سوڈے کی بوتل ۔۔۔ سمیرا ناز

سوڈے کی بوتل

سمیرا ناز

روز یہ آواز مجھے پریشان کرتی ہے۔ کبھی اخباروں اور ٹی وی میں اور کبھی ارد گرد بکھری چیخوں میں۔ اب تو یہ حال ہے کہ میرے گرد اگر ذرا سی اونچی آواز ابھرتی ہے تو میں حواس کھونے لگتا ہوں۔ مجھے لگتا ہے کہ میں اپنی اس ذہنی کیفیت کے باعث پاگل ہو جاوں گا۔

کافی دن بیت گئے تھے۔ مجھے اپنی اس الجھن سے مقابلہ کرتے اور اب ایسا محسوس ہونے لگا تھا کہ اگر اس الجھن سے نجات نہ ملی تو کوئی انتہائی حل سوچنا پڑے گا۔ ۔۔۔۔ کیا خود کشی ؟؟

لیکن ایسا حل آنے والے وقت میں میری اور میرے پیاروں کی زندگیوں پہ منفی اثرات مرتب کرنے والا تھا۔۔۔۔۔ تو کیا میں یہ سب سہہ پاوں گا ؟؟ ۔۔۔ کل بیگم بھی کہہ رہی تھی کہ آپ کچھ کھوئے کھوئے ہیں۔ وہ ایک بہت مہربان اور اچھی عورت ہے۔ اس کو شاپنگ کا بہت شوق ہے۔ کھانے بھی خوب اچھے پکاتی ہے۔ اماں کی پسند ہے۔ اس کے ہاتھ میں خوب ذائقہ ہے۔ اسی نے تو مجھے بیگم کا دیوانہ بنا رکھا ہے۔ ۔۔۔۔ اوہ۔۔۔اچھا ۔۔۔ بات تو کوئی اور ہو رہی تھی، کدھر نکل پڑا۔۔۔۔ بیگم کہہ رہی تھی آپ کچھ کھوئے کھوئے ہیں۔ بات تو اس کی درست تھی۔

ابھی کل ہی کا واقعہ ہے کہ میں اپنے اپارٹمنٹ سے باہر نکلا تو اس وقت بھی اپنی اسی ذہنی کیفیت کے زیر اثر تھا کہ مسز یزدانی جو کہ برابر میں رہتی ہیں، انہوں نے آواز دی۔ میں نے سنی۔ رکا لیکن آگے انہوں نے کیا فرمایا ؟ کچھ یاد نہیں۔ یہ پتہ ہے کہ میں سیڑھیاں اتر کے بلڈنگ کے نیچے آ چکا تھا۔ ۔۔۔۔ میرے اس عمل کا مسز یزدانی پر کیا اثر ہوا ہوگا ؟ یہ سوچتا تو تب جب مجھے خود اس بات کا احساس ہوتا، لیکن دن بھر اس الجھن میں مبتلا ضرور رہا کہ شاید وہ کچھ کہنا چاہتی تھیں۔ کیا ؟ یہ معلوم نہیں۔

مجھے تو آج بیگم نے ناشتے کی میز پر مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی طبیعت کچھ اچھی معلوم نہیں ہوتی۔ کیا بات ہے ؟ اگر زیادہ کام ہے تو دفتر سے کچھ دن کی چھٹی لیں اور آرام کیجئے۔ ویسے بھی آپ چھٹی کہاں کرتے ہیں۔

میں جو اپنے ہی خیالوں میں تھا، سوالیہ نظروں سے بیگم کی طرف دیکھنے لگا۔

بیگم نے سالن کی پلیٹ میرے آگے رکھی اور بات آگے بڑھاتے ہوئے بولی، ” کل برابر والی مسز یزدانی آئی تھیں۔ آپ کو تو پتہ ہے ناں کہ اکثر میں جب گھر میں اکیلی ہوتی ہوں یا آپ کو لیٹ آنا ہو تو میں ان سے اپنے کتنے کام کہہ دیتی ہوں ۔۔۔۔ کبھی تنور پہ بچے کو بھیج دیا کبھی بجلی کا بل، کبھی کوئی اور کام ۔۔۔۔ ان کے بچے بھاگ کر میرا کام کرتے ہیں۔ “

” ہاں تو ؟ ” میں نے سوالیہ انداز سے بیگم کو دیکھا

” تو کل بیچاری اتنا گلہ کر رہی تھیں کہ میں نے بھائی صاحب سے کہا کہ آپ کے دفتر کی طرف جو ڈاک خانہ ہے اس میں ایک پیکٹ دینا ہے۔ میری پوری بات سنے بغیر ہی سیڑھیاں اتر گئے، یہ کیا بات ہوئی ؟ ۔۔ میں ان کو کیا جواب دیتی، میں تو مارے شرمندگی کے سر نہ اٹھا سکی ۔۔۔ اب آپ بتایئے کیا بات ہو گئی تھی ؟ “

میں بیگم کو کیا جواب دیتا۔ بولا تو بس اتنا کہا کہ،” میری طرف سے ان سے معذرت کر لینا ۔۔۔۔۔ اب اور کیا ہو سکتا ہے ؟ ” میں نے تاسف سے کندھے اچکائے۔ لیکن دل میں کسی قدر شرمندگی بھی تھی ، مگر اب کچھ نہیں ہو سکتا تھا

” چلیں ، وہ تو میں کر لوں گی لیکن آپ بھی تو کچھ سوچیے ، کیا مسئلہ ہے ؟ ہر وقت الجھے ہوئے رہنا۔ ناشتہ کیا کیا تھا ؟ کچھ پتہ نہیں ۔۔۔ دن کے کھانے میں کیا کھایا ؟ معلوم نہیں۔ کپڑے کون سے استری کرنے ہیں ؟ معلوم نہیں۔ کوئی خبروں کا چینل آپ لگانے نہیں دیتے۔ ڈراموں سے آپ کو چڑ ہے۔ اور تو اور کل آپ نے وہ ماسی کو کیسے ڈانٹا جب اس سے گلاس گرا تھا ؟ دفتر میں بھی ایسے ہی کرتے ہیں کیا ؟ میں تو آپ کی حالت سے پریشان ہو گئی ہوں۔ ” تیزی سے بولتے بولتے آخر میں بیگم کچھ نرم لہجے میں مخاطب ہوئی ۔۔

” یار کچھ نہیں۔ بس بتاوں گا۔ اچھا تم ملال نہ کرو۔۔۔” میں کچھ لگاوٹ سے مخاطب ہوا۔

” بس کچھ نہیں ۔ آپ ٹھیک ہو جایئں ، مجھے آپ کی اب بہت فکر محسوس ہو رہی ہے۔ اوپر سے کل مسز یزدانی کا گلہ ۔۔۔ ” بیگم اداسی سے بولی اور میں کچھ غائب دماغی سے اس کا چہرہ دیکھنے لگا۔

” اچھا، اوہو بات سنیئے ۔۔۔” بیگم نے قدرے چونک کر سر پر ہاتھ مارا، ” اتوار کو اگر آپ کچھ بہتر محسوس کریں تو کچھ خریداری کرنی ہے۔ کھانا بھی باہر ہی کھایئں گے ۔۔۔ کیا کہتے ہیں ؟؟؟؟”

” ہاں ٹھیک ہے۔ چلتے ہیں ۔۔۔ اچھا سنو ۔۔” میں پر سوچ انداز میں مڑا

” جی ” برتن اٹھاتی بیگم چونک کر مڑی۔

” ہممم ۔۔۔ کچھ نہیں  ۔۔۔” میں نے اسی طرح کھوئے کھوئے کہا،

” اچھا کوٹ لے آو ۔۔۔ ” میں پھر بولا

بیگم کچھ پل کھڑی رہی اور مڑ کر میرا کوٹ لینے چلی گئی۔

میں اس وقت اپنی گاڑی میں بیٹھا بیگم کا انتظار کر رہا تھا ، میری نظرں باہر مر کوز تھیں ۔ یہ شہر کا مرکزی کردار تھا جس میں ہر وقت رش لگا رہتا ہے۔ ارد گرد ریڑھیاں وافر مقدار میں نظر آ رہی تھیں۔ بار بار کی انتظامیہ کی دھمکیوں کا ان پر مطلق اثر نہ تھا۔ بارہا میں نے اپنی آنکھوں سے یہ منظر دیکھا کہ ناجائز تجاوزات کے نام پر بڑے بڑے ہتھوڑے والے آتے۔ منہ ماری ہوتی، کچھ کو دھکے مکے پڑتے اور کچھ بے چارے قسمت کے مارے منتوں ترلوں پر اتر اٹے  لیکن پھر وہی رنگ برنگے شربتوں کی ریڑھیاں ۔۔۔۔ آلو بخارے، املی کا شربت ۔۔۔ پان والا ۔۔۔ حکیمی شربت ۔۔۔ آتی جاتی ریڑھیاں  ، عجیب ہیجان پیدا کرنے لگیں۔ اس پر دکانیں اور ان کے بڑھے ہوئے تھڑے اور ان سے بھی آگے سجا سامان، عجیب ہی منظر پیش کر رہا تھا۔

ایک تو ویسے ہی عجیب کیفیت اور اوپر سے یہ ہلچل۔ اچانک کچھ غیر معمولی پن کا احساس ہوا اور مجھے محسوس ہونے لگا کہ میرے اندر جو خوف کا سانپ کنڈلی مارے بیٹھا ہے وہ حقیقت کا روپ دھار کر سامنے آ کھڑا ہوا ہے۔ ۔۔۔۔۔ اچانک ایک زور دار دھماکے کی صورت میں وہی آواز ابھری ۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔ ایسا محسوس ہونے لگا کہ میرا وجود گیس بھرے غبارے کی مانند ہوا میں معلق ہو گیا ہے۔ دلدوز قسم کی آہ و بکا میرے ارد گرد سنائی دینے لگی۔ جس میں پتہ نہیں کس کس کی آواز شامل تھی۔ اندازہ لگانا مشکل تھا۔ چہروں کی تو کیا جسموں کی شناخت مشکل لگنے لگی۔ ابھی جہاں زندگی رقص کر رہی تھی ۔۔۔ اب وہاں موت ناچنے لگی اور اس کی ہوس زدہ ہنسی میں زخمی چیخیں دل کو دہلانے لگیں۔ کائنات نے سرخ رنگ کی اوڑھنی اوڑھ لی تھی ۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔ اس خون میں جھانکتے کچھ گوشت کے لوتھڑے اور اس کے ساتھ ہی کچھ کپڑوں کے ٹکڑے اور بکھرے جوتے اور اس پر ایک طرف سے آتے کچھ لوگ جو بد حواسی کے عالم میں بھاگتے ہوئے روتے پیٹتے اس قبرستان کا رخ کرنے لگے۔ جو تھوڑی دیر پہلے زندگی کی ہنسی سے سجا تھا۔ شاید اس قبرستان سے کسی نے دلہن کا لباس بھی خریدا تھا جس کو ایک جلے ٹکڑے سے شناخت کیا جا سکتا تھا۔ پتہ نہیں اس کے ساتھ کس کس کے خواب جلے تھے۔۔۔۔ شاید اس موت کی وادی میں کوئی ماں بھی ہو گی، مہربان مسکراہٹ والی ۔۔۔ کوئی معصوم بچہ بھی ہوگا فرشتوں جیسے معصوم چہرے والا۔ ۔۔۔۔ میں نے بے بسی سے ارد گرد دیکھا اور اپنے زخمی دھڑ کو حرکت دینے کی کوشش کی  ۔۔۔ شاید میں زندہ ہو ؟ ۔۔ میں نے خود کو محسوس کرنے کی کوشش کی۔

ایمبولینس اور پولیس کے سائرن کی آوازیں اںے لگیں۔ یقیننا کوئی میری مدد کو بھی آئے گا، میں نے بےدم ہوتے ہوئے وجود کے ساتھ سوچا۔ ۔۔۔۔ کسی کسی جگہ نظر آتیں کچھ انسانی باقیات ۔۔۔ اچانک مجھے بیگم کا خیال آیا ۔۔۔ بیگم بھی تو ان میں سے کسی دکان میں گئی تھی ناں ؟ اس کا کیا حال ہوا ہو گا ۔۔۔ وہ کدھر ہو گی ۔۔ اس نے کس رنگ کا لباس پہنا تھا ۔۔۔ میں سراسیمگی میں دماغ پر زور دینے لگا۔ اچانک مجھے کھڑکی بجنے کی آواز سنائی دی ۔۔۔ مڑا تو بیگم شیشے سے باہر کھڑی تھی  ۔۔۔ میں نے چونک کر ماحول پر غور کیا اور کچھ عجیب نظروں سے بیگم کو دیکھا جو شاپنگ کی چیزوں سے لدی ہوئی تھی۔ میں نے جلدی سے گاڑی کا دروازہ کھولا تو بیگم نے سکھ کا سانس لیا ۔۔۔کچھ ناراضی سے مخاطب ہوئی ۔۔۔” کب سے شیشہ بجا رہی ہوں ۔۔۔ کدھر دھیان تھا آپ کا ؟ اف تھک گئی ۔۔۔ پیاس لگی ہے ، ایک سوڈا تو پلا دیں ۔۔۔”

اور میں خوف زدہ نظروں سے سوڈے کے ٹھیلے کو دیکھنے لگا  ۔۔۔ جہاں سوڈے کی بوتل کا ڈھکن دوبارہ ہٹنے کو تھا۔

Similar Posts:

Facebook Comments Box

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Calendar

January 2022
M T W T F S S
 12
3456789
10111213141516
17181920212223
24252627282930
31