوچا۔

آفٹر شیو لوشن کی خوشبو کے منتظر نتھنوں تک جب قریبی انگلیوں سے اڑتی ایک انجانی بو پہنچی تو اس وقت سیکنڈ کی سوئی تیسویں سے چوبیسویں منٹ کی طرف رواں تھی۔

اور پھر ان کے درمیان کا کوئی سیکنڈ یا مائیکرو سینڈ ایک پاگل لمحہ تھا۔ جب پوروں نے ٹھوڑی پر بے تحاشا پڑھے بالوں کی خبر دماغ تک پہنچائی۔

شاید وہ صبح الیاس مبین کیلئے حیرت اور ناممکن کی صبح تھی۔ بریف کیس ایک بار پھر اس کے ہاتھ سے گرتے گرتے بچا اور وہ سراسیمگی سے اپنا ہاتھ چہرے کی جلد پر رگڑنے لگا۔

” یہ کیا۔ میرے خدا یہ کیا۔ میں ۔ میں اتنی بڑھی ہولی داڑھی کے ساتھ د فتر جا رہا ہوں ۔ یہ کیسےہو گیا۔ میں نے شیو نہیں کی ۔ نامکن۔ یہ تو قطعی امکان ہے۔ انتہائی کم ممکن – ایسا ہونے کے امکانات کو پچاس لا کھ میں ایک سے بھی کم ہوں گے۔ چالیس لاکھ میں ایک تیس لاکھ ۔۔۔ دس لاکھ میں ایک۔

وہ صبح بھی ویسی ہی تھی جیسی کہ صبح جو کل تھی۔

Similar Posts:

Facebook Comments Box

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Calendar

January 2022
M T W T F S S
 12
3456789
10111213141516
17181920212223
24252627282930
31