شجر ممنوعہ کے تین پتے ۔۔۔ سیمیں کرن

 شجر ممنوعہ کے تین پتے
( سیمیں کرن )

اور کیا یہ ابن آدم کے شجر ممنوعہ سے کھائے یا پھر کھلائے اس دانۂ گندم کا اثر خمار ہے کہ … اور یہ خمار روح کو چڑھایا پھر بدن کو

ابھی میں نے چند لائنیں ہی گھسیٹی تھیں کہ ملازمہ نے اطلاع دی :’’باجی !پڑ وس سے رفعت باجی آئی ہیں۔ بلارہی ہیں۔ کہہ رہی ہیں کہ ، ’’باجی سے کہو جلدی سے آجائیں اگر عیاد ت کو جانا ہے‘‘۔ دراصل میر ا اور رفعت کا پروگرام تھا کہ سامنے بی اماں جو کافی دن سے بیمار ہیں۔ چل کر ان کی عیادت کر لی جائے اور ایک اکیلے سے دو بھلے! خاص طور پر جب مریض ’’پڑوسی مریض ‘‘بی اماں جیسا دبنگ ہو تو ۔

بی اماں بھی اک انوکھا اور عجیب کردار ہیں اور اپنے خاص ہونے کا احساس ان کو بخوبی اندازہ ہے۔ عمر یہی کوئی پچاسی، چھیاسی بر س، دھان پان سی سادہ مگر انتہائی نفیس ستھرے لباس میں ملبوس ہلکا خم کمر میں مگر بہت چاق و چوبند۔ زبان ومزاج دونوں انتہائی کرخت اور تیکھے لہجہ میں کو ٹ کوٹ کر حاکمیت بھری ہوئی ۔ اپنی تیس چالیس سالہ سروس میں پندرہ بیس سال وہ گورنمنٹ اسکول میں ہیڈ مسٹریس رہیں۔ جس عمر میں انہوں نے گریجویشن کیا اس وقت غالباً انڈو پاک کی گنی چنی خواتین میں شامل ہوں گی۔

اس عمر میں بھی اپنی سبزی خود خرید تی اور ہنڈیا علاحدہ بناتی تھیں مگر بہو کو زچ کرنے کے ان کے پاس اور بہت سے طریقے تھے۔ یہی ان کے خصائل و شمائل تھے کہ پڑوس میں تمام لوگ بشمول میرے ان سے بچتے تھے۔ مگر اب پتہ چلا تھا کہ وہ کافی روز سے علیل ہیں تو اخلاقیات کا تقاضا تھا کہ ان کی عیا دت کو جایا جائے۔

جب میں اور رفعت بی اماں کی عیاد ت کو پہنچے تو گوکہ انہوں نے ہماری آمد پر بہت خوشی کااظہار کیا۔ اپنے پاس بٹھایا۔ اصرار سے چائے پلوائی اور پھر اپنے مخصوص کڑک لب و لہجہ میں ہماری آمد کا مقصد دریافت کیا۔ میں نے اور رفعت نے ایک دوسرے کی جانب دیکھا اور کھسیانے سے لہجہ میں کہا:’’بس آپ کی خیریت دریافت کرنے آئے تھے۔ پتہ چلا تھا کہ آپ کی طبیعت کچھ ناسازہے‘‘۔ بی اماں نے گھور کر ذکیہ اپنی بہو کی طرف دیکھا :’’یقینایہ خبر اسی نے پہنچائی ہوگی کیوں ؟ یقینا یہ خبر آپ نے ہی انہیں دی ‘‘ذکیہ کا خون خشک ہوگیا۔ بی اماں پھر گویا ہوئیں:’’جائیے چار بج رہے ہیں ہمارے عصرانے کا وقت ہوگیا۔ ہمارے لئے چائے لے آئیے‘‘۔

بی اماں نے ذکیہ کے جانے کے بعد کہا:’’بوڑھی بھی تو بہت ہوگئی ہوں میں مگر اپنے کاموں اور باتوں میں مداخلت پسند نہیں مجھے۔ میں اس عمر اور بیماری میں بھی اپنے سب کام خود کرتی ہوں۔ بہرحال آپ لوگوں کی تیمار داری کا شکریہ‘‘ اور پھر اس دورانیے میں میں نے دیکھا کہ اپنے دعوے کے بر عکس بی اماں کی پوری کوشش تھی کہ وہ ذکیہ کو زچ کردیں۔ ذکیہ کے بیڈر روم اوپر ی منزل میں تھے۔ اس کا ایک پاؤں اوپر اور ایک نیچے وہ بوکھلائی ہانپتی کانپتی پھرتی تھی۔ مہمانوں کی کوئی خبر وہوش نہ تھا۔

اسی دوران بی اماں کے پاس یکے بعد دیگرے نسبتاً دو غریب رشتہ دار خواتین آئیں۔ بی اماں کو جھولی بھر بھر دعا ئیں دیتی۔ بی اماں نے خاموشی سے تکیے کے نیچے سے بٹوہ نکالا اور ہزار ہزار کے کئی نوٹ نکال کر انہیں خاموشی سے تھما دیئے۔ اسی اثنامیں انہوں نے چشمے کے پیچھے سے ہمیں استفہامیہ نظروں سے گھورا گویا کہتی ہوں کہ تم لوگ اب تک دفع کیوں نہیں ہوئے۔ میں اور رفعت جو متجسس اور متحیر سے بیٹھے تھے ہڑبڑا کر اٹھے۔ رفعت وہیں سے اپنے گھر کو مڑ گئی اور میں پھر اپنے مطالعہ کی میز پر اس ملاقات سے پہلے جو لکھ رہی تھی۔

اس موضوع کو اک مہمیز سی ملی بلکہ میری سوچ کے رخ کو اثبات کا پہلو مل گیا۔ میں نے قلم سنبھالا اور لکھا:’’وہ خمار جو روح کو چڑھا یا بدن کو، مگر یہ بدن ہی ہے۔ جو اس دنیا میں روح کو غلیظ کرتا ہے۔ آج اک ایسی ہی نیک روح سے ملاقات ہوئی جو بدن کی کثافت سے میلی ہوچکی تھی اور…میں لکھتے لکھتے رک گئی اور سوچ میں گم۔ حلق خشک محسوس ہوا تو میں نے بچوں کو آواز دی۔ پانی کا گلاس دو۔ دو تین آوازیں دینے پر دونوں بڑے بچے ٹس سے مس نہ ہوئے۔ دل پر ملال سا چھا گیا کہ میں نے دیکھا میرا ڈھائی سالہ منا سا بیٹا اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں میں اپنا بےبی کپ لئے میر ے لئے پانی لارہا ہے۔ آدھا نیچے گراتا۔ یہ منظر میری روح کو اندر تک سرشار کرگیا ۔ میں نے تحریر کو وہیں چھوڑا اور وہ سارا دن میں نے بغور اس ننھے معصوم فرشتے کا مطالعہ شروع کر دیا۔

اور پھر میں نے دیکھا کہ میں نے کسی بھی کام کا قصد کیا یا کسی کو آواز دی میرا ننھا سا بیٹا لپک کر اپنی بساط بھر کو شش کر تا کہ وہ میری مد د کو آئے اور میری محبت وتوجہ کا سزاوار ٹھہرے۔ کبھی کرسی کے نیچے میری جوتی نکال کرمجھے متوجہ کررہا ہے ’’مما جوتا لے لو‘‘ کبھی کتاب پکڑ ا رہا ہے اور کبھی کچھ میں نے محبت بھری حیرت سے اسے دیکھا اور سوچا:’’یہ نیکی ومحبت کا سبق کس نے اسے سکھایا؟ اس کی سرشت نے؟ یہ سرشت کس نے تخلیق کی؟اس تخلیق میں میر ا کتنا حصہ ہے۔۔۔۔۔۔

یہ سرشت اس کی روح کا حصہ تھی یا یہ بدن تھا؟تو کیا خمار دانہ روح کو نہیں صرف بدن کو آلودہ کرتا ہے ؟تو کیا اس فرشتہ سی عمر میں بدن روح کے تابع ہوتا ہے ؟کیا روح بدن کی زبان میں ہم آہنگی ہوتی ہے ؟کیاروح نیکی کا دوسرا نام ہے؟نیکی اور بدی کائنات کے توازن کو قائم رکھنے والی دو متضاد قوتیں اک رحمان کی نمائندہ اور اک شیطان کی نمائندہ قوت ۔ کیا یہ رحمانی وشیطانی قوتیں صرف بدن کی مقیم ہیں ۔ کیا بدن ہی ان کی نمائندگی کرتا ہے ؟پھر اس راہ میں روح کا کیا مقام ہے ؟روح جو امر ہے روح جو ابدی اور امری حقیقت ہے؟

میں نے الجھ کر قلم رکھ دیا ۔ مجھے لگا کہ بات کچھ الجھ گئی ہے میں مزید کچھ نہیں لکھ پاؤں گی ۔ جب تک حقیقت کو سمجھ نہ سکوں ۔ کچھ دن یونہی بیت گئے بے کیف سے ۔ تخلیق راستہ مانگتی ہے ۔ مانگتی بھی کیا ہے ؟خود بنالیتی ہے اور میں اسی انتظار میں تھی کہ یہ الجھن اپنا راستہ خود متعین کرے گی ۔ قوت تخلیق اس کو راستہ دکھائے گی ۔ لیکن تخلیقی قوت بھی تو بدن کا مظہر ہے ۔ یہ کیسے مجھے ایک ماورائی حقیقت کا صحیح پتہ دے سکتی ہے ۔ دے بھی دے تو اپنے تجربے کی سچائی کو ثابت کرنے کے لئے کیا دلیل ہوگی میرے پاس ؟میں ان سوالوں میں الجھتی پھرتی تھی اور تحریر ادھوری اپنے ادھورے پن پر ماتم کناں ۔

سہ پہر کا وقت تھا میں اپنے اندرونی خلفشار سے گھبراکر باہر لان میں نکل آئی ۔ لان سے ملحق چھوٹا سا کمرہ جومیرے شوہر کے آفس کے طور پر استعمال ہوتا ہے ۔ میرے خاوند پیشہ ور وکیل ہیں فوجداری مقدمات کے ۔ اس بیرونی کمرے سے تیز تیز آوازیں لان تک آرہی تھیں ۔ میں نے فطری تجسس سے مجبور ہوکر ذرا سا آگے ہوکر دیکھا ۔ میں دھک سے رہ گئی ۔ وہ دوسری تیز اور کرخت آواز تاری ہلاکو کی تھی ۔ اس کو اپنے میاں کے ساتھ دیکھ کر مجھے فطری طورپر اک دھچکا لگا حالانکہ فوجداری مقدمات کے وکیل ہونے کی حیثیت سے ان کے پاس ہر طرح کے لوگوں کا آنا جانا اک معمول کی بات تھی مگر تاری ہلاکو کو ان کے ساتھ دیکھ کر نہ جانے کیوں مجھے اک دھچکا سا لگا ۔ شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ باقی آنے والے لوگ میرے لئے محض کلائنٹ کی حیثیت رکھتے تھے اور تاری ہلاکو میرے لئے انجا ن نہ تھا محض ایک کلائنٹ نہ تھا ۔

تاری ہلاکو کا بھی کبھی عام انسانوں سا نام ہوا کرتا تھا ۔ وہ ہمیشہ سے تو ایسا نہ تھا ۔ مگر نہیں اس کے اندر شاید کسی ہلاکو خان کی ہی روح تھی ۔ تب بھی جب وہ صر ف طاہر علی تھا ۔ وہ میرے شوہر کا دور پار کا رشتے دار تھا ۔ جب میری نئی نئی شادی ہوئی تو گاؤں میں سسرالی رشتہ داروں سے ملنے جلنے ، دعوتوں کے سلسلے ہوئے تب میں نے اسے پہلی بار دیکھا ۔اس وقت طاہر علی دس گیا ر ہ بر س کا لڑکا تھا ۔ انتہائی نیک والدین کی انتہائی ناخلف اور شریر اولاد۔شریر تو شاید سبھی بچے ہوتے ہیں ۔ اس کی شرارت سے صرف شر کا پہلو پھوٹتا تھا ۔ موسیٰ کے گھر فرعون پیدا ہوگیاتھا ۔کیا ایسا بھی ہوتا ہے ؟بچپن سے ہی بے رحمی ، شقی القلبی ، مار دھاڑ ، فتنہ فساد پھیلانا اس کی گھٹی میں پڑ اتھا۔
مجھے یا د ہے جب میں ان کے گھر گئی تھی ، تو یہ کسی کا سر پھاڑ کر آیا تھا اور اس بات پر اس کے باپ نے اس کو مارا تو اس نے باہر جاکر غصہ میں ایک چوزے کو اس بری طرح دبوچا کہ وہ گلا گھٹنے سے مر گیا ۔ یہ دیکھ کر دہشت سے میرا رنگ سفید پڑ گیا اور میرے پیٹ میں ایسے اینٹھن ہونے لگی کہ نتیجتاًمیں نے سارا کھانا اگل دیا ۔ دعوت بدمزگی کا شکار ہوگئی اور ہم لو گ وہاں سے واپس آگئے ۔ اس کے بعد گاؤں تو کئی بار آنا جانا ہوا مگر میں پھر کبھی اس کے گھر نہیں گئی ہاں اس کے بارے میں اسی نوع کی خبریں ملتی رہتی تھیں ۔ چھوٹی سی عمر میں وہ گھر چھوڑ کر پکا اشتہاری بن چکا تھا ۔ کئی قتل و ڈکیتی کی وارداتوں میں ملوث ومطلوب تھا اور جس بے رحمی سے قتل کرتا تھا ۔ اسی وجہ سے طاہر علی جو ’’تاری ‘‘کے نام سے بلایا جاتا تھا۔’’تاری ہلاکو ‘‘کہلایا جانے لگا ۔

اب یہی تاری ہلاکو میرے شوہر کے پاس آیا تھا تو لازماًمیرا کچھ ٹھٹھک جانا بے جانہ تھا ۔ میرے استفسا ر پر انہوں نے بتایا کہ وہ اپنے نہیں اپنے کچھ دوستوں کے سلسلے میں آیا تھا کہ اپنے بارے میں تو وہ خود بھی جانتا ہے کہ ایک دن کوئی اندھی گولی ہی اس کا مقدرہے اور وہ اس کے بارے میں کوئی ایسا فکر مند بھی نہیں ۔ وہ ان لوگوں میں سے ہے جو جتنی بھی جیتے ہیں اپنی مرضی اور خواہش کے مطابق زندہ رہتے ہیں ۔

بہر حال میں نے انہیں منع کیا کہ وہ اس سے یا اس کے کسی بھی دوست سے تعلق نہ رکھیں ۔ وہ ہنسنے لگے ’’یا ر فوجداری وکیل ہوں میرے کلائنٹ ایسے ہی خطرناک لوگ ہیں ‘‘مگر میرے ٹوکنے پر سنجیدہ ہوکر بولے :’’اچھا کوشش کروں گا ٹالنے کی مگر دیکھو دور پار کی ہی سہی رشتہ داری کا لحاظ بھی ہوتا ہے ‘‘۔ میں نے چڑھ کر کہا :’’ہاں اور یہ خیال دوطرفہ ہوتا ہے یک طرفہ نہیں ‘‘وہ ہنس کر بولے ـ:’’آخر ہو نہ وکیل کی بیوی ‘‘بات مذاق میں ڈھل کر ختم ہوگئی ۔ اس کے بعد دو تین دفعہ پھر وہ آیا یہ مجھے اپنے ملازم سے پتہ چلا لیکن میرے میاں نے غالباً اسے ٹال دیا ۔

