سن باتھ ۔۔۔ سلمان حیدر

سن باتھ

سلمان حیدر

تمہارے ہاتھ کی خوشبو

مرے الجھے ہوئے بالوں سے لپٹی ہے

تمہارے لمس کا ہر ذائقہ محفوظ ہے اب تک

مری پوروں کے ہونٹوں پر

بدن پر گھاس کے پتوں نے رستہ روک رکھا تھا

پسینے کی لکیروں کا

مری بھیگی ہتھیلی کے تلے

خواہش بدن میں کپکپاتی تھی

تو جیسے جھیل کے ساحل پہ ٹھہری کشتیاں

اٹھکھیلیاں کرتے ہوئے پانی پہ

ہلکورے سے لیتی تھیں

تمہارے جسم پے اگتی سنہری گھاس میں

جب جب ہوائیں سرسراتی تھیں

تو میری ریڑھ کی ہڈی میں سرکنڈے لچکتے تھے

بدن سے دھوپ کا مخمل اٹھا کر

ہوائیں سرمئی بادل کے پیچھے پھینک آتی تھیں

تو ہم سوکھے ہوئے پتوں کی چادر اوڑھ لیتے تھے

وہ اک لمحہ کہ جس میں چار موسم اور دو ہم تھے

وہیں پر ہے

ابد کی جھیل کے ازلی کنارے پر

Facebook Comments Box

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.