حقوق النسا ،فیمینزم کے تناظر میں ۔۔۔ صفیہ حیات

حقوق النساء فیمنزم کے تناظر میں

        کالم 9

صفیہ حیات

اسی طرح ہم امریکی سماج میں عورت کی حیثیت کا جائزہ لیتے ہیں تو 1872ء میں امریکی سپریم کورٹ کے جج کا یہ ریمارک پڑھتے ہیں کہ ” عورت چونکہ فطرتاً نازک اور کمزور دل ھے اس لئے اسے شہری زندگی کے متعدد شعبوں کو اختیار کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ” ۔

یہ درست ھے کہ امریکی قانون کے مطابق عورتوں کے خلاف اب امتیازی رویہ بہت کم اختیار کیا جاتا ھے اس کے باوجود حقیقی صورت حال یہ ھے کہ 1974 ء کے اعداد و شمار کے مطابق غربت کا شکار ہونے والے سفید فام مرد امریکی سماج کا 6 فیصد تھے , سفید فام عورت 25 فیصد اور سیاہ فام عورت 53 فیصد تھی ۔ سفید فام مرد کی تنخواہ سو فیصد تھی تو سیاہ فام مرد کی 74 فیصد ، سفید فام عورت کی 57 فیصد اور سیاہ فام عورت کی 54 فیصد ۔ 1970 میں امریکی ڈاکٹر عورتیں ، مرد امریکی ڈاکٹروں کی نسبت 39 فیصد کم تنخواہ پا رہی تھیں ۔ وکیل 48 فیصد کم ، اور خواتین انجینئروں کی تنخواہ مرد انجینیئروں کی نسبت 73 فیصد کم تھی ۔ سوشل سائنٹسٹ 58 فیصد کم اور کالج یا یونیورسٹیوں میں پڑھانے والی ٹیچروں کی تنخواہ اپنے مرد ساتھیوں کی نسبت 55 فیصد کم تھی ۔ وہ ملازمتیں جن میں تنخواہیں بہت کم ہیں ان میں آپ کو عورتیں ہی کام کرتی نظر آئیں گی ۔ اور بعض حالات میں وہ ان شعبوں میں 95 فیصد اور 85 فیصد تک نظر آئیں گی جبکہ متعدد ایسے معزز اور عمدہ تنخواہ والے شعبے ہیں جن میں عورت ایک فیصد بھی موجود نہیں ۔ 1974ء کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ میں 4 فیصد خواتین وکیل تھیں ، 7 فیصد ڈاکٹر ، 1 فیصد انجنیر اور 7 فیصد سائنسدان ۔ مختلف شعبوں کے یہ اعداد و شمار اتنے زیادہ ہیں اور امریکی عورت کے خلاف وہاں کے رجعت پسند طبقات کے رحجانات کو اس قدر واضح کرتے ہیں ۔ عورت کے بدن کے اس استحصال کی بات کی جاتی ھے جس کا اسے جاگیر دارانہ اور سرمائے دارانہ نظام میں سامنا کرنا پڑا ۔ اس بارے میں اینگلز نے اپنی کتاب ” خاندان نجی ملکیت اور ریاست کا آغاز ” میں کہا کہ سرمایہ داری نے جس خاندانی نظام کو پیدا کیا ھے اس میں بیوی ہمیشہ کے لئے اپنے شوہر کی غلامی میں چلی جاتی ھے ۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہا جا سکتا ھے کہ ‘ بیوی بن کر عورت اپنے جسم کو ایک مرتبہ ہی سہی لیکن ہمیشہ کے لئے فروخت کر دیتی ھے ‘ ۔

عورت کے اس استعمال کے علاوہ سرمایہ دارانہ نظام عورت کو طوائف بنا کر اس کے جسم کو ایک شے بنا دیتا ھے جسے شہوانی جذبات کی تسکین کے لئے بازار میں خریدا جا سکتا ھے چنانچہ قوت خرید رکھنے والا ایک مرد گاہک  ، طلب اور رسد کے قانون کے مطابق ایک مجبور اور بے کس عورت کا جسم خرید کر اسے معاوضہ ادا کرتا ھے ۔

سیمون دی بودا کا کہنا ھے کہ عیسائیت نے طوائفوں کی تحقیر کرتے ہوئے انھیں ایک لازمی برائی کی صورت میں قبول کر لیا ۔ سینٹ آگسٹائن اور سینٹ تھامس دونوں نے توثیق کی کہ قحبگی کو دبانے کا مطلب معاشرے کو اخلاقی بگاڑ سے دو چار کرنا ھو گا ‘ شہر کے لئے فاحشاؤں کی حیثیت وہی ھے جو محل میں گندی نالی کی ‘ ۔ وسطی ادوار میں رواج اس قدر عیاشانہ تھے کہ طوائفوں کی بمشکل ہی کوئ ضرورت رہ گئی تھی لیکن جب بورژوا خاندان قائم ہوا اور یک زوجی کا کڑا قانون بن گیا تو مرد کو حصول مسرت کے لئے گھر سے باہر دیکھنا پڑا ۔

Similar Posts:

Facebook Comments Box

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Calendar

January 2022
M T W T F S S
 12
3456789
10111213141516
17181920212223
24252627282930
31