اک میں ہی ہوں ۔۔۔ ثمینہ سید

یک میں ہی ہوں

ثمینہ سید

ایک میں ہی ہوں

 جسے کسی دوسرے جنم کی توقع ہے نہ چاہت

میں نے دیکھ لیے ہیں پیاز کی پرتوں جیسے اپنے

اور نفرت سے بگڑے چہروں والے لوگ

تنہائی کا درد بھی جھیلا

ہجر کا سوت بھی کاتا

سمجھوتے کی موٹی چادر تن پہ لپیٹی

پیادہ پا عمر بھر چلی

غلط وقت پہ کچھ پیارے لوگ ملے

جو” نہ ملنے” کے جیسے رہے

اپنی روٹی آپ کمانے

 اپنا بستر کاندھے پر لے کر پھرنے کا کشٹ بھی جھیلا

گل بھی بوئے, پالے پوسے

خار ہی نکلے

میں اور میری چار کتابیں, دو سانسیں

دوست ہیں چند,جوکسی قدر تو میرے ہیں

اور یادیں

ایسی یادیں کہ جن کو نہ ہی یاد کریں تو بہتر ہے

لیکن پھر بھی ….چلو

اس جنم میں

چند یہ اپنے, چار کتابیں, اپنی فکریں آپ ہی کرنا

اور بےسبب جیتے جانا” کافی” ہے

اس سے آگے اگلی دنیا, اگلا جنم

کچھ نہیں چاہیے

اگر یہ کہنا بھی گستاخی لگے تو میری بات سنو!

یہ لو میری باقی عمر کی گھٹھڑی

باندھ کے میں نے رکھ ڈالی ہے

اٹھاؤ اور کہیں بھی پھینکو

مجھ کو تو پرواہ نہیں ہے

Similar Posts:

Facebook Comments Box

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Calendar

January 2022
M T W T F S S
 12
3456789
10111213141516
17181920212223
24252627282930
31