مشعل ِ اُمید ۔۔۔ شیخ ایاز
امید شیخ ایاز (ترجمہ آفاق صدیقی) زندگی کے جال میں کتنی ہی خوشیاں اچانک آ
امید شیخ ایاز (ترجمہ آفاق صدیقی) زندگی کے جال میں کتنی ہی خوشیاں اچانک آ
لوکل ٹرین میں احمد ہمیش سنو ! اس جغرافیہ میں میری روح کی آب و
بے ذائقہ بوسوں کے داغ صفیہ حیات میں نے ساونڈ پروف دروازہ بنوا لیا ہے
میری ایک نظم جو آخری نہیں عاصم جی حسین میں اپنے جیسا تھا بالکل خود
وصال مکرر ثمین بلوچ روح کے ناتواں پیروں میں پیوست الم کے کڑے وجود کی
انقلاب (چھاونی ہلتی ہے) ارجن ڈانگلے ہم اس وقت بھی ان کے دوست تھے جب
غزل ادا جعفری گھر کا رستہ بھی ملا تھا شاید راہ میں سنگِ وفا تھا
مجھ میں کون ہے انجلاء ہمیش جسے طویل وقت کے لیے تنہا چھوڑ دیا گیا
بلوچی ادب تخلیق: منیر مومن ترجمہ۔۔۔ مہجور بدر (دعا) جس لمحے آپ مجھے پہچان نہ
میں خود سوچتا ہوں جمیل الرحمن حادثے زندگی کی علامت ہیں لیکن وہ اک حادثہ