اس دن میں باہر لان میں بیٹھی ہی تھی کہ میرے میا ں کے آفس سے ان کے بری طرح کراہنے کی آواز آئی ۔ میں بری طرح بدحواس ہوکر بغیر پر واہ کئے ادھر کو لپکی دیکھا تو وہ اپنا سر پکڑے میز کے سہارے کھڑے تھے اور بھل بھل خون بہہ رہا تھا ۔ میں نے حواس باختہ بیرونی دروازہ کی جانب دیکھا مجھے لگا کہ میں نے تاری ہلاکو کی ہلکی سی جھلک دیکھی ہے ۔ بہر حال فی الفور تو میرے میاں کو میری ضرورت تھی ۔ ان کو فوری طور پر اسپتال لے جایا گیا ۔ پٹی ہوئی ،شکر صد شکر کہ زخم کی نوعیت کچھ ایسی مہلک نہ تھی اور حالت ذرا بہتر ہونے پر میرے استفسار پر انہوں نے تسلیم کیا کہ وہ واقعی تاری ہلاکو تھا ۔

اس دن ذراسی بات پر مشتعل ہوکر اس نے بوتل سے میر اسر کھول دیا ۔ میں نے جتاتی نظروں سے ان کی جانب دیکھا تو وہ ناراضگی سے بولے :’’ہاں تو تمہارا کیا خیال ہے میں اسے اپنے پاس آنے سے روکتا تو کیا اس وقت مشتعل ہوکر ایسی حرکت نہ کرسکتا تھا ۔ وہ تو نہ جانے کوئی پیدائشی خبیث روح ہے۔ اماں بتاتی ہیں جب وہ پیدا ہوا تو اس کے ماتھے پر گہری سرخ لکیر تھی۔ دائی نے تو اسی وقت کہاتھا :’’ یہ بچہ بڑا جلالی ہے اور دیکھ لو …وہ سانس لینے کو رکے۔ ابھی کیا عمر ہے اس کی بمشکل اکیس بائیس بر س اور وہ پکا اشتہاری مجرم جانے کب کوئی گولی اسے چاٹ جائے ‘‘۔وہ نہ جانے کیا کہہ رہے تھے مگر مجھے ایک پل لگا اپنی دنیا میں گم ہونے میں میرے دماغ میں تو ’’پیدائشی خبیث روح ‘‘ماتھے کا سرخ نشان گردش کر رہے تھے ۔

مجھے لگا کہ جیسے ایک اور حقیقت کا در مجھ پر کھلا ۔ اس دن بڑے عرصے بعد میں نے قلم سنبھالا :’’تو کیا یہ بدن ہی نہیں روحیں بھی ہیں جو خبیث اور شیطانی قوتوں کی نمائندہ ہوتی ہیں ۔ کیا یہ پہلے روح نہیں تھی جو دانۂ گندم کے خمار سے متاثر ہوئی اور بعدمیں اسے مجسم بھٹکنے کو زمین پر اتارا گیا ۔ کیا روحیں اس قدر مخمور بھی ہوسکتی ہیں کہ بد ن پر نسبتیں ظاہر ہونے لگیں ۔ کیا شیطان کی نمائندگی کرنے کو جوق درجوق روحیں نہیں اتریں زمیں پر ــ؟بدی اور نیکی زمین کی دومتضاد قوتیں جس کا پلڑا بھاری ہوجائے ۔ زندگی کا توازن بگڑ جائے کہ رات جتنی لمبی و طویل ہو صبح کی امید میں کٹ جاتی ہے اور دن چاہے کیسا روشن اور دیر ودور تک کھلا رہے رات کا پر سکون اندھیر ا ہی حسن قائم رکھتاہے …

میں کچھ دیر کو رک گئی۔ لگا مزید الجھ گئی ہوں۔ یہ میرے بس کی بات ہی نہیں کہ میں طے کرسکوں کہ یہ اثر خمار روح کو چڑھا تھا یا پھر بدن کو ۔کیاروح بھی غلیظ ہوتی ہے ؟کیا روحیں شیطان ورحمان کی نمائندہ نہیں ہوتی ہیں ۔ یہ حقیقت کبھی نہیں سمجھ پاؤں گی اور میں نے اپنی اس تحریر کو یونہی نامکمل ادھورا چھوڑ دیا۔۔۔۔۔

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: