ٹک ٹک ٹک ۔۔۔ محمد جمیل اختر

ٹک ٹک ٹک

محمد جمیل اختر

“ایک تو اس وال کلاک کو آرام نہیں آتا، سردیوں میں تو اس کی آواز لاوڈ سپیکر بن جاتی ہے۔۔۔۔۔۔”
ٹک ٹک ٹک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ آواز اور یہ احساس واقعی بہت تکلیف دہ ہے خصوصا جب آپ گھر میں اکیلے ہوں۔۔۔۔
اسے ایسے لگ رہا تھا جیسے وال کلاک ٹک ٹک کی بجائے کم ,کم, کہہ رہا ہو۔
.
” کیا وقت یونہی تیزی سی نکل جائے گا۔۔۔۔ کیا اس ویرانے میں میری پوری زندگی گزر جائے گی ۔میری تو زندگی ختم ہوتی جارہی ہے۔۔۔۔میں اس ویرانے میں مر گیا تو شہرمیں گھر والوں کو کون بتائے گا۔۔۔۔ مجھے توابھی بہت سے کام کرنے ہیں ، لیکن میرے پاس تو وقت ہی نہیں ہے یہ تو بھاگ رہا ہے۔۔۔کیا میں وقت کیساتھ بھاگنا شروع کردوں؟؟؟؟”
.
اسکی سوچیں بہت بکھری ہوئی پریشان حال تھیں.
,
معلوم نہیں اسے کیا ہوگیا تھا وہ جن دنوں شہر میں تھا تب تو ایسا بالکل نہیں تھا ، کوئی ایک ماہ پہلے اسکا تبادلہ اس گاوں میں ہوا تھا، اور اسکی نیند اس سے روٹھ کر کہیں چلی گئی تھی، اب تک کی ساری عمر اسکی شہر میں گزری تھی، وہ شور کا اتنا عادی ہوگیا تھا کہ یہ سناٹا اس کے لیئے ناقابل برداشت تھا۔۔۔وہ آدھی آدھی رات تک جاگتا رہتا لیکن اسے نیند نہیں آتی تھی۔
اب تو روز ہی ایسا ہوتا , لیکن آج تو وحشت کچھ اور بھی بڑھ گئی تھی۔
ٹک , ٹک, ٹک….
“اوہ یہ وقت تو پیچھے ہی پڑ گیا ہے۔۔۔۔۔ایسے تو میں نہیں سو سکتا ۔۔۔۔۔۔یہ آواز بہت تکلیف دہ ہے۔۔۔۔۔ــ ”
۔
وہ اٹھا ، اور الماری سے ریڈیو اٹھا لایا، ، ریڈیو پر پرانے گیت آ رہے تھے۔۔۔۔۔اس نے ریڈیو کو تکیے کے ساتھ رکھا اور آنکھیں بند کر لیں ، جب وہ شہر میں تھا تو روز رات کو ریڈیو سنتے سنتے سو جاتا تھا اور پھر جب آدھی رات کو آنکھ کھلتی تو اسے پتہ چلتا کہ ریڈیو توچلتا ہی رہ گیا۔۔۔۔ اس کا خیال تھا کہ ابھی بھی وہ ویسے ہو سو جائے گا۔۔۔۔۔
گانے سنتے ہوئے وہ کچھ دیر کے لیئے وال کلاک کو بھول گیا تھا، عجیب بات تھی وہ چاہتا تھا کہ شور ہو لیکن وال کلاک کے شور سے وہ بھاگتا تھا۔۔۔
.
“شب کے بارہ بجے ہیں…”
ریڈیو پر بارہ بجنے کا وقت بتایا گیا تو اسے خیال آیا کہ وہ پچھلے ایک گھنٹے سے ریڈیو سن رہا ہے لیکن افسوس کہ وہ ابھی بھی جاگ رہا ہے۔۔۔۔
“آخر یہ نیند کب آئے گی۔۔۔۔”
اس نے ریڈیو بند کر دیا۔۔۔۔۔
اور آنکھیں پھر بند کر لیں ،
.
ٹک , ٹک ,ٹک…
“یہ کیا ہے آخر۔۔۔۔اس گھڑی کا کچھ کرنا ہی پڑے گا۔”
وہ اٹھا اور وال کلاک کو دیوار پرسے اتارا اور ملحقہ کمرے میں جا کر رکھ آیا۔۔۔
“اب میں سکون سے سو سکوں گا۔۔۔۔”اس نے سوچا۔
اس نے تکیے پر سر رکھا اور سونے کی کوشش کی ، ابھی کچھ دیر ہی ہوئی ہو گی کہ اسے محسوس ہوا کہ بہت ہی آہستہ آہستہ ٹک , ٹک کی آواز ابھی بھی آرہی ہے۔۔۔۔
“کوئی نہیں آرہی”
، اس نے خود کو سمجھایا اور کروٹ بدل لی۔۔۔۔۔۔
کان پھر نہ مانے اور دل کو کہا
“سنو آرہی ہے۔۔۔۔۔” دماغ نے کہا “ہاں , ہاں یہ کم ,کم ,کم کی آواز ہی ہے۔۔۔۔۔”
“اوہ میرے خدا میں کہاں جاوں۔”
اس نے اپنا سر پکڑ لیا
“یہ وقت تو میرے پیچھے ہی پڑ گیا ہے۔۔۔۔۔۔”
اس نے غور سے سنا تو واقعی آواز ابھی بھی آ رہی تھی۔۔۔۔۔
“ایک ہونے کو ہے اور میں پچھلے کئی گھنٹوں سے سونے کی ناکام کوشش کر رہا ہوں۔۔۔۔۔ صبح ڈیوٹی پر بھی جانا ہے۔۔۔۔”
وہ پچھلے کئی دنوں سے ٹھیک سے سو نہیں سکا تھا . پوسٹ آفس میں باقی لوگ اسے کام چور سمجھنے لگے تھے۔۔۔
حالانکہ وہ کام چور نہیں تھا اسکے پیچھے تو وقت پڑگیا تھا۔۔۔
وہ غصے سے اٹھا ، ساتھ کے کمرے سےوال کلاک کو اٹھایا اور صحن میں جا کر پٹخ دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پٹاخ…….کی آواز کیساتھ وال کلاک چور چور ہوچکاتھا۔۔۔۔۔۔۔
اتنی بلند آواز سن کر وہ ڈر گیا۔۔۔
“یہ تو کافی بلند آواز تھی۔۔۔میں نے توڑنے سے پہلے کیوں نہ سوچا۔۔۔۔۔۔
آدھی رات کو یہ آواز محلے کے لوگوں نے بھی سنی ہوگی۔۔۔۔۔ اوہ یہ کیسا برا کیا میں نے۔۔۔۔۔۔۔”
اسے اب خیال آیا۔۔۔۔۔۔
“کوئی پوچھنے آگیا تو کیا جواب دوں گا؟؟؟؟؟؟؟ لوگ کہیں گے کہ یہ نیا شہری بابو کتنا عجیب ہے آدھی رات کو شور شرابا کرتا ہے حالانکہ رہتا بھی اکیلا ہے۔۔۔۔
اس چھوٹے سے گاوں میں اتنی رات گئے، ایسا شور پہلے کسی نے کب سنا ہوگا؟؟؟؟؟۔۔۔”
.
ابھی وہ یہ سوچ ہی رہا تھا کہ دروازے کی گھنٹی بج اٹھی۔۔۔۔
“اوہ یعنی لوگوں نے یہ شور سن لیا ہے،،،،، میں نے وال کلاک کیوں توڑا ، اسے اب ڈر لگنے لگا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب کیا جواب دوں گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
اب افسوس کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔۔۔۔
“میں دروازہ نہیں کھولتا۔۔۔۔جو ہوگا صبح دیکھا جائے گا۔۔۔۔۔” اس نے خود کو سمجھایا اور کمرے کی طرف مڑنے لگا۔۔۔۔
گھنٹی پھر ہوئی۔۔۔۔ اس کے قدم رک گئے۔۔
“کاش میں کہیں جاکر چھپ جاوں اور جب لوگ آکر ڈھونڈیں کہ وال کلاک کس نے توڑی ہے تو وہ مجھے نہ ڈھونڈ سکیں ۔۔۔۔میں آئندہ ایسا کبھی نہیں کروں گا۔۔۔۔”
لیکن ابھی تو یہ آفت سر پر تھی۔۔۔۔۔
“میں دروازہ ہی نہیں کھولتا ، لیکن یہ کوئی اچھی بات نہیں ،
مجھے دروازہ کھولنا چاہیئے ۔۔۔۔میں کہہ دوں گا کہ وال کلاک میرے ہاتھ سے گر گیا تھا۔۔۔۔ہاں یہ ٹھیک ہے۔۔۔۔ میں یہی کہوں گا، انسان سے چیزیں گرتی رہتی ہیں ” اس نے خود کو سمجھایا۔
اور ڈرتے ڈرتے دروازہ کھولا۔۔۔۔
سامنے اسکے پڑوسی کا بڑا بیٹا کھڑا تھا۔۔۔۔
,
“السلام علیکم ”
“وعلیکم السلام۔۔۔۔
وہ ، وہ ، وال کلاک میرے ہاتھ سے گر گیا تھا ، میں معذرت چاہتا ہوں کہ آپ لوگوں کی آنکھ کھل گئی۔۔۔۔لیکن میں نے دانستہ ایسا نہیں کیا۔۔۔۔۔۔”
,
لڑکے نے حیرانگی سے اسکی طرف دیکھا ,جیسے وہ کچھ سمجھ نہ پا رہا ہو۔
“وہ جی ابا جی کہہ رہے ہیں آپ کے پاس بخار کی کوئی دوا ہے میری چھوٹی بہن کو تیز بخار ہے اور شور کیسا جی میں تو سو رہا تھا ، مجهے تو اباجی نے جگا کر آپ کے طرٖف بھیجا ہے۔۔۔۔”
,
“اوہ یعنی اسے نہیں پتہ اس شور کا۔۔۔۔۔ یہ تو بہت اچھا ہوا کہ انہیں شور سنائی نہیں دیا۔۔۔۔۔”
“کچھ نہیں , کچھ نہیں وہ ، وہ ، میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔چھوڑو میں دوا لاتا ہوں۔۔۔۔۔”
اس نے اندر سے بخار کی ٹیبلٹس لا کر لڑکے کو تھما دیں
“شکریہ”
لڑکے نے کہا۔۔۔
اس سے پہلے کہ وہ کوئی اور سوال پوچھتا ، اس نے فورا دروازہ بند کیا اور آکر بستر پر لیٹ گیا۔۔۔۔
اب تو سکون سے سو سکتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔وال کلاک سے بھی جان چھوٹی اوراچھی بات کہ کسی نے سنا بھی نہیں۔۔۔۔۔
،
اس نے تکیے پر سر رکھا ایک لمبی سانس لی اور آنکھیں موند لیں۔۔۔۔۔۔
لیکن یہ کیا۔۔۔۔۔۔
“اوہ میرے خدا۔۔۔۔۔۔۔
ٹک , ٹک کی آواز تو ابھی بھی آرہی ہے”

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: