عجب ہاتھ تھا ۔۔۔ سلیم شہزاد

عجب ہاتھ تھا

سلیم شہزاد

عجب ہاتھ تھا

جو آسماں کی رگیں

کھینچتا

زمیں کو

دلسوں کے مکھوٹے

دکھاتا

باولے جذبوں کی

ہنڈیا اٹھائے

شہر شہر

آوازے سناتا

وہم کی پوروں پہ جم گیا

عجب ہاتھ تھا

کہ جس کی

انگلیوں پہ

سورجکی

پیلاہٹ

ٹھہری تو

سرسوں کے موسم

میں

بجھارت کی کونپلیں

مفارقت کے ناخنوں

میں

پجیل گیئں

عجب ہاتھ تھا کہ

جس کی

تمکنت سے

چاند کی آنکھ ڈر گئی

زمیں فسوں سے بھر گئی

عجب ہاتھ تھا کہ

جس کی ہتھیلی پہ

شہر امڈ پڑا۔

Similar Posts:

Facebook Comments Box

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Calendar

January 2022
M T W T F S S
 12
3456789
10111213141516
17181920212223
24252627282930
31