Translations

میں پھر بھی سر بلند رہتی ہوں۔۔۔مایا اینجلو

November 9, 2019

میں پھر بھی سربلند رہتی ہوں ( مایا  اینجلو) تم تاریخ میں میرا تذکرہ کرسکتے ہو اپنے توڑے مروڑے لفظوں اور اپنی دروغ گوئی کے ساتھ تم مجھے انتہائی گندگی میں بھی گھسیٹ سکتے ہو، مگر میں پھر بھی مانند ِ غُبار اُڑ کر رہوں گی کیا میری یہ شوخی اور ڈھٹائی تمہیں پریشان کیے […]

Read More

پُرکار ۔۔۔ ریتو گھوش

November 2, 2019

پُرکار (ریتو گھوش) میرا پورا خاندان آسنسول میں رہتا ہے ۔ بابا، ماں، بہن، بھائی اور دیگر عزیز و اقارب سب کے سب آسنسول میں ہی ہیں۔ وہاں ہمارا آبائی مکان اور تھوڑی بہت زمین ہے، مگر زمین کی آمدنی اتنی نہیں ہے کہ ہمارے خاندان کے اخراجا ت پورے ہو سکیں۔ بابا ریٹائر ہو […]

Read More

سوانگ ۔۔۔ میلان کنڈیرا

October 26, 2019

سوانگ (میلان کنڈیرا) کار کے پٹرول گیج کی سوئی نے اچانک ٹینک کے خالی ہونے کا اشارہ دیا اور اسپورٹس کار کے نوجوان ڈرائیور نے اعلان کیا کہ یہ کار پاگل کر دینے کی حد تک زیادہ پٹرول کھاتی ہے۔ ’’دیکھنا کہیں پٹرول ختم نہ ہو جائے،‘‘ لڑکی نے، جو تقریباً بائیس برس کی تھی، […]

Read More

منگتا ۔۔۔ چیخوف

October 19, 2019

منگتا ( انتون چیخوف ) ‘‘سر، مینوں بھکھ لگی ہے۔ ربّ دی سونہہ میں تنّ دناں توں کجھ نہیں کھادھا۔ پنج سال میں سکول ماسٹر رہا اتے اپنے اک ساتھی کرمچاری دیاں سازشاں کرکے نوکری توں ہتھ دھو بیٹھا۔ ہن میں سال بھر توں وہلا پھردا ہاں۔”پیٹرسبرگ دے وکیل سکووتسو نے اس دے نیلے پھٹے […]

Read More

سرخ بھیڑیں ۔۔۔ پیٹر ہانڈیکے

October 19, 2019

سرخ بھڑیں ( پیٹر ہانڈکے) ایک عورت اچانک بولنا شروع کردیتی ہے۔ بچو! وہ سورہا ہے! وہ وہاں دروازے کے پیچھے بے خبر سورہا ہے۔ شاید تھوڑی دیر پہلے وہ کوئی خواب دیکھ رہا تھا کیونکہ ابھی جب میں اس کے کمرے میں گئی تو اس کی چادر فرش پر پڑی تھی۔ وہاں اس قدر […]

Read More

ایک بوڑھی کی تنہائی ۔۔۔ نجیب محفوظ

October 12, 2019

ایک بوڑھی کی تنہائی  (نجیب محفوظ) وہ اپنے بستر میں بے سدھ پڑی تھی۔ ایک ہاتھ اور آنکھوں کے سوا اس کا سارا جسم مفلوج تھا۔ نقاہت اِس قدر تھی کہ ہاتھ کو بھی وہ محض سینے تک حرکت دے سکتی تھی۔ بیماری نے اس کی ساری طاقت گویا سلب کر لی تھی۔ اس کا […]

Read More

غنودگی ۔۔۔ چیخوف

September 21, 2019

غنودگی ( چیخوف) ترجمہ: ( عقیلہ منصور جدون ) رات۔ وارکا، چھوٹی سی ۱۳ سالہ نرس، ایک جھولا جھلا رہی ہے جس میں بچہ لیٹا ہوا ہے، وہ زیر لب لوری گنگنا رہی ہے۔ چھوٹا سا سبز رنگ کا لیمپ مقدس شبیہ کے سامنے جل رہا ہے۔ کمرے کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک […]

Read More

کاغذی پھول ۔۔۔ گارسیا مارکیز

September 14, 2019

کاغذی پھول ( گارسیا مارکیز ) صبح کاذب کے ملگجے اندھیرے میں مینا نے راستہ محسوس کرتے ہوئے اپنا وہ لباس پہنا جس کی آستینیں الگ ہو جاتی تھیں۔ پھر ٹرنک میں اس لباس کی آستینیں تلاش کرنے لگی۔ اُس نے کھونٹیوں پر اور دروازوں کے پیچھے تلاش کیا مگر بے سود۔ اُس کی کوشش […]

Read More

آنسو برائے فروخت ۔۔۔ سُمیرا عزام

September 14, 2019

آنسو برائے فروخت سمیرا عزام (فلسطین) مجھے نہیں پتہ کہ خزنہ کے لیے کس طرح ممکن تھا کہ وہ ایک ہی وقت میں مردوں کے لئے نوحہ خواں بھی تھی اوردلہنوں کے لئےآرائش گر بھی – جب مجھے پہلی دفعہ اس کو دیکھنے کا موقع ملا تو میں نے امی اور ان کی سہیلیوں سے […]

Read More

One Hundred Years of Solitude … Garcia Marquez

September 7, 2019

GABRIEL GARCIA MARQUEZ was born in Aracataca, Colombia in 1928, but he lived most of his life in Mexico and Europe. He attended the University of Bogota and later worked as staff reporter and film critic for the Colombian newspaper El Espectador. In addition to ONE HUNDRED YEARS OF SOLITUDE, he has also written two […]

Read More
Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: