جیون گورکھ دھندہ ہے ۔۔۔ ثمینہ سید

“جیون” گورکھ دھندہ ہے

ثمینہ سید

“ہم جیسے بیوقوف لوگوں کے لئے رشتے بھوک, پیاس اور سانس لینے جتنے ضروری ہیں.جدائی,سرد مہری یا نفرت بھی کوئی کرے تو ہماری محبت میں کوئی کمی نہیں آتی. ہاں رگوں میں زہر ضرور بھرجاتا ہے.”

“اور اگر یہ جدائی اولاد نے دی ہو اس اولاد نے جسے آپ نے کبھی ایک گھنٹے کے لیے بھی کہیں نہ چھوڑا ہو لیکن وہ آپکو ہمیشہ کے لیے چھوڑنے میں ذرا سا بھی تامل نہیں کرتے بلکہ آپ کو اتنا غلط ٹھہراتے ہیں کہ آپ خود حیران رہ جائیں.تو ایسے میں چپ گہری چپ ہی سہارہ بنتی ہے. صفائی کس کو دیں. جب کوئی ہماری بات سننا ہی نہیں چاہتا یار.. تو کس کو بتائیں کہ وہ جو میرے سامنے کھڑا مجھے جھوٹا اور منافق کہہ رہا تھا, جو کہہ رہا تھا آپ کو چیزوں کی سمجھ ہی نہیں آتی ابا. اس کو اتنا عقلمند میں نے بنایا تھا. سوچنا سمجھنا, انگلی پکڑ کر چلنا, منہ میں نوالے ڈالنا رات بھر جاگ جاگ کر اس کی نیند کا خیال رکھنا… کروٹ بھی نہیں لیتا تھا میں کہ یشب کی آنکھ نہ کھل جائے.اس کی نیند نہ اڑ جائے.”سکندر کا لہجہ نم ہو گیا.

“ہاں یار لوگ خاص نہیں ہوتے ہماری محبت انہیں خاص بناتی ہے. محبت کا سایہ ہٹتے ہی ان کی عامیانہ سوچ, زبان اور احساس کھل کر سامنے آ جاتے ہیں.اور ہمیں اپنی محبت پہ افسوس ہوتا ہے سراسر افسوس.اور یہ جو ہماری محبت کا سایہ ہے ناں یہ تب تک ہی رہتا ہے جب تک ہمارے بچوں کی زندگی میں کوئی دوسرا نہیں آتا… ادھر کوئی ان کا حال بنا اور ہم…… ماضی بن گئے بس …”

“کتنی اذیت ہے ناں جیتے جی ماضی بن جانے میں…یار بعض اوقات بہت محنت اور لگن سے کاتاہوا ریشم اپنے ہی ہاتھوں الجھ جاتاہے. پھر بےشک ہم پہلے سے زیادہ محنت کریں. سلجھانا تو دور کی بات سرا تک نہیں پکڑ پاتے. عمربڑھتی ہےتو طاقت کم ہوجاتی ہے یار. نقصان سہنے کی ہمت بھی نہیں رہتی. “سکندر نے اولڈ ہاؤس کی دیوار سے ٹیک لگائی اور سرد آہ بھری.

“نقصان کی کیا بات کرتے ہو یار یوں سمجھو کہ کسی کی کھڑی فصلوں کو آگ لگ جائے یا فیکٹری میں دھماکہ ہوجائے اور راتوں رات دیوالیہ ہو جانے کا دکھ دوسرا کوئی صرف اسی وقت جان سکتا ہے جب وہ خود اس جتنے بڑے نقصان سے گزرے. نقصان کا ایک لمحہ پوری عمر کی کمائی پر غالب رہتا ہے. یہ لمحہ جو بنیادوں کی کمزوری سے یا کسی حاسد کی نظر سے رونما ہوا ہو. جس کی تلافی, واپسی یا ازالہ ناممکن ہے.” جہانزیب نے کہتے ہوئے سامنے بیٹھی سکینہ کی طرف دیکھا جو ٹرے ہاتھوں میں لیے چاولوں میں سے پتھر نکال رہی تھی.

“میں سوچتا ہوں تیری اور میری اور بات ہے سکندر.. چل ہم تو مرد ہیں لہجہ کھردرا ہوگا یا پھر بہو کو گھر میں دوسرے مرد کا وجود کھٹکتا ہوگا.اور بیٹے عموماً ماں سے جڑے ہوتے ہیں تو باپ کا غم محسوس نہیں کرپاتے ہونگے. لیکن یہ جو ماؤں کو گھر سے نکال دیتے ہیں رحمت کی چھاؤں سے نکل آتے ہیں یہ کیسے اور کیونکر کر پاتے ہونگے.”کتنا حوصلہ چاہیے چھتنار درخت سے کٹ کر جینے میں.. پنپنا ہی مشکل ہوجاتا ہے.ماں بددعا نہیں دیتی لیکن اس کے آنسو بددعا بھی بن سکتے ہیں. “

“یہ ہماری سوچ ہے پرانے لوگوں کی…… اکیسویں صدی کے لوگ ایسا بوسیدہ نہیں سوچتے بلکہ سوچتے ہی نہیں کر گزرتے ہیں “سکندر نے افسردگی سے ڈوبتے سورج پر نگاہ جمائی.

“مرد تو ہمیشہ کا ڈھیٹ ہے خود کو ہار کر بھی مضبوط بنائے رکھتا ہے. لیکن یہ کومل سی عورت… تھکن تو دیکھو اس کے چہرے پر “

“ملال بھی, شکست خوردہ ملال… کہ ماں بنی ہی کیوں تھی. ” جہانزیب نے ہتھیلی کی پشت سے آنکھیں صاف کیں.

دونوں اولڈ ہاؤس میں اترتی رات کی سوگواری اپنے اندر اتارتے واکنگ ٹریک پر تیز تیز چلتے سکینہ کے پاس آگئے. ہانپتے ہوئے اس کے پاس زمین پر بیٹھ گئے.

“کھانے میں کیا ملے گا؟ جب تک ہے دم کھانا پینا تو چلتا رہے گا ناں بی جی”سکندر نے لہجے میں زبردستی بشاشت کھینچی تو سکینہ نے نرم سی مسکراہٹ چہرے پر سجائی

“دال چاول بنا دئیے تھے.گوبھی آلو کل کے لیے بنائے. یہ پتھر چننا تو یونہی وقت بتانا سمجھیں. “

“ہاں وقت ہی تو بیت رہا ہے. ہم عام سے والدین ہیں یا بڑے عہدوں سے ریٹائرڈ لوگ.یہاں اولڈ ہاؤس میں یاگھر کے کسی عام, پرانے کمرے میں سب ایک وقت کے بعد صرف موت کا انتظار ہی تو کرتے ہیں اور کیا بچتا ہے… “سکندر نے آزردگی سے سکینہ کے زرد چہرے کو دیکھا تو اس نے آنکھیں صاف کیں.

“آپ لوگ اس خود ترسی سے نکل آئیں ہر ایک سانس کو مفید اور مستعمل بنانا سیکھیں ریٹائرڈ اور بوڑھے ہونا کوئی لعنت نہیں کہ خودکشی ہی کر ڈالیں یا کونے میں لگے لگے مرجائیں. ہم نے انتظامیہ کو بار بار درخواست پیش کی تھی کہ ہمارے لیے کام کا یا نوکریوں کا انتظام کرے. منظوری ہوگئی ہے لہذا اس سستی سے نکلیں. کپڑے شپڑے تیار کریں اور کل سے اپنے لیٹر وصول کرکے کام پہ لگ جائیں. مہربانی ہوگی.

“جیون تو گورکھ دھندہ ہے.ٹامک ٹوئیاں نہ ماریں. نارمل زندگی گزاریں اور غم….. یہ جو پہاڑ جتنے غم ہمارے سینوں پر مسلط ہیں انہی کے ساتھ جینا سیکھ لیں. کوئی ہم سے محبت نہیں کرتا تو ہم خود تو اپنا وجود سنبھال سکتے ہیں. عطیات پہ گزارا اور موت کا انتظار ہی زندگی نہیں ہے.”

“لیکن جو بھرپور زندگی ہم نے بچوں کو دی ان منتوں مرادوں سے لیے بچوں نے کیا کیا بی جی. اب پھر سے محنت کس کے لیے؟”سکندر رو ہی پڑا.

“اپنے لیے.. صرف اپنے لیے.منتوں سے لیے بچوں کے طعنوں کے تعویذ بنا لیں روز ایک تعویذ پانی میں گھول کے پئیں اور نکل آئیں اس گورکھ دھندے سے. “سکینہ سرد, مرے ہوئے لہجے میں زندگی کا حکم دیتی ہوئی اندر کی طرف بڑھ گئی.

تیز روشنی نے سکینہ کے وجود سے نکل کر سارا ماحول منور کردیا.

Similar Posts:

Facebook Comments Box

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Calendar

January 2022
M T W T F S S
 12
3456789
10111213141516
17181920212223
24252627282930
31