شاعری

غزل ۔۔۔ شکیب جلالی

November 16, 2019

غزل ( شکیب جلالی ) عشق پیشہ نہ رہے داد کے حقدار یہاں پیش آتے ہیں رعونت سے جفا کار یہاں سر ٹپک کر درِ زنداں پہ صبا نے یہ کہا ہے دریچہ نہ کوئی روزن ِ دیوار یہاں عہد و پیمان ِ وفا، پیار کے نازک بندھن توڑ دیتی ہے زر و سیم کی […]

Read More

وصیت ۔۔۔ عائشہ اسلم

November 16, 2019

وصیت ( عائشہ اسلم ) !سنو  میری قبر مٹی سے بنانا اور کتبہ ایک اینٹ سے بڑا نہ ہو جانتے ہو میں ایک سال  ہی جی ایک ہی پل کی سزا ہوئی ایک ہی حرف کی بد دعا ایک آنکھ کا گناہ ہوئی ایک دن، ایک رات ہی کا خواب ہوئی تم میری قبر مٹی […]

Read More

میں پھر بھی سر بلند رہتی ہوں۔۔۔مایا اینجلو

November 9, 2019

میں پھر بھی سربلند رہتی ہوں ( مایا  اینجلو) تم تاریخ میں میرا تذکرہ کرسکتے ہو اپنے توڑے مروڑے لفظوں اور اپنی دروغ گوئی کے ساتھ تم مجھے انتہائی گندگی میں بھی گھسیٹ سکتے ہو، مگر میں پھر بھی مانند ِ غُبار اُڑ کر رہوں گی کیا میری یہ شوخی اور ڈھٹائی تمہیں پریشان کیے […]

Read More

بوڑھا پنواڑی ۔۔۔ مجید امجد

November 9, 2019

بوڑھا پنواڑی ( مجید امجد ) بوڑھا پنواڑی اس کے بالوں میں مانگ ہے نیاری آنکھوں میں جیون کی بجھتی اگنی کی چنگاری نام کی اک ہٹی کے اندر بوسیدہ الماری آگے پیتل کے تختے پر اس کی دنیا ساری پان کتھا سگریٹ تمباکو چونا لونگ سپاری عمر اس بوڑھے پنواڑی کی پان لگاتے گزری […]

Read More

ناو پانی کی موت سے ڈرتی ہے ۔۔۔ نصیر احمد ناصر

November 9, 2019

 ناو پانی کی موت سے ڈرتی ہے ( نصیر احمد ناصر ) ناؤ کے لیے پانی ضروری ہے وہ لکڑی کی ہو یا کاغذ کی اسے بہنے کے لیے پانی چاہئیے پانی اسے لذتِ سفر کی انتہاؤں تک لے جاتا ہے نئے جزیروں، نئی دنیاؤں کی سیر کراتا ہے ناؤ پانی سے پیار کرتی ہے […]

Read More

پس ِ دیوارِ گریہ ۔۔۔ قیصر عباس

November 9, 2019

پسِ دیوارِ گریہ ( قیصر عباس ) جب تمیں فرصت ملے  اپنی عبادت سے تومڑ کے دیکھنا اونچے گھروں کے پار کچھ ویران سے گھر ہیں  جہاں سورج کی کرنیں  جا نہیں سکتیں جہاں کھنڈرات ہی  دیوار و در ہیں  جہاں لوگوں کی آنکھیں  اپنے ماضی، حال کا نوحہ  سناتی ہیں  جہاں بچوں کے ہاتھوں […]

Read More

انتظار ۔۔۔ سلمان حیدر

November 2, 2019

انتظار ( سلمان حیدر) بدن بستروں کو طلاق دے دیتے ہیں انگلیاں تصویروں کے فریم تھامے لکڑی ہو جاتی ہیں کلینڈر تاریخوں سے بهرے رہتے ہیں لیکن دن خالی ہو جاتے ہیں پیروں کو عدالت کا رستہ یاد ہو جاتا ہے ہونٹوں کو دعائیں بڑبڑانے کی عادت پڑ جاتی ہے مائیں ہر آنے والے کو […]

Read More

آواز کی موت ۔۔۔ شاہین کاظمی

November 2, 2019

آواز کی موت ( شاہین کاظمی ) دُھائی کے کڑوے پات چباتے چباتے ہماری روح پر آبلے پھوٹ نکلے اور تعظیم کے لیے جھکے سروں پر رکھے سنہری بارنے بینائی کو ڈس لیا اندھیری رُتوں میں دشمنوں کی رہبری کرتے ہوئے آنکھوں کی جیت ہوئی تو دروازے کی موت ہو گئی مندر وں میں بیٹھےدیوتا […]

Read More

نظم ۔۔۔ نور الھدیٰ شاہ

November 2, 2019

نظم ( نور الھدیٰ شاہ ) ‏ہم چندلوگوں کوخدا نےبلایاتھا حال احوال پوچھا کہو کیسی گزررہی ہے؟ ہم نےاپنےاپنےہونٹ زبانیں اور دماغ اسکےحضوررکھ دیے سسک کرعرض کیا خدایا ہمارےملک میں اب یہ کسی کام کےنہیں رہے انکےاستعمال پرپابندی ہے ہم یہ نعمت تجھےواپس لوٹاتےہیں بس آنسوبہانےکےلیے دوآنکھیں اورایک دل ساتھ لیےجاتےہیں

Read More

اقبال یہ تمہارے عقاب ۔۔۔ ثروت زہرا

October 26, 2019

ا قبال یہ تمہارے عقاب تو نہیں؟ ( ثروت زہرا ) تمغہ یافتہ عقابوں نے جست لگائی اور وقت کی کڑھائی میں تلنے کے لیے کبوتروں کے پر نوچ لیے شہر کی گلی کوچوں میں زندہ خون کی سبیلوں پر ہمارے ارمانوں سے تمہارے لیے پرم رس بنایا گیا ہے لمبے بوٹوں میں گرم ریت […]

Read More
Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: