چندن راکھ (افسانے) ۔۔ مصباح نوید ۔مبصر ۔۔راشد جاوید احمد

چندن راکھ ( افسانے )

مصباح نوید

مبصر :: راشد جاوید احمد

افسانوں کے اس مجموعے نے اپنے خوبصورت سرورق اور انوکھے نام کی وجہ سے مجھے اپنی طرف متوجہ کیا۔ پبلشر، نگارشات نے ایک ہی فون کال پہ کتاب مجھے مہیا کردی اور میں نے ان افسانوں کا مطالعہ کر ڈالا۔ چندن راکھ، محترمہ مصباح نوید کے 16 افسانوں کا مجموعہ ہے اور کتاب کے مطالعے سے علم ہوا ہے کہ یہ ان کے افسانوں کا اولین مجموعہ ہے۔ ادب اور افسانے کا طالب علم ہونے کے باوجود میری نظر میں اس سے پہلے ان کی کوئی ادبی تحریرنہیں گزری۔

مصباح نوید کے یہ افسانے ہمارے آس پاس کی زندگی، بود و باش ، روایات، رہن سہن کی بھرپور عکاسی کرتے ہیں۔ اس قسم کے بہت سے افسانے لکھے جا چکے ہیں اور لکھے جا رہے ہیں۔ اختصار ان افسانوں کی البتہ ایک نمایاں خوبی ہے۔ ان افسانوں کا اسلوب بیانیہ، سلیس اور سادہ لیکن دل پذیر بھی ہے۔ زیادہ تر افسانے ایسے ہیں کہ ان میں کوئی نیا نکتہ نظر یا کوئی چونکا دینے والی بات نہیں ملی۔ ” اماں جنتے۔ آنٹی لوسی ۔ رایئگانی۔ عرش منور ملیاں بانگاں۔ یو ٹو بروٹس عام سی کہانیاں ہیں لیکن افسانہ نگار نے جو ڈکشن استعمال کی ہے اسکی بنا پر یہ لائق مطالعہ بن گئی ہیں۔ ان افسانوں میں بعض سطریں تو بہت خوبصورت تشبیہات اور استعارات لئے ہوئے ہیں۔

—– کلمے کا ورد مالکونس راگ میں جاری رہا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔منہ میں لگام کی کچھاوٹ اور ایڑ لگاتے جوتوں کی چبھن

۔۔۔۔۔۔۔گھٹنے ایسے کڑ کڑاتے جیسے ہارر موویز میں کھوپڑیاں دانت پیستی ہیں

۔۔۔۔۔۔۔ بنٹی نے کسی نئے لگام میں جُتے بچھڑے کی طرح ایڑھیوں سے فرش بجایا

اس طرح کی کئی اور تشبیہات، سطریں اور فقرے افسانہ نگار کے گہرے مشاہدے کا ثبوت ہیں اور اس مشاہدے کو افسانے میں برتنے کا سلیقہ بھی بہت بڑھیا ہے۔

جن کہانیوں کا اوپر ذکر کیا گیا ہے ان میں بظاہر کوئی نیا موضوع نہیں۔ یہ سب ہم کئی دیگر افسانوی مجموعوں میں پڑھتے آئے ہیں۔ یہ واقعات ہماری زندگیوں کے ساتھ نتھی ہیں اور ان افسانوں میں ان پر کوئی اچھوتا کام نظرنہیں آیا ہے۔ ما سوائے اسلوب کے جو کہ دیگر افسانہ نگاروں سے مختلف ہے۔

افسانوں کے اس مجموعے میں ، ” ادل بدل “۔ ” رایئگانی “۔ ” ورچوئل لائف ” پچاس منٹ “۔ ” کونج” قابل ذکر افسانے ہیں اور ہمارے معاشرے میں عورت پر ہونے والے جبر و استحصال کے حوالے سے لکھے گئے ہیں اور قاری پر اپنا اثر چھوڑتے ہیں۔

” کایا کلپ ” ایک ٹرانس جینڈر کی کہانی ہے اور خوب کہانی ہے۔

” تاو کاکا ” اس افسانے میں جس بیماری کا ذکر ملتا ہے اس پر  مصباح نوید نے ایک الگ ٹریٹمنٹ دے کر اسے ایک اچھا افسانہ بنا دیا ہے۔

” گھوم چڑخرا ” پچاس منٹ” ” کونج” ۔ ” ہیپی اولڈ ہومز ” عمدہ کہانیاں ہیں اور ہمارے معاشرے کی بے حسی، کجی، انسانوں سے انسانوں کے ساتھ منفی تعلقات کی خوب تشریح ہیں۔ ” ذرہ بے نشاں ” مجھے ایک بایئگرافیکل کہانی لگی ہے اور اس میں ” بے جی ” کا کردار بھی برسوں سے ہمارے گھروں میں چلتا پھرتا نظر آتا ہے۔

مجموعے کی سب سے اعلی کہانی ” چندن راکھ ” ہے جو ہمارے معاشرے میں عورت پر ہونے والے جبر کی ایک سفاک داستان ہے۔ یہ کہانی ظاہر کرتی ہے کہ عورت خواندہ ہے یا نا خواندہ، شہر کی ہے یا گاوں کی، امیر ہے یا غریب کسی نہ کسی طور پر مردانہ جبر کی شکار ہے۔

اس مجموعے میں مجھے آج کے افسانے کے حساب سے جو کمیاں محسوس ہویئں ان میں سب سے زیادہ قابل ذکر یہ ہے کہ ان افسانوں میں افسانہ نگار نے صرف معاشرے میں موجود بیماریوں کی نشاندہی کی ہے ان کے حل کی طرف کوئی اشارہ نہیں دیا۔ اردو افسانہ سفر طے کر کے کافی آگے جا چکا ہے۔ اس مجموعے میں  موضوعات و اسالیب کی سطح پر یکسانیت واکتاہٹ اور بوریت کا احساس بھی ہوا ہے۔ آج کا افسانہ تنہائی، علیحدگی، اجنبیت، بے گانگی، کرب، اضطراب، مشینی اور صنعتی نظام کے مسائل، قدروں کے زوال، نئی قدروں کی تعمیر جیسے موضوعات کو اپنی گرفت میں لیتا ہے

بقول محترم شاہ محمد مری، ” مصباح نوید ایک نجیب اور منصفانہ سماج کے خواب دیکھتی ہے۔ وہ بنی نوع انسان کی سر بلندی چاہتی ہے۔ وہ زندگی اور جمال کو ہمیشہ توازن کے تعلق میں دیکھنا چاہتی ہے۔ ” لیکن افسانہ نگار کی اس چاہت کے اظہار کے ثبوت کےطور پر انہوں نے افسانوں سے کوئی مثال نہیں دی۔ محترم شاہ صاحب کے مطابق، “مصباح نوید کے افسانوں کے موضوعات انتہائی جدید، اچھوتے اور بے باک ہیں ۔” میں ان سے بصد احترام اختلاف کرتے ہوئے کہوں گا کہ ایسا کوئی ایک افسانہ اس مجموعے میں شامل نہیں جسے پڑھنے کے بعد قاری کے منہ سے بے ساختہ ” اوہ” بھی نکل سکے۔ کتاب کے مندرجات کے مطابق مصباح نوید نے ابھی لکھنا شروع کیا ہے جبکہ مجھے تو یوں محسوس ہوا ہے کہ یہ کہانیاں کوئی دس بیس برس پہلے لکھی گئی ہوں گی لیکن شائع اب ہوئی ہیں۔

کتاب کے بیک کور پر جناب محمد اظہر رانا نے اپنی رائے تحریر کی ہے اور مصباح نوید کو کرشن چندر ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس ضمن میں عرض یہ ہے کہ ایسا نہیں کہنا چاہیے۔۔ اس طرح کے کلمات سے گریز کرنا چاہیئے۔بڑا ادیب بعض اوقات نئے ادیب کو کھا جاتا ہے۔۔

منٹو اور عصمت اپنے زمانے کے بہت بڑے ادیب تھے اور انکے نام اردو ادب میں تاحیات زندہ رہیں گے لیکن آج بھی کچھ لکھنے والے ان کی نقل میں قلم کاری کر رہے ہیں اور ان کے کاسہ لیس انہیں منٹو ثانی اور عصمت ثانی کہہ کر گمراہ کر رہے ہیں۔

کرشن چندر اردو افسانے کی آبرو ہیں جنہوں نے اپنی تخلیقی بصیرت اور تخیل سے فکروفن کے جہانِ دیگر روشن کرکے اردو فکشن کو نہ صرف نئے افق سے ہمکنار کرنے میں اہم اور قابلِ تعریف کردار ادا کیا ہے بلکہ انہوں نے ڈرامے، تراجم، تنقید، انشائیے، فلم سازی اور رپورتاژ سے ہمارے ادبی ذخیرے کو متمول بنانے کی خوشگوار اور مستند  روایت قائم کی ہے۔ ۔کرشن چندر کی اہمیت اور دین سے اردو کاسنجیدہ قاری انکار نہیں کر سکتا ہے۔ ان کے بعد میں لکھنے والوں، خواہ وہ کتنا ہی اچھا کیوں نہ لکھ رہے ہوں، ان کا نام دینا کرشن چندر اور نئے لکھنے والے دونوں سے زیادتی ہے۔ آج کے لکھنے والے کو اسکی تخلیق کے حوالے سے پہچانیے، کیا پتہ کب کوئی لکھنے والا ان ادیبوں سے بھی بہتر لکھنے والا ثابت ہو۔

دوسری بات جو رانا صاحب نے لکھی ہے وہ ان افسانوں کو جدید تکنیک استعمال کر کے قاری تک ایسا پیغام دینے کا بتایا گیا ہے کہ دل و دماغ جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے ۔۔۔۔ رانا صاحب کسی ایک افسانے کو بظور مثال پیش کرتے تو قاری کے لیے آسانی ہوتی۔ ” کونج ” اگرچہ ایک عمدہ، حقیقت پر مبنی سفاک کہانی ہے لیکن اس میں افسانہ نگار کی وراثتی جبر اور سماجی اقدار کے خلاف جہاد کرنے کی ترغیب تو کہیں نظر نہیں آئی۔

آج کے دور میں اگرچہ جینڈر کی کوئی تخصیص نہیں رہی اور نہ ہونی چاہیئے۔ عورت ہو یا مرد یا ٹرانسجینڈر، جو عمدہ لکھے گا اس کا کام اور نام زندہ رہے گا۔ تاہم آج کے لکھنے والوں میں چند نمایاں نام مایا مریم۔مریم عرفان۔سبین علی۔رابعہ الربا۔ سارا احمد۔ طاہرہ اقبال۔ فرحین خالد۔ ابصار فاطمہ اور فارحہ ارشد ہیں جو جدید افسانہ لکھ رہی ہیں اور اگر کسی پرانے موضوع پر بھی قلم اٹھاتی ہیں تو فکر اور سوچ کی نئی گرہیں کھلتی ہیں۔ان کی تخلیقات شاید مصباح نوید صاحبہ کی نظر سے گزری ہوں۔

ہر تخلیق کار کو اپنی تخلیق اولاد کی طرح عزیز ہوتی ہے لیکن قاری کا نکتہ نظر مختلف ہو سکتا ہے۔ محترمہ مصباح نوید نے چند خوبصورت کہانیاں تخلیق کی ہیں جو ان کے گہرے مشاہدے، مطالعے  اور کہانی بننے کی فنی صلاحیت کا ثبوت ہیں۔   امید ہے کہ وہ یہ سلسلہ جاری رکھیں گی۔

Similar Posts:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Calendar

September 2021
M T W T F S S
 12345
6789101112
13141516171819
20212223242526
27282930  
Show Buttons
Hide Buttons